انسٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز کی سروے رپورٹ، حقائق یا افسانہ؟


\"\"پاکستان ڈیموگرافک اور ہیلتھ سروے میں پاکستان کی حالت \”بہت اچھا\” کی رپورٹ دی ہے۔ سال 2012-13 کے بارے میں جاری اس رپورٹ میں پاکستان میں آبادی میں کمی اور پانی کے بہتر ذریعے کی دستیابی اور اکثر گھرانوں میں خواتین کے لئے الگ بیت الخلا کی موجودگی کا انکشاف کیا گیا۔ تاہم خواتین کے اکثریت کو ناخواندہ بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کو نیشنل انسٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز نے جاری کیا ہے۔

گھریلو ساخت کے بارے میں لکھا ہے کہ پاکستان کا ایک گھرانہ چھے سے آٹھ افراد پر مشتمل ہے۔ جس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کی شرح 39 فیصد بتائی گئی ہیں۔ گھرانوں کے حالات کے بارے میں تقریباََ 94 فیصد گھرانوں کو بجلی کی سہولت مہیا ہے اور 93 فیصد گھرانوں کو پینے کے پانی کے بہتر ذرائع موجود میسر ہیں اور تقریباََ 60 فیصد گھرانوں میں بیت الخلاء کی سہولت موجود ہے جو کسی اور کے ساتھ مشترکہ استعمال میں نہیں۔ اس سیمینار کے موقع ہم نے نیشنل انسٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز کے ایگزیٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار احمد سے اس رپورٹ میں دی گئی شرح کی حقیقت جاننے کے لئے چند سوالات کرنا چاہا تو وہ پہلے ہم سے سوال نامہ دکھانے کا مطالبے کرتے رہے بعد میں انہوں نے \”میں بوڑھا ہو گیا ہوں اس لیے میری یادداشت کمزور ہے\” کہہ کر جواب سے دینے انکار کیا۔ سمینار میں سوال و جواب کا بھی کوئی سیشن موجود نہیں تھا۔

مذکورہ رپورٹ میں تعلیم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 57 فیصد شادی شدہ خواتین اور 29 فیصد شادی شدہ مرد تعلیم یافتہ نہیں ہے۔ اس کی تشریح یوں کی گئی ہے کہ صرف 16 فیصد خواتین 21 فیصد مردوں نے پرائمری سکول تک تعلیم حاصل کی اور پانچ میں سے ایک خاتون اور تین میں سے ایک مرد نے ثانوی یا اعلیٰ درجہ تک پڑھا۔ آبادی میں اضافے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوسطاََ بچوں کی پیدائش 3.8 ہے جو تاجکستان کے مقابلے میں کم بتایا گیا ہے تاہم یہ شرح ابھی کرغیزستان، نیپال اور بنگلہ دیش کے مقابلے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 23 سال پہلے یہ شرح 5.4 تھی جو کم ہو کر 3.8 تک پہنچ گئی ہے۔ خواتین کے نوعمری میں ماں بننے کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ 15 سے 19 سال میں خواتین میں ماں بننے کی شرح 1990-91 میں 16 فیصد تھی جو کم ہو کر 8 فیصد تک پہنچی ہے۔ اس کے باجود خیبر پختونخوا میں 10 فیصد سے یہ شرح سب سے زیادہ اور بلوچستان اور گلگت بلتستان 7 فیصد سب سے کم ہے۔ پنجاب ،سندھ اور آزاد کشمیر کے حوالے سے رپورٹ ابتدائی طور پر خاموش نظر آتی ہے۔ کم عمری میں ماں بننے کی شرح امیر گھرانوں کی نسبت غریب گھرانوں میں زیادہ بتائی گئی ہے جو 3 فیصد اور 12 فیصد کے حساب سے ہے۔ رپورٹ میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے اکثر افراد کو باعلم قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 99 فیصد خواتین اور 95 فیصد مردوں کو کم از کم ایک جدید خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے کا علم ہے۔ ان طریقوں کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انجیکشن اور گولیوں کے بارے آگاہی رکھنے والی خواتین کی شرح 95 فیصد اور نل بندی کے بارے میں 91 فیصد ہے۔ جب کہ مردوں میں کنڈوم 89 فیصد، گولیوں کے بارے 85 فیصد اور انجیکشن کے بارے میں 82 فیصد شرح بتائی گئی۔

اس اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد عام پاکستانی کے ذہن میں یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ رپورٹ حقیقت ہے یا افسانہ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔