قند پارسی یا ایران کا شہد


 \"\"اب آپ سے کیا پردہ، ہمیں فارسی اور سرائیکی بہت پسند ہیں۔ اگرچہ ہم ان زبانوں پر اتنی بھی دسترس نہیں  رکھتے، جتنی واپڈا بجلی کی ترسیل پر یا عدالتیں  انصاف کی فراہمی پررکھتی ہیں، البتہ الفاظ کی نشست وبرخاست، برجستگی، طرز تکلم و طرز تخاطب اورجملوں، محاوروں اوراشعار کا جامعیت سے بھرپوراختصار ہمیں  بہت بھاتا ہے۔ اگر مقرر فارسی یا سرائیکی لہجے میں  موتی پرونے والی کوئی خوش اطوار سی خاتون ہو تو واللہ، اس کی گلفشانی کی پھوار ہمیں  براہ راست اپنے قلب پر محسوس ہوتی ہے۔ بصورت دیگر ہم دستیاب مال سے بھی اپنا ٹھرک پورا کر لیتے ہیں، چاہے وہ آغا پٹھان ہی کیوں نہ ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسے مواقع پر شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ”سماع وعظ کجا، نغمہ رباب کجا“

آغا افغانی کی مادری زبان فارسی ہے۔ وہ کئی برس سے ہمارے علاقے میں  مزدوری کر رہا ہے۔ بوڑھا پٹھان ان پڑھ ہے مگر سرمست حافظ شیرازی کی زبان بولتا ہے تو ’وہ کہیں  اورسنا کرے کوئی‘ کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ایک دن سخت گرمی میں  ہمارے گھر کلہاڑی سے لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ پسینے میں  شرابورتھا اور نقاہت اور تھکاوٹ اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ ہم نے اس کی خیریت دریافت کی”حال شما خوب است؟“(کیا تمھاراحال اچھا ہے؟)اس نے کمر پر ہاتھ  رکھ کر کہا”خوب نیست، جوانی رفت“ (اچھا نہیں، جوانی گزر گئی ہے) ہماری کج فہمی کہتی ہے کہ ایسے مختصرترین مگرکوزے میں  دریا بند کرنے والے جملے شاید ہی کسی زبان میں  ملتے ہوں۔ ایسا ہی غالب کا ایک شعر یاد آیا ”دریغا کہ عہد جوانی گزشت /جوانی مگو، زندگانی گزشت“ آغا کی اردو بھی فارسیت زدہ ہے۔ شام اندھیرا ہونے سے پہلے گھر روانہ ہوتے ہوئے معذرت خواہانہ لہجے میں  کہتا ہے”میرے سائیکل میں  چراغ نہیں “ہمارے ملک میں  کچھ پرانے لوگ کہتے ہیں  ”چشم ما روشن، دل ما شاد“ ایران میں ہم نے دیکھا کہ لوگ مہمان کے سامنے سینے پر ہاتھ  رکھ کر اور قدرے جھک کر انہی معنوں میں  مختصرا ًایک لفظ بولتے ہیں ”چشم“… یہ لفظ اپنے اندر خلوص اوروسعت کا جہاں سمیٹے ہوتا ہے۔ وہ لوگ مٹھاس سے لبریز لہجے میں  کہتے ہیں ”تو نورچشم ماای“شاید اسی لئے فارسی کو ”قند پارسی“یعنی شکر کی طرح میٹھی زبان کہا جاتا ہے۔

دسمبر کی اس خنک اورخشک شب ہمیں کچھ بھولی بسری خوش گفتارخواتین کی نرماہٹ سے آراستہ اور رس گھولتی، نشاط انگیز فارسی گفتگو اس لئے یاد آئی ہے کہ جناب انور مسعود نے جیو کے ”جرگہ“میں کہا ہے کہ فارسی ہمارا ہزار سالہ حافظہ ہے، جسے چھوڑ دینے سے اردو پر ہماری گرفت کمزور ہو گئی۔ انہوں نے فرمایا ”اردو کو بچانے کے لئے ہمیں  دوبارہ فارسی سے رجوع کرنا پڑے گا“خوب است!لیکن ہمارے خیال میں  اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں  آئے گا…..تیز رفتار ترقی کے اس سفر میں  ہماری تہذیبی اقدار یوں گردگرد ہوئی ہیں  کہ اب یہاں نوشت وخواند، اہل علم کی صحبتیں، صاحب مطالعہ اوراہل زباں جیسے الفاظ اور اعمال بطورفیشن تو تھوڑے بہت استعمال ہوتے ہی ہیں  مگر عملی طور پر متروک اور قصہ پارینہ ہو چکے ہیں۔

 آج ہم  نے برصغیر میں  فارسی کی تاریخ بیان نہیں  کرنی۔ مختصراًیہ عرض کرنا ہے کہ یقینا ہماراحافظہ ہزار سالہ ہو گا لیکن اب یہ حافظہ اتنا لاغر ہو گیا ہے کہ ہزار سال تو دور کی بات، اس میں  تو سات دہائیاں قبل کی سب سے ضروری بات بھی محفوظ نہیں  کہ محمدعلی جناح کس طرح کا ملک چاہتے تھے؟ اپنی بوسیدہ اقدار سے جان چھڑاتے ہوئے ہم نے کمپیوٹر کے عہد کے ساتھ  قدم سے قدم ملا کر ایسی قیامت خیز چال چلی کہ”کلاغی تگ کبک را گوش کرد، تو خودش را فراموش کرد“یعنی کواچلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا۔ امروز فارسی اور اردو کی مہار ہمارے ایسے ”ایں  چیست؟ پکوڑے تلیست“ برانڈ ”اہل علم “ لکھاریوں اور اینکرزکے ہاتھ ہے، جو”داشتہ بکار آید“ کا سلیس اردو ترجمہ ”داشتہ کار پر آتی ہے“موزوں سمجھتے ہیں۔ اردومعلی پر دسترس کی بھی وہی مثال کافی ہے کہ استاد نے طلباء سے پوچھا کہ اس جملے میں گرامر کے لحاظ سے کون سا زمانہ پایا جاتا ہے”بچے نقل کر رہے ہیں “شاگرد نے کہا ”امتحان کا زمانہ“ ٹی وی چینلز پر ہمارے برادران و ہمشیرگان نے گیسوئے اردو سنوارتے ہوئے اسے فارسی سے پاک کر کے انگریزی کا ایسا تڑکہ لگایا ہے کہ ریختہ کی عظمت بال کھولے بین کر رہی ہے۔ خدا معلوم یہ زبان اوراقدار کا کیسا ارتقاء ہے کہ اب ہمیں واعظ شیریں  لساں، خزینہ علم وحکمت اور منبع فصاحت و بلاغت تو تھوک کے حساب سے دستیاب ہیں مگر فصاحت اورحکمت تو کجا، خطبات سے رتی برابرشیرینی برآمد کرنا محال ہے۔ بس شعلہ بار لہجے ہیں  اوردشنہ وخنجرکا انداز بیاں۔

 آج ہم نے بات فارسی کی وسعت اورمٹھاس تک محدود رکھنی تھی مگر بموجب نوشتہ تقدیرکے کڑواہٹ کی طرف نکل گئی۔ ہمیں  اکثر ملکی حالات پر فارسی کے محاورے اور کہاوتیں یاد آتی ہیں۔ کب اورکیوں یادآتی ہیں ؟ یہ آپ کو خود اخذ کرنا ہے۔ سنئیے”آنچہ دانا کند، کند ناداں، لیک بعد ازخرابی بسیار“ (دانا جو کام کرتا ہے، کرتا ناداں بھی وہی ہے لیکن نقصان اٹھانے کے بعد) آں را کہ حساب پاک است، ازمحاسبہ چہ باک است“(جس کا دامن صاف ہے، وہ محاسبے سے خوفزدہ کیوں ہے؟) ”بر زبان تسبیح ودردل گاوخر“ (ظاہر میں  نیک، دل میں  لالچ)”ہرکہ درکان نمک رفت، نمک شد“ (جوبھی نمک کی کان میں  گیا، نمک ہوگیا) ”ماتم زدہ راعید بود ماتم دیگر“ (مفلس کی خوشی بھی ماتم سے خالی نہیں  ہوتی) ”آب آید، تیمم برخاست“(پانی مل جائے تو تیمم کی ضرورت نہیں ) اور ان الفاظ کا ہمیں  مطلب تو معلوم نہیں  مگر ان میں  ردھم کمال کا ہے کہ”جواب جاہلاں، باشد خموشی“ شیخ سعدی اختصاراور جامعیت کا بادشاہ ہے۔ صرف دو جملے نقل کرتے ہیں کہ ”بخشیدم، گرچہ مصلحت ندیدم“ (معاف کردیا اگر چہ مجھے اس میں  اچھائی نظر نہیں  آتی) اوروہ جوبادشاہ نے ہزار دینارکی تھیلی ننگ دھڑنگ فقیر کی طرف اچھالتے ہوئے کہا کہ دامن پھیلا درویش، تو اس نے کیاجواب دیا؟….”دامن از کجا آرم کہ جامہ ندارم“(میں  دامن کہاں سے لاﺅں، میرے تن پر تو لباس ہی نہیں ) انور مسعود صاحب نے اقبال کی فارسی شاعری کو بھی یاد کیا ہے، سوہم اقبال کے ان سدا بہارفارسی اشعار پر بات ختم کرتے ہیں :

زمن برصوفی وملا سلامے

کہ پیغام خدا گفتند ما را

ولے تاویل شاں درحیرت انداخت

خدا و جبرئیل و مصطفی را

(میری طرف سے صوفی اور ملا کو سلام کہ انہوں نے خدا کا پہغام ہم تک پہنچایا لیکن پیغام کی تاویل انہوں نے کچھ اس طرح کی کہ خود خدا، جبرئیل اور مصطفیﷺ بھی حیران رہ گئے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔