سال رواں میں پڑھی گئی کچھ کتابیں اور ان کا مختصر تعارف (۲)۔


\"\"

(پہلا حصہ)

26۔ ’’مسطح زمین: ایک شش جہتی رومان‘‘ (Flatland: A Romance of Many Dimensions)از ایڈون اے ایبٹ:انیسویں صدی کا ایک عجیب و غریب کلاسیکی ناول جس کے کردار ایسے نقطے، خطوط، چوکور اور دوسری شکلیں ہیں جو ایک دو بعدی جہان میں زندہ ہیں۔ وکٹورین طنز یہ پیرائے میں ریاضیاتی تدریس کرتی ایک مزیدار کہانی۔
27۔ ’’بکر بیتی‘‘ (Goat Days) از بن یامین: سچے واقعات پر مبنی بن یامین کا مشہور ملایلم ناول جس کا مرکزی کردار نجیب خلیجی ممالک میں مزدوری کرنے جاتا ہے لیکن ایک ظالم عربی شیخ کے ہاتھوں غلام بن جاتا ہے۔ نجیب کی غلامی اور فرار کی داستان حیرت ناک اور المیہ انگیز ہے۔ ناول کا اردو ترجمہ کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
28۔ ’’داستانِ غم‘‘ از غازی محمود دھرم پال: متحدہ ہندوستان کے ایک عجیب و غریب کردار غازی محمود دھرم پال کی چھ حصوں پر مشتمل ضخیم آپ بیتی۔ دھرم پال کے آریہ سماج مذہب قبول کرنے اور پھر واپس مسلمان ہونے کی داستان۔ صرف پڑھنے سے ہی وسعتِ مضامین کا اندازہ ممکن ہے۔
29۔ ’’ بارے قطعیت کے‘‘(On Certainty) از لڈوگ وٹجنسٹائن: نظریۂ علم اور لسانیات کے سنگم پر واقع ایک اہم فلسفیانہ کاوش۔ کتاب تقریباً ساڑھے چھ سو پیراگراف پر مشتمل ہے جن میں سے بہت ہی کم ایسے ہیں جنہیں نہایت دقیق کہا جا سکے لہٰذا ایک مبتدی بھی سمجھ سکتا ہے۔ وٹجنسٹائن نے قطعیت کے تصور پر کچھ ایسے سوال اٹھائے ہیں جو تاحال جواب طلب ہیں۔
30۔ ’’ ہمہ گیرمطلق العنانیت کی بنیادیں‘‘ (The Origins of Totalitarianism)از ہینا ایرنٹ: ہینا ایرنٹ کی سب سے مشہور اور اہم ترین کتاب۔ مصنفہ انیسویں صدی کے آغاز سے لے کر پہلی جنگ عظیم تک بالخصوص یورپ میں دونوں مطلق العنان یک حزبی تحریکوں یعنی بولشیوک روس اور نازی جرمنی کا سیاسی و سماجی تناظر میں تفصیلی تجزیہ کرتی ہیں۔
31۔ ’’نربدا‘‘ از اسد محمد خان: اسد محمد خان کی کہانیوں کا مشہور مجموعہ۔
32۔ ’’اسلام اور آزاد معاشرہ: فلسفۂ اقبال میں حرکت اور ٹھہراؤ‘‘ (Islam and Open Society Fidelity and Movement in the Philosophy of Muhammad Iqbal): کولمبیا یونیورسٹی میں افریقہ سے تعلق رکھنے والےفلسفی سلیمان بشیر ڈائگنی مطالعۂ اقبال کی کچھ نئی راہوں کی جانب نشاندہی کرتےہیں۔ کتاب کا دیباچہ مشہور مفکر چارلس ٹیلر نے لکھا ہے۔
33۔ ’’سڑک‘‘ (The Road) از کورمک مکارتھی: ایک مشہور امریکی ناول جس میں ایک باپ اوربیٹا ایک دنیا کی تباہی کے بعد ساحلِ سمندر کی تلاش میں سڑک پر چلے جا رہے ہیں۔
34۔ ’’سائنس، ایمان اور سماج‘‘ (Science، Faith، and Society)از مائیکل پولانی: 1946 میں منظرِ عام پر آنےوالی اس کتاب نے فلسفۂ سائنس میں کئی نئے سوالوں کو جنم دیا تھا۔ پولانی کا دعوی تھا کہ سائنسی سماج میں سائنسدانوں کا مشترکہ اصول کسی اٹل ضابطے کے گردنہیں گھومتا بلکہ ان کو جوڑے رکھنے والی واحد شے یہ ایمانی قضیہ ہوتا ہے کہ ایک معروضی سچائی موجود ہے اور اس کی تلاش ممکن ہے۔
35۔ ’’اسطور کی مختصر تاریخ‘‘ (A Short History of Myth) از کیرن آرمسٹرانگ: تاریخ مختصر ضرور ہے لیکن کیرن آرمسٹرانگ کی دوسری تصنیفات کی طرح ایک ناگزیر خاکہ فراہم کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔
36۔ ’’آیخمان یروشلم میں: بدی کی فرسودگی پر ایک رپورتاژ‘‘ (Eichmann in Jerusalem: A Report on the Banality of Evil)از ہینا ایرنٹ: بہت ہی دلچسپ اور نفسیاتی اعتبار سے چشم کشا کتاب ہے۔ اڈولف آیخمان مشہور نازی کردار تھا جس پر چلنے والا مقدمہ اس کتاب کا موضوع ہے۔ ہینا نے اس مقدمے کا براہِ راست مشاہدہ کیا اور اس کے تاثرات ساٹھ کی دہائی ہی سے کئی مباحث کا موضوع رہے ہیں۔
37۔ ’’انسانی حالت‘‘ (The Human Condition) از ہینا ایرنٹ: ایرنٹ کی اس کتاب کا موضوع تاریخ و فلسفۂ سیاسیات ہے۔ کتاب کا مرکزی مقدمہ اس تناقض کی نشاندہی ہے کہ طاقت میں بڑھوتری کے ساتھ ساتھ انسانی اختیار میں کمی آتی جا رہی ہے۔
38۔ ’’تصوراتی مخلوق کی کتاب‘‘ (The Book of Imaginary Beings) از خورخے لوئس بورخیس: بہت مزیدار اور نادر کتاب ہے۔ بورخیس نے مختلف قدیم و جدید علاقائی داستانوں سے تقریباً سوا سو ایسے تصوراتی کردار جمعکیے ہیں۔ کم از کم میں نے تو اس سے پہلے چینی یونی کارن، آئرش دیومالا کی بانشی چڑیل اور کئی ایسی دوسری مخلوقات کے بارے میں نہیں سنا تھا۔ بورخیس کتاب کے آغاز میں ہی لکھتے ہیں کہ یہ کتاب پوری پڑھنے کے لئے نہیں ہے بلکہ کہیں سے بھی کھول کر ایک دو صفحے پڑھ کر واپس رکھ دینے کی ہے۔
39۔ ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ از شمن الرحمان فاروقی: فاروقی صاحب کا مشہور تجرباتی ناول جو بہت ہی ریاضت سے وضع کیا گیا ہے۔ ناول کا انگریزی ترجمہ A Mirror of Beauty بھی جزوی مطالعے میں رہا تاکہ فنِ ترجمہ کے بارے میں کچھ نادر چیزیں سیکھی جا سکیں۔
40۔ ’’کوہِ بروک بیک‘‘ (Brokeback Mountain) از اینی پرولکس: ہم جنس پرست معاشقے پر لکھا گیا ایک طویل اورالمیہ افسانہ۔ اسی افسانے پر مشہور فلم بھی بن چکی ہے۔
41۔ ’’چھال دار لوگ‘‘ (Barkskins) از اینی پرولکس: ہجرت اور ماحولیاتی پس منظر میں تخلیق کیا گیا ایک نہایت ضخیم ناول جس کا مرکزی کردار خود جنگل ہے۔ ناول اسی سال منظر عام پر آیا ہے۔ اینی پرولکس اس سے پہلے اپنے ایک اور ناول پر پلٹزر انعام بھی حاصل کر چکی ہیں۔
42۔ ’’ٹرین کی مسافر لڑکی‘‘ (The Girl on the Train) از پولاہاکنز: صفحات پر صفحات الٹنے والا ایک نیا ناول جس کی مرکزی کردار ایک ایسی لڑکی ہے جو ٹرین کے سفر کے دوران باہر نظر آنےوالے مناظر ہی کی ایک کہانی کا حصہ بن جاتی ہے۔ ناول پر اسی سال فلم بھی بنی ہے جو بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ آپ ناول پڑھ کر ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فلم کیوں فیل ہوئی ہو گی۔
43۔ ’’اور پھر کوئی بھی نہ بچا‘‘ (And Then There Were None) از اگاتھا کرسٹی : شاید کم و بیش پچیس سال بعد اگاتھا کرسٹی کو دوبارہ پڑھا ۔ بیٹے کو تحفہ دینے کے لئے کتاب خریدی تھی لیکن رہ نہ سکا۔ درمیان میں ساری کہانی یاد آ گئی لیکن بس عبادت کے طور پر پوری ختم کی۔
44۔ ’’امریکن دیوتا‘‘ (American Gods) از نیل گیمن: گیمن کا سب سے مشہور ناول۔ اگلے سال دس قسطوں پر مشتمل طویل فلمی تشکیل بھی متوقع ہے۔ گیمن کی زیادہ تر کہانیوں کی طرح یہ بھی جدید طلسماتی حقیقت پسندی میں ایک منفرد ادبی تجربہ ہے۔
45۔ ’’ناموجود‘‘(Neverwhere) از نیل گیمن: اب تک ٹیلی وژن سیریز دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن ناول سیریز کے ساتھ ساتھ وجود میں آیا ہے۔ سنا یہی ہے کہ نیل گیمن میں ناول میں دلچسپ اضافےکیے ہیں۔ اگر آپ طلسماتی حقیقت پسندی کے شوقین ہیں تو فوراً اس ناول کو پڑھ ڈالیے۔ ناول کی کہانی میں لندن کے نیچے ایک اور لندن آباد ہے جہاں کے اپنے ہی پراسرارکردار اور قوانین ہیں۔
46۔ ’’فارن ہائیٹ 451‘‘ (Fahrenheit 451) از رے بریڈ بری:پچاس کی دہائی کا مشہور ترین ناول جو ایک ایسے مستقبل کی منظر نگاری کرتا ہے جب کتابوں پر پابندی ہو گی۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ایسے ہی موضوعات پر کئی ناول آئے جو ابھی تک مطالعے میں نہیں آ سکے۔ دعوی کیا جا سکتا ہے کہ تیس کی دہائی میں آلڈس ہکسلے(Brave New World) اور چالیس کی دہائی میں جارج اورول (1984)کے ناولوں کے بعد یہ ناول اس صنف میں اہم ترین ہے۔
47۔ ’’خاکِ راہ‘‘ (On the Road) از جاک کیروک: امریکی ادب کا ایک کلاسیک سفر نامہ جس نے ’’بیٹ نسل‘‘ (Beat Generation)کی بنیاد ڈالی۔
48۔ ’’کافکا ساحل پر‘‘ (Kafka On the Shore) از ہاروکی موراکامی: اگر جدید جاپانی ادب کے شہنشاہ موراکامی کا صرف ایک ناول پڑھنا ہو تو یہ پڑھ ڈالیے۔ تقریباً پانچ سو صفحات کا ایک ایسا ناول جو اتنی کشش رکھتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ تین نشستوں میں ختمکیے جانے کا مطالبہ کرتاہے۔ میرے لئے یہ موراکامی کے ادب کا ایک ایسا تعارف تھا کہ اگلے سال میں موراکامی کے دو چار ناول مزید پڑھنا چاہوں گا۔
49۔ ’’سات منزلہ پہاڑ‘‘ (The Seven Storey Mountain) از تھامس مرٹن: مذہبی تلاش و جستجو پر مبنی ایک ایسی سوانح جو بلاشبہ غزالی اور سینٹ آگسٹین کے قبیلۂ ادب سے تعلق رکھتی ہے۔ مرٹن ایک کیتھولک راہب تھے۔
50۔ ’’منقسم سے مسلسل کی جانب: ابتدائی زمانۂ جدید کے انگلستان میں عددی تصورات میں وسعت‘‘ (From Discrete to Continuous: The Broadening of Number Concepts in Early Modern England) از کیتھرین نیل:مصنفہ نے تاریخی شواہدسے ثابت کیا ہے کہ سترہویں صد ی کے آغاز تک عددی تصورات میں غیرمنقسم اکائیوں کا تناظر غالب تھاجو آہستہ آہستہ عملی و نظری مسائل کی وجہ سے تبدیل ہو گیا۔ کتاب کی خاص بات اسحٰق نیوٹن کے برطانوی استاد اسحٰق بیرو کے خیالات کا تعارف ہے۔
51۔ ’’انسانیت کی ٹیڑھی کاٹھ: تاریخ ِ فکر کے کچھ ابواب‘‘ (The Crooked Timber of Humanity: Chapters in the History of Ideas) از ایزایا برلن: برلن نے بہت لکھا اور اپنے آپ کو خوب دہرایا، لیکن کمال یہ ہے کہ ہر بار مختلف طرح سے دہرایا۔ مضامین کے اس مجموعے میں وہ ویکو اور ہرڈر سمیت مزید کچھ ایسے نسبتاً گمنام مفکرین کی فکر کا کھوج لگاتے ہیں جو تنویری تحریک کے مخالف تھے اور جن کی رومانویت نے فاشزم کو جنم دیا۔
52۔ ’’برصغیر پاک و ہند میں اسلامی جدیدیت‘‘(Islamic Modernism in India and Pakistan) از عزیز احمد: برصغیر میں اسلامی جدیدیت کی تحریکوں کا ایک مناسب احاطہ۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے اس کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔
53۔ ’’فلسفۂ منطق‘‘ (Philosophy of Logics) از سوسان ہیک: بلاشبہ فلسفۂ منطق پر اہم ترین کتاب۔ کچھ ابواب نہایت دقیق ہیں جو منطق کی اصطلاحات سے واقفیت کے بغیر نہیں سمجھے جا سکتے۔
54۔ ’’کیا تنقید سیکولر ہوتی ہے؟ : توہینِ مذہب، ضرر اور آزادیٔ اظہار‘‘(Is Critique Secular؟ : Blasphemy، Injury، and Free Speech): مضامین کی صورت میں فلسفۂ سیاسیات اور علم ِ بشریات سے متعلق چار اہلِ علم یعنی طلال اسد، صبا محمود، جوڈتھ بٹلراور وینڈی براؤن کا مکالمہ ہے۔
55۔ ’’ اُس رات کتےکا وہ عجیب واقعہ‘‘(The Curious Incident of the Dog in the Night۔ Time) از مارک ہیڈن: ایک دلچسپ ناول جسے بہت منفرد انداز میں تخلیق کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ناول کے ابواب قدرتی اعداد کی بجائے مفرد اعداد سے باندھے گئے ہیں۔ ناول کا مرکزی کردار ایک ایسا لڑکا ہے جسے آٹزم ہے اور وہ ریاضیاتی خاکوں کی مدد سے سوچنے سمجھنے میں آسانی محسوس کرتا ہے۔
56۔ ’’ بیادِ صحبتِ نازک خیالاں‘‘ از آفتاب احمد: شخصی خاکوں کا ایک اہم مجموعہ۔
57۔ ’’جیگوار سورج تلے‘‘ (Under the Jaguar Sun) از اتالو کالوینو: کالوینو کی آخری کتاب ہے۔ منصوبے کے مطابق کتاب میں پانچ ایسی کہانیوں شامل کی جانی تھیں جو حواس خمسہ کی مناسبت سے ہر ایک حسی کیفیت کو اپنا موضوع بنائیں، لیکن موت نے موقع نہیں دیا اور کالوینو تین کہانیاں ہی لکھ سکے۔ کتاب میں سے ایک کہانی ’’بادشاہ سنتا ہے‘‘ کا ترجمہ کرنے کا موقع بھی ملا۔
58۔ ’’پیرس کا کرب‘‘ (Paris Spleen) از چارلس بادلئیر: بادلئیر کی نثری نظموں کا مجموعہ ہے۔ انگریزی اور اردو ترجمہ دونوں پڑھنے کا موقع ملا۔ اردو ترجمہ ڈاکٹر لئیق بابری نے براہِ راست فرانسیسی سے کیا تھا جو 1982 میں مجلس ترقی ادب نے شائع کیا۔ میرے پاس موجود کاپی لئیق بابری صاحب نے عبداللہ حسین صاحب کی نذر کی ہے اور ان کے نام ایک نوٹ اور دستخط موجود ہیں۔ نہ جانے وہاں سے فٹ پاتھ پر کیسے پہنچی۔
59۔ ’’ ووکیشن دروس‘‘(The Vocation Lectures) از میکس ویبر: ویبر کے یہ دونوں مضامین یعنی ’’سیاست بطور پیشہ‘‘ اور ’’سائنس بطور پیشہ‘‘ اہم ترین اور بار بار پڑھنے لائق ہیں۔
60۔ ’’غدار‘‘ (The Sellout) از پال بیٹی: نسل پرستی کے گرد گھومتا ایک طنزیہ ناول جس کا مرکزی کردار ایک ایسا سیاہ فام شخص ہے جو امریکی آئین سے غداری کا مرتکب ہوتا ہے اور ایک شخص کو اپنا غلام بنا لیتا ہے۔ اس سال کا مین بکر پرائز فاتح ناول۔
61۔ ’’دوزخ نامہ‘‘ (Dozakhnama) از روی شنکر بال: بنگالی ناول نگار روی شنکر بال کا ایک خوبصورت ناول جس کے مرکزی کردار سعادت حسن منٹو اور مرزا غالب قبرستان میں ایک دوسرے سے محوِ گفتگو ہیں۔ روی شنکر نے کمال مہارت سے 1857 کے غدر اور 1947 کے فسادات کو منٹو اور غالب کی سوانح کے ساتھ کہانی میں پرویا ہے۔ منٹو کی کہانیوں اور غالب کی شاعری اور خطوط نے کہانی کے لئے سحر انگیز مواد فراہم کیا ہے۔ ایک اعتبار سے ناول منٹو اور غالب دونوں کی جانب سے ایک ’’اپالوجی‘‘ بھی ہے۔ بنگالی سے انگریزی میں منتقل ہوا ہے۔
62۔ ’’بارے یاوہ گوئی کے‘‘(On Bullshit) از ہیری فرینکفرٹ: یہ مختصر سا کتابچہ یاوہ گوئی، مہمل گفتگو، خرافات وغیرہ کے فلسفے کو وضع کرتا ہے۔ انتہائی دلچسپ اور منفرد تحریر ہے۔
63۔ ’’وہ بے وفا‘‘ (The Women Who Got Away) از جان اپڈائک: پانچ کہانیوں کا مجموعہ جن کا مشترکہ موضوع بے وفائی اور زناکاری ہے۔
64۔ ’’انضباطیاتی الہام‘‘(Cybernetic Revelation: Deconstructing Artificial Intelligence) از جے ڈی کاسٹن: ایک اہم کتاب جو کمپیوٹر سائنس، فلسفے اور ادب کے درمیان کچھ مشترکہ نظریات کی تلاش پر مشتمل ہے۔
65۔ ’’خاطراتِ آدم و حوا‘‘ (Diaries of Adam & Eve) از مارک ٹوین: آدم و حوا کے تصوراتی روزنامچوں کے ذریعے ایک خوبصورت افسانوی تشکیل جس میں باغِ عدن کی زندگی اور پھر وہاں سے نکالے جانے کے تاثرات شامل ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 60 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

2 thoughts on “سال رواں میں پڑھی گئی کچھ کتابیں اور ان کا مختصر تعارف (۲)۔

Comments are closed.