بندوقوں کے سائے میں بے نظیر کا غریب ووٹر


ایک دن گپ شپ کے دوران عائشہ صدیقہ نے پوچھا کہ بی بی کی لیگیسی کیا ہے؟ فوری جواب تو یہ بنتا تھا کہ پیپلز پارٹی! پر پتہ نہیں کیوں ایک فضول سا جواب لگا یہ۔
حال ہی میں بلاول کو دیکھتے ہوئے اپنے ہی دماغ نے یہ سوال دہرایا اور جواب سوچا کہ کیا بلاول بی بی کی لیگیسی ہے؟
اس جواب پر بھی دل نہ مانا۔

کچھ روز پہلے جب حیدرآباد سے کراچی واپس آ رہی تھی اور کراچی میں داخل ہوتے ہی زرداری خطروں کا کھلاڑی کے بینرز پڑھتے ہوئے گھر جا رہی تھی کہ بی بی اس شدت سے یاد آئیں جیسے کوئی بچھڑی ہوئی سکھی سہیلی یاد آتی ہے۔ بینرز پر بی بی کی تصویر چھوٹی ہو چکی ہے اور چہرے بڑھ گئے ہیں۔ دل نے کہا کہ اب سچ مچ الوداع بی بی۔ دماغ نے کہا کہ سیاست ٹھہرے ہوئے پانی کا نام نہیں ہے۔ سیاست وہ جو اپنا بہاؤ قائم رکھے۔ اور بہاؤ میں یونہی چہرے بدلتے رہتے ہیں۔

بی بی یاد آئیں تو اس دور کی یادیں ذہن پر اتر آئیں۔ ساتھ ہی عائشہ صدیقہ کا سوال کہ بی بی کی لیگیسی کیا ہے؟ بے اختیار دل سے جواب آیا کہ بھٹو اور بی بی کے سندھی ووٹرز۔

وہ 1988 کے الیکشن کے دن تھے۔ بھٹو کو پھانسی چڑھے نو سال گذر چکے تھے۔ ضیا کی آمریت کا آسیب اپنے سائے چھوڑ کر جبڑے کی صورت دفن ہو چکا تھا اور بقول حبیب جالب نہتی لڑکی بندوقوں والوں کے سامنے طویل اور زخمی کر دینے والی جدوجہد سے گذر کر اب الیکشن لڑنے کے لیے تنی کھڑی تھی۔ ضیا اس کی شکست کا سامان تیار کرتے کرتے اتفاق سے کریش ہو چکا تھا۔ اس سے پہلے سندھ ایم آر ڈی کی تحریک کے الاؤ سے گذر چکا تھا جس میں سندھی سیاست دان، سیاسی ورکرز، سیاسی ایکٹوسٹ سے لے کر سندھی وڈیرہ اور ہاری تک حصّہ دار بھی رہا تھا اور صعوبتوں سے بھی گذرا تھا اور جس نے ضیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

میری قریبی فیملی میں نوید قمر پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن لڑنے جا رہے تھے، وہ بھی اس حلقے سے جہاں ہمارے خاندانی تعلقات تھے ہی نہیں اور خود نوید کے سیاسی کیرئر کی بلکل ہی ابتدا تھی۔

فیملی میٹنگ ہوئی اور الیکشن میں نوید کے لیے خواتین کی campaign کا کام میرے سپرد کر دیا گیا۔ سیاسی خاندانوں میں الیکشن ایک خاندانی معاملہ ہوتا ہے جس میں پورا خاندان جی جان سے شامل ہو جاتا ہے۔

ایک ہی کال پر پورا خاندان اور پورا حلقہِ احباب پہنچ گیا۔ اور قافلے کی صورت ہم ٹنڈو جام، ٹنڈو قیصر اور ارد گرد کے دیہاتوں میں اتر پڑے۔ میرے لیے یہ کام بلکل ہی نیا تھا اور بلکل ہی ذاتی بھی تھا۔ کوئی پلاننگ بھی ہاتھوں میں نہیں تھی۔ میں پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے ”جنگل“ ڈرامہ ضیا کے دور میں لکھ چکی تھی اور سندھی میں ہنگامہ برپا کر دینے والی کہانیوں کے دو مجموعے چھپ چکے تھے اور ایک ایسا نام بن چکی تھی جسے سندھ میں لوگ جاننے لگے تھے۔ اس لیے سب کا خیال تھا کہ میں یہ معرکہ سر کرلوں گی۔

نوید کی وہ پہلی campaign میری زندگی کا ایک عجیب تجربہ تھا۔ گو کہ اس کے بعد بھی میں نوید کی ہر الیکشن کی جنگ لڑتی رہی ہوں۔ مگر وہ کیا منظر تھا!

پہلے دن ہم پیپلز پارٹی کے جھنڈے لگی گاڑیوں میں ٹنڈو جام کے اطراف کے انجانے گوٹھوں کو جاتے کچے راستوں پر محض اندازے کے ساتھ اتر پڑے۔

پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی تھی۔ گاڑیوں کا قافلہ تنگ اور کچے راستے پر گرد و غبار اُڑاتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ بظاہر آبادی کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے سوائے راستے کے دونوں اطرف گھنے کھیتوں اور درختوں کے جھنڈ کے۔ سورج اپنے آخری لمحوں پر آ گیا تھا۔ اچانک پتہ نہیں کہاں سے عورتوں، مردوں اور بچوں کا ہجوم، ننگے پاؤں، دھول اڑاتا ہوا، چاروں طرف سے اُمڈنے لگا۔ نعرے مارتا ہوا، اور ان نعروں کی گونج چاروں طرف شام ڈھلے کے پرندوں کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی۔

یا اللہ۔ یا رسول۔ بینظیر۔ بے قصور۔ یا اللہ۔ یا رسول۔ بینظیر۔ بے قصور۔

ہجوم نے گاڑیوں کو گھیر لیا۔ میں اتری مگر ہونق بنی انہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ افریقی حبشیوں کی طرح گاڑیوں کے گرد ناچ رہے تھے۔ فضا میں اٹھے ان کے ہاتھ جھنڈوں کی طرح لہرا رہے تھے۔ سورج ڈوب چکا تھا۔ منظر گہری دھول میں گم ہوتا جا رہا تھا۔ صرف گونج تھی اور اس کی بازگشت تھی۔ یا اللہ۔ یا رسول۔ بینظیر بے قصور۔

میری ہم قافلہ خواتین گاڑیوں میں بیٹھی رہ گئیں اور زار و قطار رو رہی تھیں۔ ہم نے نہ ووٹ مانگا نہ کوئی سیاسی وعدہ کیا۔ نہ نوید کا تعارف کروایا۔ بمشکل وہاں سے نکل سکے۔ وہ بھی یوں کہ گاڑیاں آگے آگے اور پیچھے پیچھے وہی گونج۔ اور پھر یہ منظر روز کا منظر بن گیا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 75 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah