تھر: بھوک، درد اور موت کا صحرا


\"\"

جس وقت ملک کے طول وعرض میں ’’مرد حر‘‘ کی آواز گونج رہی تھی اور قوم جمہوریت کے فوائدو ثمرات سے آگاہ ہو رہی تھی ٹھیک اسی وقت صحرا میں بچوں کی زندگی کے چراغ گل ہورہے تھے۔ صحرائے تھر کی تازہ صورتحال یہ ہے کہ کل مورخہ 28 دسمبر کو سول ہسپتال مٹھی میں سات معصوم جانیں زندگی کی بازی ہار کر لقمئہ اجل بن گئیں۔ عوام کے منتخب نمائندگان جمہوریت کا پرچم اٹھائے دبئی تابخاک گڑھی شاہو مفاہمت مفاہمت کھیلتے پھر رہے ہیں اور معصوم جانیں موت کے منہ میں جارہی ہیں۔

تھرپارکر کے صحرا میں برسوں سے جاری موت کا رقص تھمنے میں نہیں آرہا۔ گزشتہ روز تھر پارکر کے مختلف دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے سات مزید معصوم جانیں لقمئہ اجل بن گئیں۔ سال رواں میں فوت ہونے والے بچوں کی تعداد 600 ہوگئی۔ محکمۂ صحت کی جانب سے 473 بچوں کی موت کی باقاعدہ تصدیق کی گئی ہے۔ سال گزشتہ 398 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔ ہلاکتوں کا نہ تھمنے والا یہ سلسلہ جاری ہے اور حکام بالا کا راوی چین ہی چین کی بانسری بجا رہا ہے۔

تھر پارکر کے مختلف دیہاتوں میں بچوں کی اموات کا قابل افسوس سلسلہ ہنوز تھم نہ سکا۔ غذائی کمی اور مختلف بیماریوں کے باعث غریب مزدوروں کے بچے موت کا شکار ہورہے ہیں۔ گزشتہ دن سول اسپتال مٹھی میں سات بچے جاں بحق ہوگئے۔ سرکاری ہسپتال میں سہولیات کا فقدان ہے جس کے باعث بچوں کی مناسب نگہداشت نہیں ہوپارہی۔ تھر میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سینکڑوں دیہات آباد ہیں جنہیں تین بڑے شہر لگتے ہیں۔ تینوں شہروں میں ایک بھی ہسپتال ایسا نہیں ہے جہاں علاج معالجہ کی جدید سہولیات مہیا ہوں۔ ڈاکٹروں کی بھی شدید قلت ہے۔ گاؤں دیہاتوں سے دیہاتیوں کو شہر پہنچنے بھی کافی مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے بھی اموات کی تعداد زیادہ ہے۔

تھردرد اور پیاس کا صحرا ہے جہاں زندگی کی تمام صعوبتیں انسانوں کے درپے آزار ہیں۔ اموات کی اس شرح کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے لیکن ذمہ داران اس معاملہ کو سرے سے سنجیدہ لینے پر ہی تیار نہیں۔ اول تو اس طرف کوئی متوجہ ہی نہیں ہوتا۔ اگر میڈیا کے پریشر کی وجہ سے کوئی حل جل ہوبھی تو صرف اس قدر کہ کسی وزیر مشیر نے دورہ کرلیا اور امداد کا طبل بجا کر یہ جا وہ جا۔ مقامی ذمہ داران اس المیہ کو تسلیم کرنے پر تیار ہی نہیں۔

امسال بھی تھر میں بارشیں بہت کم ہوئی ہیں جس کی وجہ سے مطلوبہ مقدار میں خوارک کی فراہمی نہ ہو سکی۔ اوپر سے کسانوں پر مصیبت یہ ٹوٹی کہ فصل کی جو قیمت لگ رہی ہے اس میں اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔ صاف پانی کی تو پہلے ہی شدید کمی ہے۔ اگر حکومت صرف تھر میں صاف پانی کی فراہمی ہی یقینی بنا دے تو صحت کے مسائل کافی حد تک حل ہوسکتے ہیں لیکن تھر میں لگے RO پلانٹ بھی بند پڑے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت زار بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ایسے میں تھر میں صرف موت کا کنول کھلتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

راشد احمد

راشداحمد بیک وقت طالب علم بھی ہیں اور استاد بھی۔ تعلق صحرا کی دھرتی تھرپارکر سے ہے۔ اچھے لکھاریوں پر پہلے رشک کرتے ہیں پھر باقاعدہ ان سے حسد کرتے ہیں۔یہ سوچ کرحیران ہوتے رہتے ہیں کہ آخر لوگ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں۔

rashid-ahmad has 20 posts and counting.See all posts by rashid-ahmad