افغانیہ صوبہ، اچکزئی، مردم شماری اور بلوچ قیادت کی پریشانی


\"\"

افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت دی جائے، پاکستان میں افغانیہ صوبہ بنایا جائے، محمود خان اچکزئی کا بیان اچانک آیا۔ ادھر ادھر کان کھڑے ہوئے۔ میڈیا نے ان کی ہلکی پھلکی خبر لی اور بھول بھال گیا کہ کیا کہا تھا۔ ایک جگہ ایسی ہے جہاں اس بیان کو بہت سنجدیگی سے لیا گیا۔

بلوچستان کی بلوچ انٹیلیجنشیا میں اس بیان پر سنجیدہ غور فکر شروع ہے۔ مسئلہ کافی گھمبیر ہے کہ مردم شماری ہونے والی ہے۔ بلوچستان میں عسکریت کی ایک لہر جاری ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ بے گھر ہیں۔ کافی سارے پہاڑوں پر چڑھ کر بیٹھے ہیں۔ وہاں سے حسب توفیق گولے داغتے رہتے ہیں۔

محمود خان اچکزئی نے تو طویل خاموشی کے بعد بولے ہیں اور پھر سائلنٹ پر لگ گئے ہیں۔ ان کے بیان نے بلوچستان کے ٹھہرے ہوئے سیاسی پانیوں میں ایک بڑی چٹان اٹھا کر پھینک دی ہے۔ بلوچ سیاسی قیادت نے آپس میں رابطے شروع کر دیے ہیں۔ بلوچ سیاسی قیادت بہت سمجھدار ہے۔ وہ محمود خان کے بیان کا اصل مطلب سمجھ گئی ہے۔

اصل مطلب کچھ زیادہ گہرا نہیں ہے۔ محمود خان نے بس اتنا پوچھا ہے کہ کیا پروگرام ہے، بلوچستان میں تو افغان مہاجرین بہت ہیں، مردم شماری کرانی ہے یا بائیکاٹ کرنا ہے؟ افغان مہاجرین کو نینشلٹی دینے کی بات ایک سنجیدہ سا مذاق ہے۔ محمود خان نے مزید ستم ظریفی یہ کی ہے کہ مجوزہ صوبے کا نام بھی افغانیہ ہی تجویز کر دیا ہے۔

بلوچ قیادت سمجھ گئی ہے کہ بلوچستان کے پشتون علاقوں میں تو مردم شماری ہوگی۔ بلوچ علاقوں میں کرانی ہے یا نہیں یہ اب بلوچ قیادت سوچے۔

سب سے پہلے بی این پی عوامی کے سردار اسرار اللہ زہری بولے ہیں۔ مردم شماری کا بائیکاٹ کوئی آپشن نہیں ہے۔ اگر ہم نے بائیکاٹ کیا تو ہماری تعداد اتنی ہی گنی جائے گی جتنی اب ہے۔ ہماری اسمبلیوں کی سیٹیں بھی اتنی ہی رہیں گی۔ باقی صوبوں کی آبادی بڑھ جائے گی۔ ہماری پرانی والی ہی شمار ہوئی تو ہمارا فائنانشل ایوارڈ میں حصہ بھی کم ہو جائے گا۔ مسئلہ اتنا ہی نہیں ہے، اگر پشتون علاقوں میں مردم شماری ہو گئی اور بلوچ ایریا میں رہ گئی تو آبادی کی ڈائنامکس ہی بدل جائے گی۔

اب بلوچ سیاسی قیادت اکٹھی ہو گی۔ اس حقیقی مسئلے پر غور کرے گی۔ سرمچاروں سے بھی رابطہ ہو گا کہ بھائی رحم کرو اس وقت ضد بڑا نقصان پہنچا دے گی۔ اپنی آزادی کی جنگ اب مردم شماری کے بعد لڑ لینا، جلدی کیا ہے۔ بلوچ مہاجرین کی واپسی کا بھی کوئی امکان پیدا ہو گا۔

بات یہ ہے کہ یہ جو ہمیں غدار غدار سے سیاستدان لگتے ہیں نہ جو بلوچ بھی ہیں پختون بھی، یہ بڑے کام کے لوگ ہیں۔ انہوں نے ماریں کھا کھا کر سیاست سیکھی ہے یہ راستے نکالنا جانتے ہیں۔ چپ رہتے ہیں، جب بولتے ہیں تو کوئی مقصد ہوتا ہے۔ محمود خان کے بیان نے بلوچ قیادت کو کھیلنے کے لئے ایک اچھی گیند کرائی ہے کہ وہ ایک ایمرجنسی دکھا کر بلوچستان کو مزید نارمل کر سکیں۔

ایک اہم بلوچ راہنما اکثر ٹھنڈی آہ بھر کے کہتے ہیں یہ ہم ہی جانتے ہیں کہ بلوچستان کو کس پل صراط سے گزار کر لا رہے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 244 posts and counting.See all posts by wisi