دو عبداللہ دیوانے: خودکشی سے خوشی تک کا سفر


\"\"سنہ 2005 میں کوئی رات ڈیڑھ بجے موبائل فون بجا، جنوری کا مہینہ تھا۔ لائن کے دوسری جانب میرا دوست عبداللہ بٹ تھا۔ کہنے لگا کہ میں اگلی تھوڑی دیر میں ایف ٹین میں واقع اک ٹاور کی ساتویں منزل پر واقع اپنے فلیٹ سے کود کر خودکشی کرنے لگا ہوں۔ میں پہلے مذاق سمجھا، مگر پھر اس کے حالات سے چونکہ واقفیت تھی، تو تھوڑی بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ صاحب تُلے بیٹھے ہیں۔ بٹ صاحب نے 2003 میں، میرے مشورہ کے خلاف شادی کر لی تھی۔ بھابھی صاحبہ اور عبداللہ، دونوں کولیگز تھے۔ شادی کے تھوڑے عرصہ بعد، عبداللہ کی ملازمت چلی گئی اور گھر کا خرچہ بھابھی صاحبہ چلانے لگیں۔ عبداللہ نے بہت کوشش کی، مگر نئی جاب نہ ملی، اور ایک سال سے بھی کم عرصہ میں بٹ صاحب \”میرے جانُو\” سے \”ہڈ حرام اور فارغ انسان\” کے عظیم رتبہ پر فائز ہو گئے۔ عبداللہ کی کال سے کوئی تین دن پہلے دونوں کا شدید جھگڑا ہوا، جو جا کر میں نے ہی نمٹایا تھا۔ اس دن شام کو بھابھی نے پھر بٹ بہادر کو ہڈحرامی اور فراغت کا تاج پہنایا اور خود میکے چلی گئیں۔ بٹ صاحب ساتویں منزل سے کود کر اپنا موٹا قیمہ کروانے پر تُل بیٹھ گئے۔

میں فوراً پہنچا، اور اس کو باتوں میں الجھا کر تھوڑی بہت کونسلنگ کی۔ قصہ مختصر، دونوں میں بات طلاق تک جا پہنچی، اور ہو گئی۔ طلاق کے پہلے اور اس کے بعد، عبداللہ شدید نفسیاتی اور ذہنی دباؤ کا شکار رہا، تھوڑی سائیکاٹری مدد کے ساتھ ساتھ کچھ ہمت میں بھی اس کی بندھواتا رہا۔ 2006 کے آخری ماہ میں، اسے افغانستان میں اک بین الاقوامی ادارے میں ایڈمن اسسٹنٹ کی جاب بہت ہی مشکل سے مل سکی۔ میں نے اس کی بہت شدت سے حوصلہ افزائی کی۔ میری بات وہ مان گیا، افغانستان چلا گیا، اور میری اس سے آخری ملاقات 2008 کے شاید مارچ میں ہوئی۔ وہ بہت بدل چکا تھا، بہت عمدہ زندگی جی رہا تھا۔ اپنے فیلڈ، ٹیلی کمیونیکیشن میں واپس آ چکا تھا، اور مارچ کے ماہ کے آخر میں وہ نیدرلینڈز جا رہا تھا، کسی یورپی ادارے میں مینیجیریل پوزیشن پر۔ نو سال ہو گئے، رابطہ ٹوٹ گیا۔ اگر یہ اس تک پہنچتا ہے تو وہ مجھ سے رابطہ کرلے۔ میں اسے کچھ نہیں کہوں گا!

اسی بارے میں: ۔  مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ

بھابھی کی اپنی کہانی ہے، کہ جو بہت عمدہ نہیں۔ وہ پھر کبھی سہی۔

زنیرہ، میرے اک دوسرے دوست، اشتیاق کی بہن تھیں۔ سنہ 1999 میں میڈیکل کے پہلے سال میں تھیں۔ گھر والوں نے ان کی منگنی عبداللہ نامی اک صاحب سے کر دی، جو کوئی ایک سال تک چلی۔ بات کی زیادہ تفصیل میں نہ جاؤں گا، مگر یہ کہ 2001 میں زنیرہ اور عبداللہ کے درمیان معاملات بدترین ہو گئے اور بات کردار کشی تک جا پہنچی۔ اس حد تک معاملہ بگڑا کہ زنیرہ نے پہلے خود کو نقصان دینے کی کوشش کی اور پھر اپنی سادگی، معصومیت اور حماقت میں چھری لے کر عبداللہ کو \”قتل\” کرنے کا ارادہ کر بیٹھیں، مگر اشتیاق نے انہیں بہرحال اس معاملہ کو کرنے سے روکا۔ بات میرے علم میں آئی اور بمشکل تمام، زنیرہ اور عبداللہ کا معاملہ رفع دفع کروایا، اور وہ تمام کچھ جو عبداللہ کے پاس، زنیرہ کے حوالے سے تھا، اس کو بذریعہ پولیس تلف کروایا۔ اس سارے کام میں زنیرہ کی پڑھائی کا بہت حرج ہوا۔ خیر کچھ سمجھانے بجھانے پر انہوں نے 2004 میں پھر سے تعلیمی سلسلہ جوڑا، اور آج کل انگلینڈ میں کوئی مشکل سی سپیشلائزیشن کرنے گئی ہوئی ہیں۔ شادی نہیں کی، اور زندگی سے مناسب تعلق محسوس ہوتا ہے ان کا۔ عبداللہ کی کہانی یہ ہے کہ پچھلے سال یعنی 2015 میں جون کے مہینے میں، میں اپنے اک دوست جو کورئیر کمپنی کے ریجنل ہیڈ ہیں سے ملنے گیا۔ ان کے اسسٹنٹ کا نام عبداللہ تھا، اور کچھ مزید کھرچنے پر معلوم ہو کہ یہی وہی صاحب تھے جو کوئی 11 سال قبل اپنی حماقت کے ہمالہ پر بیٹھے تھے۔ ان کو دیکھا تو مسکرا اٹھا، اور ذہن میں ان کے اور زنیرہ کے زمانہ حال کا تقابل کیا تو زنیرہ ان سے کوئی دس نوری سال آگے محسوس ہوئیں۔ کہاں انگلینڈ میں سکالرشپ پر سپیشلائزیشن اور کہاں اک کورئیر کمپنی میں اسسٹنٹ۔ فرق تو ہے صاحبو۔

اسی بارے میں: ۔  روتھ فاؤ: تاحد نظر چراغ، تاحد نظر روشنی  

ان دونوں کی کہانی سنانی اس لیے ضروری تھی کہ گئے روز اپنے اک دوست سے نوجوانوں میں \”محبت\” کے نام پر خود پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کرنے کے بڑھتے رجحان پر مختصر گفتگو ہوئی۔ زندگی بہت مشکلات اور کئی اقسام کے الٹے سیدھے چیلینجز آپ پر پھینکتی ہے اور آپ کو مسلسل زچ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے، مگر کہتا یہ چلوں کہ ہار ماننا کوئی آپشن ہوتا ہی نہیں۔ زندگی کسی بھی معاملہ میں آکر ردعمل کے پیرائے میں ضائع کرنے کی شے ہی نہیں۔ ماؤں کے وہ بیٹے اور بیٹیاں جو وطن کے دفاع کا حلف اٹھا کر اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، انہیں بھی مشکل حالات میں زندہ رہنے کی تربیت اور ترغیب دی جاتی ہے۔ کسی لڑکی کو کسی لڑکے یا کسی لڑکے کو کسی لڑکی کے خاطر مرنا تو کجا اس بارے میں سوچنے کی بھی حماقت کرنا بھی درست نہیں۔

زندگی چیلیجنز کے ساتھ ساتھ مواقع بھی آپ پر پھینکتی ہے۔ آپ کچھ پکڑ لیتے ہیں، کچھ ہاتھوں سے گر جاتے ہیں، مگر حقیقت یہی ہے کہ زندگی کے سفر میں صحت مند ذہن کے ساتھ چلنے والے ہی آخر میں کامران ٹھہرتے ہیں اور اپنی حماقتوں کے ہمالہ پر اصرار کرنے والے گندے مندے ہو کر اسسٹنٹ بنے ہوتے ہیں!

تو یہ تھے دو عبداللہ دیوانے، آپکے لیے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔