ہمارے جینئیس نوجوانوں کے خلاف ایک بھیانک سازش


\"\"

عظیم دانشور شیخ ثنا اللہ گوندل لکھتے ہیں کہ

”ہم نے ایسے کئی نوجوان دیکھے ہیں جن سے ایف اے یا بی اے تو پاس نہیں ہوتا۔ لیکن اسلامی انقلاب لانے کی مکمل صلاحیت ہوتی ہے ۔ انڈیا/امریکہ/ اسرائیل کی نہ صرف تمام سازشیں سمجھتے ہیں بلکہ ان کا مکمل توڑ بھی ان کے پاس ہوتا ہے۔ بس امت ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتی“۔

ہم اس بھیانک راز کو افشا نہیں کرنا چاہتے تھے کہ ملک کے ذہین ترین نوجوانوں کے ٹیلنٹ کو کس طرح خاک میں ملایا جا رہا ہے اور پس پردہ رہ کر اس کا توڑ کرنے کی سعی کر رہے تھے۔ لیکن اب گوندل صاحب نے بات کھول ہی دی ہے تو ہم پورا ماجرا بتانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

در حقیقت ایف اے بی اے میں فیل کیے جانے کی وجہ ہی ان کی یہ غیر معمولی قابلیت ہے۔ ہم یہ تو جانتے ہی ہیں کہ یہود و ہنود کے ایجنٹ پاکستان کی بیوروکریسی میں چھائے ہوئے ہیں۔حکومت کو بھی وہ امریکہ وغیرہ کی مدد سے اپنے اشاروں پر ناچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ان کے ایجنٹ ہر جگہ موجود ہیں۔ حتی کہ ہائی سکول اور کالج میں بھی۔

آپ نے باہر کے ملکوں کے بارے میں سنا ہو گا کہ وہاں ٹیلنٹ ہنٹنگ سکاوٹ ہوتے ہیں جو گلی محلے سکول میں کھیلتے اچھے کھلاڑیوں کو شناخت کرتے ہیں اور اپنی ٹیم میں لے جاتے ہیں۔

ان نابکاروں نے پاکستان میں بھی اپنے ایجنٹوں کی ایسی ہی ٹیمیں چھوڑی ہوئی ہیں۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ کسی نوجوان میں ٹیلنٹ کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن ہے، تو پاکستان اور امت مسلمہ کو نقصان پہنچانے کی خاطر وہ اس کا پرچہ ہی ایسا مشکل سیٹ کروا دیتے ہیں جس کو حل کرنا کسی پی ایچ ڈی کے لئے بھی ناممکن ہو۔

لیکن وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ ہم پاکستانی کسی کے خواب و خیال سے بھی زیادہ ٹیلنٹڈ قوم ہیں۔ اس ناممکن ترین پرچے کے باوجود بھی کچھ جینئیس پاکستانی نوجوان اس پرچے کو حل کر لیتے ہیں تو اس کے توڑ کے لئے ممتحن کے طور پر بھی یہود و ہنود کا ایجنٹ بٹھا دیا جاتا ہے، جو ان کی بہترین کارکردگی کے باوجود ان کو فیل کر دیتا ہے۔

آپ اگر بے تحاشا برین واش کیے گئے طبقے میں سے ہیں تو اس حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کریں گے کہ یہ یہودیوں کی سازش ہے۔ مگر ہمارا آپ سے ایک ہی سوال ہے جس سے آپ ڈھیر ہو جائیں گے۔ آپ خود ہی انصاف سے بتائیں کہ ان سب جینئیس نوجوانوں کی غالب ترین اکثریت، انگریزی کے پرچے میں ہی کیوں فیل کی جاتی ہے؟

وجہ یہ ہے کہ انگریزی لازمی کے یہ پرچے نیویارک میں بنے ایک انتہائی خفیہ سینٹر میں بنائے جاتے ہیں جس میں انگریز، امریکی، یہودی اور بھارتی پروفیسر بیٹھے امت کے نوجوانوں کو فیل کرنے کی دن رات کوشش کر رہے ہیں۔

یہود و ہنود و نصاری کی ان بھیانک سازشوں کو ناکام بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ ان تمام جینئیس طلبہ کو ایف اے بی اے کرانے کی بجائے درس نظامی میں بھرتی کرا دینا چاہیے، کیونکہ صرف وہی ایک شعبہ ہے جہاں ان بکے ہوئے مکار ایجنٹوں کی پہنچ نہیں ہے۔ اس بھٹی میں تو لوہا بھی ڈالا جائے تو کندن بن کر باہر نکلتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 665 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “ہمارے جینئیس نوجوانوں کے خلاف ایک بھیانک سازش

  • 01-01-2017 at 12:24 am
    Permalink

    ویسے عدنان خان کاکڑ صاحب، آصف محمود صاحب کے کالم کا دوسرا حصہ کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود ’ہم سب‘ کا حصہ نہیں، کیوں ؟ اظہار رائے اور اختلاف کا حق مانگنے والے اس کی راہ میں رکاوٹ تو نہیں بن رہے، دراصل قانون کی زبان میں مفہوم ہے کہ ’ تاخیر سے انکار مراد لی جاتی ہے‘۔
    خوش رہیں اور اپنے ایڈیٹر کے ساتھ مل کر زندگی میں پھلجڑیاں چھوڑتیں رہیں۔

Comments are closed.