سال رواں میں پڑھی گئی کچھ کتابیں اور ان کا مختصر تعارف (۱)۔


\"\"

اساتذہ کا فرمان ہے کہ کم پڑھے کو فکر کی تہوں میں جذب کرنا ایسی بسیار خوانی سے کہیں بہتر ہے جس سے ذہن کا ہاضمہ خراب ہو جائے۔ اساتذہ سے اختلاف پھر کسی وقت پر اٹھا رکھتے ہیں کیوں کہ بسیار خوانی بھی کافی حد تک ایک موضوعی سا مسئلہ ہے۔ ہماری رائے میں تو ہر کتاب کے ساتھ گزارا گیا وقت بذات خود ایک کہانی کو جنم دیتا ہے۔ قاری کن توقعات اور ذہنی کیفیات کے ساتھ اس کتاب تک پہنچا؟ کس مہم جوئی سے ا س کے اندر اترا؟ کن زمانوں، کن دنیاؤں، کن کرداروں، کن نظریات و خیالات کی سیر کی؟ زیر متن رکاوٹوں سے کیسے نبر آزما ہوا؟ کیا کھویا، کیا پایا؟ غرض شوقین قاری کے لئے ان تمام سوالوں کے جوابات بھی ایک افسانوی سا رخ اختیار کر لیتے ہیں۔ جو حضرات انٹرنیٹ پر کتاب خوانی سے متعلق سوشل میڈیا ویب گاہوں کا حصہ ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کتاب خوانی بھی اب ایک ایسا فنی دائرہ بن چکا ہے جس میں لوگ نہ صرف ایک دوسرے کے تجربات و ترجیحات سے سیکھتے ہیں بلکہ سال کے آخر میں شماریاتی تجزیے یہ جاننے بھی مدد دیتے ہیں کہ کیا پڑھا اور کیا پڑھنا چاہیے تھا جو نہ پڑھ سکے۔ ’’بابل کا کتب خانہ‘‘ کے خالق پیر و مرشد حضرتِ بورخیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ جنت کو ایک کتب خانے کے طور پر ہی تصور کیا۔ یہ کتب خانہ کیسا ہو گا یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الوقت تو ہم اس دنیا کو ہی کتابی جنت بنانا چاہتے ہیں۔ اس سال بھی کئی طویل و مختصر کتابیں زیرِ مطالعہ رہیں۔ کچھ کو ایک سے زیادہ بار پڑھنے کی ضرورت پڑھی اور چند مخصوص موضوعات پر ایک دو کتب کا جزوی مطالعہ ہی غنیمت معلوم ہوا۔ بہرحال ایامِ گزشتہ پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال پڑھا کم اور لکھا زیادہ۔ ایک دوست نے استفسار کیا تو بہتر معلوم ہوا کہ افادۂ عام کے پیشِ نظر جو بھی پڑھا ا س کا چند سطری تعارف قارئین تک پہنچا دیا جائے۔ سو پیش خدمت ہے اس سال کی کتابی سوانح۔ چونکہ غیررسمی سی فہرست ہے لہٰذا مرتب کرنے میں موضوعات کی زمرہ بندی کو پیشِ نظر نہیں رکھا گیا۔

1۔ ’’راحیل فارن ہاجن: ایک یہودن کی زندگی‘‘ (Rahel Varnhagen: The Life of a Jewess) از ہینا ایرنٹ: ایک عجیب و غرین تصوراتی سوانح جو ہینا ایرنٹ نے کم و بیش بیس سالوں میں لکھی۔ تصوراتی اس لئے کہ راحیل فارن ہاجن نامی اس جرمن یہود عورت کا انتقال تو اٹھارہویں صدی ہی میں ہو چکا تھا لیکن 1920 میں ہینا ایرنٹ کے ہاتھ اس کے کچھ خطوط لگے اور ا س کی زندگی پر غور و فکر ہینا کے لئے ایک مستقل مشغلہ بن گیا۔ نتیجہ یہ خوبصورت سوانح ہے۔ صرف ان قارئین کے لئے جو مذہبی سماجیات، نفسیات اور اولین نسائی تحریکوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
2۔ ’’ اسلامی مملکت و حکومت کے بنیادی اصول‘‘ (The Principles of State and Government in Islam) از محمد اسد: اس مختصر سے انگریزی کتابچے کا ترجمہ پڑھنے کا موقع ملا جو مولانا غلام رسول مہر نے کیا ہے۔
3۔ ’’غلام باغ ‘‘از مرزا اطہر بیگ: ناول اور ناول نگار کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اطہر بیگ صاحب نے نہ صرف جدید فلسفیانہ نظریات کو کمال خوبی سے کہانی کی بُنت میں ڈھالاہے بلکہ افسانوی پیرائے میں ان کا سیر حاصل تجزیہ بھی کیا ہے۔ یوں ناول کی کئی تہیں ہیں اور مختلف قارئین مختلف تہوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
4۔ کورالین (Coraline) از نیل گیمن: ایک مختصر ڈراؤنا ناول جو لکھا تو بچوں کے لئے گیا ہے لیکن ان بڑوں کے لئے بھی خوب ہے جن کے اندر کا بچہ زندہ ہے۔
5۔ انسانی دھبّا (The Human Stain) از فلپ روتھ: فلپ روتھ کی بعد از جنگ عظیم امریکی زندگی کے گرد گھومتے سہ المیہ کا تیسرا ناول ہے۔ نوے کی دہائی کے ایک امریکی پروفیسر کی کہانی ہے جس کے رفقاء اس پر نسل پرستی کا جھوٹا الزام لگا کر استعفے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ پروفیسر کی زندگی میں اپنی نسل سے متعلق ایک ایسا گہرا راز ہے جو پیچیدگی کی تہیں آہستہ آہستہ کھولتا ہے۔ سہ المیہ کے پہلے دو ناول اب تک مطالعے میں نہیں آ سکے، لیکن فلپ روتھ کے ادب کا ذائقہ چکھنے کے لئے یہ ناول ایک اچھی شروعات ہے۔
6۔ ’’انصاف کا تصور‘‘(The Idea of Justice) از امرتیہ سین: نوبل انعام یافتہ ہندوستانی مفکر امرتیہ سین کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کی یہ مشہور کتاب فلسفۂ سیاسیات میں انصاف کے تصور کو اپنا موضوع بناتی ہے اور کئی موجودہ تھیوریوں کی تہہ میں موجود پیچیدگیاں واضح کرتی ہے۔ اس موضوع پر مخصوص معاشی تناظر میں ایک اچھا تقابلی مطالعہ ہے۔ ذاتی طور پر مجھے کتاب کچھ خاص پسند نہیں آ سکی کیوں کہ اجزاء میں بہت سے مفید نکات ہونے کے باوجود مجموعی طور پر یہ کتاب اس موضوع پر ایک ایسا متبادل خاکہ فراہم کرنے سے قاصر رہتی ہے جو کسی قاری کی امرتیہ سین جیسے عظیم مفکر سے معقول توقع ہو سکتی ہے۔
7۔ ’’بورخیس کے کتب خانۂ بابل کی ناقابلِ تصور ریاضی‘‘ (The Unimaginable Mathematics of Borges‘ Liberary of Babel) از ولیم گولڈ بلوم بلوخ: صرف ان قارئین کے لئے جو بورخیس کے افسانے ’بابل کا کتب خانہ ‘ کے ساتھ ایک عمر گزار رہے ہیں۔ کتاب کو اس افسانے کی ریاضیاتی تنقید و شرح کہا جا سکتا ہے جو ریاضی اور کمپیوٹر سائنس دونوں کا تناظر رکھتی ہے۔ ایک اہم اور نادر کام ہے۔
8۔ ’’موری کے ساتھ گذرے منگل‘‘ (Tuesdays With Morrie) از مچ البم: پروفیسر مورس شوارز اور ان کے طالبعلم (مصنف) کی ملاقاتوں اور فلسفۂ حیات کے متعلق بات چیت کی داستان ہے۔ اگر آپ میری طرح اس قسم کے ادب کے کچھ خاص شائق نہیں لیکن صرف ذائقہ چکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ مشہور ترین کتاب دیکھ لیجیے۔
9۔ ’’گلی کے آخر میں موجود سمندر‘‘ (The Ocean at the End of the Lane) از نیل گیمن: نیل گیمن کا ایک اور ناول جو بچپن کی یادوں کو اپنا موضوع بناتا ہے۔ مجھے تو پسند آیا لیکن نیل گیمن کے باقی کام کے مقابلے میں کسی حد تک کمزور بلکہ شاید صرف مختلف۔
10۔ ’’افتادگانِ خاک‘‘ (The Wretched of the Earth) از فرانز فینن: استعمار کی حرکیات کے تحت پنپنے والی محکوم نفسیات کا اہم ترین مطالعہ۔ کتاب کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اردو ترجمہ دیکھنے کا موقع نہیں مل سکا لیکن سننے میں یہی آیا ہے کہ خوب ہے۔ انگریزی کے ایک سے زیادہ تراجم شائع ہو چکے ہیں۔
11۔ ’’برفاب‘‘ اور ’’گرہ کھلنے تک‘‘ از شہزاد نیر: جدید لہجے کے نظم اور غزل گو شعراء میں شہزاد نیر صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ دونوں مجموعے ہی خوب ہیں۔
12۔ ’’چھینی ہوئی تاریخ‘‘ از افضال احمد سید: افضال صاحب کی نثری نظموں کا مجموعہ ہے۔ اپنی نالائقی پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے افضال احمد سید صاحب کے جہانِ خیال تک رسائی میں اتنی دیر ہوئی۔
13۔ ’’خیمۂ سیاہ‘‘ از افضال احمد سید: غزلیات کا مجموعہ ہے۔ لہجہ قدیم اور خیال جدید تر ہے۔ غزلیں کیا ہیں لفظ و خیال کا ایک چیستان ہیں۔ بار بار پڑھنے پر بھی سیری نہیں ہوتی۔
14۔ ’’گزر گاہِ خیال‘‘ از منظور الحسن: ہمارے دوست فرخ منظور صاحب کے والد گرامی کی آپ بیتی ہے جو انہوں نے بہت محبت سے عنایت کی۔ اب یہ رواج ختم ہو چکا ہے لیکن ا س قسم کی عام آدمی کی آپ بیتیاں ایک عہد کو محفوظ کر دیتی ہیں۔
15۔ ’’قائد اعظم محمد علی جناح کی بچوں سے خط و کتابت‘‘ از ندیم شفیق ملک: عمومی طور پر ایک واجبی سا دستاویزی کام۔ کچھ خطوط بہت دلچسپ ہیں۔
16۔ ’’دشتِ سوس‘‘ از جمیلہ ہاشمی: منصور حلاج کی زندگی پر مشہور سوانحی ناول۔
17۔ ’’اردو ادب کی ثقافت: محمد حسن عسکری کی دیسی جدیدیت ‘‘(Urdu Literary Culture: Vernacular Modernity in the Writing of Muhammad Hasan Askari) از مہر افشاں فاروقی: محمد حسن عسکری کی حیات و ادب پر انگریزی میں اہم ترین اور نہایت دلچسپ تنقیدی مطالعہ۔ سماجی اور تاریخی تناظر میں عسکری کے تمام تصنیفی کام کا تفصیلی تجزیہ۔ یہ کتاب تمام اہم ترین حوالوں کی دستیابی کا بھی ایک اہم وسیلہ ہے۔
18۔ ’’راشومون اور سترہ دوسری کہانیاں‘‘ (Rashomon and Seventeen other Stories) از ریونسوکی اکوتاگاوا: بیسویں صدی کے اوائل کے ان معدودےچندکہانی کاروں میں سے ایک جنہوں نے معاصراور کلاسیکی مغربی ادب کا مطالعہ کیا اور جاپانی ادب میں نادر ترین تجرباتکیے۔ اس کی کہانیوں میں جاپانی دیومالا، طنزیہ پیرائے اور جدید ثقافتی رجحانات کا ملا جلا رجحان ہے جس کی وجہ سے کئی کہانیاں ایک نیم طلسماتی سی فضا لئے ہیں۔ اکوتاگاوا نے اپنی مختصر سی زندگی میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زیادہ چھوٹی بڑی کہانیاں لکھیں جن میں زیادہ تر جاپانی ادب میں ایک جدید سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کی کہانیوں میں اس کی اپنی زندگی کی نیم خوابی حیثیت اور دیوانگی بہت آسانی سے نظر آتی ہے۔ یہ اس کی سب سے اہم کہانیوں کا ایک مجموعہ ہے۔ ایک اہم کہانی ’’بانسوں کے جھنڈ میں‘‘ ترجمہ کرنے کا موقع بھی ملا۔
19۔ اسلام اور سائنس (Islam and Science: Religious Orthodoxy and the Battle for Rationality) از پرویز ہود بھائی: مسلم سماجی تناظر میں ایک اہم کتاب جو پہلی بار تقریباً پچیس سال پہلے شائع ہوئی۔ کتاب اپنی مضبوط اور کمزور دونوں جہتوں میں اہم ہے کیوں کہ روایتی سائنسی ذہن کے کائنات اور روایتی مذہبی ذہن کے بارے میں قائم کردہ مفروضہ تک رسائی دیتی ہے۔
20۔ ’’ایک ریاضی دان کا اعتراف‘‘ (A Mathematician‘s Apology) از جی ایچ ہارڈی: ذاتی تناظر میں لکھی گئی ایک بہت ہی دلچسپ اور مختصر کتاب جس میں بیسویں صدی کے نصفِ اول کے ایک اہم ریاضی دان نے عام قارئین کے لئے ریاضی کی جمالیات کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب سے مکمل لطف اٹھانے کے لئے ریاضی کا بنیادی مطالعہ ناگزیر ہے۔ کتاب کی اشاعت کے ساتھ برطانوی سائنسدان اور ناول نگار چارلس پرسی سنو کا ایک تعارفی مضمون بھی شامل ہے جو کتاب جتنا ہی اہم ہے۔ پرسی سنو اپنے 1959 کے اہم لیکچر ’’دو ثقافتوں‘‘ (The Two Cultures) کے لئے بہت مشہور ہیں جس میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ مغربی سماج ’’سائنسی علوم‘‘(Sciences) اور ’’ علومِ انسانی‘‘(Humanities) میں تقسیم ہے۔
21۔ ’’سائنس اور جدید دنیا ‘‘ (Science and the Modern World) از الفرڈ نارتھ وائٹ ہیڈ: وائٹ ہیڈ کی یہ اہم کتاب 1925 میں شائع ہوئی جس کا موضوع سائنسی فکر ہے۔ کتاب کا تناظر فلسفیانہ بھی ہے اور تاریخی بھی۔ اپنے زمانے میں وائٹ ہیڈ کی کتابوں نے سائنس کی از سرِ نو تعریف کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور کئی نئے مباحث کو جنم دیا۔
22۔ ’’ثقافت کی مقام شناسی‘‘ (The Location of Culture) از ہومی بھابھا: پس نوآبادیاتی تھیوری میں ہومی بھابھا کا نام ایڈورڈ سعید اور گیاتری اسپیواک کے ساتھ ایک مقدس تثلیث میں شامل ہے۔ میں اب تک گیاتری اسپیواک کے مطالعے سے محروم ہوں لیکن اول تو بھابھا کا اسلوب ہرگز ایڈورڈ سعید کی طرح عام فہم نہیں اور دوم کتاب سے خاطر خواہ استفادے کے لئے تھیوری کے بنیادی مباحث سے صرف واقفیت نہیں بلکہ گہرائی میں واقفیت ضروری ہے۔ یقیناً ایک ایسی کتاب جس کی طرف چند سال بعد ایک بار پھر لوٹنا پڑے گا۔
23۔ ہندوستانی شہزادوں کا رہن سہن (Lives Of The Indian Princes) از چارلس ایلن: کچھ دلچسپ معلومات فراہم کرتی ہوئی ایک نسبتاً غیر اہم سی کتاب جو ایک فراموش ثقافت کی جانب کچھ مبہم سے اشارے کرتی محسوس ہوتی ہے۔
24۔ ’’بے نشانوں کا نشاں‘‘ از مظہر محمود شیرانی: شخصی خاکوں کا ایک دلچسپ مجموعہ۔
25۔ ’’ سائنسی تجربے کا تنوع: خدا کی تلاش کے بارے ایک ذاتی نظریہ‘‘(The Varieties of Scientific Experience: A Personal View of the Search for God) از کارل ساگاں: ساگاں کے مشہورِ زمانہ گفورڈ دروس جن کا موضوع سائنس، مذہب اور سماج کے گرد گھومتا ہے۔ ساگاں اپنے لطیف و شگفتہ پیرائے میں اس طرح خدا کا مدلل انکار کرتے ہیں جو صرف اس کی موجودگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا محسوس ہوتا ہے۔ متشدد ملحدین کے لئے ایک قابلِ تقلید اسلوب، خدائی فوج داروں کے لئے عاجزی کا سبق۔

اسی بارے میں: ۔  ایک نئی کتاب کا ابتدائیہ (سھل شعیب ابراھیم)۔

سال رواں میں  پڑھی گئی  کچھ کتابیں اور ان کا مختصر تعارف (۲)۔

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 66 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

One thought on “سال رواں میں پڑھی گئی کچھ کتابیں اور ان کا مختصر تعارف (۱)۔

Comments are closed.