آصف زرداری کی تذلیل نسوانیت سے جڑی مفاہمتی سیاست


\"\" ’’بابا مجھے گڑیا بھی لے کر دیں۔‘‘ ننھی آسیہ نے اپنے جہیز کی فہرست کی تفصیل سنتے ہوئے اپنے والد سے معصومانہ فرمائش کی تو اس کی والدہ نے دل پر پتھر رکھ کر اس کو ڈانٹتے ہوئے بولیں ’’چپ کرو تم اب تم بڑی ہو گئی ہو وہاں جا کر اپنے گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنا اور کھیل کود میں وقت ضائع نہ کرنا‘‘ اپنی ماں کی ڈانٹ سن کر آسیہ سہم کر رہ گئی اور انجانے وسوسوں سے بھرپور احساسات، خیالات کی دنیا میں ڈوب گئی۔ آسیہ کی عمر 13 سال تھی اور پانچویں کے بعد گاؤں میں سکول نہ ہونے کے سبب اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر گھر کے کام کاج سیکھنے میں مصروف ہو گئی اور اب 13 سال کی عمر میں اس کے والد نے اسے پیا دیس بھیجنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔

انسان آج خود کو معاشرتی، سیاسی، شعوری اور اقتصادی ترقی یافتہ تصور کرتا ہے مگر ابھی تک معاشرے کا منفرد اور اہم ترین جز عورت کو اپنی تعمیر و ترقی، فلاح و بہبود کے لئے مرد پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ عورت نے ہمیشہ مرد کی ترقی اور فلاح کے لئے مرد کا شانہ بشانہ نہ صرف ساتھ دیا بلکہ بے شمار قربانیاں بھی دیں۔ مرد کی ترقی میں عورت کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ مردوں نے عورت کی ترقی کے لئے وہ کچھ نہیں کیا جس کی وہ مستحق تھی۔ عورتیں ابھی بھی بے اختیار ہیں اور ابھی بھی کئی ممالک میں انہیں اپنےحقوق کے لئے آواز بلند کرنے کے لئے مردوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

ہمارے جیسے ترقی پذیر معاشرے میں جس کی آبادی کا نصف سے زائد حصہ عورتوں پر مشتمل ہے، عورتوں کی حالت زار بہت ابتر ہے۔ میعار زندگی کی بہتری ہو، یا صحت و تندرستی کا حصول، شرح خواندگی ہو یا معاشرتی وقار عورت کو کمتر، کمزور اور نیچ تصور کرنا یہاں کے مردانہ زیر تسلط معاشرے کا اک خاصہ ہے۔ یہاں کبھی عورت کو ونی ہو کر دیت میں جانا پڑتا یے، کبھی غربت کے ہاتھوں کم عمری کی شادی یا بردہ فروشی سے منسلک ہونا پڑتا ہے۔ کبھی وٹہ سٹہ کے اختلاف کے نتیجے میں اپنا بسا ہوا گھر اجاڑنا پڑتا ہے۔ کبھی کاروکاری اور پسند کی شادی کی بنیاد پر اپنی جان کو معاشرے کی غیرت کی بھینٹ چڑھنا پڑتا ہے۔ کبھی ملاؤں کے فتوؤں کو سہ کر مجبوراً مذہب تبدیل کرکے شادی رچانا پڑتی ہے تو کبھی سیاسی چال کے عوض اپنے حقوق کی سودے بازی کرنا پڑتی ہے۔ یہ سب تصویر کا ایک تلخ اور بھیانک رخ ہے۔ جو ناقابل ہضم ہونے کے ساتھ ساتھ ناقابل تردید بھی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  مشہور سندھی گیت ’ہو جمالو‘ کا خالق ایک لاوارث پل ہے

رواں سال پاس ہونے والے تحفظ نسواں بل اگرچہ مذہبی جماعتوں اور حکومتی حلیفوں کی بھرپور مخالفت کے باوجود پاس ہو گیا جو بظاہر خوشنما اور خوش آئند ہے۔ مگر اس کا مکمل نفاذ ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ کم عمری کی شادی، اور حالیہ دنوں میں جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کے خلاف سندھ اسمبلی میں قانون سازی کی جاچکی ہے مگر گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری سے منسوب بیان سامنے آیا کہ سیاسی مفاہمت کے لئے جبری تبدیلی مذہب کے خلاف قانون واپس لینے یا تبدیل کرنے پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ جس کے بعد ان کی جانب سے کوئی تردید بھی نہیں کی گئی۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک بات ہے اور ایک ایسی سیاسی جماعت کو بالکل زیب نہیں دیتی جس کی سربراہ مملکت پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم ہوں۔

سیاسی اتحاد کے لئے اور دیگر جماعتوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے کیا عورت کا استحصال ضروری؟ اور یہ عورت کی کم عمری اور غیر مذہب میں جبری شادی کو عورت کے کن مسائل کا حل سمجھتے ہیں؟ کیا فقط شادی میں ہی عورت کی ترقی پوشیدہ ہے؟ کیا وہ کم عمری میں ہی شادی کر کے ملک و ملت کی بہترین خدمت کر سکتی ہے؟ کیا کم عمری میں اس کا شادی کرنا معاشرتی برائیوں کے سدباب میں سنگ میل ثابت ہو گا؟ ہر گز نہیں! عورت کی حقیقی ترقی، اس کی تعلیی اور معاشی ترقی ہے۔ جب عورت تعلیم یافتہ ہو گی تو وہ ایک اچھی نسل قوم کو پروان چڑھا کر دے گی۔ عورت معاشی طور پر مستحکم ہو گی تو پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہو گا۔ ملک کی نصف آبادی کو گھروں تک محدود کر دینے سے ترقی کے خواب دیکھنا فقط خود فریبی ہے۔ تو میں ارباب اختیار سے اپیل کروں گی کہ ملک کی معاشی، معاشرتی، سیاسی ترقی عورت کی ترقی سے جڑی ہے۔ براہ کرم عورت کا استحصال بند کیا جائے اور ایسی قبیح رسومات اور سیاہ مقاصد کی بھینٹ چڑھانے سے گریز کیا جائے۔

اسی بارے میں: ۔  نظریہ حقوق نسواں Feminism

آسیہ جیسی لڑکیاں ابھی کم عمر ہیں۔ ایسے معصوم پھولوں کے جذبات اور خوشیوں کو نہ چھینا جائے۔ ان کے گاؤں میں سکول بنایا جائے، اور انہیں تمام ضروریات اور سہولیات مہیا کر کے اس قابل بنایا جائے کہ وہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے اور ایک پڑھی لکھی نسل اس ملک کو دے کر اس کا مقدر سنوار سکے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔