کرینہ، سیف علی، تیمور اور آہن پوش آنکھیں


\"\"نام میں کیا رکھا ہے؟ شیکسپیئر نے یہ بات گلاب کی مہک کے بارے میں کہی تھی مگر یہ بات اس نومولود بچے کو کون سمجھائے گا جس نے ہندوستان کے نامور فلمی جوڑے کرینہ کپور اور سیف علی خان کے گھر میں جنم لیا ہے اور ابھی اس دنیا پر نظر بھی نہیں ڈالی ہے کہ تنازعات اور تاریخی ورثے کا بوجھ اس ننھی سی جان پر مسلّط کر دیا گیا ہے۔

اس نام پر شدید اعتراضات کی بوچھار ہندوستان کی بہت سی انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے ہوئی ہے جن کو یہ نام ایک غیرملکی حملہ آور، خونی اور جابر بادشاہ کی یاد دلاتا ہے۔ دوسری طرف ہمارے یہاں سے بھی لوگ غیرضروری طور پر بول پڑے ہیں، جیسے طارق فتح صاحب۔ جو اپنے نام کے ساتھ وابستہ دل چسپ حوالے بھول گئے۔ حوالے بھول گئے، نام بھی بھول سکتے تھے۔

تنازعات اور میڈیا کی نظر میں ہمہ وقت رہنا شایداس چھوٹے سے بچّے کا مقدر بن کر  تا عمر اس کا پیچھا کرتا رہے۔ یہ تنازعات اس کے لیے میراث کی طرح ہوں گے۔ ماں کی طرف سے راج کپور کے خاندان کا ورثہ جو فلمی دنیا کی چکا چوند میں زندگی گزارتا رہا ہے۔ ان کو انگریزی محاورے میں ’’میڈیا مُغل‘‘ (Media Mogul) بھی کہا جاسکتا ہے، جس میں مغل کا لفظ نہ خاندانی ہے اورنہ نسب سے کوئی تعلق بلکہ شہرت اور دولت و اقتدار کا حوالہ جو ہندوستان کے ’’مغل اعظم‘‘ سے رعب کھا کر انگریزی لُغت کا جزو بن گیا۔ اس کے ورثے میں باپ کی طرف سے بھی فلمی زندگی شامل ہے لیکن خود سیف علی خان کے اپنے حوالے اہم ہیں کہ ان کی ماں شرمیلا ٹیگور کا سلسلہ رابندر ناتھ ٹیگور سے جُڑتا ہے اور وہ ماضی قریب میں فلم بینوں کے ہوش حواس پر چھائی رہی ہیں۔ اور ان کے والد منصور علی خان پٹودی، ہندوستانی کرکٹ کے ستارے۔ ان کا خاندانی حوالہ اردو ادب کے شائقین کے لیے ایک چھوٹی سی کتاب کی وجہ سے دل چسپی کا باعث ہے۔ شہر بانو بیگم کی ’’بیتی کہانی‘‘ اردو میں غالباً کسی خاتون کی سب سے پرانی خودنوشت ہے۔ شہر بانو بیگم کا تعلق اسی خاندان سے تھا۔ لیکن کیا اس خاندان کی نئی بہو اس عمدہ کتاب سے واقف ہے؟

اس بچے کے نام پر بحث کا سلسلہ چلا تو کچھ دوستوں نے کہا کہ نام کو تاریخی حوالوں کے بجائے اس کی معنویت کے لحاظ سے دیکھیے۔ \"\"
دُرست کہا، لیکن کیا تاریخی حوالوں کو علیحدہ کرکے دیکھنا ہمارے لیے ممکن ہے۔ ہم لوگ تو یوں بھی تاریخ زدہ ہیں۔

مجھے یاد آیا دانیال جب چھوٹا سا تھا، اسے اسکول کے ایک ساتھی چنگیز کا نام بہت پسند آیا تھا۔ وہ دن میں کئی بار اس نام کو دہرایا کرتا اور ایک دن پوچھ بیٹھا، آپ لوگوں نے میرا اتنا اچھا نام کیوں نہیں رکھا؟

سب ہنس پڑے۔ کسی نے کہا، جب تمہارا بیٹا ہوگا تو تم اس کا یہ نام رکھ دینا۔ اس پر مزید ہنسی آئی۔

تیمور اور چنگیز نام ہوسکتے ہیں تو اور نام کیوں نہیں ہوسکتے؟ ابھی میرے ایک رشتہ دار نے اپنے نومولود بچّے کا نام داراشکوہ تجویز کیا۔ کئی لوگوں نے اس پر بھی اعتراض داغ دیے۔ زیادہ حیرت مجھے اس اعتراض پر ہوئی کہ نام مشکل ہے۔ مشکل، یہ بھی خوب رہی۔ کوئی صاحب بہت دور کی کوڑی لائے کہ اس شہزادے کو قتل کر دیا گیا تھا۔

مگر یہ قتل تو اس کے بھائی اورنگ زیب نے کیا تھا۔ لوگوں نے اپنے بچّوں کا نام اورنگ زیب رکھنا تو نہیں چھوڑ دیا، میرا جی چاہا کہ جواب میں کہہ دوں۔ مگر میں نے اپنے آپ کو اس بارے میں جذباتی تقریر کرنے سے روک لیا۔ داراشکوہ یوں بھی میرے لیے ایک ثقافتی icon کی سی حیثیت رکھتا ہے، کلاسیکی المیے کا ہیرو۔ شکست اس کا مقدر ہے لیکن وہ سرنگوں نہیں، سرفراز ہے۔

داراشکوہ -۔۔ یہ نام جن لوگوں کو مشکل معلوم ہورہا ہے وہ ایسے نام رکھنا چاہتے ہیں جو صحیح عربی تلفّظ کے ساتھ ہم ادا نہیں کرسکتے ۔۔۔ آج کل کتنے بچوں کے نام راعیان اور اعیان رکھے گئے ہیں۔ ذرا دُرست تلفّظ کے ساتھ پکار کر تو دیکھیے۔

تیمور، تیمور۔۔۔ اگر سیف علی خان نے کچھ اور نام رکھ لیا ہوتا تو وہ کیا ہوتا، کیسا ہوتا؟ اس سے ہماری صحت پر کیا اثر پڑتا؟

اپنے نام سے ملتا جلتا کوئی نام رکھ لے؟ یہی کیف۔ یا پھر حیف۔\"\"

اس آخری نام کے اختیار کرنے کے بعد وہ اس شعر کو مقطع کہہ کر پڑھ سکتا ہے:

حیف اس چارگرہ کپڑے کی قسمت غالب

جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

مگر سیف نے حیف نہ رکھا، تیمور رکھ لیا۔ اس پر جو شعر یاد آتا ہے وہ زیادہ سخت ہے: اور غالب کا نہیں، اقبال کا ہے۔

مگر یہ راز آخر کُھل گیا سارے زمانے پر

حمیّت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے

تیمور اور آلِ تیمور، تو کیا آج کے ہندوستان میں آلِ تیمور کے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے نظر بچا کر صرف تیمور کے جنگ وجدل اور قتال پر نظر رکھی جائے گی۔ امیر تیمور کا نام بچوں کو ڈرانے کے کام آئے گا؟ پھر ایک آواززور سے گونجی __ ’’ہم امیر تیمور گورگان جو ربع مسکون کو تسخیر کرتے رہیں گے، ہمیں اپنی عظمت کی قسم ہے۔۔۔‘‘

مجھے یاد آیا کہ یہ عزیز احمد کا فقرہ ہے۔ انھوں نے امیر تیمور کو مرکزی کردار بنا کر دو یادگار طویل افسانے لکھے، ’’فرنگِ جستہ‘‘ اور \"\"
’’جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں۔‘‘ تاریخی مواد پر مبنی اور بڑے واقعات کی تہہ میں موجود بنیادی انسانی جذبات کی کارفرمائی سے مملو، یہ افسانے جدید اردو ادب میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ’’خدنگِ جستہ‘ میں فتح مند تیمور کے گھٹنے کی ہڈی میں ایک معمولی سا تیر لگ جاتا ہے جو عمر بھر کے لیے اس کو لنگڑا کر جاتا ہے۔ اب وہ ’’تیمور لنگ‘‘ ہے جو اپنے زخم سے شکست ماننے کے بجائے، سخت مزاجی اور تلخ مزاجی کے ساتھ دہشت کی علامت بنا کر دور دور کی آبادیوں کو تاراج کرنے لگتا ہے۔ ’’جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں‘‘ کے دوران افسانہ نگار نے اسے مزید باریکی کے ساتھ بیان کیا ہے، اور ہم اسے رنگ بدلتے دیکھ سکتے ہیں۔ اسی افسانے میں وہ نازک مقام آتا ہے جب تیمور کے آگے شطرنج کی بساط بچھ جاتی ہے۔

’’اس کا دل بے اختیار شطرنج کھیلنے کو چاہنے لگا، مگر اس نے شطرنج نہیں منگائی اور پھر غافل ہوگیا۔ اب خیمے کی چھت پر، دیواروں پر، قالینوں پر، بستر پر، ہر طرف شطرنج کے مہرے ہی مہرے تھے، صنوبر کی لکڑی کے تختے، اور چینی فرزیں، سمر قندی رُخ، تاتاری پیادے، عربی اسپ، ہر طرف سے شہہ پر شہہ پڑ رہی تھی اور اس کی پیشانی کی رگیں اس طرح پھڑک رہی تھیں کہ گویا کوئی دم میں پھٹنے والی ہیں۔ اور جب اُس نے نیم غشی کے عالم میں دیکھا کہ … ساری دنیا بساط ہی بساط ہے تو اس کے تھکے ہوئے دماغ نے فتح کا نشہ محسوس کیا، اپنے آپ پر، بیماری پر، اپنے دشمنوں پر، دنیا پر، یہ کہ کاسۂ سر سے لرزنے والے تیمور پر شاطر تیمور، شہ مات دینے والے تیمور، شہ مات سے بچنے والے تیمور نے فتح پالی ہے۔ اور اس کے دل میں ایک طرح کی پُرغرور حرارت پیدا ہوئی اور وہ پسینے میں شرابور ہوگیا۔‘‘\"\"

پھر مجھے اور یاد آیا میں جیسے کانپ کر رہ گیا، اس افسانے میں حلب کے حصار اور حلب کے محاصرے کا بھی ذکر ہے۔ یہ نام آج کل پھر خبروں میں گونج رہا ہے اور اخلاقی طور پر مفلوج ہو جانے والی دنیا بے حس و حرکت اپنے اپنے ٹیلی وژن سیٹ پر دیکھ رہی ہے کہ حلب کے شہر سے پناہ گزین بڑی مشکلوں سے جان بچا کر اس شہر سے باہر جارہے ہیں۔ پھر تو جیسے آج کل کی یہ ساری خبریں اس افسانے میں سمٹ کر رہ گئیں۔

ضیافت کے دسترخوان پر روغن اور بادام سے تربتر شوربہ چمچوں سے پینے والے لوگ اس نام کا حوالہ دیتے ہیں:

’’میرے ساتھیو! ہمارا یہ مہمان نظام الدین شامی بڑا سخت جان ہے۔ جب امیر صاحب قران نے بغداد فتح کیا تو یہ پہلا آدمی تھا جو فصیل سے اترا اور اس نے جان کی امان پائی، لیکن جب امیر صاحب قران نے حلب کا محاصرہ کیا تو پھر یہ حلب میں محصور تھا۔‘‘

کیا اس ضیافت کی ہولناکی کا حال کوئی ننھے تیمور کو بتائے گا اور یہ کہ حلب جو تاریخ میں اکیسویں صدی کی خوف ناک تباہی اور تاراجی کا نام بن جائے گا، کبھی وہ شہر ہوا کرتا تھا جہاں آئینے بنائے جاتے تھے تاکہ یہاں کے حسین و جمیل شہری اپنا نظارہ کر سکیں۔

اسی افسانے میں لکھا ہے:

’’اے مولانا نظام الدین شامی، آپ کے اس شہر حلب میں بڑے باصفا آئینے بنتے ہیں لیکن جب آئینوں میں بال پڑ جائے، ذرا سی بھی درز \"\"آجائے، تو صورت صاف نظر نہیں آتی، یہ حال دلوں کا ہوتا ہے، انسانوں کے دلوں کا، اسی طرح دلوں میں کدورت آتی ہے، جس سے ایک دوسرے کی شکل صاف نظر نہیں آتی۔ اور یہی حال سلطان حسین اور امیر صاحب قران کا ہوا۔‘‘

فتح حلب کے زمانے میں ایک اندھا راوی وہ الفاظ دُہراتا ہے جو اپنے محبوب قوقلمش کی عبرت ناک موت کا حال سناتے ہوئے حسین کنیز نے ادا کیے تھے:

’’اپنا اپنا نصیب… کسی کا نصیب رنج گنج شائیگاں، کسی کا نصیب گنج رنج رائیگاں…‘‘

حلب کے شہریوں کا نصیب کیا ہے اور تیمور کے نصیب میں کیا لکھا تھا، یہ اس بچے اور اس کا نام رکھنے والے ماں باپ کو کون سمجھائے گا؟

کیوں کہ بات اس سے بہت آگے چل گئی ہے۔

قاضی زین الدین امیرتیمور سے مخاطب ہو کر یہ الفاظ ادا کرتے ہیں:

’’جسم کو فولاد کا زرہ بکتر پہنایا جاتا ہے اور سر پر آہنی خود اوڑھا جاتا ہے تب بھی آنکھیں کُھلی رہتی ہیں۔ حالاں کہ آنکھیں جسم کا سب سے نازک حصہ ہیں۔ لیکن جب آنکھیں آہن پوش ہو جائیں تو زرہ بکتر بے کار ہے۔ فولادی خود بے کار ہے۔ تیر اور تبر، ڈھال اور تلوار بے کار ہے۔ عدل میں اتنا ہی خطرہ ہے جتنا آنکھیں کُھلی رکھنے میں۔ لیکن آنکھوں کے آہن پوش ہونے میں اور زیادہ خطرہ ہے…‘‘

خطرہ ہے، خطرہ ہے… کہیں آنکھیں آہن پوش نہ ہو جائیں… امیر تیمور نے جواب دیا تھا کہ میں سمجھ گیا، لیکن کیا آپ اور میں سمجھ پائے…

امیر تیمور نے سلطان حسین کے قتل کا معاملہ قاضی زین الدین کی عدالت کے سُپرد کر دیا؛ ’’قاضی زین الدین نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا۔ اور خدا سے ساری دنیا کے لیے دعا مانگی۔ ان شہروں کے لیے جنھیں اب تک مسمار نہیں کیا گیا تھا، ان شہریوں کے لیے جن کا قتل عام نہیں ہوا تھا۔ ان عورتوں کے لیے جن کی عصمت دنیا بھر کے مکانوں میں محفوظ تھی، ان بچوں کے لیے جو یتیم نہیں ہوئے اور غلام نہیں بنے تھے اور جب وہ دعا مانگ رہا تھا تو کوئی اس کے دل سے چپکے چپکے کہہ رہا تھا۔ یہ سب بے کار ہے، یہ سب بے کار ہے…‘‘

بابا زین الدین تہجد کی نماز سے جس وقت سلام پھیرتے ہیں، عین اسی وقت ایک شخص تیزی سے امیر تیمور کے خیمے کی طرف جا رہا تھا:

’’اس کے ہاتھ میں کسی کا کٹا ہوا سر تھا۔ وہ اسے اس طرح اٹھائے ہوئے تھا کہ داڑھی اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس بے حرمتی سے تو کٹے ہوئے دُنبے کا سر بھی قصائی بھی نہیں اٹھاتا…‘‘

اور پھر افسانے کی وہ آخری سطر میں جو ریڑھ کی ہڈی تک کو جیسے سرد کر دیتی ہیں۔

’’کیونکہ وہ دونوں آنکھیں آہن پوش ہو چکی ہیں‘‘

ننھے تیمور اوراس کے ماں باپ کو یہ ماجرا کون سنائے؟

جن لوگوں نے یہ افسانہ نہیں پڑھا ان کو کیسے باور کرایا جائے اب تیمور کی ہی نہیں، اس کو دیکھنے والوں کی آنکھیں بھی آہن پوش ہو چکی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔