کراچی والوں سے ، معذرت کے بغیر


\"\"

اپنے کسی کالم کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کا رسپانس مجھے مجبور کر رہا ہے کہ اُس کا دوسراحصہ بھی لکھا جائے، ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے تلے ہوئے سموسے کھاتا جائے اور ساتھ ساتھ تعریف بھی کئے جائے۔میں بھی یہی کام کرنے لگا ہوں ۔22دسمبر کو میرا کالم ’’کراچی والوں سے معذرت کے ساتھ‘‘ شائع ہوا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس کے ردعمل میں مجھے ایک اور کالم لکھنا پڑے گا۔ جواب آں غزل کہنا میری ترجیح نہیں ہوتی کیونکہ میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر کالم میں قارئین کو نئی چیز پڑھنے کے لئے ملنی چاہیے مگر کراچی والے کالم کے جواب میں کچھ ایسے نکات سامنے آئے جن پر رائے دینا ضروری ہو گیا ہے۔اُس کالم کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ کراچی کی کارپوریٹ کلچر برگر کلاس نے سیاستدانوں کے خلاف جو اسٹیج ڈرامہ بنایا وہ ہر لحاظ سے ’’ Below the belt‘‘ تھا، انہیں آمریت کے خلاف ڈرامے بنانے یا کراچی کے ’’بھائی‘‘ کے خلاف تو ایک لفظ بولنے کی اُس وقت جرأت نہیں ہوئی جب اُن کی طاقت عروج پر تھی، اب جمہوری دور میں وہ سیاست دانوں کو لتاڑ کر داد وصول کرنا چاہتے ہیں، تاہم لتاڑنے کے اس عمل میں انہوں نے پسندیدہ لیڈر کا خاص خیال رکھا اور اسے فقط پیاربھری جگتیں لگائیں جبکہ باقی سیاستدانوں کے خلاف مغلظات کا ایک طوفان تھا جو برپا کیا گیا۔ اس پر میں نے لکھا تھا کہ کراچی والوں سے اس بات کی امید نہیں تھی۔ جواب میں پانچ قسم کا ردعمل سامنے آیا، زیادہ تر لوگوں نے کہا کہ آپ نے بالکل ٹھیک لکھا، دوسری قسم اُن لوگوں کی تھی جنہوں نے کہا کہ اس قسم کے ڈرامے یا وہ کلاس جس کی آپ نے نشاندہی کی کراچی کی نمائندگی نہیں کرتے، تیسرے وہ لوگ تھے جن کی رائے تھی کہ کیا لاہور کے ڈرامے کہیں زیادہ بیہودہ نہیں ہوتے، اُن پر تو میں نے کبھی تنقید نہیں کی، کراچی کا ڈرامہ تو اُن سے کہیں بہتر تھا۔ چوتھا ردعمل اس قسم کا تھا کہ پنجاب والوں کی مزاح نگاری کو کراچی سے بہتر کہنا فقط میرا تعصب ہے حالانکہ مشتاق احمد یوسفی جیسا مزاح نگار اسی شہر کی دین ہے اور پانچواں ردعمل سب سے دلچسپ تھا کہ ان کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیے، حیرت ہے کہ آپ ان کا دفاع کرتے ہیں، دنیا بھر میں سیاستدانوں پر ایسے ہی فقرے بازی کی جاتی ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ ایک ڈرامہ یا کوئی مخصوص کلاس پورے شہر کی نمائندگی نہیں کرتی مگر جب بھی ہم کسی کھیل کے credits endمیں حسینہ معین، شفیع محمد، سکینہ سموں، شکیل، شہناز شیخ، مرینہ خان، قاضی واجد، بہروز سبزواری، جمشید انصاری، فاطمہ ثریا بجیا یا انور مقصود جیسے نام دیکھتے ہیں تو لامحالہ یہی کہا جاتا ہےکہ یہ کراچی کا ڈرامہ ہے۔ اسی طرح فردوس جمال، عابد علی، محبوب عالم، جمیل فخری، عرفان کھوسٹ، خیام سرحدی، راشد ڈار، یاور حیات، روحی بانو، عظمیٰ گیلانی، اشفاق احمد، اصغر ندیم سید، عطاء الحق قاسمی، مستنصر حسین تارڑ، ڈاکٹر یونس بٹ یا امجد اسلام امجد جیسے نام کسی کھیل میں دیکھیں گے تو اسے لاہور کا ڈرامہ ہی کہیں گے، نمائندگی کا تعین کرنے کے لئے ووٹنگ نہیں کروائی جائے گی۔ کسی موقف کا دفاع جب یہ کہہ کر کیا جائے کہ کراچی کا ڈرامہ بیہودہ تھا مگر لاہور کے اسٹیج ڈرامے اس سے بھی بیہودہ ہوتے ہیں تو اس سے موقف کی کمزوری ہی سمجھا جائے گا۔ پنجابی اسٹیج ڈراموں کی فحش گوئی پر جتنی تنقید خود پنجاب میں ہوتی ہے اتنی کہیں نہیں ہوتی، کراچی کے سٹیج ڈرامے اور پشتو فلمیں بھی کسی سےکم نہیں مگر بات جب بھی ہوتی ہے پنجابی ڈراموں کی ہوتی ہے، خود یہ خاکسار کئی مرتبہ اس موضوع پر لکھ چکا ہے کہ لاہور کا اسٹیج ہماری آنکھوں کے سامنے زوال کا شکار ہوا۔ نکتہ مگر کچھ اور تھا، ہم جہلا کے بنائے ہوئے اِن اسٹیج ڈراموں پر تو ناک بھوں چڑھاتے ہیں کہ یہ بیہودگی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں مگر نام نہاد پڑھی لکھی کارپوریٹ کلاس اگر یہی بیہودگی دکھائے تو اسے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اسپانسر ملتے ہیں اور سامنے کوٹ پینٹ میں ملبوس لوگ بیٹھ کر تالیاں بجاتے ہیں اور اس بات پر گردن بھی اکڑاتے ہیں کہ وہ ’’کرپٹ سیاستدانوں‘‘ کو گالیاں دینے والوں کی سرپرستی فرما رہے ہیں۔
پنجاب کے مزاح کی برتری کی بات بھی میں نے اس کالم میں کی تھی جسے کچھ قارئین نے تعصب سمجھا اور کچھ نے مشتاق یوسفی صاحب کا نام گنوایا اور کہا کہ پنجابی کامیڈینزکو اگر آپ یوسفی صاحب سے بہتر سمجھتے ہیں تو کیا کہنے۔ ویسے تو یوسفی صاحب اُس طرح سے’’کراچی والے‘‘ نہیں بلکہ ان کا تعلق راجستھان سے ہے، اس ضمن میں اپنی شاہکار کتاب ’’آب گم‘‘ میں انہوں نے جو فقرے لکھے ہیں اُن میں سے کچھ تو یہاں نقل بھی نہیں کئے جا سکتے، سو تھوڑے کہے کو بہت جانیں۔پنجاب میں مزاح کی برتری کے حوالے سے میرا اشارہ باقاعدہ مزاح نگاروں کی طرف نہیں تھا بلکہ فلم، ڈرامے اور اسٹیج کے مزاحیہ اداکاروں کی طرف تھا اور اس حوالے سے میں اپنی رائے پر قائم ہوں کہ جمشید انصار ی، لہری، قاضی واجد، بہروز سبزواری، لیاقت سولجر، شکیل صدیقی اورلالہ رئوف وغیرہ مل کر بھی ایک ببو برال یا مستانہ نہیں بناتے ۔ ہاں معین اختر مرحوم بلاشبہ ایک شاندار اداکار اور کامیڈین تھے، اسی طرح عمر شریف بھی ایک بہترین کامیڈین ہیں مگر ان کے مقابلے میں کامیڈینز کی ایک کہکشاں لاہور میں پروان چڑھی جو منور ظریف سے لے کر آغا ماجد (خبرناک فیم)تک اور امان اللہ سے لے کر سہیل احمد جیسے ستاروں پرمشتمل ہے، کالم کی تنگ دامنی کا خیال نہ ہوتا تو سب کا نام لکھ دیتا۔ تعصب کی بات ہی مضحکہ خیز ہے کہ سب پاکستانی ہیں اور ہماری شان ہیں، مصیبت یہ ہے کہ اسی تعصب کے الزام کی وجہ سے پی ٹی وی نے ہر مرکز کے اداکاروں اور لکھاریوں کو ’’کوٹے ‘ ‘ کی بنیاد پر ایوارڈ دینے کی رسم شروع کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پی ٹی وی کا شاندار ایوارڈز پروگرام بالآخر بند ہو گیا۔
آخری بات، جو لوگ سیاستدانوں کو گالیاں دینے پر یقین رکھتے ہیں اور اس ’’بے باکی ‘ ‘ کی داد لینا چاہتے ہیں اُن سے گزارش ہے کہ’’ ُFor a change‘ ‘کبھی کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھ لیاکریںاور ہمت ہو تو یہ ’’بہادری ‘ ‘ وہاں دکھائیں جہاں طاقت کا اصل سرچشمہ ہے، خدا اُن کا اقبال بلند کرے گا۔

اسی بارے میں: ۔  دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 148 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

One thought on “کراچی والوں سے ، معذرت کے بغیر

  • 29-12-2016 at 7:00 pm
    Permalink

    I guess the writer realized that Anwar Maqsood didn’t write the play Bananistan. He has hence chosen to aim his guns at the Karachi corporate class in general instead of Anwar Maqsood in the second article. It would’ve been good if he had admitted his mistake honestly. I have not seen the play.. if it used crass humor against politicians in general then the writer’s criticism is justified. However before generalizing against entire Karachi’s writing class , the writer should remember that many Karachi writers were penalized by dictator Zia at a time when the writer’s favourite politicians were sitting in Zia’s lap. And before generalizing against the corporate class, the writer should remember that the corporate class is practically the only tiny group that pays taxes in this country, which is why it feels a high sense of frustration on the poor governance it gets in return. I am a member of the corporate class as well and i can assure the writer that all around me i have seen people who are equally critical of military as well as politicians.

Comments are closed.