مرد روٹی پکائے خود مختار عورت گھر چلائے


\"\"یہ بحث اس بات سے شروع ہوئی تھی کہ عورت اور مرد کی برابری ان کے الگ الگ کاموں میں ہے۔ یعنی مرد کی ذمہ داری باہر کے کام کرنا ہے اور عورت کی گھر کے اندر اور یہی چیز ان کی برابری کا ثبوت ہے کہ ان دونوں کے کام الگ الگ ہیں اور ان کا کوئی جوڑ نہیں۔ اب بھلا کون یہ سمجھائے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر مرد ہر ہر بات پر عورت کو یہ طعنہ کیوںکر دیتا ہے کہ جتنا میں کماتا ہوں تم دوسری عورتوں کی طرح اسی میں گزارا کرو اور جب عورت یہی بات کہنے کی ہمت کر لے کہ جو پکاتی ہوں صبر شکر سے کھاؤ تو اس پر زبان درازی اور شوہر کی \’نافرمانی\’ کرنے کا ٹھپہ لگ جاتا ہے۔

یعنی مرد پر تو یہ ذمہ داری لاگو نہیں ہوتی کہ عورت کی مرضی کا کمائے لیکن عورت پر یہ بندش ہے کہ وہ مرد کی مرضی کا پکائے۔ آخر مرد کے دل کا راستہ پیٹ سے جو ہے اور عورت کا وجود بحیثیت خود تو کچھ نہیں بلکہ مرد کے دم سے ہے۔ اس بات سے صاف ظاہر ہے کہ کام الگ ہونے کے باوجود بھی برابری دور دور تک نہیں سمجھی جاتی اور نہ ہی دی جاتی ہے۔

حکومت پاکستان عرصہ دراز سے عورتوں کو معاشی طور پر خودمختار کرنے کی بات کر رہی ہے لیکن کبھی مردوں کو گھریلو کاموں میں خودمختار کرنے کی بات نہیں کرتی۔ پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خودمختاری کا مطلب ہمارے جیسے پدرشاہی معاشرے میں بھی معاشی خودمختاری سے ہے۔ اس سوچ ہی کی کا منفی پہلو یہ ہے کہ اگر کچھ عورتیں معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑی ہو بھی جاتی ہیں تو گھریلو کاموں میں مردوں کی محتاجی کی وجہ سے دوہری ذمہ داری کے تلے دب جاتی ہیں۔

قانون سازوں کو بلکہ پورے معاشرے اور خود عورتوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی معاشی خودمختاری اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک مرد گھریلو کاموں میں ان کے محتاج ہیں۔ یعنی عورت کو پیسے خرچ کرنے کے معاملے میں اس وقت تک مرد کی دھتکار سننی پڑے گی جب تک وہ خود کمانے کے قابل نہ ہوجائے۔ اور کمانے کے قابل بننے کے لئے ضروری ہے کہ عورتیں مردوں کو باورچی خانے کا راستہ سجھائیں، دھوبی گھاٹ کی طرف رغبت دلائیں اور بچوں کو پالنے کی تربیت دیں۔

اس سب کی شروعات عورتیں ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، دوستوں اور بیویوں کے روپ میں کر سکتی ہیں۔ صرف تھوڑی ہمت اور حوصلہ اور مار کھانے کی سکت درکار ہے۔ بہت کو تو شاید گول روٹی نہ بنانے کے جرم میں قتل بھی سہنا پڑے۔ لیکن کچھ تو کامیاب بھی ہوں گی۔ اگر شوہر کی محتاجی ختم نہیں کر سکتیں تو بیٹے کی تربیت تو ضرور کر پائیں گی۔ اگر بیٹے کو نہ سکھا پائیں تو بیٹی کو تو ضرور یہ پڑھا پائیں گی کہ اپنے سب کام چھوڑ کر بھائی کو پانی پلانے کی بجائے اس کو فارغ وقت میں روٹیاں پکانا سکھاؤ۔

مرد کی جوتی تلے سے نکلنے کا بس اب یہی ایک راستہ ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ اگر برداشت، صبر اور آنسو اس سب کا علاج ہوتے تو عورت آج بھی معاشی خود مختاری کے لئے جنگ نہ لڑ رہی ہوتی بلکہ یا تو بغیر طعنے سہے بچے پال رہی ہوتی یا پھر مرد اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا، نہ کے چار قدم پیچھے کہ اپنے کھانے پینے کے لئے بھی کسی عورت کو آواز لگاتا ہے کہ \”اے بی، ذرا دو روٹیاں تو ڈال دو، آج تو دوستوں کے ساتھ باتیں کرتے تھک گیا ہوں\”۔


Comments

FB Login Required - comments