میر بہادر علی حسینی … ایک اور بازیافت


میر بہادر علی حسینی خوش نصیب ہیں۔ فورٹ ولیم کالج سے وابستہ رہے۔ انھوں نے چار کتابیں لکھیں۔ ان میں سے دو ”اخلاق ہندی“ اور ”نقلیاتِ ہندی“ کو وحید قریشی اور عبادت بریلوی نے مدوّن کر کے شائع کر دیا۔ دو باقی بچی تھیں۔ وہ بھی اب چھپ گئی ہیں۔ ”تاریخ آسام“ کی تدوین ساجد صدیق نظامی نے کی۔ یہ کتاب مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور، کی طرف سے شائع ہوئی۔ چوتھی کتاب ”نثرِ بے نظیر“ ہے جسے حال میں تنویر غلام حسین نے مدون کر کے سنگ میل، لاہور، سے چھپوا دیا ہے۔

میر بہادر علی حسینی کو خوش نصیب اس لیے کہا گیا کہ فورٹ ولیم کالج سے وابستہ کئی مصنفین کی کتابیں آج تک شائع نہیں ہوئیں اور ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال، کلکتہ، کے کتب خانے میں کس مپرسی کی حالت میں پڑی ہیں اور شاید اتنی خستہ ہو چکی ہوں کہ پڑھی نہ جا سکیں۔ کسی قلمی نسخے کو خراب و خستہ کرنے کے لیے دو سو سال کی مدت بہت ہے۔ بھارت میں اردو اکیڈمیوں اور اردو کونسل کو خاصی گرانٹ ملتی ہے۔ اردو کونسل کو تو شاید ہر سال ایک ارب بھارتی روپیے کی گرانٹ دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود سیکڑوں قلمی نسخے بے اعتنائی کا شکار ہیں۔ اگر شکوہ کیاجائے تو جواب ملتا ہے کہ ایڈٹ کرنے والے دستیاب نہیں۔ کس نے کہا ہے کہ ایڈٹ کرنے والوں کے سامنے آنے کا انتظار کیا جائے؟ تمام قلمی نسخوں کا عکس لیں اور سو دو سو کاپیاں چھاپ دیں۔ نسخہ محفوظ ہو جائے گا۔ جو پڑھنے کا خواہش مند ہو گا آسانی سے پڑھ لے گا۔ لیکن دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ معقولیت پر مبنی مشورے پر کوئی کان نہیں دھرتا۔

حسینی غالباً بہار کے رہنے والے تھے۔ ان کے بارے میں گل کرسٹ نے لکھا کہ ”میر بہادر علی شاید ہندوستان میں موجود بہترین ہندوستانی سکالر ہے۔“ یہ ایک ہی رہی۔ موصوف کو کلکتے میں بیٹھے بیٹھے ہی پتا چل گیا کہ حسینی بہترین ہندوستانی سکالر ہیں۔ ”شاید“ کا لفظ برت کر اپنی برآت کا تھوڑا سا سامان کر لیا ہے ورنہ ایسی جھاڑو پھیر رائے سے اظہارِ خیال کرنے والے کا ذہنی افلاس ہی ظاہر ہوتا ہے یا علمی بے خبری۔

بہر کیف، حسینی کا 1810 میں میر منشی مقرر کیا گیا۔ دو سو روپیے ماہوار تنخواہ دی جانے لگی۔ یہ بڑی بھاری تنخواہ تھی جس کے بارے میں یہ طے کرنا مشکل ہے کہ موجودہ زمانے کی کتنی رقم کے مساوی ہوگی۔ آج کل کے کم و بیش ایک لاکھ روپیے کے برابر ہونی چاہیے۔ وہ 1818 تک بطور مترجم فورٹ ولیم کالج سے وابستہ رہے۔ پیدا کہاں اور کب ہوے تھے، یہ معلوم نہیں۔ یہ علم بھی نہیں کہ 1818 کے بعد کیا کرتے رہے، گزر بسر کا ذریعہ کیا تھا اور کب فوت ہوئے۔

حسینی کی نثر سے کہیں ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ بڑے عالم فاضل ہیں۔ ”تاریخ آسام“ میں تو نثر خاصی ناہموار ہے۔ تاریخ نویسی میں رنگیں بیانی کھپتی نہیں، الّا یہ کہ خود تاریخ کا حلیہ بگاڑنا مقصود ہو۔ ”نثرِ بے نظیر“ میں میر حسن دہلوی کی مشہور مثنوی ”سحرالبیان“ کو نثر کا جامہ پہنایا گیا ہے، گو اشعار کی کثرت سے اس کی قطع غریب ہوگئی ہے۔ جو بھی سہی، یہاں نثر میں گل کھلانے کے مواقع بہت تھے۔ حسینی نے بڑی مرصع نثر لکھی ہے۔ قافیہ آرائی پر حد سے زیادہ زور ہے۔ یہ خیال اس زمانے میں عام تھا کہ اچھی نثر وہی ہے جو عالمانہ اور مقفیٰ ہو اور اعلیٰ درجے کی شاعری کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی رہے۔ غالباً ”باغ و بہار“ اور ”آرائشِ محفل“ (قصہ حاتم طائی) کی مقبولیت کا ایک سبب یہ ہے کہ ان میں نثر، گو بہت سنوار کر لکھی گئی ہے، شاعری کے سامنے سجدے میں پڑی نظر نہیں آتی۔

یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ ”سحر البیان“ کے قصے کو اس درجہ گاڑھی اور پُر تکلف نثر میں ادا کرنے میں کیا حکمت تھی۔ اگر یہ نصابی کتاب تھی تو اس سے طالب علموں کا کیا بھلا ہو سکتا تھا؟ کتاب کی ایک ابتدائی عبارت سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا کوئی آسان روپ بھی موجود تھا۔ ”پہلے اس سے یہ خاکسار اس کہانی کو خاص و عام کی بول چال کے مطابق بہ طرزِ سہل واسطے صاحبانِ نو آموز کے تحریر کر چکا تھا۔ اب جی میں یوں آئی کہ اس داستانِ شیریں کو (کہ فی الحقیقت قصہ شیریں سے شیریں تر ہے) اس رویے سے نثر کردوں کہ ہر ایک زبان دان و شاعر اس کو سن کر عش عش کرے۔“ یہ پہلا اور آسان روپ کہاں گیا، اس کا کچھ سراغ نہیں ملتا۔

تنویر غلام حسین کی تدوین تسلی بخش ہے۔ یہ البتہ سمجھ میں نہیں آیا کہ انھوں نے 1870 کے نسخے کو بنیاد کیوں بنایا۔ 1830 کے نسخے کو ترجیح دینی چاہیے تھی۔ اردو کی تعلیم و تدریس سے متعلق حضرات اور خواتین کو پرانے متون کی تدوین سے دلچسپی بہت کم ہے۔ امید رکھنی چاہیے کہ تنویر صاحبہ اس کتاب پر اکتفا نہیں کریں گی اور مزید متن ایڈٹ کر کے ہمیں ممنون ہونے کا موقع دیں گی۔

نثرِ بے نظیراز میر بہادر علی حسینی

مرتبہ: تنویر غلام حسین

؛ ناشر، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہورص:184؛ 495 روپیے


Comments

FB Login Required - comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *