گوادر کا جہانِ حیرت: ترقی، سرمچار، مقامی آبادی کے خیالات


\"\"

گوادر جانےصورتحال جاننے کی خواہش بڑھتی جا رہی تھی۔ کوسٹل ہائی وے دیکھنا تھی اس لئے بائی ائیر جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ کسی کی نظر سے کچھ دیکھنے کا بھی موڈ نہیں تھا۔ اس لئے کسی کی میزبانی کرنے کی آفر سے بھی گریز کیا۔ عام لوگوں سے ملنا ان کی سننا مقصد تھا۔ کچھ پیاروں نے بڑے حفاظتی مشورے دیے۔ ان مشوروں کا حسب معمول الٹا اثر ہوا۔

ایک بلوچ دوست جس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ رابطہ کیا کہ کسی مقامی بندے کے ساتھ سفر کرا دے۔ کم وقت میں سب کچھ کا بہترین انتظام ہوا۔ ماجد بلوچ ہمارے ہمراہ گئے۔ ماجد ایک چلتی پھرتی تاریخی ڈائری ہیں۔ کراچی سے ایران باڈر تک مسلسل سفر میں رہتے ہیں۔ راستے کی ہر اینٹ روڑے سے واقف ہیں۔

ایک دوست عامر کو بھی ہمراہ لیا۔ عامر کراچی رہتے ہیں۔ بلوچستان میں انہوں نے ہر اس جگہ جا کر تعمیراتی کام کیا ہے جس کا ہم نے اکثر نام بھی نہیں سنا ہوا۔ بلوچستان میں جہاں کہیں کسی نے عامر کی مدد کی ہے اس نے اسے یاد رکھا ہے۔ کہیں اگر اس کے ساتھ کچھ غیر متوقع سلوک ہوا ہے تو اس کو وہ بھولا نہیں ہے۔ اب اس علاقے اور وہاں کے لوگوں کی شہرت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

اس سفر کا حاصل عامر اور ماجد کے متضاد تبصرے تھے۔ کراچی سے گوادر تک سیکورٹی چیک پوسٹس بہت ہیں۔ عامر کے پاس موجود سیکیورٹی پاس دیکھ کر وہ بھی اکثر دور سے دیکھ کر بیرئیر ہٹا دیا جاتا تھا۔ جہاں کہیں بلوچ لیویز کی پوسٹ آئی وہاں ماجد کے ساتھ لیوی والوں نے بلوچی میں حال احوال ضرور کیا۔ ماجد نے راستے میں ہی بتا دیا تھا کہ گوادر کے پاس ایک پوسٹ آئے گی جہاں کوئی پاس نہیں چلتا۔ وہاں کوئی حوالدار تعینات ہے جس میں تھانیداروں کی روح ہے اس کی تفتیش لازمی بھگتنی پڑتی ہے۔ یہی ہوا جب وہاں پہنچے تو حوالدار صاحب نے سیکیورٹی پاس کو نظرانداز کر کے اپنے دل کے ارمان پورے کیے۔

\"\"

ایک تو یہ اندازہ ہوا کہ حوالدار صاحب کراچی سے گوادر تک مشہور ہیں۔ دوسرا سب کی مشترکہ دعا تھی کہ واپسی پر دوبارہ حوالدار صاحب سے ملاقات نہ ہی ہو۔ دعائیں کدھر قبول ہوتی ہیں۔ دوبارہ پھر ملاقات ہوئی حوالدار صاحب نے نئے سرے سی تفتیش کی۔ وسی بابے کو غصہ نہ کرنے کا بھی مشورہ دیا تو اسے کہا کہ خفا کیگا مہ یعنی خفا مت ہو تو اس نے کہا کہ گاڑی سائڈ پر لگاؤ۔ ہماری سائڈ پر آ کر اچھی طرح پوچھا کہ پیخور کے دہ کم زئے اے یعنی پشاور میں کہاں کے ہو۔ اس کے بعد شربت چائے کی آفر ماری اور ریسٹ کر کے جانے کو بولا۔

اس ویرانے میں حوالدار صاحب لوگوں سے گپ شپ کو ترسے ہوئے ہیں۔ اپنی طرف سے ہنسی مذاق کرتے ہیں اور مشہور گوادر سے کراچی تک ہوئے پڑے ہیں۔

راستے میں بہت سی جگہوں کے بارے میں دونوں ساتھیوں نے بتایا۔ کہاں پختوں مزدوروں کو مارا گیا، کہاں بس سے اتار کر مسافروں کو مارا گیا۔ ایک جگہ دیکھی جہاں سرمچاروں کو مارا گیا۔ ماجد نے ایک جگہ دکھائی جہاں اس کے سامنے سرمچاروں اور سیکیورٹی فورسز میں مقابلہ ہوا۔ دونوں جانب کا جانی نقصانی ہوا۔ جب دونوں جانب سے فائرنگ جاری تھی تو مسافروں کو لے کر جانے والی گاڑیاں بھی بھاگ رہی تھیں۔ ماجد کو اپنے ہی گروپ کی دوسری گاڑی اور دوست ڈرائیور سے گلہ آج تک ہے کہ اس نے بروقت اسے بھاگنے کا اشارہ نہیں کیا، جس کی وجہ سے ماجد مسافروں سمیت فائرنگ میں درمیان میں جا پھنسا اور پھر بڑی مشکل سے مسافروں سمیت محفوظ نکلا۔

\"\"

ان سب جگہوں کو اب محفوظ کیا جا چکا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے اپنے کمپاؤنڈ بنا لئے ہیں۔ پہاڑوں پر چوکیاں موجود ہیں۔ کسی کارروائی کا ہونا خارج از امکان تو نہیں لیکن کافی حد تک کوسٹل ہائی وے کو محفوظ بنا لیا گیا ہے۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے حوالے سے کسی قسم کی دو عملی یا سستی کا شائبہ تک نہیں ملتا۔ جیسے طالبان کے بارے میں اکثر ادھر ادھر کے لوگوں سے سننے کو مل جاتا ہے کہ یہ سب ایجنسیوں کے اپنے کارنامے ہیں۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں ہے۔ سیکیورٹی فورسز پوری طرح یکسو ہیں عسکریت پسندوں کے خلاف سرگرم ہیں انہیں راستوں سے دور ہٹا چکی ہیں۔

گوادر اور کوسٹل ہائی وے دونوں محفوظ ہیں۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی تھی کہ ہم نے آتے جاتے ہوئے فیملیز کی بڑی تعداد کو تن تنہا آتے جاتے دیکھا۔ واپسی کے سفر میں تو بہت سارے ٹورسٹ گروپس کو بھی دیکھا۔ سیکورٹی فورسز کے افسران تب کافی حقیقت پسند معلوم ہوئے جب انہوں نے کہا کہ تھریٹ ہر وقت موجود ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ کیسا تھریٹ تو ان کا کہنا تھا کہ اندروںی طور پر عسکریت پسندی کی لہر موجود ہے کمزور ہے لیکن ہے۔ اس کو بیرونی حمایت بھی میسر ہے۔ ہم اس خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں یہ لمبا چلے گا۔ راستے اور گوادر شہر اب محفوظ ہیں انہیں محفوظ رکھنے کے لئے ہم موجود ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  این اے 120 کا ضمنی الیکشن، 2018ءانتخابات کا ٹریلر

\"\"

گوادر کے لوگ کیا کہتے ہیں۔ ان کے کیا خیالات ہیں یہ جاننے کی بڑی جلدی تھی۔ ذہنی طور پر ناراض لوگوں ان کی باتوں کے لئے ہم تیار تھے۔ گوادر جاتے ہوئے جب وندر میں ہم لوگ اپنے دوست سمیع جان کے پاس چائے کے لئے رکے تو ہوٹل میں سب لوگ کھانا پینا چھوڑ کر ہمیں دیکھنے لگے۔ وندر کوسٹل ہائی وے پر ہے وہاں سے ہر وقت مسافر گذرتے ہیں رکتے بھی ہیں۔ لوگوں کے اس طرح نوٹس لینے پر یہی لگا کہ یہاں اجنبیوں کی آمد ایک نئی سی بات ہے۔ ذہن میں پھر یہی تھا کہ گوادر تو کوسٹل ہائی وے کے دوسرے سر پر ہے تو وہاں مقامی لوگ جانے کیسے ہوں گے۔

گوادر کے لوگ کافی مہمان دوست قسم کے محسوس ہوئے۔ کوئی آپ کا نوٹس نہیں لیتا آپ صبح شام رات جب مرضی گھوم پھر سکتے ہیں۔ ہم لوگوں نے گوادر بازار کے ہوٹل میں کھانا کھایا۔ کچھ بھی الگ نہیں تھا سب ویسے ہی تھا جیسے پاکستان کے کسی اور شہر کا کوئی ہوٹل ہو۔ ایک فرق تھا جو محسوس ہوتا ہے گوادر کے مقامی لوگوں کی اکثریت کے لباس ان کی معاشی بدحالی کا پتہ دیتے ہیں۔

\"\"

لوگوں کے رویے کے حوالے سے جب ادھر ادھر معلومات کیں تو دلچسپ بات سامنے آئی۔ معلوم یہ ہوا کہ وہ علاقے جہاں صرف سیکیورٹی اداروں کی تنصیبات ہیں اور وہاں کوئی اقتصادی سرگرمیاں نہیں ہیں، ان علاقوں کے لوگ نہ صرف سرکار ریاستی اداروں کے خلاف ہیں بلکہ مسافروں سے بھی جلدی نہیں گھلتے ملتے۔ گوادر میں سیکیورٹی کے ساتھ بڑی معاشی سرگرمی بھی ہو رہی ہے تو لوگ اپنے کام دھندوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا بہت سارا کام روزگار مسافروں کے ساتھ جڑا ہوا ہے اس لئے وہ زیادہ مسافر دوست بھی ہیں۔

گوادر کے مقامی تاجروں سے بات ہوئی۔ وہ لوگ بہت پر امید تھے کہ گوادر میں ترقیاتی کاموں نے رفتار پکڑ لی ہے۔ پرانے گوادر کا کافی سارا حصہ گرایا جا رہا ہے۔ اس کو پاس ہی ایک جگہ شفٹ کیا جائے گا۔ گوادر فشری والوں کو بھی متبادل جگہ دے کر گوادر پورٹ کے پاس سے شفٹ کرنے کا پروگرام ہے۔ گوادر میں جگہ جگہ سرکاری عمارتوں پر وزیراعلی بلوچستان اور وزیر اعظم پاکستان کی تصاویر والے بڑے بڑے پینا فلیکس پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔ سرکاری عمارتوں پر یہ کچھ اچھے نہیں لگتے۔

ہمیں اس دورے میں بہت سی غیر متوقع باتیں سننے کو ملیں۔ ذہنی طور پر ہم تیار تھے کہ لوگوں کی کڑوی باتیں سننی ہوں گی۔ پکا ارادہ بنا رکھا تھا کہ پوری کوشش کریں گے کہ جو سنا اس کو ویسے ہی بیان کریں۔ اب جو سنا وہ ویسے بیان کیسے کریں یہ سوچ رہے۔ چلیں کچھ جھلکیاں سناتے ہیں۔

\"\"

جس کا نام سن کر ہی خارش سی محسوس ہوتی ہے اس کی تعریف سننے کو ملی۔ جملہ سنیں کہ ہم مشرف کو دعا دیتے ہیں جس نے کوسٹل ہائی وے بنائی۔ ہم لوگ چار چار دن اور پورا پورا ہفتہ لگا کر کراچی پہنچتے تھے۔ سرمچاروں بلوچ عسکریت پسندوں کے بارے میں پوچھنے پر یہ تک سننے کو ملا کہ ان کو چھوڑیں وہ مرنے مارنے کو نکلے ہوئے ہیں۔ بھئی جب مارو گے تو مرو گے بھی۔

اپنی طرف سے بہت شاندار آئیڈیا دیا تھا ایک گوادر کے مقامی بندے کو کہ گوادر کے لوگوں کے لئے خلیج والا کفیل قسم کا سسٹم لانا چاہیے تاکہ ان کی معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کا جواب یہ سنا کہ ایک ملک میں دو دو قوانین ہوتے ہیں کیا۔ اسے کہا کہ گوادر کے لوگ اقلیت بن جائیں گے۔ اس کے جواب میں مہربان نے یہ کہا کہ دنیا کہ کس پورٹ سٹی یا دارالحکومت میں مقامی لوگ اکثریت میں ہیں؟

یہ کافی عجیب و غریب سی صورتحال تھی ہم کچھ سوچ اور پوچھ رہے تھے جواب کچھ مل رہا تھا۔

اہم اخبارات میں لکھنے والے گوادر کے صحافی سے بہت دیر تک بات ہوئی۔ صحافی بھائی چھوٹے شہروں کے صحافیوں جیسے نہیں ہیں۔ پاکستان سے باہر جاتے رہتے ہیں۔ پڑھے لکھے ہیں بلوچستان کی مقامی سیاست سے واقف اور آگاہ ہیں۔ اہم لیڈروں سے براہراست رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کا اپنا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے جہاں ڈاکٹر اللہ نذر کی بی ایل ایف بہت سرگرم رہی۔ ان کے اپنے خاندان کا تعلق ڈاکٹر مالک کی نیشنل پارٹی سے ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کیا دہشت گرد تنطیمیں بلوچستان میں متحد ہو رہی ہیں؟

\"\"

انکا کہنا تھا کہ پچھلے کچھ عرصے میں کسی بھی دوسرے کے مقابلے میں سرمچاروں نے کہیں زیادہ بڑی تعداد میں لوگوں کو مارا ہے۔ یہ مارے جانے والے لوگ ہر قسم کے تھے۔ ان میں مذہبی لوگوں سے لے کر اسمگلنگ کے کاروبار سے وابسطہ لوگ اور ڈرگ ڈیلر تک شامل تھے۔ بہت سے لوگوں کو مخبر کہہ کر مار دیا گیا۔ کچھ ایسے لوگوں کو بھی مار دیا جنہوں نے سرینڈر کیا تھا۔ ان حرکتوں کی وجہ سے اور ایسے بے لچک روئے کے وجہ سے اب بلوچ عسکریت پسندی کی لہر کا زور ٹوٹ رہا ہے۔

یہ زور تب ٹوٹنا شروع ہو گیا تھا جب ڈاکٹر مالک وزیر اعلی بنے۔ بلدیاتی الیکشن کے دوران ہمارے دوست صحافی کے خاندان والوں کو بھی اغوا کیا گیا۔ نیشنل پارٹی کو لوگوں کو اب مارا بھی جا رہا ہے۔ اپنے دوست کی پارٹی وابستگی معلوم ہونے کی وجہ سے یہ سوچ کر کہیں وہ اپنی پسندیدہ پارٹی کی ہی سپورٹ نہ کر رہے ہوں ان سے پوچھا نیشنل پارٹی کی کارکردگی کیسی رہی۔ اس سوال پر ان کا جواب تھا کہ پارٹی کی حکومتی کارکردگی بہت بری رہی۔ اگلے الیکشن میں بھی ان کو سیاسی نقصان ہو گا۔

\"\"

یہ سب باتیں ہمارے لئے غیر متوقع تھیں بلکہ کافی حد تک کنفیوزنگ بھی۔ جو دیکھا سنا وہ شیئر کرنے کے بعد اس پر مزید بھی جانیں گے۔ دوسری سائڈ کا بھی موقف معلوم کریں گے وہ بھی لکھیں گے۔ یہ سب اگر سوچ کی تبدیلی ہے تو اس کا یقینی تعلق ترقیاتی امکانات سے ہے۔

نیوی کے افسر نے گوادر پورٹ پر کھڑا کر کے جب ہمیں ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ یہاں سے کہاں تک پورٹ وسیع ہونے جا رہی ہے۔ اگلے پانچ سال میں اسی (80) مدر شپس اکٹھے گوادر میں آف لوڈ ہوا کریں گے۔ مدر شپ بہت بڑے بحری جہازوں کو کہا جاتا ہے۔ نیول افسر کی بتائی ہوئی جگہ میلوں لمبی ہے۔ اس سے پوچھا کہ کیا کام بھی ہو رہا ہے۔ اس کا جواب تھا کہ چینی ورکر چوبیس گھنٹے تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ ہم انہیں تین شفٹوں میں سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔ خواب حقیقت بن رہا ہے۔ اگلے مہینے سے گوادر میں روزانہ کی بنیاد پر پورٹ میں جہاز آنے لگیں گے۔

\"\"

گوادر والے باقی بلوچستان سے مختلف ہیں۔ گوادر میں اب پورے بلوچستان سے لوگ آ آ کر آباد ہو رہے ہیں۔ گوادر کا بلوچستان سے زیادہ تعلق کراچی اور لیاری سے ہے۔ لیاری ہی وہ جگہ ہے جہاں بلوچ عسکریت پسندی کا علاج بھی ہوا ہے یہ کہانی پھر کبھی۔ لیاری میں آباد بلوچوں میں سے اکثر کا تعلق ایرانی بلوچستان سے ہے۔ ایرانی بلوچستان بھی ہمارے بلوچستان جیسا ہی رہا ہے۔ وہاں سے مریض علاج کے لئے کراچی آتے ہیں۔ اب گوادر آئیں گے۔ گوادر اور مکران کے بہت بلوچ مسقط میں آباد ہیں۔

بائی روڈ سفر کے دوران ہم بلوچ گیت سنتے رہے۔ سرمچاروں کے ولولے بڑھاتا ایک گیت بھی سنتے رہے۔ اس کا ترجمہ نہیں کرنا خود ہی ڈھونڈیں سن لیں۔ ہم اگر سنتے پکڑے جاتے تو ابھی وہیں کسی چیک پوسٹ پر وہ مرغا بنے ہوئے ہوتے جس کی سجی بنتی ہے۔ ایک گیت بلوچ علاقوں بلوچ شخصیتوں کی تعریف میں سنا اچھا لگا۔ وہ گیت پنجگور کے بلوچی لہجے میں تھا۔ آپ کو گوادر کا ایک فوک گیت سنانا ہے۔ سنیں پھر سنیں اور سوچتے رہیں۔

\"\"

مسقط نام ہے، قابوس سلام ہے، سلطان سلام ہے۔ اس بلوچی گیت میں اپنے اونٹ عمان کی شام اس کے شہروں وہاں بتائے دنوں کو یاد کرتا ہے۔ عمان میں بلوچ آبادی قابل ذکر تعداد میں ہے۔ خوشحال بھی ہے اور نوکری بھی خیر سے وہ فوج اور پولیس میں کرتے ہیں۔ تعلق ان میں سے زیادہ تر کا مکران سے ہی ہے۔

بے دھڑک ہو کر گوادر کو آباد کریں۔ دو کام ہونے جا رہے ہیں۔ بلوچستان کی پاکستان میں سیاسی معاشی اور میڈیائی اہمیت صفر ہی رہی ہے۔ گیس البتہ وہاں سے ہم نے دبا کر اڑائی ہے۔ گوادر کی ترقی کے بعد بلوچستان کی معاشی اور میڈیائی اہمیت کو نظرانداز کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہو گا۔ بلوچستان بھر سے گوادر آنے والے بلوچ اپنے لئے ترقی معاش کے نئے امکانات تو تلاش کر ہی لیں گے۔ گوادرایران عمان کے بلوچوں کی محبتوں کا مرکز بھی بن کر رہے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 260 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “گوادر کا جہانِ حیرت: ترقی، سرمچار، مقامی آبادی کے خیالات

Comments are closed.