کشمیر جہاد یا فساد – جماعتی بھائی پھر سوچ لیں


wisi 2 babaجب مولانا مودودی نے غیر ریاستی جہاد کو فساد قرار دیا تھا تو وہ سچے تھے کہ یہی انکی درست شرعی رائے تھی۔ کشمیر ڈے مناتے وقت ہمیں اپنی کشمیر میں اختیار کردہ عسکری پالیسی کے نتائج پر بھی غور کر لینا چاہئے ۔ کشمیر کو عسکریت زدہ ہوئے پچیس سال ہونے کو آئے لیکن اس کا ایک انچ آزاد نہیں ہوا، تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اب اس پالیسی پر غور کر لیا جائے۔

ہمیں کشمیر میں سرگرم جہادی راہنماؤں بارے یہ بتا کر جذباتی کیا جاتا ہے کہ کمانڈر صاحب اتنے شہدا کے روحانی والد بھی ہیں اور وارث بھی۔ نہ کوئی بتاتا ہے نہ سوچتا ہے کہ ہزاروں کشمیریوں کا جو گولی سے مرے انکا والی وارث کون ہے، انکے قتل کا الزام کس پر دھرا جائے۔

ہماری عسکری پالیسی صرف کشمیر میں ناکام نہیں ہوئی، یہ پاکستان میں بھی ہم پر فائر بیک ہوئی ہے۔ کشمیر کے لئے جنگ آزما ہونے والی عسکری تنظیموں سے ہی وہ لوگ نکلے جنہوں نے پھر پاکستان کے اندر کارروائیاں کیں ۔ پاکستان کی اہم ترین تنصیبات پر جو بڑے دہشت گرد حملے ہوئے ان میں سے کم از کم آدھے ان شدت پسندوں نے کیئے جو کبھی کشمیر میں سرگرم تھے۔ الیاس کشمیری تو کشمیر میں سرگرم ہوئے تھے وہ وہاں سے کیسے وزیرستان کے پہاڑوں تک پہنچے کبھی اس کا بھی جائزہ لیا جائے۔

نوے کی دہائی میں مقبوضہ کشمیر سے اپنے خوابوں کے دیس پاکستان آنے والے کشمیریوں سے کبھی ملیں۔ وہ آپ کو کیسی کیسی کہانیاں سنائیں گے کہ گھر سے نکلے تو امیدیں اتنی تھیں کہ سیب پکنے سے پہلے کشمیر آزاد کرا لیں گے۔ کسی کو گھر سے رخصت کرتے وقت گاؤں والوں نے کہا کہ جتنی بھی آزادیاں لینی ہیں یہ چاول کی فصل اٹھانے سے پہلے لے لینا۔ فصل پکنے کے دنوں میں ہم مصروف ہونگے۔

درجنوں موسم آئے گزر گئے، جب سیب درختوں سے اتارے گئے، چاولوں کی فصلیں سنبھالی گئیں۔ ہوا تو بس اتنا کہ وادی کے قبرستان آباد ہوتے گئے۔ کشمیری برباد تو تھے ہی انکی معیشت کا بھی بھٹا بیٹھ گیا۔ جو کبھی ہیرو تھے، میجر مست گل جیسے، آج انکا نام لیتے ہوئے جماعت اسلامی بھی شرماتی ہے ریاست کے ذمہ داران بھی منہ بسور لیتے ہیں۔

یہ وقت ہے کہ کشمیر کے دن ہی نہ منائیں اپنی پالیسیوں کا بھی جائزہ لیں، سود و زیاں کا بھی حساب کر لیں، یہ بھی دیکھ لیں کہ حاصل وصول کیا ہوا۔ ہمارا کیس مضبوط ہوا یا ہم نے جس طرح اپنا مقدمہ لڑا اس نے ہمیں ہی کمزور کر دیا۔

کشمیر کروڑ سے زیادہ انسانوں کا بھی مسئلہ ہے اس کو انسانی بنیادوں پر پر امن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے کہ ان لوگوں کو بھی کچھ ریلیف ملے جن کے خاندان ایک لکیر نے تقسیم کر رکھے ہیں۔

ایک کام جماعت اسلامی کو بھی کرنا ہے۔ اس کے امیر سراج الحق اپنی شوری کو لے کر بیٹھیں، کمرہ بند کریں ،اپنی تحریک کی بنیاد اٹھانے والے مولانا مودودی کے کے غیر ریاستی جہاد کو فساد کہنے پر غور کریں، اگر بات سمجھ آئے تو ان کے اس بیان پر معذرت کرتے رہنے کی بجائے اس کو اختیار کر لیں، پارٹی پالیسی بنا لیں۔ اپنی سیاست پر فوکس کریں آگے چلیں شائد اس درستگی کے بعد جماعت کی سیاست میں برکت آ جائے۔


Comments

FB Login Required - comments