گزیدہ


zeffer2

فیس بک پر یہ بحث چل رہی تھی، کہ منٹو کے افسانے فحش ہیں؛ چند ایک اس راے کے حق میں، اور چند مخالفت میں دلائل دے رہے تھے۔ میری بیوی جل کر بولی، ‘ایک منٹ کے لیے اس فیس بک کو چھوڑیں اور میری بات سُنیں۔’ میں نے لکھا، کہ جنھوں نے منٹو کو پڑھا بھی نہیں، وہ یہ کہتے ہیں، کہ منٹو فحش ہے۔

‘ظفر میں آپ سے کچھ کہ رہی ہوں۔’ بیوی کو شاید کوئی ضروری بات کرنا تھی۔
ہاں بولو میں سن رہا ہوں۔
بچوں کی وین والا پیسے بڑھانے کی بات کر رہا ہے۔
ایک خاتون نے لکھا، کہ منٹو اتنا بھی فحش نہیں، اُس پر یہ الزام بالکل غلط ہے، آپ میرا افسانہ ‘ململ کی کُرتی’ پڑھیے۔ منٹو تو کچھ بھی نہیں، جو میں نے لکھ دیا ہے۔ ساتھ ہی اس خاتون نے اپنی بے کار کہانی کا لنک پیسٹ کر دیا؛ پھر اگلے دس پندرہ کامینٹس اس کی ‘ململ کی کُرتی’ اُدھیڑنے والے تھے۔
‘آپ فیس بُک کو چھوڑیں گے، یا نہیں؟ آپ دو منٹ کے لیے میری بات تو سن لیں۔’
میں تھوڑا جھنجھلایا کہ ‘سن تو رہا ہوں، آگے بھی تو بولو؟’
‘اُف خدایا، میں اپنی بات پوری کر چکی۔ اب آپ بتایئے، وین والے کو کیا کہنا ہے؟’
‘وین والے کو کیا کہنا ہے؟’ اسی دوران ایک فیس بک فورم کا ایڈمن، اِن باکس میں‌آ ٹپکا کہ اس کے فورم پر بھی تھوڑی نظرِ کرم کر لیا کروں۔ اخلاقی طور پہ یہ بری بات ہوتی، اگر میں اس کی معصومانہ خواہش رد کر دیتا۔ اس فورم پر ‘جدید شاعری، اور تنقیدی محرکات’ جیسے ثقیل موضوع پر مکالمہ ہو رہا تھا۔ ایک شاعر دوست کو ‘ان باکس’ پیغام بھیجا، کہ کچھ نکتے سمجھا دے، تا کہ سیر حاصل بحث کی جا سکے۔
‘کھانا تیار ہے، پہلے کھانا کھا لیں، یہ فیس بک اِدھر ہی ہے۔’ ہر بیوی کا مسئلہ یہ ہے، کہ وہ کبھی شوہر کو خوش نہیں دیکھ سکتی۔ لہاذا میں نے تکرار سے بچنے کے لیے کہ دیا، ‘لے آؤ، کھا لیتا ہوں’۔
ایک صاحب نے میری ایک پوسٹ پر بے جا تنقید کی تھی؛ اُس کو جواب دینا بہت ضروری تھا۔ میں نے تھوڑا چبھتا نوٹ لکھا۔ مقصد یہ تھا، کہ میرا تبصرہ پڑھ کر، اسے مرچی لگے۔ یہی ہوا۔ وہ مشرق کی مثال دیتا، میں مغرب کو نِکل جاتا؛ ‘ٹرولنگ’ کا اپنا مزا ہے۔ ایسے میں میری لبوں پر بڑی حسین مسکراہٹ چھا گئی، جسے بے تکلف دوست شیطانی مسکراہٹ سے تعبیر کرتے ہیں۔
‘کھانا ٹھنڈا ہو چکا۔’ بیوی کی آواز سن کر میں نے نگہ اٹھائی تو دیکھا، وہ بہ غور میری مسکراہٹ کو تکے جاتی تھی۔ مجھے یقین ہے یہ میری مسکراہٹ کا کچھ اور مطلب لے رہی ہوگی۔ شاید یہ کہ میں کسی لڑکی سے چَیٹ کر رہا ہوں۔ میں نے لہجے میں‌ حلاوت انڈیلتے ہوے صفائی پیش کی، ‘ایک فورم پر لٹریری ڈبیٹ ہو رہی ہے؛ وہاں ۔۔’
‘ہاں ہاں میں جانتی ہوں، میں‌ آپ کو نہیں‌ جانوں گی، تو کون جانے گا!’
میں نے طنز کو پی کر محبت سے پوچھا، ‘اچھا! تو جانِ من، تم کیا کہ رہی تھیں؟’
‘کب؟’ میری بیوی نے ان جان بننے کی اداکاری کرتے ہوے پوچھا۔
‘ابھی تھوڑی دیر پہلے، وہ وین والے کی بات کر رہی تھیں ناں؟’ میں نے یاد دلانے کی کوشش کی۔ ‘وہ تو شام کی بات ہے۔’ کیسے کیسے جھوٹ بولتی ہیں، یہ بیویاں۔ تھوڑی دیر پہلے کہی بات کو شام کی بات کر دیا۔ ‘اچھا چلو جب کی بھی بات ہے، وہ کیا بات تھی کہ وین والا، کرایہ بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے؟ ۔۔ اور کیوں‌ بھئی؟’ میری بیوی کچھ کہنے لگی، تو چھوٹی بیٹی، بھائی کی شکایت لے کر آ گئی۔ ادھر فیس بک پہ مطربا کا ان باکس پیغام آ گیا۔ مطربا کو بھی میں اسی وقت یاد آتا ہوں، جب میری بیوی عین میرے سر پر سوار ہوتی۔ بیوی کا دھیان بیٹی کی جانب تھا یہ موقع غنیمت جان کر، میں نے جلدی سے ٹائپ کیا، ‘ویٹ’ ۔۔ یہ بے وقوف لڑکیاں سچو ایشن کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ جب رکنے کو کہا، تو زرا ٹھیر جاو، بھائی۔ لیکن نہیں، مطربا نے لکھا، ‘کیا بیوی سر پہ کھڑی ہے؟’ میں نے بہ ظاہر بیوی کو مسکرا کے دیکھتے ہوے ٹائپ کیا، ‘میں کھانا کھا رہا ہوں۔’ بیٹی شکایت لگا کے جا چکی تھی؛ ‘ہاں اب بتاو بھی، کہ وین والے کا کیا معاملہ ہے؛ اس کے علاوہ اور کیا ضروری بات ہے؟’ میں نے مطربا سے بچنے کے لیے فیس بک کو لاگ آف کیا۔
بیگم نے بے زاری سے کہا، ‘آپ کھانا کھایئے۔ کوئی خاص بات نہیں ہے۔ یہ بتائیں چائے ابھی لے آوں، یا ٹھہر کے پیئں گے؟’
‘چائے بھی لے آؤ، لیکن اس سے پہلے یہ بتاؤ، تم نے مجھے زِچ کرنے کے لیے وین والی بات گھڑ لی؟ جب دیکھ رہی ہو میں‌ بِزی ہوں؛ تنگ کرنے کا کوئی بہانہ چاہیے ہوتا ہے؟’
وہ جاتے جاتے ٹھہر گئی، غصے سے مجھے دیکھتے ہوے، اطلاع دی، ‘وین والا کل سے نہیں‌ آے گا، صبح جلدی اُٹھیے گا، اور بچوں کو اسکول چھوڑ‌کر آیئے گا۔’ اُس کے غصے کے جواب میں، میں ہنس پڑا؛ بزرگوں کا قول ہے، کہ میاں‌ بیوی میں سے ایک غصے میں ہو، تو فریقِ ثانی کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔ ‘کیوں وین والے کو کیوں‌ روکا؟ اگر کرایہ بڑھانے کی بات تھی تو بڑھا دیتیں، منہگائی بھی تو بہت ہو گئی ہے۔۔۔ اور سنو، یہ ‘منہگائی’ کو اکثر لوگ ‘مہنگائی’ کہ دیتے ہیں، یہ غلط ہے۔’
‘ظفر میرے پاس اتنا دماغ نہیں ہے، کہ آپ پہ خرچ کروں۔’
‘کیوں جی؟ ایک تو تمھارے علم میں اضافہ کر رہا ہوں، اور تم ہو کہ ۔۔۔’
‘آپ کی بڑی مہربانی، مجھے آپ جاہل ہی رہنے دیں۔’
اب مجھے غصہ آ گیا، ‘اگر میں پانچ دس منٹ کے لیے انٹرنیٹ پہ تھا تو اس میں، ایسے ری ایکٹ کرنے کی کیا بات ہے؟ میرا کام ہی ایسا ہے، مجھے معلومات کے لیے سوشل میڈیا کی مدد چاہیے ہوتی ہے۔’
‘پانچ دس منٹ؟’ بیوی نے ایسے آنکھیں پھاڑ کر استفسار کیا جیسے میں ایک گھنتے سے مصروف تھا۔ ‘تو اور کیا؟ زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹا۔’
‘آپ نے گھڑی دیکھی ہے؟’
‘ہاں کئی بار دیکھی ہے؛ گھڑی دیکھنے کے کیا معنی؟’
‘آپ شام پانچ بجے سے نیٹ پر ہیں۔’
‘پانچ بجے سے نہیں، ساڑھے پانچ، یا پونے چھہ کی بات ہے۔۔۔ تو؟’
‘تو؟ ۔۔۔ تو اِس وقت رات کے ساڑھے گیارہ بجے ہیں۔’
میں نے اس کا دعوا جھٹلانے کے لیے وال کلاک پہ نظر کی، وہ میری بیوی کو سچا بتا رہی تھی۔ ‘یہ گھڑی ٹھیک ہے؟’
‘جی ٹھیک ہے۔ آپ نے چھہ گھنٹوں میں پانچ دس گھڑیاں ہی ہمارے ساتھ گزاریں ہیں۔ وہ ٹھیک نہیں ہے۔’ وہ گلو گیر لہجے میں یہ کہ کر چلی گئی۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran