آپ کی پیاری سگریٹ کے نام میرا ننھا سا پیام


آپ کی خوبصورت سگریٹ کے نام ایک چھوٹا سا پیغام دینا چاہوں گی۔ اے پیاری سگریٹ اگر تم نہ ہوتیں تو کتنا اچھا ہوتا! مرد کتنے مہذب محسوس ہوتے! دانت کالے نہ ہوتے، منہ سے بو نہ آتی، پھیپڑوں کا کینسر نہ ہوتا! ہارٹ اٹیک نہ ہوتے! ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ نہ ہوتا! مرد حضرات پر اتنا غصہ نہ آتا! تمہیں آگ لگانے کا جی بھی نہ کرتا، ہمارے منہ پر دھوئیں کے بادل بھی نہ رقص کرتے اور ہمیں کھانسی بھی نہ اٹھتی!

آخر تم دنیا میں آئی ہی کیوں؟ اب آہی چکی ہو تو تم پر لعنت ملامت کے سوا ہمارا کوئی چارہ نہیں! بہت بد شکل اور بدبودار ہو تم سمجھی! اور مرد حضرات تم سے بھی زیادہ نفرت انگیز محسوس ہوتے ہیں جب خوشی خوشی وہ ہمارے منہ پر تمھارا کالا دھواں چھوڑتے ہیں! کاش کہ تم کو دفن کر کے تمہاری قبر پر اگربتی چلا سکتی! کاش تم میں ہڈی ہوتی اور تم کچھ بڑی ہوتیں تو ڈنڈے سے خوب پٹائی کرتی تمہاری اور مار مار کر تمھاری ہڈی پسلی ایک کر دیتی! مگر کیا کروں تم تو ملتی نہیں ہو کہ تمہارا حشر نشر کروں البتہ جو ہمارے سامنے مرد حضرات سگریٹ پی رہے ہوتے ہیں ان کے لئے میرا کچھ ایسا ہی کرنے کو دل چاہتا ہے۔ کاش کہ مرد کے جسم میں ہڈی نہ ہوتی اور وہ سگریٹ پینے کا قابل ہی نہ ہوتے، نہ ہی میرا دل جلتا نہ ہی مجھے غصہ آتا اور نہ میں کنڈیکٹر کو گالیاں دیتی، اب جو گالیاں میرے منہ سے لامحالہ نکلتی ہیں ان کا خدا کو کیا جواب دوں گی روز آخرت؟ اوپر سے سگریٹ پینے کے باوجود بھی مرد حضرات کی زبان بہت لمبی ہوتی ہے؟ کیسے ؟ آخر سگریٹ پیتے پیتے آگ کی لو زبان پر کیوں نہیں لگ جاتی؟ کچھ جلے گی تو زبان بھی کم چلے گی، سگریٹ پینے کے بعد تو جیسے مرد حضرات کی عقل کا انجن زیادہ کام کرنا شروع کر دیتا ہے، مجھے تو بسیں اور گاڑیاں چلتی پھرتی سگریٹ لگتی ہیں، کاش میرا وجود بھی بہت بڑا ہوتا، دیو ہیکل قسم کا! لوگ دیکھتے ہی سگریٹ پھینک دیتے اور کانوں کو ہاتھ لگا کا میرے خوف سے توبہ توبہ کرتے۔

اللہ تعالی میں مردوں سے سگریٹ کیسے چھڑواؤں؟ پتہ نہیں مرد حضرات آخر پیتے ہی کیوں ہیں؟ بیوی کے ظلم و جبر کی وجہ سے؟ مرد ہونے کی وجہ سے؟ مرنے کے لئے یا ہم معصوم جانوں کے صبر کا مادہ لبریز کرنے کے لئے؟ جو نہ چاہتے بھی اپنا اخلاقی فرض نہیں بھولتے اور یہی کہتے رہتے ہیں، بھائی ہمارے منہ پر سگریٹ کا دھواں نہ چھوڑئیے، براہ کرم اپنی سگریٹ بجھائیے!

اب آپ ہی بتائیے کیا مرد حضرات جو ناک کے ساتھ ساتھ منہ سے بھی دھواں پھونک رہے ہوتے ہیں اس قابل ہوتے ہیں کہ ان سے کوئی اخلاقی دائرے میں گفتگو فرمائے؟ وہ بھی اس وقت جب آپ کھانے کی میز پر اپنے کھانے کی باری کا انتظار کر رہے ہوں اور برابر والی میز پر کوئی محترم اپنی حسین و جمیل بیگم کے منہ پر دھوئیں کی محبت بھری اسٹیم دے رہے ہوں؟ اور بیگم بھی خوشی خوشی شوہر پر جان فدا کر رہی ہوں؟

آخر ایسے مردوں کو لڑکی مل کیسی جاتی ہے شادی کے لئے؟ میں تو کبھی نہ کروں ایسے گندے مندے شخص سے شادی، توبہ اللہ میری توبہ مجھے معاف کردے اور اس دنیا میں سگریٹ پینے والے شوہر کی شکل میں عذاب نہ دے۔

مجھے بہت برے لگتے ہیں ایسے مرد، دل چاہتا ہے کہ ایک سوال کروں کہ آپ کو تمیز ہے یا نہیں یا سگریٹ کی محبت نے تمیز سے محروم کردیا ہے اور ان کے گھر والوں پر تعجب ہوتا ہے کہ کیسے چلتی پھرتی فیول فیکٹری برداشت کرلیتے ہیں۔ مجھے کوئی شخص یہ سمجھادے کہ وہ سگریٹ کیوں پیتا ہے؟ اسے کیا اچھا لگتا ہے سگریٹ میں؟ اگر آپ کو سگریٹ پینے والی بیگم نصیب ہو جو آپ کے کمرے کو ہر وقت اپنی سگریٹ کی محبت کی شمع سے کالے دھوئیں کے بادلوں کی لپیٹ مین رکھے؟ اس کی سنگھار میز پر سگریٹ کا خوبصورت ڈبہ ہو اور وہ خوشی خوشی اپنی محبت و الفت کا اظہار آپ کے منہ پر کالا دھواں چھوڑ کر کرے؟ تو کیسا محسوس کریں گے آپ؟ میں یہ سوچتی ہوں کہ جن افراد کی بیویاں بھی سگریٹ نوشی کرتی ہونگی وہ تو کالا کبوتر بن جاتے ہوں گے؟ بچے بھی منہ میں سگریٹ لے کر پیدا ہوا کریں گے جو اپنی امی ابا کے منہ پر بڑی خوشی خوشی دھواں چھوڑیں گے! کاش کہ ایسا ہو اور ماں باپ کو علم ہو کہ غلطی کا احساس ندامت کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ کوئی باپ یا ماں نہیں چاہتی ہوگی کہ اگر وہ یا اس کا شوہر سگریٹ نوشی کا عادی ہے تو ان کی اولاد بھی ایسی ہی ہو اور وہ اپنے ماں باپ سے ہم کلام ہوتے ہوئے ان کے منہ پر اپنی سگریٹ کے کالے دھوئیں سے سلامی دے۔

ہماری تہذیب و اقدار سب ختم ہوگئے ہیں۔ ہم اپنے استاد سے بات کرتے ہوئے بھی ایک ہاتھ میں سگریٹ تھامے ہوئے ہوتے ہیں اور ایک ہاتھ میں کتاب؟ کون سی تعلیم، کون سی عزت، کون سی محبت دے رہے ہوتے ہیں ہم جو دھوئیں سے شروع ہوتی ہے اور دھوئیں پر ختم۔ نہیں پیجئے سگریٹ، ہاتھ جوڑتی ہوں آپ کے، کیوں زندگی جیسی نعمت کو سگریٹ نوشی کی لعنت سے جلا رہے ہیں؟ یہ سگریٹ آپ کا نشہ نہیں، آپ کی قبر پر لگنے والا کتبہ ہے، سگریٹ نوشی آپ کی زندگی کے دورانئیے سے 10 سال کم کردیتی ہے۔ یعنی اگر آپ کو 80 سال جینا ہے تو آپ کی عمر 70 سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔ پڑھئیے اس موت کے بارے میں ہونے والی تحقیق کے بارے میں جو جلد آپ کے جسم کو، دل کو، دماغ کو، خون کو دیمک کی طرح چاٹ جائے گی۔ یہ زندگی آپ کی نہیں خدا کی دی ہوئی ہے، خدارا رحم کریں اپنے حال پر، اپنے والدین کے حال پر اور اپنی اولاد کے حال پر جس کو یتیم کرنے کی قسم کھالی ہے آپ حضرات نے۔ ہوش میں آئیے، پھینک دیں اس لعنت کو اپنی زندگی سے۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں