پی آئی اے۔۔۔ سرکاری ملکیت مسئلے کا حل نہیں


zeeshan hashim

حیران کن طور پر جو بات نجکاری کی حمایت میں خاکسار دہرا رہا ہے وہی بات نجکاری کے مخالفین بھی دہرا رہے ہیں۔۔۔ کیسے آئیے جائزہ لیتے ہیں۔

خاکسارنے اپنی تحریر بعنوان “پی آئی اے۔۔۔ معیشت پر سیاست نہ چمکائی جائے” میں لکھا: “ریاست کاروبار نہیں کر سکتی، اگر کرے گی تو کرپشن، نااہلی، سیاسی مداخلت، بد انتظامی اور اقربا پروری کا راستہ کھل جائے گا”۔ یہی بات آپ بھی کر رہے ہیں مگر مختلف اسلوب میں ۔

آپ کہہ رہے ہیں کہ پی آئی اے کی ناکامی کی وجہ کرپشن ہے۔۔۔ یہی بات خاکسار کہہ رہا ہے کہ جب کاروباری ادارے ریاستی تحویل میں ہوتے ہیں تو بیورو کریٹک انتظام میں کرپشن ہی کلچر بن جاتا ہے۔

آپ کہہ رہے ہیں کہ ناکامی کی وجہ نااہلی ہے، یہی بات خاکسار کہتا ہے کہ بیورو کریٹک انتظام میں قابلیت اور صلاحیت کی نہیں، اختیارات کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے- ایک بیورو کریٹک انتظام میں جو کہ ہر ریاستی ادارے میں پایا جاتا ہے تین خامیاں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں-

-اسٹیریو ٹائپ طرز عمل۔۔۔ جس میں جدت طرازی کے بجائے روایت پرستی پائی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں سائنس و ٹیکنالوجی میں جتنی بھی نئی ایجادات و دریافتیں ہیں یا جدت طرازی (innovation) و تخلیقی صلاحیت (پروڈکٹوٹی) کے نئے طریقہ کار ہیں، معدودے چند کو چھوڑ کر باقی سب پرائیویٹ سیکٹر نے دیئے ہیں-

-اختیارات کی لڑائی : ایک بیورو کریٹک ثقافت میں طاقت کی ہر وقت کی رسہ کشی پائی جاتی ہے، کم ذمہ داری مگر زیادہ اختیارات کی چاہت معمول ہوتا ہے-

-اور سب سے اہم چیز جسے ہم incentive (ترغیب) کہتے ہیں ،وہ ایک بیوروکریٹک ثقافت میں نہیں پایا جاتا یا بہت ہی کم پایا جاتا ہے- جس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو کچھ نیا، کچھ بہتر اور سب سے اہم یہ کہ سب سے پہلے کرنے کی تحریک نہیں پائی جاتی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں بہتر کارکردگی کی دوڑ لگی ہوتی ہے جس میں ہر کمپنی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ صارف تک جلدی، کچھ نیا اور بہتر لے کر جائے تاکہ صارف نہ صرف اسے پہلے خریدے بلکہ اس کا مستقل خریدار بن کر رہے۔ پرائیویٹ کمپنیاں یہ سب نفع کے لئے کرتی ہیں، یہ نفع ہی انہیں تحریک دیتا ہے۔ اسی محرک کی بدولت نجی کاروباری ادارے اپنے ورکرز میں تحریک زندہ رکھتے ہیں۔ سرکاری کاروباری ادارہ میں نفع کی خواہش کم ہی پائی جاتی ہے، نہ اس میں بہتر کارکردگی کی کوئی غالب تحریک ہوتی ہے اور نہ وہ اپنے ورکرز میں ایسی تحریک کی ثقافت قائم کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر ان کا کاروباری ادارہ نفع میں ہوا یا نقصان میں، ان کا روزگار اور تنخواہ قائم ہے۔ جب کہ ایک نجی کاروباری ادارے کے مالکان اور ملازمین سب جانتے ہیں کہ اگر ادارہ نقصان میں چلا گیا تو ان کا کاروبار و روزگار بھی ختم ہو جائے گا-

یہ وہ سبب ہے جس کی بدولت ہم دیکھتے ہیں کہ نجی کاروباری اداروں کو اپنی کاروباری سرگرمیوں میں عموما نفع ہوتا ہے کیونکہ یہی نفع کی تحریک ان کی کامیابی کی وجہ ہوتی ہے- اگر نجی ادارے ناکام ہو جاتے ہیں تو نتیجتاً بالکل ہی ختم ہو جاتے ہیں، یوں نفع ہی ان کے جسم میں گردش کرتے خون کا کام کرتا ہے۔

اگر کوئی سرکاری کاروباری اداروں اور نجی کاروباری اداروں کی کارکردگی کا یہ فرق مزید جاننا چاہتا ہے تو سوویت یونین سمیت درجنوں ناکام کمیونسٹ ممالک کے کاروباری اداروں کا مطالعہ کرے۔ اس کے بالمقابل مغربی دنیا میں نجی ملکیت کی بنیاد پر قائم کاروباری اداروں کی کارکردگی کا بھی موازنہ کیا جائے اور اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی سوشل ویلفئیر کا بھی تقابلی جائزہ لیا جائے، جو ان دونوں بلاک کے باہم مختلف کاروباری ڈھانچوں نے جنم دی۔ تاریخ کے اوراق آپ کی رہنمائی کے لئے آپ کی راہ دیکھ رہے ہیں- ذرا جاننے کی کوشش تو کریں کہ سوویت یونین، جس میں تمام کاروباری ادارے ریاست کی تحویل میں تھے، اپنا بوجھ کیوں نہ اٹھا سکی اور زمین میں ہی دفن ہو گئی۔ مغرب سرد جنگ سے پہلے بھی فاتح تھا اب بھی ہے اور مستقبل میں بھی اسی کا دیا معاشی نظام فاتح نظر آ رہا ہے۔ دور کیوں جاتے ہیں ہمارے پڑوسی بھارت و چین نے بھی معاشی ترقی کا سفر نجکاری سے کیا ہے- گورنمنٹ ترقی یافتہ ممالک میں کاروبار نہیں کرتی بلکہ کاروباری عمل کو سہولیات بہم پہنچاتی ہے اور انتظامی مسائل کو حل کرتی ہے۔

اگلی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پی آئی اے اس سبب ناکام ہے کہ اس میں سرکاری مداخلت بہت زیادہ ہے۔ یہ تو بھئی لطیفہ نہ ہوا ؟ سرکاری ادارے میں سرکاری مداخلت نہ ہو گی تو پھر کس کی مداخلت ہو گی؟ انیس سو اسی سے ادارہ نقصان میں ہے۔ جب مرد حق کی حکومت تھی تو اس کی مداخلت تھی۔ جب میاں صاحب اور بی بی کو اقتدار ملا انہوں نے اس میں سیاسی مداخلت کی۔ جنرل مشرف صاحب کی فوجی حکومت میں بھی مداخلت جاری و ساری رہی۔ زرداری حکومت سے موجودہ حکومت تک بھی کہانی ایک ہی ہے۔ کیا کبھی کسی نجی ادارے نے اپنے نقصان کا ذمہ دار ریاست کو قرار دیا کہ وہ اس لئے ناکام ہے کہ اس میں سرکاری مداخلت کی گئی ہے ؟

سرکاری کاروباری ادارہ میں بدانتظامی بھی ہو گی اور اقرباء پروری بھی ہو گی۔ کیونکہ بد انتظامی کی صورت میں ادارہ نقصان میں جا سکتا ہے، سرکاری ملازم کی نوکری تو محفوظ رہتی ہی ہے وگرنہ وہ عدالت سے سٹے آرڈر لے سکتا ہے یا لیبر یونین اس ایک بندے کے لئے پورا ادارہ بند کر سکتی ہیں۔ دیکھئے حسن انتظام محض اس چیز کا نام نہیں کہ جو ہدایات دی گئی ہیں محض ان پر عمل ہو۔ کاروباری سرگرمیوں میں ناگہانی صورتحال آتی رہتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ جیسے ہی ایسا کوئی واقعہ ہو اسے فورا رسپانس کیا جائے۔ یہ روایات سرکاری ادارے میں نہیں پائی جاتیں۔ اگر کچھ غیر متوقع ہوا تو ایک جونیئر ورکر اپنے سینئر کو رپورٹ کرتا ہے، سینئر اپنے سینئر کو، اور یہ سلسلہ اعلیٰ افسران تک جا پہنچتا ہے وہاں سے احکامات اترتے اترتے جب وہ اسی جونیئر افسر تک پہنچتے ہیں تو اس دوران میں بد انتظامی برپا ہو چکی ہوتی ہے جبکہ صرف “ریکوری” باقی رہ جاتی ہے۔

ایک اور اعتراض یہ بھی ہے کہ نجکاری پر اعتماد ہے مگر اس کی شفافیت پر نہیں : جب حکومت ایک کاروباری ادارے کو شفافیت سے نہیں چلا سکی تو اس کی نجکاری کے لئے شفافیت کی ایسی شرط رکھنا کہ ” اگر شفافیت سے نجکاری نہیں کر سکتے تو نہ کریں اسے حکومتی تحویل میں ہی رہنے دیں”۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی ڈاکٹر سے یہ مطالبہ کرے کہ اگر میری زخمی ٹانگ کا شرطیہ صحیح علاج نہیں کر سکتے تو نہ کرو اور زہر کو پورے وجود میں سرایت کر جانے دو۔ نجکاری ضروری ہے اور اس عمل میں شفافیت بھی ضروری ہے۔ دونوں چیزوں کے لئے سول سوسائٹی اور انتظامی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، یہی امید اور آرزو کی جانی چاہئے، اور اسی پر ساری قوت صرف کی جانی چاہئے۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan