بندوقوں کے سائے میں بینظیر کا غریب ووٹر


\"\"

ایک دن گپ شپ کے دوران عائشہ صدیقہ نے پوچھا کہ بی بی کی لیگیسی کیا ہے؟ فوری جواب تو یہ بنتا تھا کہ پیپلز پارٹی! پر پتہ نہیں کیوں ایک فضول سا جواب لگا یہ۔
حال ہی میں بلاول کو دیکھتے ہوئے اپنے ہی دماغ نے یہ سوال دہرایا اور جواب سوچا کہ کیا بلاول بی بی کی لیگیسی ہے؟
اس جواب پر بھی دل نہ مانا۔

اب 23 دسمبر کی صبح جب حیدرآباد سے کراچی واپس آ رہی تھی اور راستے بھر جیالوں سے بھری بسیں دیکھ کر اور کراچی میں داخل ہوتے ہی زرداری خطروں کا کھلاڑی کے بینرز پڑھتے ہوئے گھر جا رہی تھی کہ بی بی اس شدت سے یاد آئیں جیسے کوئی بچھڑی ہوئی سکھی سہیلی یاد آتی ہے۔ بینرز پر بی بی کی تصویر چھوٹی ہو چکی ہے اور چہرے بڑھ گئے ہیں۔ دل نے کہا کہ اس دسمبر میں سچ مچ الوداع بی بی۔ دماغ نے کہا کہ سیاست ٹھہرے ہوئے پانی کا نام نہیں ہے۔ سیاست وہ جو اپنا بہاؤ قائم رکھے۔ اور بہاؤ میں یونہی چہرے بدلتے رہتے ہیں۔

بی بی یاد آئیں تو اس دور کی یادیں ذہن پر اتر آئیں۔ ساتھ ہی عائشہ صدیقہ کا سوال کہ بی بی کی لیجیسی کیا ہے؟ بے اختیار دل سے جواب آیا کہ بھٹو اور بی بی کے سندھی ووٹرز۔

وہ 1988 کے الیکشن کے دن تھے۔ بھٹو کو پھانسی چڑھے نو سال گذر چکے تھے۔ ضیا کی آمریت کا آسیب اپنے سائے چھوڑ کر جبڑے کی صورت دفن ہو چکا تھا اور بقول حبیب جالب نہتی لڑکی بندوقوں والوں کے سامنے طویل اور زخمی کر دینے والی جدوجہد سے گذر کر اب الیکشن لڑنے کے لیے تنی کھڑی تھی۔ ضیا اس کی شکست کا سامان تیار کرتے کرتے اتفاق سے کریش ہو چکا تھا۔ اس سے پہلے سندھ ایم آر ڈی کی تحریک کے الاؤ سے گذر چکا تھا جس میں سندھی سیاست دان، سیاسی ورکرز، سیاسی ایکٹوسٹ سے لے کر سندھی وڈیرہ اور ہاری تک حصّہ دار بھی رہا تھا اور صعوبتوں سے بھی گذرا تھا اور جس نے ضیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

میری قریبی فیملی میں نوید قمر پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن لڑنے جا رہے تھے، وہ بھی اس حلقے سے جہاں ہمارے خاندانی تعلقات تھے ہی نہیں اور خود نوید کے سیاسی کیرئر کی بلکل ہی ابتدا تھی۔

فیملی میٹنگ ہوئی اور الیکشن میں نوید کے لیے خواتین کی campaign کا کام میرے سپرد کر دیا گیا۔ سیاسی خاندانوں میں الیکشن ایک خاندانی معاملہ ہوتا ہے جس میں پورا خاندان جی جان سے شامل ہو جاتا ہے۔

ایک ہی کال پر پورا خاندان اور پورا حلقہِ احباب پہنچ گیا۔ اور قافلے کی صورت ہم ٹنڈو جام، ٹنڈو قیصر اور ارد گرد کے دیہاتوں میں اتر پڑے۔ میرے لیے یہ کام بلکل ہی نیا تھا اور بلکل ہی ذاتی بھی تھا۔ کوئی پلاننگ بھی ہاتھوں میں نہیں تھی۔ میں پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے ”جنگل“ ڈرامہ ضیا کے دور میں لکھ چکی تھی اور سندھی میں ہنگامہ برپا کر دینے والی کہانیوں کے دو مجموعے چھپ چکے تھے اور ایک ایسا نام بن چکی تھی جسے سندھ میں لوگ جاننے لگے تھے۔ اس لیے سب کا خیال تھا کہ میں یہ معرکہ سر کرلوں گی۔

\"\"

نوید کی وہ پہلی campaign میری زندگی کا ایک عجیب تجربہ تھا۔ گو کہ اس کے بعد بھی میں نوید کی ہر الیکشن کی جنگ لڑتی رہی ہوں۔

مگر وہ کیا منظر تھا!

پہلے دن ہم پیپلز پارٹی کے جھنڈے لگی گاڑیوں میں ٹنڈو جام کے اطراف کے انجانے گوٹھوں کو جاتے کچے راستوں پر محض اندازے کے ساتھ اتر پڑے۔

پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی تھی۔ گاڑیوں کا قافلہ تنگ اور کچے راستے پر گرد و غبار اُڑاتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ بظاہر آبادی کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے سوائے راستے کے دونوں اطرف گھنے کھیتوں اور درختوں کے جھنڈ کے۔ سورج اپنے آخری لمحوں پر آ گیا تھا۔ اچانک پتہ نہیں کہاں سے عورتوں، مردوں اور بچوں کا ہجوم، ننگے پاؤں، دھول اڑاتا ہوا، چاروں طرف سے اُمڈنے لگا۔ نعرے مارتا ہوا، اور ان نعروں کی گونج چاروں طرف شام ڈھلے کے پرندوں کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی۔

یا اللہ۔ یا رسول۔ بینظیر۔ بیقصور۔ یا اللہ۔ یا رسول۔ بینظیر۔ بیقصور۔

ہجوم نے گاڑیوں کو گھیر لیا۔ میں اتری مگر ہونق بنی انہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ افریقی حبشیوں کی طرح گاڑیوں کے گرد ناچ رہے تھے۔ فضا میں اٹھے ان کے ہاتھ جھنڈوں کی طرح لہرا رہے تھے۔ سورج ڈوب چکا تھا۔ منظر گہری دھول میں گم ہوتا جا رہا تھا۔ صرف گونج تھی اور اس کی بازگشت تھی۔ یا اللہ۔ یا رسول۔ بینظیر بیقصور۔

میری ہم قافلہ خواتین گاڑیوں میں بیٹھی رہ گئیں اور زار و قطار رو رہی تھیں۔ ہم نے نہ ووٹ مانگا نہ کوئی سیاسی وعدہ کیا۔ نہ نوید کا تعارف کروایا۔ بمشکل وہاں سے نکل سکے۔ وہ بھی یوں کہ گاڑیاں آگے آگے اور پیچھے پیچھے وہی گونج۔ اور پھر یہ منظر روز کا منظر بن گیا۔

\"\"

دن کی روشنی میں ٹنڈو جام شہر میں داخل ہوئے تو سڑک کے کنارے کھڑے پولیس والے، ٹھیلے والے، راہگیر ہمیں یوں سلیوٹ کر رہے تھے جیسے ان گاڑیوں میں بینظیر خود موجود ہو۔ لوگ شہر کے راستوں پر ہمیں ٹولیوں کی صورت روک رہے تھے اور ہماری گاڑیوں کے گرد رقص کر رہے تھے۔ نعرہ ایک ہی تھا۔ یا اللہ یا رسول۔ بینظیر بیقصور۔

سمجھ نہیں آتا تھا کہ campaign کیسے شروع کی جائے۔ بس بغیر سوچے سمجھے شہر کی گلیوں میں پیدل اتر پڑے۔ گلیوں میں داخل ہوتے تو بچے ماؤں کو آوازیں دیتے ہوئے آگے آگے دوڑتے پھر رہے ہوتے کہ بینظیر کی عورتیں آئی ہیں۔ گھروں کے دروازے کھل جاتے۔ عورتیں اور مرد باہر نکل نکل کر ہماری منتیں کرتے کہ اپنے مبارک قدم ہمارے گھر لے آئیں۔ ہم بھٹو کے شیدائی ہیں۔ ہم بینظیر کے شیدائی ہیں۔ ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جاتے۔ معاملہ اب نوید کے تعارف کا نہیں، بھٹو اور بینظیر کے شیدائیوں کو خوش کرنے کا تھا۔ گھروں میں اندر گئے تو انہیں وہ اعلیٰ جگہ نہ ملتی تھی جہاں ہمیں بٹھایا جائے۔ جلدی جلدی نئی رلیاں اور کھیس بچھائے جاتے۔ اس کے بعد سب سے پہلے ہمارے سامنے بھٹو کی تعزیت پیش کی جاتی۔ آنسوؤں کا سیلاب امڈ آتا تھا۔ یہ مرحلہ ختم ہوتا تو بینظیر کا حال پوچھا جاتا۔ ان کا خیال ہوتا تھا کہ ہم بینظیر کی سہیلیاں ہیں۔ دن رات اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ کیسی ہے وہ؟ طبیعت کیسی ہے اس کی؟ دکھتی کیسی ہے؟ باپ کا دکھ پریشان تو نہیں کرتا؟ ہمارا سلام دینا۔ کہنا تو ہماری بیٹی ہے۔ تیری عزت پر سے ہم قربان۔ ہم پیغام پہنچانے کا جھوٹا وعدہ کرتے اور اگلے گھر میں چلے جاتے۔ کھانے کے وقت پر جو گھر ہمیں روک لیتا اس گھر میں ہمارا قافلہ ہی نہیں پورا محلہ جمع ہو جاتا۔ سب کو کھانا کھلایا جاتا اور کہا جاتا کہ یہ بینظیر کی مہمانی ہے۔

وہ چھوٹا سا گاؤں نہیں بھولوں گی جہاں بجلی نہیں تھی۔ ہمیں جس کے سامنے سے گذر کر آگے جانا تھا اور جس کے ننگے پیر، میلے پھٹے کپڑوں والے باسیوں نے جلتے لالٹین اونچے اٹھائے ہوئے ہمارا راستہ روک لیا تھا اور ہمیں مجبور کیا تھا کہ ہم ان کے گاؤں میں چلیں۔ اور جب لالٹینوں کی روشنی میں ہم ان کے ساتھ ایک کچے گھر کے کچے آنگن میں ٹوٹی پھوٹی چارپائیوں پر آ کر بیٹھے تو تمام مرد اور عورتیں زمین پر بیٹھ گئے۔ پہلے انہوں نے ہم آواز ہو کر بین کر کے بھٹو کا پُرسا دیا۔ پھر وہ سب بیچ صحن میں کھڑے ہوگئے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہم آواز ہو کر کہتے جاتے تھے۔ یا اللہ یا رسول۔ بینظیر بیقصور۔

آسمان پر چاند چڑھ آیا تھا اور ماحول برف کی طرح ریڑھ کی ہڈی میں جم سا گیا تھا۔

\"\"

پھر اس وڈیرے کی نوّے سال سے بھی اوپر کی عمر کی، جھریوں بھری، ہڈیوں کا پنجر ماں، جس کے وڈیرے بیٹے نے انکار کر دیا تھا ووٹ دینے سے۔ گھر کی ایک عورت نے کہا کہ اس کی ماں کو بتاؤ۔ میں نے ماں کو باتوں باتوں میں بتا دیا۔ ماں نے دبنگ بیٹے کو بلایا۔ بیٹے کو ہم سب کے سامنے للکارتے ہوئے کہا کہ میں دودھ نہیں بخشوں گی اگر تو نے بھٹو کی بیٹی کو ووٹ نہ دیا۔ بیٹے نے ماں کے سر پر قسم اٹھا کر ووٹ کا وعدہ کیا۔

وہ صندوقوں میں برسوں سے رکھے بوسیدہ دوپٹے، جو لوگ ہمیں بینظیر کے نام پر پہناتے تھے۔ وہ پانی جو لوگ کچے راستوں پر روک کر، شہید بھٹو کی نیّت پلاتے تھے۔ وہ کچے گھروں میں چُٹکی چُٹکی بھر چینی جو لوگ بینظیر کی جیت کی دعا میں منہ میٹھا کرنے کے لیے ہمارے منہ میں ڈالتے تھے۔

ہماری ایک کزن کی شکل بینظیر بھٹو سے ملتی تھی۔ پتہ نہیں کیسے یہ بات مشہور ہو گئی کہ وہ صنم بھٹو ہے۔ عورتیں اس کے ہاتھ چومتیں اور پیروں کو چھوتیں کہ بھٹو کی بیٹی ہے۔ بلآخر ایک دن اسے کہنا پڑ گیا کہ میں بھٹو کی بیٹی نہیں ہوں تو بھی کوئی یقین کرنے کو تیار نہ تھا۔

ہم میں سے کسی کو نعرے لگانے نہیں آتے تھے۔ نہ ہی یہ کام ہم میں سے کسی کے لیے ممکن تھا۔

الیکشن کے قریب آتے آتے پیپلز پارٹی کی ایک پرانی جیالی ہمارے ساتھ آ ملی تھی۔ یوں بھی قافلہ بہت بڑا ہو چکا تھا۔ ٹنڈو جام کے کھاتے پیتے، پڑھے لکھے گھرانوں کی بیٹیاں رضاکارانہ طور پر اس قافلے میں شامل ہوتی گئی تھیں۔ آس پاس کے نوجوان آپ ہی آپ ہمارے گائیڈز اور گارڈز بن گئے تھے۔

پیپلز پارٹی کی وہ جیالی کھلی گاڑی میں بیٹھتی تھی اور گاڑی کو قافلے میں سب سے پیچھے رکھتی تھی۔ ہم سب اس کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے کیونکہ وہ اس کھلی گاڑی میں کھڑے ہو کر نعرے لگایا کرتی تھی۔ جہاں جہاں سے گذرتے تھے، اس کی آواز کی دل چیرنے والی گونج اس آخری گاڑی کے پیچھے دھول سے اٹے لوگوں کا ایک ہجوم جمع کرتی جاتی تھی جو اس گونج میں اپنی گونج شامل کرتے جاتے اور گاڑی کے پیچھے پیچھے دوڑتے جاتے۔

یا اللہ یا رسول۔ بینظیر بیقصور۔

ایک بار میں اس کے ساتھ بیٹھ گئی تھی اس کھلی گاڑی میں۔ رات کا وقت تھا اور campaign کے بلکل ہی آخری دن تھے۔ جیالی تقریباً گاڑی سے باہر لٹک رہی تھی۔ اس دن وہ نعرے لگا رہی تھی۔ وزیرِاعظم۔ بینظیر۔ وزیراعظم۔ بینظیر۔

ٹنڈو جام شہر کی سڑکیں تھیں اور پیچھے پیچھے آتا ہجوم بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ عورتیں، مرد، بچے ایک ساتھ رقص کرتے ہوئے۔ وزیرِاعظم۔ بینظیر۔ وزیراعظم۔ بینظیر۔

پک اپ ہجوم میں گھر چکی تھی۔ بنظیر بیقصور کا نعرہ اور بھٹو کا غم بینظیر کی جیت کے یقین میں بدل چکا تھا۔

\"\"

سندھی سماج میں عورتیں اور مرد، لڑکے اور لڑکیاں بیچ سڑکوں پر ملکر رقص کریں، آج بھی اس کا تصوّر ممکن نہیں۔ سب عام لوگ تھے۔ کسی کو ہم نہیں جانتے تھے۔ دھرتی میں سے اُگ آئے ہوئے بی بی کے ووٹرز تھے یہ۔ بھٹو کی بیٹی کے ووٹرز ہی نہیں اس دھان پان سی نہتی، بینظیر کے ووٹرز تھے جس نے ضیاء کی اس آمریت کے خلاف جدوجہد کی تھی جس کے آسیب کے سائے آج تک پاکستان میں سرسراتے پھر رہے ہیں۔

ان ہی دنوں میں نے جانا کہ سندھی مزاجاً آمریت کے خلاف امن کے ساتھ مزاحمت کرنے والی قوم ہے۔ یہ تو اپنے باپ کے جنازے پر اپنی عورت کو نہ نکلنے دیں۔ مگر یہ آمریت کے خلاف مزاحمت اور آمریت کو شکست کا رقص تھا۔ مگر اس کے لیے لیڈر کا بی بی جیسا ہونا شرط تھا۔

مشرف کے دور کے الیکشن کا ایک واقعہ میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ نوید قمر اپنے نام اور سیاسی شناخت کے ساتھ پچھلے تمام الیکشنس اب اپنے آبائی حلقے سے نینشنل اسمبلی کی سیٹ پر جیتتے ہوئے آ رہے تھے مگر وہ الیکشن بھی آمریت کے آسیب تلے تھا۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے مشرف نے وڈیرے کو ووٹ کا لین دین اور منڈی میں اس کی قیمت لگانا سکھا دیا تھا۔

الیکشن کا دن تھا۔ میں خواتین کی پولنگ پر نوید کی چیف ایجنٹ تھی۔ میرے ساتھ ہیپی (مسز نوید قمر) بھی تھی۔ پولنگ اسٹیشنس کا راؤنڈ لیتے ہوئے گذرے تو کسی نے راستے میں روک کر کہا کہ مہربانی فرما کر گوٹھ سونوُ عالمانی جائیں، وہاں پولنگ بند ہے۔ ہم دونوں تنہا تھیں۔ تیسرا صرف ڈرائیور۔ گوٹھ سونوُ عالمانی میں داخل ہوئے تو قدم قدم پر وڈیرے کے مسلح بندے گشت کر رہے تھے۔ الیکشن کا دن ہونے کے باوجود ہر طرف ہو کا عالم۔ پولنگ اسٹیشن کے اندر گئے تو ڈھیروں مسلح وردی والے بیٹھے تھے۔ پرزائڈنگ آفیسر کی طرف گئے تو وہ بے بسی کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ ہمارے پولنگ ایجنٹس نم آنکھوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ دور دور تک ووٹر کا نام و نشان نہ تھا۔ پتہ چلا کہ ووٹرز کو بندوقوں کے بل پر روک دیا گیا ہے وڈیرے کی طرف سے کہ جو ووٹ دینے نکلے گا اس پر گولی چل جائے گی۔ پرزائیڈنگ آفیسر نے کہا کہ میں بے بس ہوں۔ وردی والوں کے سامنے ہیپی نے احتجاج کیا تو وہ ساکت و سپاٹ یوں بیٹھے رہے جیسے پتھر سے بنے ہوں۔

\"\"

پولنگ اسٹیشن سے باہر نکل کر کسی بھی راہگیر سے بات کرنے کی کوشش کی تو راہگیر سہم کر نظریں چرا کر گذر جاتا۔ مسلح بندے ہمارے ارد گرد منڈلا رہے تھے۔ ہیپی جذباتی ہوگئی اور ہم دونوں قریب کے کچے گھروں میں گھس گئے۔ مرد عورتیں اپنے اپنے گھر میں محصور تھے۔ گھروں کے صحن ہر گاؤں کے گھروں کی طرح آپس میں جُڑے ہوئے تھے۔ ہیپی ایک گھر کے صحن میں بیٹھے لوگوں کے سامنے مزید جذباتی ہوگئی۔ بی بی کا ووٹ ہے یہ۔ بی بی کو ووٹ نہیں دینا؟ وہ بولے جا رہی تھی، گھروں سے نکل نکل کر لوگ جمع ہوتے جا رہے تھے۔ رو رہے تھے۔ مردوں نے کہا کہ ہم نکلے تو ہم پر گولی چل جائے گی۔ آپ ہماری عورتوں کو لے جائیں اور ووٹ دلائیں۔ عورتوں کا ہجوم ہمارے ساتھ نکل آیا۔ ووٹ ڈلوا دیا۔ مگر جب وہ ووٹ دے کر پولنگ اسٹیشن سے باہر نکلیں تو وڈیرے کے مسلح لوگوں نے انہیں گھیر لیا۔ اب اندازہ ہو رہا تھا کہ معاملہ کتنا خطرناک ہے۔ میں اور ہیپی وردی والوں پر چیخ رہے تھے کہ آپ لوگ کس کام کے لیے یہاں بیٹھے ہیں! ان کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ انہیں ان سے بچائیں۔ وہ یوں پتھر کے بنے بیٹھے رہے جیسے سانس بھی نہ لیتے ہوں! ہیپی ان عورتوں کی وجہ سے اب روتے ہوئے پرزائڈنگ آفیسر کو کہہ رہی تھی کہ ہمیں یہ ووٹ نہیں چاہیں۔ پھینک دیں انہیں ڈبوں سے نکال کر۔ رجیکٹ کر دیں۔ وہ بھی اسی پتھر کا بنا تھا جس سے وردی والوں کی تعمیر ہوئی تھی۔ اب میں اور ہیپی ان مسلح پہریداروں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہے تھے اور ان عورتوں اور ان کے مردوں کی زندگیوں کی بھیک مانگ رہے تھے۔ اس کا اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے عورتوں کو واپس گھر جانے دیا۔

آدھے سے زیادہ دن اس کشمکش میں گذر چکا تھا۔ اسی کشمکش کے دوران مجھ پر انکشاف ہوا کہ یہ علاقہ مشہور ترقی پسند اور انقلابی خیالات رکھنے والے اور انتہائی پڑھے لکھے اور انسانی حقوق کے علمبردار عالمانی خاندان کا ہے، جن کے سینے کا درد رہا ہے سندھ کے ساتھ ہونے والی بے انصافیاں! اور آج اس پورے خوفناک کھیل کے پیچھے عالمانی صاحب خود ہیں۔ پولنگ اسٹیشن ان کے گھر اور اوطاق کے پہلو میں بنے سرکاری اسکول کی عمارت میں تھا۔ یہ سب جاننے کے بعد میں سُلگ اٹھی۔ اب بیچ چوراہے پر میں کھڑی عالمانی صاحب کو للکار رہی تھی اور شرم دلا رہی تھی۔ میری آواز شاید دور دور تک جا رہی تھی۔ عالمانی صاحب کے بھائی نکل آئے جو خود بھی ترقی پسند رائٹر تھے۔ وہ مجھے ٹھنڈا کرنا چاہ رہے تھے مگر میرا جنون سوا ہوتا چلا گیا کہ یہ ہے آپ لوگوں کا انقلاب! تم لوگ کون ہوتے ہو ووٹ کا حق چھیننے والے۔ یہ ہے وہ سندھ جو دیکھنا چاہتے ہو وغیرہ وغیرہ۔ میں چیخ رہی تھی اور لوگوں کے سر آہستہ آہستہ دیواروں پر سے نمودار ہو رہے تھے۔ اچانک ایک تقریباً اٹھارہ سال کی عمر کے ایک نوجوان لڑکے کا سر دیوار کی دوسری طرف سے نمودار ہوا، جس کی مونچھیں بھی ٹھیک سے بنی نہیں تھیں۔ اس نے دیوار کی دوسری طرف سے مجھے مخاطب کیا۔ آپ نورالہدیٰ شاہ ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔ اب وہ لڑکا بول رہا تھا۔ یہاں کا ایک ایک ووٹ بھٹو کا ہے۔ ہم بھٹو کے ہیں۔ یہ ہمیں ووٹ نہیں دینے دے رہے۔ انہوں نے طاقت کے بل پر ہمیں روک دیا ہے۔ آپ ووٹ دلائے بغیر یہاں سے نہ جائیں۔ انہیں منہ پر بتائیں کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ ان کے سامنے آج تک کسی نے سچ کہنے کی جرأت نہیں کی۔ لڑکا بول رہا تھا اور میں بھٹو کے اس نئے ووٹر کو دیکھ رہی تھی جس نے شاید ابھی زندگی کا پہلا ووٹ بھی نہیں دیا تھا۔

\"\"

شام ہونے کو تھی اور پولنگ کا وقت ختم ہونے میں بمشکل بیس منٹ باقی تھے۔ ہم اسی چوراہے پر کھڑے لڑ رہے تھے کہ اچانک منظر بدل گیا۔ ٹریکٹر میں بندھی ٹرالیاں اچانک دھول اڑاتی ہوئی کسی انجانی سمت سے نمودار ہوئیں، جن میں کئی بوڑھے، بوڑھیاں، عورتیں اور مرد بھرے ہوئے تھے۔ وہ سندھی میں نعرے لگاتے ہوئے پولنگ اسٹیشن کی طرف آ رہے تھے۔ یہ ووٹ کس کا؟ بینظیر کا۔ یہ ووٹ کس کا؟ بھٹو کا۔ ہجوم کا ہجوم اپنے بوڑھے بوڑھیوں کو گود میں اٹھائے پولنگ اسٹیشن میں گھس گیا کہ وقت ختم ہونے کو تھا۔

شام ڈھل گئی۔ میں اور ہیپی وہاں سے نکل رہے تھے۔ مسلح افراد بدستور قدم قدم پر کھڑے تھے۔ ہیپی نے سہمی ہوئی آواز میں سرگوشی کی۔ نور آج ہمیں گولی لگ جائے گی۔ میں نے اسے کہا سائڈ مرر میں دیکھو۔ راستے میں آتے مسلح آدمی ہمیں ذرا زرا سا ہاتھ اٹھائے وکٹری کا نشان دکھا رہے تھے۔

اور جام ساقی کے گھر کی وہ شام جب بینظیر جام ساقی کے والد یا والدہ کی تعزیت کے لیے آئی تھیں۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں بہت سے لوگ جمع ہو گئے تھے۔ ایک چھوٹی بچی بینظیر کو قریب سے دیکھنے کے لیے ان کی پشت پر چڑھ آئی تھی۔ اس اچانک حملے سے گھبرا کر پہلے تو انہوں نے اس بچی کو پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر ڈانٹ دیا۔ پھر مڑ کر دیکھا۔ قریب بلا کر سوری کہا اور پیار کیا اور دھیمی آواز میں مسکرا کر کہا۔ یہ میری کل کی ووٹر ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 46 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah