ملا عبدالسلام ضعیف: امریکی بحری جہاز کا قیدی


\"\"

(پہلا حصہ: طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں)

ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب مائی لائف ود دا طالبان سے تلخیص و ترجمہ

امریکی فوجی مجھے ایک چھوٹے سے غسل خانے میں لے گئے لیکن میں نہا نہ سکا۔ میرا جسم اور ہاتھ پاؤں اس تشدد کی وجہ سے لرز رہے تھے جو کہ مجھے دن میں اور ہیلی کاپٹر کے سفر کے دوران سہنا پڑا تھا۔ میں خود کو مفلوج محسوس کر رہا تھا اور میرے بازو اور ٹانگیں بے حس ہو چکے تھے۔ مجھے ایک وردی دی گئی اور ایک پنجرے میں لے جایا گیا۔ یہ چھوٹا سا پنجرہ تھا، شاید چھے فٹ لمبا اور تین فٹ چوڑا، جس میں ایک نلکا اور ٹائلٹ موجود تھے۔ پہریداروں نے مجھے سونے کا حکم دیا اور دروازے کو تالا لگا دیا۔ پنجرے میں تنہا بیٹھا میں گزشتہ دنوں کے بارے میں سوچتا رہا۔ یہ سب کچھ ایک مہیب خواب جیسا تھا۔ جب میں سونے کے لئے لیٹا تو مجھے علم ہوا کہ میں تو یہ محسوس کرنے سے بھی قاصر ہوں کہ میں سو رہا ہوں یا جاگ رہا ہوں۔

میں اگلی صبح جاگا تو میں نے دیکھا کہ باہر ایک سپاہی پہرا دے رہا تھا۔ ارد گرد تین مزید پنجرے تھے جن پر ربڑ لپٹی ہوئی تھی۔ اب مجھے علم ہوا کہ میں ایک بہت بڑے بحری جہاز میں تھا۔ ان جہازوں میں سے ایک جو پاکستانی ساحل سے افغانستان کے خلاف جنگ میں استعمال کیے جا رہے تھے۔ مجھے یقین تھا کہ یہ ان جہازوں میں سے ایک تھا جن سے افغانستان پر میزائیل داغے گئے تھے۔

\"\"

میں غیر محسوس انداز میں آنکھوں کو حرکت دیتا رہا اور خوف کی وجہ سے واضح طور پر ادھر ادھر دیکھنے کی جرات نہ کر پایا۔ میری زبان خشک تھی اور میرے تالو سے چپکی ہوئی تھی۔ بائیں طرف میں کچھ قیدیوں کو دیکھ سکتا تھا جو کہ ایک ہی پنجرے میں تھے۔ ایک سپاہی کھانا لایا اور ایک مزید قیدی کو جہاز پر لایا گیا۔

سب قیدیوں نے کھانا کھایا لیکن ان کو آپس میں بات کرنے کی اجازت نہیں تھی لیکن وہ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔ میں نے دیکھ ہی لیا کہ ملا فضل، نوری، برہان، وثیق صاحب اور روحانی ان قیدیوں میں شامل تھے۔

ایک سپاہی میرے کمرے میں داخل ہوا اور اس نے مجھے ہتھکڑی کی مدد سے سلاخوں سے باندھ دیا۔ انہوں نے میرے کمرے کی تلاشی لی اور پھر پہلی مرتبہ مجھ سے پوچھ گچھ کی گئی۔ میرے نشان انگشت لئے گئے اور ہر سمت سے میری تصویر اتاری گئی۔ انہوں نے مجھے پنجرے میں واپس منتقل کرنے سے پہلے میری مختصر سوانح حیات لکھی۔

میں نے دیکھا کہ میری غیر موجودگی میں مجھے کچھ بنیادی چیزیں فراہم کر دی گئی تھیں۔ مجھے ایک کمبل، ایک پلاسٹک کی چادر، چاولوں کی ایک پلیٹ اور ایک ابلا ہوا انڈا دیا گیا تھا۔ میں نے ایک طویل مدت سے کچھ نہیں کھایا تھا اور گارڈ کو پلیٹ خالی کر کے ہی واپس کی جو کہ میرے پنجرے کے باہر کھڑا تھا۔

ابھی میں آرام کرنے کے لئے لیٹا ہی تھا کہ میں نے ایک اور سپاہی کو ہتھکڑیوں سمیت آتے دیکھا۔ ایک مرتبہ پھر مجھے تفتیشی کمرے میں لے جایا گیا۔ اس مرتبہ مجھے سے شیخ اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کہاں ہیں، ان کی موجودہ حالت کیا ہے، اور طالبان کے کچھ اہم کمانڈروں کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ کیا ماجرا پیش آیا اور ان کے ارادے کیا ہیں۔ گیارہ ستمبر کا ذکر صرف ایک مرتبہ ایک مختصر سے سوال میں ہی کیا گیا۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ مجھے اس حملے کے بارے میں کچھ پیشگی معلومات تھیں یا نہیں۔ مجھ سے یہی باتیں پوچھی گئیں۔

مجھے یقین ہے کہ امریکیوں کو علم تھا کہ مجھے ان چیزوں کے بارے میں کچھ بھِی معلوم نہیں جو وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔ مجھے امریکہ پر حملوں کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا، اور نہ ہی مجھے پہلے سے کچھ سن گن تھی۔ لیکن جیسے یہ سب کچھ میرے ساتھ پیش آیا، ویسے ہی ہزاروں دوسرے افراد کو بدنام کیا گیا، گرفتار کیا گیا اور کسی بھی عدالتی کارروائی یا ثبوت کے بغیر اس الزام پر مار ڈالا گیا کہ وہ اس حملے میں شریک تھے یا اس کے ذمہ دار تھے۔

\"\"

جہاز پر مجھے یہ خیال آیا کہ میں اپنے دوستوں اور اہل خانہ کو دوبارہ کبھی نہ دیکھ پاؤں گا۔ ان کو کبھِی علم نہیں ہو گا کہ مجھ پر کیا گذری۔ کسی کو بھی اتنا مایوس نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر ایک مسلمان کو، لیکن مجھے سوویت یونین کا افغانستان پر حملہ اور اس کا برتاؤ یاد تھا۔

میں نے ان ساٹھ ہزار افغانوں کی تقدیر کے بارے میں سوچا جن کو یہ سوویت عفریت کھا گیا تھا۔ وہ ہمیشہ کے لئے گم ہو گئے تھے، کوئی زندہ واپس نہ پلٹا، اور کسی شخص کو بھی ان کے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔ پہلی مرتبہ میں نے وہ محسوس کیا جو ان لوگوں کو محسوس ہوا ہو گا۔ میری خواہش تھی کہ میری روح بھی ان میں شامل ہو جائے اور اس عذاب سے میری جان چھوٹے۔ میں ان خونی جانوروں کے ظلم سے بچنا چاہتا تھا، ان وحشی امریکی حملہ آوروں کے ظلم سے۔

جہاز میں پانچ یا چھے دن گزارنے کے بعد مجھے ایک سرمئی جامہ دیا گیا، میرے ہاتھوں اور پیروں میں پلاسٹک کی بیڑیاں پہنا دی گئیں اور ایک سفید تھیلے کو میرے سر پر چڑھا دیا گیا۔ مجھے دوسرے قیدیوں کے ساتھ جہاز کے عرشے پر لایا گیا۔ ہمیں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر انتظار کرنے کا حکم دیا گیا۔ بیڑیوں کی وجہ سے ہاتھوں اور پیروں میں دوران خون ختم ہو گیا تھا۔ کچھ دوسرے قیدی درد و کرب سے کرہا رہے تھے مگر فوجی ان پر چیخ چلا کر انہیں خاموش ہونے کا کہہ رہے تھے۔

کئی گھنٹے بعد ہمیں ایک ہیلی کاپٹر میں ڈال دیا گیا اور ہم اپنی آخری منزل پر پہنچنے سے پہلے تین مرتبہ زمین پر اترے۔ جب بھی ہم اترتے تو سپاہی ہمیں ہیلی کاپٹر سے باہر پھینک دیتے۔ ہمیں گھٹنوں کے بل بیٹھے یا لیٹنے پر مجبور کیا جاتا اور جب بھی ہم میں سے کوئی شکایت کرتا یا حرکت تک کرتا تو ہم پر ٹھڈوں کی بارش کر دی جاتی۔

\"\"

ہیلی کاپٹر میں ہمیں فرش اور دیواروں سے ایسی پوزیشن میں باندھا جاتا جسے نہ تو کھڑا ہونا کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی رکوع جسی حالت میں جھکنا۔ یہ ایک عذاب تھا جس کی شدت ہر گذرتے لمحے کے ساتھ زیادہ ہوتی جاتی۔ جب آخری منزل پر ہمیں ہیلی کاپٹر سے باہر پھینکا گیا تو ایک سپاہی نے کہا ’یہ والا، یہ بڑا شکار ہے‘۔ میں انہیں نہیں دیکھ سکتا تھا مگر وہ ہر سمت سے مجھ پر ٹوٹ پڑے اور مجھے مارنے پیٹنے لگے۔ کچھ نے اپنی رائفلیں ماریں اور دوسروں نے مجھے اپنے آرمی والے بوٹوں سے نشانہ بنایا۔

میرے کپڑے پھاڑ ڈالے گئے اور کچھ دیر میں ہی میں تازہ گری ہوئی برف پر برہنہ پڑا تھا۔ میں نے مار پیٹ اور سردی کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پیروں کو بے جان پایا۔ میرے گرد کھڑے سپاہی گانے گا رہے تھے اور میرا مذاق اڑا رہے تھے۔ ’امریکہ انصاف اور امن کا گھر ہے اور وہ ساری دنیا میں ہر ایک کے لئے امن اور انصاف چاہتے ہیں‘، وہ بار بار کہتے رہے۔

ٹھنڈ اتنی زیادہ تھی کہ سانس لینا بھی دشوار تھا اور میرا جسم بے قابو ہو کر بے تحاشا کانپ رہا تھا لیکن سپاہی مجھ پر چیختے رہے اور ہلنا جلنا بند کرنے کا حکم دیتے رہے۔ میں ایک طویل مدت تک برف پر پڑا رہا اور بالآخر میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔


طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں 
گرفتاری کے وقت ملا عبدالسلام ضعیف سفیر نہیں تھے
جب ملا عبدالسلام ضعیف امریکیوں کو دیے گئے
ملا عبدالسلام ضعیف: امریکی بحری جہاز کا قیدی
ملا عبدالسلام ضعیف: قندھار کا قیدی نمبر 306

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 572 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar