کیا سی پیک منصوبہ پاک بھارت دشمنی ختم کر سکے گا؟


\"\"پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے دنیا کے متعدد دارالحکومتوں میں مختلف زاویوں سے غور کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف نیو کلیئر سپلائرز گروپ کے چیئرمین سونگ یانگ وان کی ہدایت پر اس گروپ کے سابق سربراہ رافائل گروسی نے ایک نوٹ تیار کیا ہے جس کے ذریعے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے NPT پر دستخط نہ کرنے والے ملکوں کو گروپ کی رکنیت دینے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں اس 45 رکنی گروپ میں شامل ہونے کی درخواست دے چکے ہیں لیکن یہ دونوں ملک جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کی جنوبی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کی اس تجویز پر بھی بھارت اور چین کے علاوہ دیگر ممالک غور کر رہے ہیں کہ بھارت کو پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بننا چاہئے۔ چین نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا ہے اور بھارتی میڈیا نے حکومت پر اس مشورہ کو ماننے کے لئے غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس دوران پاکستان، چین اور روس کے وفود نے ماسکو میں ملاقات کی ہے جس میں افغانستان اور اس علاقے کی سلامتی کی صورت حال پر غور و خوض کیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر امریکہ کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی حالانکہ وہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ پندرہ برس افغانستان میں مصروف جنگ رہا ہے۔ اور اب بھی اس کے دس ہزار فوجی اس ملک میں موجود ہیں۔ یہ ساری سرگرمیاں مستقبل کے حوالے سے پاکستان کے لئے امکانات اور مشکلات کا سبب بن سکتی ہیں۔ عوام اور حکومت کو ان تفصیلات کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

وقت کی ستم ظریفی ہے کہ بیالیس سال قبل جو بین الملکی اتحاد بھارت کی طرف سے ایٹمی دھماکہ کرنے کے بعد قائم کیا گیا تھا تاکہ دنیا کو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے محفوظ رکھا جا سکے، اب اسی گروپ میں شامل طاقتور ملک بھارت کو ہی گروپ کا رکن بنوانے کے لئے دل و جان سے کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے مغربی حلیف بھارت کی روز افزوں معیشت اور آبادی کو سرمایہ کاری کے امکانات اور اپنی مصنوعات کی بڑی منڈی کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ اوربھارت کو اپنے قریب رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ بھارت ہر عالمی فورم پر پاکستان کو نیچا دکھانے کے لئے اپنی اس حیثیت کو استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔

بھارت کی معاشی حیثیت کے علاوہ چین کے مقابلے میں اسے عسکری طور پر تیار کرنے کے منصوبوں پر بھی کام ہو رہا ہے۔ اسی پالیسی کی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپنی دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک دوستی کو محدود کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہے اور اس کے تحت دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے فوجی اڈے استعمال کرنے کا حق حاصل کر لیا ہے۔ حالانکہ صاف بات ہے کہ بھارت اپنے حجم کے باوجود ابھی عالمی تسلط کا ایسا خواب نہیں دیکھ سکتا کہ اسے کبھی امریکہ کے فوجی اڈے اور عسکری سہولتیں استعمال کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔ اس کے برعکس امریکہ دنیا بھر میں اپنی استعماری پالیسیوں کی وجہ سے ہر خطے میں فوجی تنصیبات سے استفادہ کرنے کا خواہاں رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ جنگی معاہدہ کرنے کا مقصد بھی بحر جنوبی چین میں چین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے۔ امریکہ کے لئے چین کی تجارتی اور اسٹریٹجک توسیع پسندی کو روکنے کے لئے بھارت کے اڈوں اور تعاون سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ ان سہولتوں کو حاصل کرنے کے لئے ہی امریکہ ہر عالمی فورم پر بھارت کی حمایت کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔ اسی پالیسی کے تحت صدر باراک اوباما کی حکومت نے بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت دلوانے کی حتی الامکان کوشش کی تھی۔

بھارت کی طرف سے اس رکنیت کے لئے درخواست کے ساتھ ہی پاکستان نے بھی این ایس جی NSG کا رکن بننے کی درخواست دے دی تھی۔ پاکستان سے دوستی اور افغان جنگ کے حوالے سے وابستہ مفادات کے باوجود امریکہ نے پاکستان کی گروپ میں شمولیت کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ پاکستان نے جب اعلیٰ سفارتی سطح پر امریکہ سے رابطہ کیا تو اسے یہی جواب دیا گیا کہ اس گروپ میں رکنیت کے لئے سب رکن ملکوں کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر پاکستان اس میں کامیاب ہو جائے تو وہ بھی رکن بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ خود بھارتی درخواست کو سپانسر کر رہا ہے اور سب رکن ملکوں پر دباؤ بھی ڈال رہا ہے کہ وہ بھارت کو این ایس جی کا رکن بنانے کی حمایت کریں۔ البتہ چین نے چند رکن ملکوں کے ساتھ مل کر اس اصول کی بنیاد پر بھارت کی درخواست کو مسترد کرنے میں کردار ادا کیا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدہ NPT پر دستخط کرنے سے انکار کرنے والا کوئی ملک گروپ کا رکن نہیں بن سکتا۔ صدر اوباما کی کوشش اور خواہش کے باوجود وہ اپنے دور صدارت میں بھارت کو این ایس جی کا رکن بنوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ تاہم اب امریکی حکومت کے دباؤ پر اس گروپ کے ایک سابق چیئرمین رافائل گروسی کے ذریعے ایک نوٹ تیار کروایا گیا ہے۔ یہ تجویزموجودہ چیئرمین کی درخواست پر تیار ہوئی ہے، اس لئے اسے نیم سرکاری حیثیت حاصل ہے۔

گروسی تجویز کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات سیاسی نوعیت کے ہیں، اس لئے این پی ٹی NPT پر دستخط نہ کرنے والے ملکوں کو رکنیت کا حق دیتے وقت یہ ضمانت لی جائے کہ وہ رکن بننے کے بعد دوسرے ملک کی رکنیت میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ دنیا میں ایسے دو ہی ملک ہیں جو اس وقت ایٹمی طاقت بھی ہیں اور انہوں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدہ پر دستخط بھی نہیں کئے اور دونوں این ایس جی کا رکن بننا چاہتے ہیں۔ اب اس تجویز کے ذریعے چین اور بعض دیگر ملکوں کے اعتراض کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکہ اور اس کے حواری یہ کوشش کریں گے کہ اس تجویز کے تحت بھارت کو رکن بنا لیا جائے لیکن پاکستان کو اس گروپ سے باہر رکھا جائے۔ بعد میں بھارت کے علاوہ کوئی دوسرا ملک پاکستان کی شمولیت پر اعتراض کرکے اس کی رکنیت کا راستہ روک سکے گا۔ اس طریقہ کار کے خلاف پاکستان اب بھی یہ اعتراض اٹھا سکتا ہے کہ بھارت کو رکنیت سے پہلے ہی امریکی سرپرستی کی وجہ سے این ایس جی سے جوہری آلات و صلاحیت کی تجارت کرنے کے لئے استثنیٰ دیئے گئے تھے جبکہ پاکستان کو ایسی سہولت سے محروم رکھا گیا ہے۔ تاہم اب بھی بھارت کا راستہ روکنے کا سب سے موثر ذریعہ چین کی اصولی مخالفت ہوگا۔ امریکہ کی تمام تر کوششوں اور نریندر مودی حکومت کی شدید خواہش کے باوجود این ایس جی میں بھارت کی شمولیت پاکستان اور چین کو راضی کرنے کی صورت میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔

ایک طرف ایک اہم عالمی گروپ میں بھارت کی شمولیت کے لئے کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کی تجویز نے پاک چین اقتصادی راہداری میں بھارت کی شمولیت کے لئے دروازہ کھول دیا ہے۔ درحقیقت اگر اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد اس پر عملدرآمد کی نوبت آتی ہے تو جنوبی ایشیا میں تعاون اور مسائل حل کرنے کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ پاکستانی جنرل نے تو یہ تجویز بلوچستان میں ترقی کا راستہ روکنے کے لئے بھارتی حکومت کی تخریب کاری کی پالیسی کے تناظر میں دی تھی کہ بھارت کو پاکستان کے خلاف تخریبی سرگرمیاں ختم کرکے پاک چین راہداری منصوبہ میں شامل ہو جانا چاہئے تاکہ وہ بھی اس خطے میں ہونے والی ترقی کے ثمرات سے استفادہ کر سکے۔

چین کی حکومت نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سی پیک ون بیلٹ ۔ ون روڈ پالیسی کے تحت ایک کھلا منصوبہ ہے۔ کوئی بھی ملک پاکستان کی رضامندی سے اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ تجویز اب بھارت میں زیربحث ہے۔ اگرچہ حکومت نے اس پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن بھارتی میڈیا نے حکومت کو اس تجویز کو قبول کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ کیوں کہ اس طرح بھارت ایک ایسے منصوبہ کا حصہ بن سکے گا جس میں 64 ممالک شامل ہوں گے اور یہ گوادر سے کاشغر تک اور اس سے آگے وسطی ایشیا اور روس تک مواصلت کا روٹ مستحکم کرے گا۔ اس کے علاوہ نت نئے ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ ایران جو چابہار بندرگاہ کی ترقی اور پھر ایران کے راستے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کے لئے بھارت سے تعاون کا معاہدہ کرچکا ہے۔۔۔۔۔ اب گوادر بندرگاہ کے ساتھ اشتراک کے ذریعے سی پیک کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ سعودی عرب بھی ایسی ہی خواہش کا اظہار کر چکا ہے۔

بھارت اگر اس منصوبہ میں شامل ہوتا ہے تو اسے بھی نصف دنیا کی منڈیوں تک اپنی مصنوعات پہنچانے کے لئے براہ راست اور سستا روٹ دستیاب ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ علاقے میں قائم کئے جانے والے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بھی بن سکے گا۔ سی پیک کی بھارت تک توسیع کے نتیجے میں بھارت اپنے دو طاقتور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعاون اور دوستی کے نئے سفر کا آغاز کرسکتا ہے۔ چین دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت ہے جو معاشی لحاظ سے مستحکم اور عسکری لحاظ سے ترقی کے سفر پر گامزن ہے۔ بھارت اگر امریکہ کی طفیلی ریاست بن کر چین کا راستہ روکنے کی بجائے اپنے عوام کے وسیع تر مفاد کو پیش نظر رکھے تو چین کے ساتھ تعاون میں ہی اس کا فائدہ ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ساتھ بھی بھارت کے تنازعات آسانی سے حل ہو سکیں گے۔ کیوں کہ اس وقت سفارت اور سیاست میں سب سے اہم اقتصادی اور تجارتی مفادات ہی ہوتے ہیں۔ سی پیک میں شرکت سے بھارت کی تجارت میں اضافے اور منافع کی شرح کئی گنا ہو سکتی ہے۔ اس طرح وہ سرمایہ کاری کے لئے امریکہ یا مغربی سرمایہ کاروں کا محتاج نہیں رہے گا بلکہ اپنے وسائل سے ہی اپنے عوام کی بہبود کے منصوبے شروع  کر سکے گا۔ پاکستان سے جنگ کی حالت اور چین کے ساتھ مقابلہ بازی کی کیفیت ختم ہونے کے بعد بھارت کے جنگی مصارف میں قابل ذکر کمی واقع ہوگی جس کا فائدہ بلاشبہ اس کے عوام کو ہی ہوگا۔

پاکستان، چین اور روس کے درمیان علاقے کی سیکورٹی کے سلسلہ میں ہونے والے مذاکرات اور تعاون بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب خطے اور دنیا کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ امریکہ اگر پاکستان کونظرانداز کر رہا ہے تو روس سی پیک کے نتیجے میں پیدا ہونے والے امکانات کے سبب اب چین اور پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ روس مستقبل میں سی پیک میں کسی نہ کسی طرح شامل ہو جائے۔ بھارت اگر اس اہم علاقائی منصوبہ کے خلاف امریکہ کی حکمت عملی کا حصہ بننے کی بجائے اس میں شامل ہو کر علاقائی معاشی ترقی کا حصہ بنے تو افغانستان میں امن و امان کی صورت حال میں ڈرامائی تبدیلی کا امکان بھی ہے۔ امریکہ کو اس صورت میں افغانستان سے نکلنا پڑے گا اور مسلح گروہ معاشی امکانات کے سامنے ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہوں گے۔ امریکہ کی عدم دلچسپی اور بھارت کی سرپرستی ختم ہونے کے بعد افغانستان کے متعدد عسکری گروہ اپنی موت آپ مر سکتے ہیں اور مشرقی وسطیٰ کے ملکوں سے شدت پسندوں کی آمد اور مقامی انتہا پسند عناصر کو متاثر کرنے کا سلسلہ بھی بند ہو سکتا ہے۔

تاہم ان تمام امکانات سے اسی صورت میں استفادہ کیا جا سکتا ہے اگر بھارت سمیت خطے کے سارے ملکوں کی قیادت ہوش کے ناخن لے۔ قومی پالیسیاں مقابلے بازی اور جنگ جوئی کی بجائے تعاون اور دوستی پر استوار کی جائیں۔ ایسی صورت میں برصغیر اس صدی کے آخر تک ترقی کی نئی علامت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 649 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “کیا سی پیک منصوبہ پاک بھارت دشمنی ختم کر سکے گا؟

  • 30-12-2016 at 7:24 pm
    Permalink

    Agree with u sir…
    100% sahi kaha ap ny… Ab intzar india ke faisle ka hy…

Comments are closed.