شہرجاں کا دکھ، رفتگاں کی یاد اور انتظار حسین


raja qaiser’قسم ہے تجھے رات کی جب وہ بھیگ جائے۔ قسم ہے تجھے رات کے اندھیرے کی جب وہ بدن میں اترنے لگے۔ قسم ہے تجھے اندھیرے اور نیند کی۔ اور پلکوں کی جب وہ نیند سے بوجھل ہو جائیں۔ تو مجھے آن مل کہ تیرے لئے میراجی چاہتا ہے ‘۔

اِنسبرک کی ایک یخ بستہ شام ہے اور بے آواز برف میرے کمرے کے باہرشیشوں پر گر رہی ہے۔ میں بارہا باہر جانے کا اردہ کر کے ترک کر چکا ہوں۔ اَن کہی باتوں کی تھکن ہے جس نے روح کو بوڑھا کر دیا ہے۔ دھند بارش اور برف سے پرانا رومانس ہے۔ ویسے بھی سردی کا اداسی سے بڑا گہرا تعلق ہے چاہے وہ موسم کی ہو یا لہجے کی۔ طبیعت میں عجب سی بیزاری ہے۔ منیر نیازی نے بھی کیا خوب کہا تھا
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا
خدا جانے ہم اپنے حصے میں کتنی ا±داسی، کتنا سفر اور کتنا انتظار لکھوا کے لائے ہیں۔ پڑاﺅ در پڑاﺅ۔ انتظار در انتظار!
آہ! انتظار حسین بھی چلے گئے۔ ’ہندوستان سے آخری خط‘، ’بستی ‘، ’آگے سمندر ہے ‘، ’شہر افسوس ‘، ’جنم کہانیاں ‘ اور ’وہ جو کھو گئے ‘ کے مصنف…. میں نے سب سے پہلے کلاس نہم میں ان کا افسانہ ’مکھی ‘ پڑھا تھا۔ مجھے انتظار حسین کی دیومالائی جنم کہانیوں کے وجودیاتی تصورات نے کبھی متاثر نہیں کیا اِس کی وجہ میری کم علمی اور کوتاہ قامتی ہے وگر نہ میں ظفر اقبال سے بالکل متفق نہیں ہوں کہ انتظار حسین کی تحریروں سے دیومالائی قصے نکال دیں تو پیچھے کچھ نہیں بچتا۔
دشت تنہائی ہجراں میں کھڑا سوچتا ہوں
ہائے کیا لوگ میرا ساتھ نبھانے نکلے
تہذیب گم گشتہ کا آخری داستان گو، دیو مالائی اورجنم کہانیوں کی تخلیقی جہتیں، لفظوں کی پیغمبری اور گوتم کا دوسرا نروان۔ میں کل شام دریائے اِن کے کنارے بہت دور تک چلتا گیا۔ ابھی تک پاﺅں کا درد اِس اندھی مسافت کی یاد کے طور پر زندہ ہے۔ یقین مانیئے میں یورپ سے بالکل بھی متاثر نہیں ہوا۔ نہ یہاں کے سیاسی اور نہ ہی معاشی نظام سے۔اِس کی وجہ کسی قسم کی کوئی تہذیبی نرگسیت نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کا احساسِ ملامت۔ مجھے “wet blanket”, “Kill joy” یا “malcontented” بھی نہ سمجھا جائے۔ میری حیرانی صرف اس بات کی ہے کہ تاریخی تفاصیل میں لپٹے میکسی میلین کے 1492 میں بسائے اس شہر کی بنیادی ہئیت چھ سو سال بعد بھی ویسی ہی ہے۔ میں 2007میں پہلی دفعہ لاہور گیا تھا۔ 2014میں گیا تو پہچان ہی نہیں سکا۔ ہم بھی کیا تاریخ کے اسیر واقع ہوئے ہیں۔ تاریخ کے چور یا کہہ لیجئے تاریخ کے حرام خور۔ پسِ منظر میں عابدہ پروین گنگنا رہی ہے
غم زندگی سے گزر گئے غم بیش و کم سے گزر گئے
وہ جو آشنا تیرے غم سے تھے وہ ہر ایک غم سے گزر گئے
ارادہ ہے کہ یورپی وفاقی نظام پر پوری تفصیل سے انگریزی تحقیقی مقالہ لکھوں گا۔ جمہوری روایات، مالیاتی وفاقیت اور مقامی حکومتوں کی ساخت اور طریقہ کار کا تفاعلی اور تاملی جائزہ لوں گا۔ میرے لئے اردو کالم نگاری حادثاتی اور سانحاتی ہو گئی ہے۔ اِس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جذباتیت اور شدت کا جو اظہار اردو کے پاس ہے کسی دوسری زبان کو حاصل نہیں شاید ہسپانوی کو بھی ورنہ گارشیا مارکیز El amor en los tiempos del cólera اور “Cien años de soledad” جیسے شاہکار تخلیق نہ کرتے۔

یہ عجیب راہ کے پیچ و خم بڑی الجھنیں تھیں قدم قدم
تیری زلف کے جو اسیر تھے غم پیچ و خم گزر گئے

آپ اِتنا اداس آغاز کیوں کرتے ہیں اپنی تحریر کا؟ کیا یہ بار بار کی تکرار نہیں ہے؟رانیہ شاہ کا استفسار بالکل بجا ہے۔ انگریزی میں اسے “set induction” کہتے ہیں۔ میں نہیں جانتا میں ایسا کیوں کرتا ہوں اور یہ شعوری کوشش بھی نہیں ہے مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ زندگی ایک اداس تجربہ ہے اور ہم سب مر جائیں گے۔ دوام تو کسی کو بھی نہیں۔ جون ایلیا پہ بھی شاید یہ حقیقت آشکار ہوگئی تھی تبھی تو بولے تھے

کتنی دل کش ہو تم کتنا دل جو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم مر جائیں گے

انتظار کی شہرت کی ایک وجہ ان کی “Booker Prize” کے لیئے نامزدگی بھی تھی۔ کیا احساسِ کمتری کے مارے ہوئے لوگ ہیں ہم۔ ہمارے لئے فن کی معراج اور سند بین الاقوامی شناخت ہے۔ فیض صاحب کو لینن پرائز نہ ملتا اور نصرت اگر پیٹر گبرئیل سے نہ ملتے تو کون پوچھتا۔ فن خدا کی طرف سے ودیعت ہے اور شہرت انسان کی دی ہوئی۔ انتظار نے جیسے مختلف النوع تہذیبوں، تاریخ کے نقوشوں اور دیومالائی داستانوں کے کرداروں کو قلم بند کیا ہے میرے جیسے ایک متجسس قاری کو متحیر کر دینے کے لئے کافی ہے۔ عابدہ پروین کی آواز کا سوز بڑھتا جا رہا ہے

وہ بڑے کٹھن تھے وہ راستے بڑی پر خطر تھیں وہ منزلیں
تیرا ساتھ جن کو نصیب تھا وہی دشت غم سے گزر گئے

کیا اب اردوادب کا دامن خالی ہو چکا ہے؟ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے کہا تھا کہ ہم اردو ادب میں صرف تین حسین کو مانتے ہیں۔ عبداللہ حسین، انتظار حسین اور مستنصر حسین۔ عبداللہ اور انتظار تو چلے گئے۔ مستنصر بھی چلے جائیں گے۔ ہم اپنی نسل میں نہیں پہچانے جاتے آنے والی نسل پچھلے نسل سے ہیرو تراشتی ہے۔ یہ شخصیت پرستی ہم میں کہاں سے آئی؟ کیا اس کی وجہ مذہب ہے یا ثقافت؟ یہ بات سوچنے کی ہے۔ ہم مر کیوں جاتے ہیں؟ کیا کسی کے پاس اِس سوال کا جواب ہے؟ غالب بھی خاکِ لئیم سے یہی پوچھنے کی سعی کرتے رہے کہ اس نے گنج ہائے گراں مایہ کا کیا کیا؟ منیر نیازی نے بھی درد کی عجب سی رو میں کہا تھا

وہ جو اس جہاں سے گزر گئے کسی اور شہر میں زندہ ہیں
کوئی ایسا شہر ضرور ہے انہی دوستوں سے بھرا ہوا

Jeff Masonکے بقول موت کا کوئی نفسی اور موضوعاتی مطلب نہیں۔ موت بس موت ہے۔ مستنصر بھی موت، پانی اور پرندوں میں الجھے ہیں۔ نعیم بخاری کا فلسفہ موت بھی مختلف ہے۔ روبی ملر کا ناول “Parley after Life” پڑھے جانے کے لائق ہے۔ میرے پروفیسر ڈاکٹر مجیب افضل کے بقول زندگی ایک “legal bond duty” ہے اور موت اس ذمہ داری سے خلاصی۔
انتظار حسین اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔ اب میری آپ کی باری ہے۔
شام ڈھل رہی ہو، تو ماحول میں سوز اور اداسی پیدا ہوجاتی ہے اور اگر اس منظرنامے میں کوئی پرانی ، شکستہ اور تاریخی عمارت بھی موجود ہو، تو پھر یہ اداسی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ میں جب لال قلعے کو دیکھتا ہوں، تو مجھ پر وہی سوز وارد ہوتا ہے، جیسے چاند کو گہن لگ جائے۔ یہ کیفیت بے آواز مگر بے قرار کر دینے والی ہوتی ہے۔

عابدہ پروین آخری شعر گا رہی ہے

نہ وہ شہر جاں کی ہما ہمی نہ وہ کوئے دل کی روا روی
یہاں لاکھ ہم سے نہیں رہے یہاں لاکھ ہم سے گزر گئے

(راجہ قیصر احمد قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں پڑھاتے ہیں اور تاریخ، مذہب اور ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ )


Comments

FB Login Required - comments