فرقہ پرستی اور نفرتوں کے موسم میں شاہ ولی الله کے افکار کی ضرورت


مصنف: امریش مشرہ

مترجم: محمد عثمان

پس منظر:

مارچ 2008 کے پہلے ہفتے میں مجھے ایک سیمینار میں خطاب کرنے کی دعوت دی گئی۔ سیمینار کا انعقاد دہلی کے اردو پریس کلب نے کیا تھا اور موضوع تھا \”دہشت گردی اور فاشزم: ایک ہی سکے کے دو رخ\”۔ جب میں تقریب میں شرکت کے لئے پہنچا تو میرا سامنا وشوا ہندو پریشد کے سریندر جین سے ہوا۔ اس کے علاوہ سٹیج پر جو لوگ موجود تھے ان میں دائیں بازو کے صحافی منوج رگھو ونشی، ایس اے آر گیلانی ( جن پر 2001 میں پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کا الزام لگا لیکن یہ الزام ثابت نہ ہو سکا)، کشمیری نیشنل کانگرس کی ممبر پارلیمنٹ این آر شاہین اور ایک ‏‏غیر معروف قومی پارٹی کے سربراہ محمد حسنین شامل تھے۔

سیمینار میں معروف دانشور ارن دھتی رائے بھی مدعو تھیں جو کہ جلد ہی تقریب میں شرکت کے لئے پہنچ گئیں۔ تقریب میں نظامت کے فرائض اردو پریس کلب کےجنرل سیکریٹری طارق فیضی نے سر انجام دئے۔ سیمینار میں چند مشہور اور اعلی پائے کے صحافی بھی موجود تھے۔

 سامعین سے کھچا کھج بھرے اس ہال میں اگرچہ ہندوؤں کی اکثریت تھی لیکن ایک بہت بڑی تعداد مسلمان نوجوانوں کی بھی تھی جن کا تعلق دہلی کے قدیم علاقوں اور کالجز سے تھا۔ سب سے پہلے خطاب کی باری میری تھی جس کے بعد ارن دھتی رائے نے خطاب کیا۔ اس کے بعد منوج رگھو ونشی نے مائیک سنبھالا اور مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہو‏ئے دو انتہائی اشتعال انگیز جملے کہے۔ پہلا جملہ یہ تھا: \”آپ مسلمان 20 کروڑ ہیں اور ہندو 80 کروڑ۔ آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر یہ اکثریت مشتعل ہوگئی تو کیا ہوگا؟\” دوسری بات جو انہوں نے کہی وہ یہ تھی کہ مسلمان علما کو قرآن میں سے جہاد کے متعلق آیات کو حذف کر دینا چاہئے۔ ماحول کا درجہ حرارت اس وقت بڑھنے لگا جب قومی پارٹی کے محمد حسنین نے بولنا شروع کیا۔ انہوں نے رام اور لنکا کی فتح کا مذاق اڑایا۔ یہ کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب وشوا ہندو پریشد کے سریندرا جین نے مسلمانوں کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہتک آمیز لقب سے پکارا جس کا استعمال ہندو فرقہ پرستوں کی طرف سے 1920 اور 1930 کی دہائی میں کثرت سے کیا گیا تاکہ مسلمانوں کو اشتعال دلایا جا سکے۔

\"\" مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ 2008 کے اس بامقصد سیمینار کو ہندوستان کی دو اہم کمیونیٹیز کے خود ساختہ اور فرقہ پرست نمائندوں نے ہائی جیک کر لیا۔ دلیل اور گفت و شنید کی اس نشست کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر بے مقصد بنا دیا گیا۔ عین ممکن ہے وشوا ہندو پریشد کے معروف لیڈر اور قومی وطن پارٹی کے نسبتاً غیر مقبول لیڈر کے درمیان یہ لفظی جھڑپ اس میچ فکسنگ ڈیل کا نتیجہ ہو جس کا مقصد اپنے اپنے فرقوں میں مقبولیت حاصل کرنا ہو۔ شاید اسی ڈیل کے نتیجے میں دونوں رہنماؤں نے انتہائی عامیانہ فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا جس میں عوامی سٹیج پر کھڑے ہو کر ایک دوسرے کو ‏غلیظ القابات سے نوازا گیا اور\”ہندو تو ایسے ہوتے ہیں۔ مسلمان تو ویسا کرتے ہیں\” جیسے اشتعال انگیز جملوں کا استعمال کیا گیا۔

2008 کا یہ منظر ایک بار پھر میری نظروں کے سامنے تازہ ہو گیا جب حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے مسلمان سیاستدان اکبرالدین اویسی کی جانب سے اپنی تقریر میں ہندومت سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے لئے انتہا‏ئی ناپسندیدہ اور غیر معقول الفاظ کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک بار پھر وہی فرقہ وارانہ رویے، جذباتی اشتعال اور نفرت انگیز تقاریر کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

موجودہ فرقہ پرستوں کے نظریات اور عملی کردار:

\"\"یاد رہے کہ میں نے مضمون کے ‏آغاز میں فرقہ پرستوں کے لئے دانستہ طور پر \’نام نہاد\’ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ فرقہ پرست چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، عیسائی ہوں یا سکھ یا کوئی بھی اور پہچان رکھتے ہوں، وہ اپنے فرقے کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کر رہے ہوتے اور نہ ہی ان کے نظریات کو اپنے مستند علمی حلقوں کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ اکثر اوقات فرقہ پرست طاقتیں اپنے مذہبی فرائض سے بھی غفلت برتتی ہیں (یا محض دکھاوے کے لئے چند اعمال کرتی ہیں)۔ سیاسی مفادات کی خاطر وہ اپنی مخالف کمیونیٹیز پر انعامات کی بارش بھی کرتی ہیں جس کی واضع مثال نریندرا مودی ہیں۔ سیکولر سیاستدانوں کو برا بھلا کہتے ہوئے وہ ایک ایسا سیکولرازم تخلیق کرتے ہیں جو ان کے سیاسی اور معاشی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہو۔ اس تضاد کی واضع جھلک گجرات سے تعلق رکھنے والے محمد علی جناح اور سندھ سے تعلق رکھنے والے ایل کے ایڈوانی کی شخصیات میں دیکھی جا سکتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دہلی کے سیاسی حلقوں میں ایڈوانی کے مسلمان کاروباری شخصیات سے قریبی تعلقات کا بہت چرچا ہے۔ محمد علی جناح خوجہ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک دیسی بابو تھے جو کہ شریعت کے کچھ خاص پابند نہ تھے۔ روایتی مذہبی طبقے سے آپ کی مخالفت بہت وا‌ضع اور شدید تھی یہاں تک کہ ابتدا میں آپ نے سر آغا خان کی سرپرستی میں قائم مسلم لیگ اور مسلمانوں کے لئے جداگانہ انتخابات کے مطالبے کی بھی مخالفت کی۔

1910 کی دہائی میں جناح گوپال کرشنا گھوکھلے کو اپنا استاد قرار دیتے تھے جو کہ گاندھی کی آمد سے پہلے کانگریس کے ایک معتدل اور منجھے ہوئے رہنما تھے۔ 1907 میں آپ نے بطور بیرسٹر مشہور زمانہ \”کوکس کیس\” میں برطانوی حکومت کے خلاف فتح حاصل کی جس میں برطانوی حکومت ممبئی میونسپل کارپوریشن کے چئیرمین فیروز شاہ کوٹلہ کو عہدے سے ہٹانا چاہتی تھی۔ فیروز شاہ کوٹلہ گوکھلے کے قریبی دوست اور اعتدال پسند سیاستدان تھے۔ جناح نے غداری کے مقدمات میں بال گنگادھر تلک کی بھی مدد کی جو کہ کانگریس میں گوکھلے کے شدید مخالف تھے۔

1916 سے پہلے تک جناح سر آغا خان کی قیادت میں قائم مسلم لیگ کی برطانیہ نواز پالیسیوں سے سخت بیزار تھے۔ 1916 میں آپ نے مسلم لیگ کے نوجوان سیاست دانوں کے لیڈر کے طور پر کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان معاہدہ لکھنو کو ممکن بنایا۔ اس تاریخی معاہدے نے ہندو مسلم اتحاد کی وہی یاد تازہ کر دی جو برطانوی راج کے خلاف 1857 کی جنگ آزادی کے دود میں موجود تھی۔ جناح نے یہ معاہدہ مہاتما گاندھی کے ساتھ مل کر طے کیا جو کہ اس وقت کانگریس کے ابھرتے ہوئے رہنما تھے اور گوپال کرشنا گوکھلے کے سیاسی شاگرد تھے۔ اسی معاہدے کے تناظر میں سروجنی نائیڈو نے جناح کو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر قرار دیا جس کی تائید گاندھی نے بھی کی۔

گاندھی اور جناح دونوں کا تعلق گجرات سے تھا۔ 1920 کے اوائل میں عدم تعاون کی تحریک کے دوران روایتی مسلمان رہنماؤں سے ہاتھ ملانے اور تحریک ‏خلافت میں ان کی مدد کرنے پر جناح نے گاندھی پر سخت تنقید کی۔ یہ تمام کوائف جناح کو ایک جدید سیکولر قوم پرست کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس کے باوجود جناح ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے دو قومی نظریے کی ترویج اور ہندوستان کی تقسیم میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان کی تقسیم کا واحد ذمہ دار جناح کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔

جناح ایک طرف مذہب کو ایک آفاقی قوت سمجھتے تھے جس کو قومی حدود میں قید نہیں کیا جا سکتا لیکن دوسری طرف وہ ایک مخصوص خطے میں قومی ریاست کی تشکیل میں سیاسی اور جغرافیائی حقیقتوں کے ساتھ مذہب کے کردار کے بھی قائل تھے۔ اسی منتشر خیالی کا نتیجہ تھا کہ جناح کے نظریات اور فکر و عمل اکثر اوقات ہندوستان میں رجعت پسند، غیر منطقی اور فرقہ وارانہ تحاریک کی تائید کرتے نظر آئے۔ اگر غور کیا جائے تو راشٹریہ سیوک سنگھ جیسی انتہاپسند تنظیموں کی بقاء ہی ہندوستان کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کے گرد گھومتی ہے جس کی نظریاتی مخالفت جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی، ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر بی آر امبیدکر جیسی شخصیات نے کی۔

‎‎‏‏‎مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی:

 کانگریس سے تعلق رکھنے والے مولانا آزاد اور جمیعت علما ہند کے مولاناحسین احمد مدنی روائتی اور قدامت پسند مذہبی رہنما نہ تھے بلکہ جلیل القدر علماء تھے جو کہ اسلام اور اس کی تعلیمات کی دل و جان سے پیروی کرتے تھے۔ یہ علماء مذہبی اور سیکولر دونوں بنیادوں پر مسلم لیگ کی پالیسیوں اور ہندوستان کی تقسیم کی شدومد سے مخالفت کر رہے تھے اور مسلمان حلقوں میں انتہائی مقبول تھے لیکن 1940 کے بعد جناح کو ہندوستان کے مسلمانوں کا بلا شرکت غیرے مذہبی اور سیاسی رہنما قرار دیا جانے لگا۔

اسی بارے میں: ۔  محترم نجم الدین کے لئے بیوی کی تلاش

مولانا حسین احمد مدنی نے \”نظریہ قومیت اور اسلام\” کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی جس کا انگریزی ترجمہ باربرا میٹکالف نے کیا۔ اس کتاب میں مولانا مدنی نے اسلامی نقطہ نگاہ اور دلائل سے مسلم لیگی سیاست کی نفی کی۔ آپ نے ایک کثیر المذاہب معاشرے کی وکالت کی جس کی بنیاد مذہبی رواداری اور جمہوریت پر ہو اور جہاں ہندو اور مسلم دونوں اقوام کو مذہبی امتیاز کے بغیر سیاسی عمل میں شرکت کا موقع مل سکے۔ آپ کے مطابق اسی میں ہندوستانی مسلمانوں کی ترقی اور خیرخواہی تھی۔ آج مولانا کے نقطہ نظر کو نہ تو روایتی اور دقیانوسی کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی تعصب پر مبنی اسلام کی تشریح قرار دیا جاسکتا ہے۔ آپ کا نقطہ نظر اسلام کی حقیقی روح کے عین مطابق تھا۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ مولانا نے 1857 کی جنگ آزادی کی روایت کو 20ویں صدی میں دوبارہ زندہ کر دیا۔ آپ کا نظریہ قومیت نہرو، گاندھی اور سبھاش چندربوس کے خیالات کے قریب تر ہے۔ تقسیم کے دوران مسلمانوں کی اکثریت کی پاکستان کی طرف ہجرت روکنے میں مولانا آزاد اور مولانا مدنی نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

جناح کی سیاست:

کانگریس سے الگ ہونے اور مسلم لیگ کے جداگانہ قومیت کے نظريے کو اپنانے کے بعد محمد علی جناح نے انتہائی شدومد کے ساتھ تاریخی طور پر متروک اور انتہائی عامیانہ فرقہ وارانہ اختلافات کو قومی سٹیج پر بیان کرنا شروع کیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی جناح تھے جو کہ مغربی لباس، کلف زدہ کالر اور ہر بار سلک سے بنی نئی ٹائی پہننے کے عادی تھے۔ جناح نے انتہائی نامعقول اور علمی بددیانتی پر مبنی دلائل کو قانونی حیثیت دی جن میں سے ایک دلیل یہ تھی کہ ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں جب کہ مسلمان گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ اسی دلیل کا تذکرہ اکبرالدین اویسی نے بھی اپنی تقاریر میں کیا۔ اگرچہ جناح تاریخ کی اچھی سمجھ بوجھ رکھتے تھے لیکن شاید انہوں نےجانتے بوجھتے اس تاریخی حقیقت کو نظر انداز کیا کہ مغل بادشاہ اکبر نے ہندوستان میں گائے ذبح کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی جو کہ 1803 میں لارڈ لیک لڈ کے ہاتھوں دہلی کی اس فتح تک نافذ رہی جس میں مغلوں اور مراٹھا طاقتوں کے مشترکہ محاذ کو شکست ہوئی۔

تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو بھی آشکار کرتا ہے کہ دہلی میں گائے ذبح کرنے کا رواج انگریز کے دور حکومت میں ہوا جس کا واضع اور دانستہ مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنا تھا۔ جناح نے اس بات کو بھی نظر انداز کیا کہ 1857 کی جنگ آزادی کے دوران آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر ثانی نے گائے ذبح کرنے پر دوبارہ پابندی عائد کر دی تھی۔ اس پابندی کا دورانیہ تقریباّ چار ماہ تھا اور یہ تب تک نافذ رہی جب تک دہلی کی حکومت ہندوستانیوں کے ہاتھوں میں تھی۔

شاہ ولی اللہ:

\"\"جناح نے شاہ ولی اللہ کی تحریک کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ شاہ ولی اللہ اٹھارہویں صدی کی عظیم شخصیت تھیں جنہیں سیاسی، سماجی اور معاشی علوم پر گہری دسترس حاصل تھی۔ قرآن کا فارسی میں ترجمہ کرتے ہوئے آپ کو قدامت پرست علماء کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

آپ نے چودھویں صدی کے معروف تاریخ دان اور ماہر معیشت ابن خلدون کی علمی روایت کو نہ صرف دوبارہ زندہ کیا بلکہ اسے مزید منظم انداز میں آگے بڑھایا۔ ابن خلدون وہی شخصیت ہیں جنہیں مغرب میں بھی جدید تاریخ نویسی کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے معیشت کے میدان میں محنت کی قدروقیمت کا نظریہ دیا۔ عام طور پر اس نظریہ کو متعارف کروانے کا سہرا ایڈم سمتھ اور جدید سیاسی اور معاشی نظریات پیش کرنے والے مغربی مفکرین کے سر باندھا جاتا ہے۔ یہ نظریہ یورپ میں جاگیرداری نظام اور قدیم بادشاہتوں کے لئیے موت کی گھنٹی ثابت ہوا۔ شاہ ولی اللہ نے زرعی معیشت پر وراثتی جاگیرداری اور بےجا ٹیکسوں کے منفی اثرات کے بارے میں مضامین بھی لکھے۔ (یاد رہے کہ سولہویں صدی کے مغلیہ دور حکومت میں ہندوستانی معیشت اور زرعی پیداوار اٹھارہویں صدی کی سلطنت برطانیہ کے قریب برابر تھی)۔

کسان اور محنت کش طبقے کے استحصال اور بے جا ٹیکسوں کے منفی اثرات بیان کرنے کا کریڈٹ بھی عام طور پر ڈیوڈ ریکارڈو کو دیا جاتا ہے جب کہ درحقیقت شاہ ولی اللہ یہی نظریات تقریباً ایک صدی پہلے دے چکے تھے۔ گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ کے فلسفے (جسے ہم ولی اللہ ازم بھی کہہ سکتے ہیں) نے جاگیرداری نظام کے خلاف بہت سے نظریات انسانی معاشروں کو ديے۔ وراثتی جاگیرداری اور عوام کے سیاسی و معاشی استحصال پر آپ نے جو تنقید کی اس نے اٹھارہویں صدی میں برطانوی نوآبادیاتی نظام اور اس کے قائم کردہ سیاسی و معاشی استحصال کے خلاف مزاحمتی شعور کی راہ بھی ہموار کی۔ یہی مزاحمتی تحریک انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں قومی بنیادوں پر سیاسی و سماجی نظاموں کے قیام سے متعلق نظریات کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

شاہ ولی اللہ اور ان کے پیروکاروں کے اسی مکتبہ فکر نے ہندوستان میں آزادی کی تحریک کی رہنمائی بھی کی اور اس بات کو منطقی دلائل سے ثابت کیا کہ نو آبادیاتی نظام کا سب سے منفی پہلو ہندوستان سے برطانیہ کی طرف دولت اور وسائل کی منتقلی تھا جس کے نتیجے میں ہندوستان دن بدن غربت، قحط، بدانتظامی اور تباہ حالی کا شکار ہوتا چلا گیا۔

شاہ ولی اللہ کی شخصیت اور ان کی فکری تحریک نے تاریخی حوالے سے انسانیت کے سیاسی، معاشی اور سماجی ارتقا میں جو کردار ادا کیا، آزادی کے بعد منظر عام پر آنے والے بیشتر دانشوروں نے اسے دانستہ یا نادانستہ طور پر نظر انداز کیا۔ تاریخ سے متعلق اسی لاپرواہی اور بددیانتی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم نہ صرف سیاسی اور معاشی دائروں میں مارکسی سائینسی اصولوں سے نابلد ہیں بلکہ کلاسیکل معیشت کے بارے میں مغربی لبرل مغربی کے ان نظریات سے بھی لاعلم ہیں جنہوں نے مغرب میں ایک جدید سرمایہ دارانہ ریاست اور معاشرے کی تشکیل کی بنیادیں فراہم کی۔

شاہ ولی اللہ کا نظریہ معاشرت و معیشت :

مذکورہ بالا حقائق سے زیادہ حیران کن مغل سلطنت کے زوال سے متعلق شاہ ولی اللہ کا سیاسی اور سماجی تجزیہ ہے جو آپ نے برطانوی تاریخ دانوں اور جدوناتھ سرکار سے بہت پہلے پیش کیا۔ آپ نے تاریخی حوالوں سے اس بات کو ثابت کیا کہ اگر ہندوستانی سماج کو معاشی زوال اور سیاسی انتشار سے نکالنا ہے تو اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ محنت کشوں کی قیادت میں جاگیرداری اور استحصالی نظام کے خلاف ایسا انقلاب برپا کیا جا‌ئے جس میں کاریگر، تاجر اور متوسط طبقہ بھی اپنا کردار ادا کرے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ شاہ ولی اللہ نے ایسے وقت میں ان ترقی پسند نظریات پر لکھا جب فرانسیسی مفکر \’جان جیک روؤسو\’  یورپ میں دور جدید کے حق میں تقریباً اسی قسم کے نظریات پیش کر رہا تھا۔ انہیں نظریات نے بالعموم یورپ اور بالخصوص فرانس میں جاگیرداری سماج کے خلاف ایک ہمہ گیر انقلاب برپا کیا۔

شاہ عبدالعزیز اور فتوی دارالحرب :

جناح نے اس حقیقت کو بھی نظر انداز کیا کہ شاہ ولی اللہ کے بیٹے شاہ عبدالعزیز وہ ہستی ہیں جنہوں نے فتوی دارالحرب جاری کر کے ہندوستان میں عوامی سطح پر برطانوی قبضے کے خلاف جدوجہد کا آ‏‏غاز کیا۔ آپ نے قرآن مجید کا اردو زبان میں ترجمہ کیا جو کہ اس وقت ہندوستانیوں کی اکثریت کی مشترکہ زبان تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد قرآنی تعلیمات سے روشناس ہو سکیں۔ فتوی دارالحرب کے مطابق انگریز کے قبضے کے بعد ہندوستان دارالامن نہ رہا تھا اس لئے ہر مسلمان پر فرض تھا کہ وہ یا تو انگریز کے قبضے کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں حصہ لے یا پھر ہندوستان سے ہجرت کر جائے۔

تاریخ کا ایک غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اگر جدید شاہی ریاستوں کی طرف سے برطانوی راج کی مخالفت کا اختتام 1799 میں ٹیپو سلطان کی شکست سے ہوا تو 1803 کا فتوی دارالحرب نوآبادیاتی نظام کے خلاف اس عوامی مزاحمتی دور کا نقطہ آغاز تھا جس کے نتیجے میں پہلے 1857 کی جنگ آزادی اور بالآخر 1947 میں ہندوستان کی آزادی ممکن ہو سکی۔

اسی بارے میں: ۔  صحافی ہو تو کامران خان جیسا

برطانوی سامراج سے اسی آزادی کے نتیجے میں ایک الگ ریاست کے طور پر پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ چونکہ شاہ عبدالعزیز کے فتویٰ میں ہندوستانی مغلیہ سلطنت کو واحد اکائی قرار دیا گیا تھا اس لئے شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد العزیز کے پیروکاروں نے ہندوستان کی تقسیم کو ہندوستانی مسلمانوں کے مفادات کے خلاف سمجھا۔ ان پیروکاروں کی اکثریت کا تعلق دارالعلوم دیو بند اور جمیعت علماء ہند سے وابستہ علماء کے حلقے سے تھا جن میں مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابو الکلام آزاد قابل ذکر ہیں۔

حب الوطنی (نیشنل ازم) اور مذہبی رواداری (سیکولرازم) پر مبنی انداز فکر:

فتوی \’ دارالحرب سے متعلق ایک دلچسپ اور قابل غور بات یہ ہے کہ شاہ عبدالعزیز نے 1786 سے 1803 کے درمیانی عرصے میں یہ فتویٰ جاری نہ کیا کیوں کہ اس دوران دہلی پر مراٹھوں کی حکومت قائم تھی۔ اس بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاہ عبدالعزیز کے نظریات مذہبی تعصب اور تنگی نظری سے پاک تھے۔ آپ ایک سچے قوم پرست اور مذہبی رواداری پر یقین رکھنے والے ( سیکولر) انسان تھے۔ آپ کا سیکولر ازم مغربی سیکولرازم کے منفی اثرات (مادر پدر آزادی اور مذہب کا کلیتاً انکار) سے آزاد اور اپنی دھرتی کے تقاضوں سے ہم آہنگ تھا۔ آپ کے ديے گئے فتویٰ کی مثال پوری مسلم دنیا میں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ اٹھارہوں اور انیسویں صدی میں ایشیاء اور افریقہ کے بہت سے علماء اور حریت پسندوں نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف فتاویٰ جاری کئے لیکن یہ تمام فتاویٰ صرف مسلمانوں سے متعلق تھے اور ان میں مسلمانوں کے علاوہ اور کسی طاقت کا ذکر نہ تھا۔ شاہ عبدالعزیز کا فتویٰ اس لحاظ سے امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں واضع طور پر ہندوؤں کا ذکر مسلمانوں کے ذمی اور حلیف کے طور پر کیا گیا۔ (ذمی سے مراد وہ غیر مسلم افراد ہیں جن کے تحفظ کی ذمہ داری مسلمان حکومت کے ذمہ ہوتی ہے)۔ فتویٰ کے مطابق برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت اس لئے ضروری تھی کہ مسلمان اور ان کے ذمی حلیف دونوں ہی محکوم بنا ديے گئے تھے اور اقتدار میں ان کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔

ہندو مسلم اتحاد:

فتویٰ دارالحرب میں \’کافر\’ کا لفظ صرف بدیسی برطانوی طاقت کے لئے استعمال کیا گیا جب کہ ہندوؤں کو مسلمانوں کا اتحادی قرار دیا گیا۔ فتویٰ میں مسلم اور ہندو کا لفظ ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا گیا اور کہا گیا کہ اگر ہندوستان کا اقتدار ذمیوں (ہندوؤں) کے پاس آجاتا تو بھی فتویٰ دارالحرب جاری کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔

شاہ ولی اللہ کا تصورِ جدوجہد اور تحریک آزادی کی نظریاتی اساس:

چونکہ ہندوستان کی دونوں مقامی طاقتیں بیک وقت اقتدار سے محروم کر دی گئی تھیں اور حکومت اب ایک غیر ملکی استحصالی قوت کے ہاتھ میں تھی اس لئے دونوں مقامی طاقتوں پر فرض تھا کہ وہ مشترکہ جدوجہد کے ذریعے آزادی حاصل کریں۔ شاہ عبدالعزیز کے فتویٰ نے جہاد کو مسلمانوں کی جنگ کے محدود تصور سے نکال کر ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ تحریک کے طور پر پیش کیا۔ اس جدوجہد کا مقصد برطانوی سامراج سے آزادی، عدل و انصاف کا قیام اور سیاسی و معاشی انقلاب تھا۔ یہ فتویٰ ہندوتوا کی علمبردار فرقہ پرست جماعتوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جن کے بقول مسلمان ہندوؤں کو کافر اور دشمن سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس ہندوؤں کا اقتدار سے تعلق جوڑ کر آپ نے یہ سوچ پیدا کی کہ اس وقت اصل ہدف برطانوی سامراج کو ہندوستان سے نکالنا ہے اور آزادی کے بعد اقتدار مسلمانوں اور ہندوؤں میں سے کسی ایک یا پھر ان کی مشترکہ قوت کے پاس ہو سکتا ہے۔ گویا شاہ عبدالعزیز نے اس مفروضہ کا انکار کر دیا کہ حکمرانی کا حق صرف مسلمانوں کا ہے یا پھر یہ کہ انگریز کے جانے کے بعد مسلمانوں کے لئے مخصوص نمائندگی کی ضرورت ہے۔

شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز جیسی اہل علم، باشعور اور متحرک شخصیات نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے ہندوستان پاک و ہند کا مشترکہ اور بیش قیمت اثاثہ ہیں۔ دا‏ئیں بازو سے تعلق رکھنے والے دانشور اور جماعتیں سینکڑوں مبہم اور غیر مستند روایتیں پیش کرتے ہیں (جن میں سے زیادہ تر کا تعلق زمانہء وسطہ سے ہے) جن میں مسلم علماء کی طرف سے ہندوؤں کو کافر قرار دیا گیا ہے۔ لیکن وہ شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز کی تعلیمات کو دانستہ طور پر نظر انداز کر جاتے ہیں حالانکہ ولی اللہ ازم طالبان اور القاعدہ جیسے انتہاء پسند اور متشدد انداز فکر کا بہترین جواب ہے۔

ولی اللہ ازم  بمقابلہ وہابی ازم:

برطانوی استعمار نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ ولی اللہ ازم کو وہابیت کے طور پر پیش کر کے بدنام کیا جاسکے حالانکہ تاریخ کا ایک ادنی طالبعلم بھی دونوں کے درمیان فرق بتلا سکتا ہے۔ شاہ ولی اللہ اور عبد الوہاب نجدی کے نظریات ہر لحاظ سے مختلف ہیں۔ نجد سے تعلق رکھنے والے عبد الوہاب حنبلی فقہ کے پیروکار تھے۔ یہی عبدالوہاب اٹھارہوں صدی میں ایک متشدد اور آمرانہ نظریاتی تحریک کے رہنما بنے۔ سعودی عرب کی ریاست 20ویں صدی میں اسی تحریک کے حتمی نتیجے کے طور پر معرض وجود میں آئی۔ اس کے برعکس شاہ ولی اللہ حنفی فقہ کے پیروکار تھے۔ بر صغیر میں مسلمانوں کی اکثریت اسی فقہ پر عمل پیرا ہے۔ آپ تصوف کے نقشبندیہ سلسلے اور امام ‏غزالی کے پیروکار تھے۔ جب کہ عبدالوہاب ایک کٹر صوفی مخالف اور تیرہویں چودہویں صدی کے عالم ابن تیمیہ سے متاثر تھے۔ ابن تیمیہ امام غزالی کے شدید نقاد تھے۔ عبدالوہاب نے کبھی بھی مروجہ استحصالی نظام کے خلاف انقلابی جدوجہد کی بات نہیں کی۔ مزید یہ کہ عبدالوہاب نجدی سماجی اور معاشی معاملات میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کوئی واضع رہنمائی دینے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔

ستمبر 2001 کے سانحے کے بعد چارلس ایلن اور نیل فرگوسن جیسے مغربی تاریخ دانوں نے ایک بار پھر نوآبادیاتی دور کی اس پراپیگنڈا تحریک کو زندہ کرنے کی کوشش کی جس میں شاہ ولی اللہ کی فکر کے پیروکاروں اور وہابیت سے تعلق رکھنے والوں کو ہم مثل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ولیم ڈالریمپل اور دوسرے آزادخیال دانشوروں نے اس پراپیگنڈے کے تحت پیدا کئے گئے مغالطے اور دروغ گوئی کو آشکار کرنے کی بجائے خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی ہے۔

عصر حاضر میں شاہ ولی اللہ کے افکار کی ضرورت و اہمیت:

آج ہندوستان کو جن اہم مسائل کا سامنا ہے ان میں پاکستان کے ساتھ مصالحت اور حالات میں بہتری، ہندو مسلم فرقہ وارانہ چپقلش، ذات پات پر مبنی سماجی نظام اور غربت و پسماندگی کے خلاف جدوجہد شامل ہیں۔ یہ تمام مسائل اپنی اپنی جگہ انتہائی گھمیبر اور پیچیدہ ہیں۔ ملک کے پالیسی ساز ادارے اور دانشور حضرات ان مسائل کی درست تفہیم اور انہیں حل کرنے کا طریقہ کار پیش کرنے میں یا تو مکمل طور پر ناکام اور مایوس ہوچکے ہیں یا پھر وہ ان مسائل کو ناقابل حل سمجھ کر نظر انداز کرنے لگے ہیں۔

آزادی کے ستر برس بعد مہاتما گاندھی اور نہرو کے پیروکاروں، ہندوستان اور پاکستان کی بائیں بازو کی جماعتوں،ماؤنوازوں، اسلامی جماعتوں، قوم پرستوں اور لبرل حضرات کے سامنے اور کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ برصغیر میں انقلابی بنیادوں پر ایک جمہوری سیاسی نظام (سماجی تبدیلی)، امن و امان اور بقائے باہمی کے اصولوں پر مبنی معاشروں کے قیام کے لئے شاہ ولی اللہ کے افکار و نظریات کو شعوری بنیادوں پر قبول کریں اور ان کی ترویج میں اپنا کردار ادا کریں۔

(امریش مشرہ ایک ممتاز تاریخ دان اور ناول نگار ہیں۔ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ہندوستان میں فرقہ واریت کے خلاف سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنی خدمات کے صلے میں بہت سے اعزازات جیت چکے ہیں)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “فرقہ پرستی اور نفرتوں کے موسم میں شاہ ولی الله کے افکار کی ضرورت

  • 28-12-2016 at 3:30 am
    Permalink

    شاہ ولی الله کے خیالات کو بہتر سمجھنے کے لئے مولانا عبیدالله سندھی اور محمد سرور صاحب کی تصنیفات سے ضرور رجوع کریں۔ انگریزی میں سید اطہر عباس رضوی کی کتابیں مدد دیں گی لیکن وہ اب صرف بڑی لائبریریوں ہی میں ملینگی۔ لاھور کی سندھ ساگر اکادمی کی بیشتر مطبوعات میں انکے افکار کا ذکر ملے گا۔ ویسے یہ بھی ذہن میں رہے کہ انھی قابل احترام بزرگ نے احمد شاہ ابدالی کو دعوت نامہ بھیجا تھا کہ ہندوستان پر حملہ کریں۔ یہ مکتوب شاہ کو ملا بھی تھا، یہ نہیں کہا جاسکتا۔ شاہ صاحب کے معتقدین اس خط پر اعتماد کرتے ہیں۔ امریش مشرا صاحب کی تحریر کچھ زیادہ ہی پرجوش ہے۔ انکے نزدیک استعمار کا مطلب ہے انگریزی استعمار یا مغربی استعمار۔ اگرچہ استعمار، اپنے لغوی معنی میں، انگریزوں سے پہلے بھی تھا اور انکے جانے کے بعد بھی ہے۔ ہندو مسلمانوں میں جو سیاسی جنگ شروع ہوئی اسکا سارا الزام انگریزوں پر رکھنا خود کو دھوکے میں رکھنے پر اصرار کرنا ہے۔

Comments are closed.