پی آئی اے پاکستان ہے


usman-ghaziکس نے کہا کہ پی آئی اے ملازمین ادارے پربوجھ ہیں؟
دنیا بھر میں ائیرلائن سیکٹر کا سیلری بجٹ تینتیس فیصد تک ہوتا ہے جو پی آئی اے میں صرف 17فیصد ہے، پی آئی اے ملازمین کی تنخواہیں وفاقی و صوبائی ملازمین کی تنخواہوں سے بھی کم ہیں اور پھر بھی یہ طعنہ کہ ملازمین ادارے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے
پی آئی اے کے پاس کیا نہیں ہے، عالمی معیار کا اوورہال ، مینٹینس انجینئرنگ سیٹ اپ، فلائٹ کچن، ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اورپریسیشن انجینئرنگ کمپلکس جیسے یونٹس پی آئی اے کے اپنے ہیں جبکہ دنیا کی دیگر ائیرلائنز کو یہ خدمات مہنگے داموں دوسرے اداروں سے حاصل کرناپڑتی ہیں۔
پی آئی اے کا پریسیشن انجینئرنگ وہ شعبہ ہے جس نے عسکری پرزہ سازی میں اہم خدمات انجام دیں، اگر ملک کو ایٹم بم کے لیے سازوسامان درکار تھاتو یہی پی آئی اے کے جہاز استعمال ہوئے، کیا کوئی نجی ائیرلائن یہ خدمت انجام دے سکتی ہے؟
یمن میں پاکستانی پھنس گئے، نجی ائیرلائنز نے صاف انکار کردیا، یہ پی آئی اے کے ہی پائلٹ تھے جو جانوں پر کھیل کر پاکستانیوں کو وطن واپس لاتے رہے اور کسی کاایک روپیہ خرچ نہ ہوا، کیا کسی نجی ائیر لائن سے ایسی خدمات کی توقع بھی کی جاسکتی ہے؟
پی آئی اے اس لئے خسارے میں جارہی ہے کہ اندرون ملک پروازوں کا سارا بزنس نجی ائیرلائنز کو دے دیا گیا۔ بیرون ملک پروازوں کے لیے غیرملکی ائیرلائنز خصوصا عرب ممالک کی فضائی کمپنیوں کی پروازوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے مگر پی آئی اے خسارے میں جارہی ہے، یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ پی آئی اے کو منظم طریقے سے تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہو۔
کہتے ہیں کہ پی آئی اے میں ملازمین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ قوم کو بے وقوف بنانے کے لیے اس سے بڑا کوئی اور مذاق نہیں ہے۔ پی آئی اے میں درجنوں وہ شعبہ جات ہیں، جو دیگر ائیرلائنز میں آؤٹ سورس ہیں۔ ان تمام شعبہ جات کے ملازمین کو بھی پی آئی اے کے کھاتے میں ڈال کر دیگر ائیرلائنز سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ یہ بددیانتی اور جہالت کی انتہا ہے۔
پی آئی اے کو برباد کرنے کے لیے پہلے مسلم لیگ ن نے اوپن اسکائی پالیسی بنائی، جس کے تحت نجی ائیرلائنز کو کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے منافع بخش روٹس پر جہاز اڑانے کی اجازت دی گئی جبکہ پی آئی اے کے جہاز گلگت ، اسکردو، چترال، گوادر، پسنی ، پنجگور، تربت، رحیم یارخان اور موئن جودڑو کی پروازیں بھرتے رہے، بعد میں پیپلزپارٹی کے پی کے ٹی کے منصوبے کو پی آئی اے کی نج کاری قراردے کر اس کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔ اگر ترکی کے ساتھ پی کے ٹی کے منصوبہ کامیاب ہوجاتا تو آج پی آئی اے منافع بخش ادارہ ہوتا مگر ایسا لگتا ہے کہ نوازشریف کو پی آئی اے سے کوئی ذاتی پرخاش ہے۔
اب اگر پی آئی اے فروخت ہوگئی تو وہی ہوگا جو ابھی صرف پی آئی اے کے فروخت ہونے کے عمل کے دوران ہورہا ہے کہ نجی ائیرلائنز نے فضائی کرایوں کو پانچ سو فیصد تک بڑھا دیا۔
عجب گورکھ دھندہ ہے کہ طالبان سے تو مذاکرات ہوسکتے ہیں مگر پی آئی اے ملازمین سے مذاکرات ناممکن ہیں۔ ان کو ناکام بنانے کے لیے اندھی طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے۔ احتجاج کرنےوالوں کو گولیاں ماری جارہی ہیں۔ زیادہ شور مچانےوالے پراسرار طورپر غائب ہورہے ہیں۔
میڈیا کا کام حکومتی ترجمان بننا یا پی آئی اے ملازمین کے دکھڑے سنانا نہیں ہے بلکہ ملکی مفاد میں حقائق کو سامنے لانا ہے۔ یہ وہ ذمہ داری ہے، جو ریاست کا اہم ستون ہونے کی حیثیت میں میڈیا پرعائد ہوتی ہے۔
کیا پاکستانی میڈیا اپنی ذمہ داری اداکررہا ہے؟
عثمان غازی


Comments

FB Login Required - comments