مذہب کی تبدیلی کا کاروباری پہلو (صفی الدین اعوان)۔


\"\"

مجھ سمیت مذہب ہرانسان کا ذاتی مسئلہ ہے۔ کسی کو کیا پتہ کہ میرا مذہب کیا ہے؟ میرے پاس کوئی ایسا سرٹیفیکیٹ موجود نہیں ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میرا مذہب کونسا ہے۔ میں ایک مسلمان ہوں عقیدہ توحید اور ختم نبوت پر میرا یقین ہے اور مجھے اس حوالے سے کسی سرٹیفیکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نے ایک بہت بڑے مسئلے کو جنم دیا ہے جسے جبری مذہب کی تبدیلی کے نام سے ہم جانتے ہیں۔

میں نے ایک طویل عرصے تک اقلیتوں کی قانونی امداد کی ہے ابھی بھی اقلیتی برادری کے بہت سے کیسز میرے پاس موجود ہیں۔ ان کیسز کے ذریعے میں نے پاکستانی سماج کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا میرے پاس آیا۔ وہ اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتے تھے لیکن رکاوٹ یہ تھی کہ لڑکی شادی شدہ تھی اس لئے وہ مجھ سے مشورہ لینے آئے تھے۔ میں نے حسب معمول مشورہ دیا کہ پہلی شادی کی تنسیخ کے لئے کیس داخل کریں جس کے بعد ہی دوسری شادی ممکن ہوگی۔ ان کا تعلق کرسچن کمیونٹی سے تھا۔ میں نے لڑکی کی جانب سے تنسیخ نکاح کی پٹیشن داخل کردی۔ کچھ عرصے تک وہ لڑکا اور لڑکی کورٹ میں آتے رہے۔ ان کو تنسیخ نکاح کا فیصلہ نہ ملا۔ پھر ایک دن وہ لوگ اچانک ہی غائب ہوگئے۔ ایک دن ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے شادی کرلی ہے۔

میں نے کہا کم بختو! بے شرمو! تم لوگوں نے نکاح کے اوپر نکاح کرلیا ہے۔ جانتے ہو کہ یہ بھی ایک جرم ہے۔ وہ مسکرائے اور کہا وکیل صاحب آپ اچھے وکیل نہیں ہیں۔ آپ نے بلاوجہ ہی ہم دونوں کا وقت خراب کیا۔ بلاوجہ کورٹ کے دھکے کھانے پڑے ہیں جبکہ ایک وکیل نے صرف پانچ منٹ میں میرا مسئلہ حل کردیا۔

میں نے حیرت سے کہا کیا مطلب انہوں نے بتایا کہ ایک وکیل نے کہا تم لوگ اسلام قبول کرلو تو لڑکی کا پرانا نکاح خود ہی ختم ہوجائے گا اور تم اس سے فوراً نکاح کرلینا۔ پھر وہ ہمیں ایک مفتی کے پاس لے گیا، اس نے اسلام قبول کروایا، ہمیں قبول اسلام کی سند دی اور ہم دونوں نے فوری طور پر نکاح کرلیا۔

میں نے کہا کیا اب تم دونوں اسلام قبول کرکے مسلمان ہوگئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا نہیں انہوں نے صرف قبول اسلام کی سند شادی کرنے کے لئے لی ہے وہ گھر پڑی ہے، ہم پہلے بھی کرسچن تھے آج بھی کرسچن ہیں لیکن اگر اسلام قبول نہ کرتے تو ہماری شادی ہونا ہی ناممکن تھی۔ ہم نے اسلام تو صرف قبول اسلام کی سند حاصل کرنے کے لئے قبول کیا ہے۔

قبول اسلام کی سند کسی بھی غیر مسلم شادی شدہ عورت کو یہ سہولت دیتی ہے کہ وہ اپنے پرانے نکاح کی تنسیخ کیے بغیر صرف قبول اسلام کی سند حاصل کرکے نیا نکاح کرلے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد اس سہولت سے ناجائز طورپر فائدہ اٹھاتی ہے۔

اسی سہولت کا نام جبری مذہب کی تبدیلی ہے۔

مجھے تبدیلی مذہب کے بل پر شدید اعتراض ہے اور حیرت ہے کہ ممبران سندھ اسمبلی نے کس طرح یہ قانون سازی کرلی ہے کسی بھی انسان کو مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے۔ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ لوگ مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ پاکستان میں بہت سے مسلمان بھی مرتد ہوکر عیسائی مذہب بھی قبول کرلیتے ہیں۔ بہت سے چرچ بھی عیسائی مذہب قبول کرنے کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں۔ نادرا سے اس ریکارڈ کی تصدیق سرکاری ذرائع سے بھی کی جاسکتی ہے۔

وہ لوگ اسلام قبول کرنے کے بعد کیوں مرتد ہوجاتے ہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔ یہ بہت حساس مسئلہ ہے۔ کسی شخص کا اسلام قبول کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد کچھ عرصے بعد مرتد ہوکر مذہب تبدیل کرنا ایک انٹرنیشنل مسئلہ ہے اور اس کی بنیاد پر منظم گروہ ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانیوں کو سیاسی پناہ بھی دلواتے ہیں۔ پاکستان میں قبول اسلام کی سند اور عیسائی مذہب اختیار کرنے کی سند کی بنیاد پر بہت بڑے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ مذہب ایک بہت نفع بخش کاروبار ہے اور اس کی بنیاد پر بہت سے ڈرامے رچائے جاتے ہیں۔

بہت سے مسلمان بھی جعلی طورپر عیسائیت قبول کرتے ہیں جبکہ بہت سے غیر مسلم بھی جعلی طورپر اسلام قبول کرتے ہیں۔ آج کل منظم جرائم پیشہ گروہ کورٹس کے آس پاس آفسز بنا کر قبول اسلام کی اسناد فروخت کرتے ہیں۔ اگر شکار اچھا ہو تو اس قسم کے سرٹیفیکیٹ لاکھوں روپے میں فروخت ہوجاتے ہیں لیکن نارمل حالات میں یہ سند دس ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ خود ساختہ قبول اسلام کے کچھ عرصے بعد جبری اسلام قبول کرنے والا جعلی مرتد ہوجاتا ہے جس کے بعد ایک اور کارندہ کسی مدرسے میں جاتا ہے اور ایک شرعی مسئلہ پوچھتا ہے جس پر شرعی فتوٰی آجاتا ہے کہ مرتد کی سزا یہ ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے۔ اب دیکھ لیں این جی اوز کے پاس کتنا فٹ کیس آگیا ایک جعلی مسلمان جو مرتد ہوچکا ہے، اس کی جان کو شدید خطرہ ہے۔ شدت پسند اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ نہایت ہی منظم گروہ لاکھوں روپے لے کر اس طریقے سے اس قسم کے کیسز میں سیاسی پناہ دلواتے ہیں اور یہ جعلی مرتد والا کیس تو اے کٹیگری میں شمار ہوتا ہے اس لئے فوری طور پر اس کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول کرلی جاتی ہے۔ اس کاروبار میں مذہب سے منسلک ہائی پروفائل اہم شخصیات ملوث ہیں۔ بعض اوقات تو جعلی قسم کے خود ساختہ مفتی تو کسی گمنام مدرسے کی جانب سے جعلی مرتد کے قتل کا فتوٰی اس کے نام کے ساتھ ہی جاری کردیتے ہیں۔

جو لوگ اسلام قبول کرلیتے ہیں ان میں سے بہت کم لوگ ہی قبول اسلام کی سند لے کر نادرا کے پاس جاتے ہیں اور اپنے کوائف تبدیل کرواتے ہیں کیونکہ ان کے مذہب کی تبدیلی کا تعلق زیادہ تر واقعات میں صرف اسلام قبول کرنے کی سند سے ہوتا ہے اور قبول اسلام کی سند سے ان کے بہت سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔

کیا اس حوالے سے قانون سازی ممکن ہوگی کہ کوئی بھی شادی شدہ عورت جو اسلام قبول کرلیتی ہے تو کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ اس کا ماضی کا نکاح بذریعہ عدالت منسوخ کیا جائے؟ علماء کرام کو اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنا چاہیے حالانکہ تبدیلی مذہب سے کسی بھی مذہب کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تبدیلی مذہب کے حوالے سے صوبہ سندھ میں زیادہ تر شور شرابہ ہندو برادری کی جانب سے مچایا جاتا ہے۔ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے نچلی ذات کے ہندو اکثر اسلام قبول کرتے ہی رہتے ہیں یہ ایک روٹین کی بات ہے۔ ان میں سے اکثر اسلام کے دائرے میں بھی داخل ہوجاتے ہیں کیونکہ اسلام میں ذات پات کا کوئی تصور نہیں ہے لیکن ہنگامہ اس وقت برپا ہوجاتا ہے جب کسی اونچی ذات سے تعلق رکھنے والی لڑکی اسلام قبول کرکے اپنی پسند سے شادی کرلیتی ہے۔

نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی ایک ہزار لڑکیاں بھی اسلام قبول کرکے شادی کرلیں تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا فرق صرف اونچی ذات کی لڑکی کی جانب سے اسلام قبول کرنے سے پڑتا ہے۔ میرے پاس ماضی میں جبری مذہب کی تبدیلی کے کئی کیسز رہے ہیں۔ زیادہ تر وہ نچلی ذات سے تعلق رکھتے تھے جب وہ کیسز عدالت میں آئے تو کسی ادارے نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی لیکن جب جبری مذہب کی تبدیلی کے کیسز میں عدالت کی مداخلت پر لڑکیوں کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ تصدیق کرتی ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ان کو کسی نے بھی اغواء نہیں کیا اور وہ اپنی زندگی سے خوش ہیں۔ اس طرح عدالتوں نے بھی اقلیتی برادری کو مطمئین کرنے کے لئے ہر ممکن راستہ اختیار کیا لیکن ہر بار یہی ہوا کہ کم ازکم میرے سامنے جبری مذہبی تبدیلی کا کوئی کیس ثابت نہیں ہوا لیکن اس کے باوجو د بہت سے لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے بلاوجہ انکار ہی کرتے رہتے ہیں۔
اسی طرح نابالغ افراد کا اسلام تبدیل کرنے کا معاملہ ہے۔ اس سے بے شمار تکلیف دہ مسائل جڑے ہوئے ہیں۔ دل ہی نہیں چاہتا کہ اس پر بات کی جائے لیکن متحدہ ہندوستان میں یہی ہوتا تھا کہ جب نابالغ اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوجاتے تھے تو وہ اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہونے کے بعد خاموش رہتے تھے اور بالغ ہونے کے بعد وہ قبول اسلام کا اعلان کرتے تھے۔ کسی بھی نابالغ کے لئے سب سے بڑی پناہ گاہ اس کا گھر ہوتا ہے اس کے ماں باپ ہوتے ہیں چاہے ان کا کوئی بھی مذہب ہو۔ اتنا بڑا رسک کس طرح لیا جاسکتا ہے کہ ایک نابالغ بچہ اپنی مرضی سے اپنا مذہب بھی تبدیل کرلے اور وہ اپنا گھر چھوڑ کر کہیں الگ رہنا شروع کردے۔ کیا اخلاقیات اس بات کی اجازت دیتی ہیں؟

ویسے بھی کسی بچے کو قبول اسلام کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے ہم اور آپ کون ہوتے ہیں؟ ٹھیک ہے اگر کسی ہندو نابالغ بچے نے اسلام قبول کرنا ہے خوشی سے کرے جس طرح میں مسلمان ہوں لیکن میرا اسلام کسی سرٹیفیکیٹ کا محتاج نہیں ہے۔ مجھے کسی مدرسے کے سرٹیفیکیٹ کی کبھی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تو ایسے نابالغ بچوں کے لئے یہی مناسب نہیں کہ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے ماں باپ کی پناہ میں ہی رہیں اور جب وہ خود مختار ہوجائیں تو اپنے مذہب کی تبدیلی کا اعلان کردیں۔

مذہب کی تبدیلی ایک بہت بڑا کاروبار ہے۔ اس مسئلے سے بے شمار مسائل جنم لے رہے ہیں۔ جب تک ہم اس کاروبار کو سمجھیں گے نہیں اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ قبول اسلام کی اسناد پر پابندی عائد کرے۔ اسلام کبھی کسی کے سرٹیفیکیٹ کا محتاج نہیں رہا۔ مذہب کی تبدیلی کے لئے یہ طریقہ کار طے کیا جاسکتا ہے کہ نومسلم عدالت میں کیس دائر کرے کہ اس نے اسلام قبول کرلیا ہے اس لئے اس کو عدالت قبول اسلام کا سرٹیفیکیٹ صرف اس نیت سے جاری کرسکتی ہے کہ وہ اپنے تعلیمی دستاویزات پر اپنا نیا اسلامی نام تحریر کروا لے اور شناختی کارڈ وغیرہ پر اپنے کوائف تبدیل کروا لے اور اگر لڑکی شادی شدہ ہوتو اس کا نکاح بھی منسوخ کردیا جائے۔

ویسے سال کے تین سوپینسٹھ دن اور چوبیس گھنٹے میں ہر غیر مسلم کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر صرف کلمہ توحید پڑھ کر اور ختم نبوت کا اقرار کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہوسکتا ہے۔ وہ بخوشی اسلام قبول کرے اس کو کسی سرٹیفیکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان میں کروڑوں مسلمانوں کے پاس اس قسم کا کوئی سرٹیفیکیٹ موجود نہیں جس سے ان کا اسلام قبول کرنا یا مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہو۔

تبدیلی مذہب کے حوالے سے صرف یہ قانون سازی کی جاسکتی ہے کہ تبدیلی مذہب کے سرٹفیکیٹس جاری کرنے کا اختیار مدارس اور چرچ کو نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی ہندو یا عیسائی مذہب بھی قبول کرتا ہے تو یہ اختیار سیشن جج کو دے دیا جائے کہ صرف ایک سماعت کے ذریعے اس کو تعلیمی کوائف اور شناختی کارڈ وغیرہ میں نام کی تبدیلی اور پرانے نکاح کی موجودگی میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پرانے نکاح کو منسوخ کر دے۔ اگر شادی شدہ عورت اسلام قبول کرتی ہے تو اس کو نیا نکاح کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

مختصر یہ کہ یہ ایک نان ایشو ہے جسے بلاوجہ ایشو بنادیا گیا ہے۔

صفی الدین اعوان، لا سوسائٹی آف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔