ملا عبدالسلام ضعیف: قندھار کا قیدی نمبر 306


\"\"

(پہلا حصہ: طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں)

طالبان کے سفیر ملا عبدالسلام کی کتاب ’مائی لائف ود دا طالبان‘ کے چند صفحات

میں ایک بڑے کمرے میں جاگا جس میں دو نقاب پوش پہرے دار ہاتھوں میں ڈنڈے تھامے موجود تھے۔ میرا سارا جسم درد کر رہا تھا۔ میں نے سر موڑا تو کونوں میں دو مزید پہریدار دکھائی دیے جو میری طرف پستول تانے کھڑے تھے۔ وہ مجھے پر چیخ رہے تھے \’اسامہ کہاں ہے؟ ملا عمر کہاں ہے؟ تم نے نیویارک اور واشنگٹن پر حملوں میں کیا کردار ادا کیا؟\’ میں اپنی زبان تک نہیں ہلا سکتا تھا۔ وہ سوج چکی تھی اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میرے تالو سے چپک گئی ہے۔ درد کی ایسی شدت تھی کہ میں مر جانا چاہتا تھا۔ خدا مجھے اس بے صبری پر معاف کرے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں جواب دینے کے قابل نہیں ہوں تو مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ کچھ دوسرے سپاہی آئے اور مجھے ایک پرانے سے کھڑکی دروازے کے بغیر کمرے میں کھینچ کر لے گئے۔

انہوں نے مجھے کچھ کپڑے دیے مگر وہاں اتنی سردی تھی کہ میں ایک بار پھر بے ہوش ہو گیا۔ مجھے ہوش آیا تو وہاں ایک خاتون پہریدار موجود تھی۔ وہ پہلی فوجی تھی جو مجھ سے ہمدردی سے پیش آئی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ میں کیسا ہوں اور کیا مجھے کوئی چیز چاہیے۔ میں بولنے کے قابل نہ تھا۔ میں وقت کا شمار کھو چکا تھا اور پہلے پہل میں یہی سمجھا کہ میں کیوبا میں ہوں۔ لیکن پھر میں نے دیواروں کو دیکھا تو ان پر طالبان کے نام اور تاریخیں لکھے دکھائی دیے اور مجھے پتہ چلا کہ میں افغانستان میں ہی ہوں۔

میں بمشکل حرکت کر سکتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ میرے کاندھے اور سر کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں اور ہر دھڑکن کے ساتھ درد کی ایک لہر اٹھتی تھی۔ میں نے خاموشی سے دعا کی کہ اللہ مجھ سے خوش ہو اور میرے دوسرے بھائیوں کو اس عذاب سے محفوظ رکھے جس سے میں گزر رہا تھا۔ اندھیرا ہونے پر میں نے خاتون سپاہی کو آواز دی اور پوچھا کہ کیا مجھے نماز ادا کرنے کی اجازت ہے؟ اس نے کہا ہے۔

\"\"

میرے ہاتھ ابھی تک بندھے ہوئے تھے اور میں نے بمشکل تیمم کیا۔ میں ابھی نماز ادا کر ہی رہا تھا کہ دو سپاہی کمرے میں داخل ہوئے۔ انہوں نے میری نماز مکمل ہونے کا انتظار کیا اور پھر پوچھا کہ کیا میں بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ کیا مجھے سردی لگ رہی ہے یا مجھے کسی اور چیز کی ضرورت ہے؟ میں نے بس یہی کہا کہ خدا کا شکر ہے۔ میں شکایت کرنے کی جرات نہ کر سکا۔ مجھے علم تھا کہ وہ میرے چہرے پر خون آلود خراشیں، سوجے ہوئے ہاتھ اور میرے کانپتے ہوئے جسم کو دیکھ سکتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے شیخ اسامہ اور ملا عمر کے بارے میں پوچھا مگر میرے پاس ان کو بتانے کے لئے کچھ نہ تھا۔ وہ میرے جواب سے خوش نہ ہوئے اور میں ان کی آنکھوں میں غصے کی جھلک دیکھ سکتا تھا۔ انہوں نے مجھے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی مگر میرا جواب وہی تھا۔

اسی بارے میں: ۔  عورت کے حقوق کی لڑائی سب کے لئے ہے

میں نے چھے دن سے کچھ نہ کھایا تھا کیونکہ مجھے علم نہیں تھا کہ مجھے دیا جانے والا کھانا حلال تھا یا نہیں۔ مجھے تقریباً ایک مہینے تک اس چھوٹے سے کمرے میں رکھا گیا اور کھانے کے نام پر میں نے صرف روٹی کا ایک ٹکڑا اور چائے لئے۔ سپاہی مجھے سونے نہیں دیتے تھے۔ بیس دن تک مجھے اس کمرے میں ہاتھ پاؤں باندھ کر رکھا گیا۔ مجھ سے ہر روز تفتیش کی جاتی۔

بیس جنوری 2002 کو چھے نئے قیدی میرے کمرے میں لائے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر عرب تھے۔ کچھ گھنٹے بعد ان کو لے جایا گیا۔ اگلے دن وہ واپس آئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ریڈ کراس کا نمائندہ کیمپ کو چیک کرنے اور قیدیوں کی ڈاک لینے آیا تھا۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ انہیں کیوں چھپایا جا رہا تھا۔ کھانا آیا تو مجھے پہلی مرتبہ پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہوا۔

اگلے دنوں میں ہمیں کئی مرتبہ ادھر ادھر لے جایا گیا۔ 9 فروری کو ہمیں بگرام سے قندھار لے جایا گیا۔ ایک مرتبہ پھر ہمیں باندھ کر مارا پیٹا اور کیچڑ میں گھسیٹا گیا۔ کئی قیدی اس دوران چیختے چلاتے رہے۔

میرے کپڑے پھاڑے گئے اور مجھے مارا پیٹا گیا اور شدید سردی میں کھلے میں کھڑا کیا گیا۔ پھر ایک تنبو میں تفتیش کے لئے لے جایا گیا جہاں مردانہ اور زنانہ فوجیوں نے میرا مضحکہ اڑایا۔ پھر میڈیکل چیک اپ کے بعد قیدیوں کے لئے مخصوص ایک بڑے ٹینٹ میں لے جایا گیا۔ ہر قیدی کو ایک بنیان، ٹوپی، جرابوں کا جوڑا اور کمبل دیا گیا۔ قیدیوں کو تفتیش کے لئے لایا لے جایا جاتا رہا۔ فوجی ان کی آنکھوں پر پٹی اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں باندھ کر ان کو لے جاتے اور راستے میں دیواروں سے ان کے سر ٹکراتے اور زمین پر گھسیٹتے۔

ریڈ کراس کا ایک وفد کیمپ میں آیا۔ انہوں نے ہمیں رجسٹر کیا اور ہر قیدی کو ایک شناختی کارڈ دیا۔ ہم ان کے بارے میں مشکوک تھے اور وہ ہمیں سی آئی اے کے ایجنٹ لگتے تھے۔ ریڈ کراس والے قیدیوں کا ان کے خاندانوں سے رابطہ کرانے کی کوشش کرتے، خطوط کا تبادلہ کرتے اور کچھ کتابیں دیتے۔ وہ ہمیں مہینے میں ایک مرتبہ نہانے کا موقعہ بھی فراہم کرتے۔ ہر ایک قیدی کو ایک بالٹی پانی دی جاتی اور تمام قیدیوں کے سامنے برہنہ ہو کر نہانے پر مجبور کیا جاتا۔ وضو کے لئے پانی نہ دیا جاتا۔ ہمیں کویت کا بوتل بند پانی پینے کے لئے دیا جاتا۔ کچھ قیدی چھپ کر اس سے ہاتھ منہ دھوتے مگر پہریداروں کو پتہ لگتا تو انہیں سزا دی جاتی۔

اسی بارے میں: ۔  ملا عبدالسلام ضعیف: قندھار کیمپ میں قرآن پاک کی بے حرمتی

مجھے 10 فرورسی سے یکم جولائی 2002 تک قندھار میں رکھا گیا۔ ہم سے متواتر تفتیش کی جاتی۔ امریکی ہتھکنڈے بدلتے رہتے، کبھی ہمیں دھمکیاں دی جاتیں تو کبھی اچھا سلوک کیا جاتا یا ہم سے سودا کرنے کی کوشش کی جاتی۔ مجھے سے میرے کام، حالات زندگی وغیرہ کے متعلق پوچھا جاتا مگر ہیر پھیر کر گفتگو کو شیخ اسامہ اور ملا عمر کی طرف لایا جاتا۔

ہر ٹینٹ میں بیس قیدی ہوا کرتے تھے۔ قندھار کا کیمپ بگرام سے بہتر تھا۔ ہمیں تین تین قیدیوں کے گروپ میں بیٹھنے اور آپس میں بات کرنے کی اجازت تھی۔ عمومی طور پر زیادہ سہولیات میسر تھیں۔ میرا خیال ہے کہ قندھار کے کیمپ میں چھے سو قیدی تھے۔ امریکی سپاہی رات کو ٹینٹ کی تلاشیاں لیتے تھے۔ کتے ہمارا سامان سونگھتے۔ ہمیں تازہ کھانا نہیں ملتا تھا اور ملٹری راشن ملتے تھے جن میں سے کئی دوسری جنگ عظیم کے دور کے تھے۔ بہت سے ایکسپائر ہو چکے تھے اور ہمیں کسی نے نہیں بتایا کہ ہم ان راشن کا گوشت کھا سکتے تھے یا نہیں، لیکن ہمارے پاس کوئی دوسری آپشن نہیں تھی۔ جون میں حالات بہتر ہوئے اور ہمیں وہ راشن دیے گئے جن پر حلال لکھا تھا۔ یہ ذائقے میں بہتر تھے اور ایکسپائر نہیں تھے۔ ہمیں افغانی روٹی اور مٹھائی کی عیاشی بھی نصیب ہوئی۔

سارا دن اور رات ہیلی کاپٹر اور جہاز اترتے اڑتے رہتے۔ رات کو پہرے دار گشت کرتے اور چیختے چلاتے ہوئے ہمیں جگاتے۔ دن میں تین مرتبہ قیدیوں کی گنتی کی جاتی۔ ہر قیدی کو ایک نمبر دیا گیا تھا۔ میرا نمبر 306 تھا۔ رہائی پانے تک مجھے قیدی نمبر 306 کہہ کر پکارا جاتا تھا۔


طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں 
گرفتاری کے وقت ملا عبدالسلام ضعیف سفیر نہیں تھے
جب ملا عبدالسلام ضعیف امریکیوں کو دیے گئے
ملا عبدالسلام ضعیف: امریکی بحری جہاز کا قیدی
ملا عبدالسلام ضعیف: قندھار کا قیدی نمبر 306
ملا عبدالسلام ضعیف: ریڈ کراس، مسیحا یا جاسوس؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 729 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar