کراچی کی تین دنیائیں


usman ghazi کراچی میں تبلیغی اجتماع اور لٹریچر فیسٹول کا 5فروری کو آغاز ہوا اور آج ان دونوں کا ساتھ اختتام ہوگا کراچی تبلیغی اجتماع میں مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ لہوولعب کس طرح معاشروں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے کراچی لٹریچر فیسٹول میں بندیا رانا نے بتایا کہ جب غریب کا بچہ ناچے تو فحاشی اور امیر کا بچہ ناچے تو یہ آرٹ کہلاتا ہے، یہ نہیں ہونا چاہیے، غریب بھی ناچے تو یہ ایک آرٹ ہے

کراچی تبلیغی اجتماع میں عارضی بیت الخلا کو ڈھانپنے کے لیے بندھی پلاسٹک کی شیٹ اڑ کر بہت سے پردہ نشینوں کی پردہ دری کرتی رہی کراچی لٹریچر فیسٹول میں منٹو پر بنائی گئی فلم تیکنکی وجوہات کی وجہ سے مکمل طورپر نہیں دکھائی جاسکی کراچی تبلیغی اجتماع میں پہنچنے کے لیے شرکا کو حسب روایت ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا، سامان سے لدی اور انسانوں سے بھری گاڑیاں گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسی رہیں کراچی لٹریچر فیسٹول میں پہنچنے کے لیے انوپم کھیرکا ویزا مسترد کردیا گیا،اشوک چوپڑا نے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

کراچی تبلیغی اجتماع سے منسلک بازار میں رش لگا رہا، خریدار اکابرین کے بیانات کو چھوڑ کر بازار میں خریداری میں مصروف رہے، بازاروں میں نظم کے ذمہ دار ان بازار میں آنے والوں کو واپس اجتماع گاہ جانے کی تلقین کرتے رہے کراچی لٹریچر فیسٹول میں موجود فوڈ کورٹ میں بھی رش لگارہا، پکوڑوں کی مصالحے دار خوش بو سب کو گرویدہ کر گئی، پپو کی چاٹ کو بہت سے لوگوں نے انورمسعود کی محفل پر ببانگ دہل فوقیت دی کراچی تبلیغی اجتماع والے کہتے ہیں کراچی لٹریچر فیسٹول میں شریک لوگ معاشرے کے لیے غیرموزوں ہیں، متنازع موضوعات پر بات کرتے ہوئے رقص وسرور کی محفلوں پر واہ واہ کرنا کہاں کی اخلاقیات ہے، بھلا بندیا رانا کو دیکھ کر کوئی عزت سے کھڑا ہوتا ہے!!چھ نمبر پر بات کرتے ہوئے عورت اور بندیارانا کو دیکھتے ہی لاحول پڑھنے والے ہی بااخلاق ہیں

کراچی لٹریچر فیسٹول والے جو کہتے ہیں، اگر وہ لکھ دیا تو نری گستاخی ہوجائے گی، ایسے موقع پر مدد کے لیے میں پپودانش ور کو فون ملاتا ہوں، ابھی بھی یہی ہوا میں نےفون کرکے پپو دانش ور سے پوچھا کہ بھائی، تم کراچی تبلیغی اجتماع میں ہو یا کراچی لٹریچر فیسٹول میں۔۔ کہنے لگا بھائی تو کس دنیا میں رہتا ہے، آج پاکستان سپر لیگ کے میچز کے علاوہ بھی اگر کچھ ہوا تو اپن کو تو نئیں پتہ اور اس وقت سے اب تک میں تین دنیاؤں کے باہرکھڑا ہوں اور پریشان ہوں کہ کہاں قدم رکھوں!


Comments

FB Login Required - comments