عورت، سیاست اور کردارکشی : بینظیر سے مریم تک


\"\"ہم چھوٹے تھے تو ہر بچے کی طرح ہمارے بھی اکثر دن نانا کے گھر ہی گذرتے تھے، یہ کراچی کے مشہور علاقے جمشید روڈ اور لیاقت آباد کے وسط میں واقع علاقہ تین ہٹی تھا جہاں گلی میں کھیلتے کھیلتے یہ نعرہ بھی کہیں سن سُنا کر یاد کرلیا ”نورانی کی کٹو۔ بے نظیر بھٹو ” ہم گھر آکر شوخی میں یہ نعرہ لگاتے تو نانا کان مروڑ کر ٹوکتے، شاید یوں بھی وہ خفا ہوتے تھے کہ پیپلزپارٹی سے ان کی نظریاتی وابستگی تھی، اس وقت تو ایسی نعرے بازیوں میں ہم بچوں کو مزہ بڑا آتا تھا مگر اب سوچتی ہوں کیسے کم بخت تھے وہ لوگ جنہوں نے اس خاتون لیڈر کا راستہ صرف پروفیشنلی ہی نہیں اخلاقی طور پر بھی روکا۔ کاش بے نظیر بھٹو کو دشمن بھی اپنے معیار کے ملے ہوتے۔

فاطمہ ثریا بجیا بتایا کرتی تھیں کہ جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں پی ٹی وی کے ڈرامہ لکھنے والوں کو ڈکٹیشن ملتی تھی کہ ڈراموں کے اسکرپٹ میں خواتین کی حکمرانی کے نظریئے کی حوصلہ شکنی کی جائے، پھر کچھ اس عظیم لیڈر بے نظیر بھٹو کی صفات تھیں کہ وہ اکیلی ہی لڑتی اور کامیاب ہوتی رہی، مگر کیچڑ اچھالنے والوں نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی، بے نظیر سفید دوپٹہ پہنے آگے بڑھتی گئی، اس نے لیڈری کی بچے بھی پیدا کیے، حکومت بھی کی اور ظلم کی حکومتوں کو چیلنج بھی کرتی رہی۔

\"\"

عجب لوگ ہیں ہم، آج بی بی کا ماتم منا رہے ہیں صرف ایک دن پہلے ایک خاتون سیاستدان مریم نواز کو اپنی شادی، رخصتی اور دلہن بنی سرخ جوڑے میں ملبوس تصاویر اس قوم کو بطور ثبوت دکھانا پڑیں۔ اسے یہ دکھانا پڑا کہ وہ گھر سے بھاگی نہیں تھی بلکہ والدین کی دعاؤں کے سائے تلے سرخ ملبوس میں رخصت ہوئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ مسئلہ مریم کے باپ سے ہے تو اسی کا حساب کتاب کیا جائے نا، بیٹی تو لامحالہ اپنے باپ کا دفاع کرے گی، بیٹی تو کہے گی کہ میرا باپ دنیا کا عظیم لیڈر ہے یہ اس بیٹی کی سیاست نہیں فطرت ہے، اب اگر آپ کو بیٹی کے میڈیا سیل سے تکلیف ہے یا اعلی سطحی اجلاسوں میں مریم کی شمولیت پر اعتراض۔ تو اس کا قانونی و سیاسی جواب وزیراعظم سے لیا جائے، لیکن اگر جواب میں آپ مریم کی محبت کی شادی، اور شادی کے چار ماہ بعد بیٹی کی پیدائش جیسے گھٹیا الزامات کا ٹوکرا لیے غلاظت کی تجارت کرتے پھریں تو یہ آپ کی سیاست نہیں خباثت ہے۔

اسی بارے میں: ۔  پاکستان کھپے.... پاکستان دی ستے خیراں.... مگر کیسے؟

چلیں یہ تو سوشل میڈیا کی واہی تباہی تھی نا، جس کا جواب مریم نواز کو تصویری ثبوتوں سے ٹوئٹر پر دینا پڑا، وہ قومی اسمبلی میں ٹریکٹر ٹرالی کی گونج۔ اس کا کیا کیجئیے؟ وزیر دفاع کے حساس عہدے پر براجمان خواجہ آصف نے جب جھجھک کی حدیں پار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہا تو جی چاہا ایسے زبان دراز کا کوئی منہ نوچ لے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسپیکر ایسے نامعقول ممبر قومی اسمبلی کو باہر کا راستہ دکھاتے، مگر رہنے دیجئے جناب یہ منہ اور مسور کی دال۔ ایسے میں سوال ایک بار وزیراعظم نواز شریف سے ہے کیوں نہیں وہ اپنے بد زبان بے لگام گھوڑے قابو میں رکھتے، کوئی سرزنش کوئی سزا کیوں نہیں دی جاتی، وہ کہتے ہیں نا کہ گھر میں تو آپ کے بھی بہو بیوی بیٹی ہے، اسی لیے کہتے ہیں۔

\"\"

خواتین سے منسوب ماں بہن کی گالیاں تو مستعمل ہیں ہی مگر اب جو نیا ٹرینڈ چل نکلا ہے وہ اس سے زیادہ واہیات ہے، خواتین پر مبنی سیاسی نعرے، اسلام آباد کے پیریڈ گراونڈ میں بعض بڑے میاں دانت نکال کر گلا پھاڑ کر نعرے لگا رہے تھے ”گلی گلی میں شور ہے، مریم کا پاپا چور ہے“ لا حول ولا قوۃ، بھائی سیدھا سیدھا ”نواز شریف چور ہے“ بولو اور نعرے بازی جاری رکھو یہ مریم کے پاپا کی لاجک چیست؟

حنا ربانی کھر جوان، ٹیلنٹڈ اور معقول سیاستدان بن کر ابھری، مگر جب تک حکومتی عہدے پر رہیں ان کے نسوانی حسن، زنانہ انداز اور مردانہ آواز کے چرچے زبان زد عام رہے۔ اور کچھ نہ سہی تو جاتے جاتے حنا ربانی کھر اور بلاول بھٹو کے لو افئیر کے چرچے ہی عام رہے۔

اسی بارے میں: ۔  تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی .... پیا گئے پردیس

یوں تو ایسے رویوں کا سامنا گھر سے نکلنے والی ہر خاتون کو رہتا ہے مگر سیاست ایسا میدان ہے جہاں شخصیت اور کریکٹر پر دھبہ لگنے کی دیر ہے پھر اچھی شہرت کا گراف بمشکل ہی سنبھل پاتا ہے، مزید یہ کہ ایسا نازک مسئلہ اکثر خواتین کو ہی درپیش ہوتا ہے، کیونکہ مرد چاہے ماضی میں پلے بوائے ہو، ، وومینائزر یا پھر بہت سی شادیوں کا شوقین، اس کے ہمعصر سیاستدان ایسی باتوں کو ذاتی زندگی کہہ کر ٹال دیا کرتے ہیں نعرے نہیں بناتے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عفت حسن رضوی

نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کاریسپانڈنٹ عفت حسن رضوی، بلاگر اور کالم نگار ہیں، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔ انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں @IffatHasanRizvi

iffat-hasan-rizvi has 24 posts and counting.See all posts by iffat-hasan-rizvi