نشانے پر تو مسلمان ہی ہیں!


mujahid aliیہ جنگ نہ جانے کس لئے ہے لیکن دنیا میں بعض لوگ اسلام سے محبت کے نام پر لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں اور پاکستان اس حوالے سے علامتی میدان جنگ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ ہفتہ کے روز بھی کوئٹہ میں ضلع کچہری کے قریب سیکورٹی فورسز پردہشت گرد حملہ میں 9 افراد جاں بحق اور 25 زخمی ہوگئے۔ آرمی چیف اور وزیر اعظم روز اعلان کرتے نہیں تھکتے کہ دہشت گردوں کو نیست و نابود کردیا جائے گا مگر وہ ادھر ادھر ہمارے بیچ ہی کہیں موجود رہتے ہیں اور موقع ملتے ہی ہمارے اعلانات کا خاکہ اڑاتے ہیں۔ دوسری طرف دنیا اگرچہ مہذب ہو چکی ہے اور یقین دلایا جاتا ہے کہ اختلافات کا واحد حل پرامن مذاکرات ہی میں مضمر ہے لیکن پھر بھی پراہا میں بیس لوگوں کا ایک گروہ پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کو نذر آتش کرکے یہ سمجھ رہا ہے کہ اس نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک معرکہ سرانجام دیا ہے۔ پراہا ہی کی سڑکوں پر ہزاروں لوگوں نے اسلام کے خلاف نعرے بازی کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر انہیں موقع ملے تو وہ بھی مسلمانوں کو کچا چبانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر بھی اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی یورپ کو خبردار کررہی ہیں کہ اسلام کے خلاف پھیلنے والی نفرت، شعلوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

یہ شعلے تو کب کے ہمارے گھروں کو جلا کر راکھ کررہے ہیں۔ ہم ان کی تپش بھی محسوس کرتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس آگ کو بجھا دیا جائے لیکن ابھی تک اس بات پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ جسم سے بم باندھے دہشت گرد معصوم ہیں یا انہیں قصور وار مان کر قوم کو ان کے خلاف سینہ سپر ہونے کا پیغام دیا جائے۔ یہ بھی طے نہیں ہو سکا ہے کہ کون سے عناصر صرف اسلام سے محبت کا حق ادا کررہے ہیں اور کون ملک دشمنی میں اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سادہ لوح لوگوں کو بہکا کر انہیں سیکورازم اور لبرل ازم کے گمراہ کن راستے پر لگانے کی تگ و دو کررہے ہیں۔ اسی لئے ابھی یہ بھی طے ہونا ہے کہ ملک میں سیکولر روایت جسے سادہ لفظوں میں رواداری کا مزاج بھی کہا جا سکتا ہے، کو عام کرنے میں ’اسلام دشمنوں‘ کا ہاتھ زیادہ ہے یا اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں نے اس قوم پر یہ ظلم کیا ہے۔ ہمارے دانشوروں اور اسلام کے نام پر قلمی جہاد کرنے والے دوستوں نے اس حوالے سے پیش قدمی تو کی ہے ، کبھی نہ کبھی اس راز سے پردہ اٹھانے میں بھی ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔

فی الوقت تو یہ سب مل کر ایک دوسرے کے پرخچے اڑانے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہیں کہ اسلام سے محبت کے ذریعے انسان کو بچایا جائے یا انسان کو بچانے کے بعد طے کیا جائے کہ اسلام بھی انسان دوستی کا سبق دیتا ہے۔ لیکن انسان دوستی بہر صورت مشروط ہے۔ کسی کے لئے اس کا مقام عقیدہ کو سربلند کرنے کے بعد آتا ہے اور بعض یہ سمجھتے ہیں کہ عقیدہ انسان کا ذاتی معاملہ ہے، اسے انسانوں کے رشتے کے بیچ لانے کی کیا ضرورت ہے۔ ان مباحث میں ہم ابھی احتیاط کے اس مقام تک نہیں پہنچے کہ چلیں اس بات پر ہی اتفاق کرلیا جائے کہ اختلاف زبانی ہونا چاہئے اور اس کے لئے باقاعد لشکر کشی کی صورت پیدا نہ کی جائے۔ لیکن جب عقیدہ سیاست کا محتاج ہوجائے اور صبر کا پیمانہ صرف دوسرے کی رائے سننے کے حوالے سے لبریز ہونے لگے تو خون کا رنگ یکساں نہیں رہتا بلکہ وہ دیکھنے والے کے دل میں نصب آئینے کے معیار کے مطابق سرخ سفید یا کسی دوسری رنگت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔

جیسے پراہا میں مسلمانوں کے خلاف نعرے لگاتے اور پناہ گزینوں کے کیمپ کو جلانے کی کوشش کرنے والے لوگ امن اور خوشحالی کی بات کرتے ہیں تو ان کا یہ خواب دراصل یوں تعبیرپاتا ہے کہ مسلمانوں کو ہماری نگاہوں سے دور کردو ورنہ ہم ان کا خون بہائیں گے جیسے یہ لوگ ہمارے شہریوں کو مارتے اور بم سے اڑاتے ہیں۔ انسانیت کے ان سپاہیوں کی طرح، چاہتے تو بلاشبہ اسلام کے اصل مجاہدین بھی یہی ہیں کہ وہ کافروں کو خاک کردیں لیکن ان کا زور بھی ابھی تک صرف ان مظلوم مسلمانوں پر ہی چلتا ہے جو کسی نہ کسی طریقے سے ان کی زد میں آجائیں۔ اسلام کے اعلیٰ معیار پر پورا اترنے کے لئے البتہ ان جنگجوو¿ں نے یہ احتیاط ضرور کی ہے کہ ہر اس شخص کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے جو ان کے مو¿قف سے متفق نہیں ہے۔ جیسے ہم روزانہ پاکستان کے مباحثوں اور تحریری مقابلوں میں بھی دیکھتے رہتے ہیں۔

فتویٰ ایک ایسا آسان حربہ ہے جو ہماری ہر رائے کو درست اور دوسرے کو قابل گردن زدنی قرار دیتا ہے۔ اب فتویٰ صرف دینی اصطلاح کا نام نہیں ہے بلکہ اسے سیاسی ضرورت بنا لیا گیا ہے۔ پھر غیر مسلم کیوں اس انہونی دریافت سے استفادہ نہ کریں۔ اس حوالے سے آج کے یورپین لیڈر کم از کم جدید مسلمانوں کی روایت کو ہی آگے بڑھا رہے ہیں۔ اگرچہ وہ اس کا اقرار کرتے ہوئے خجالت محسوس کریں گے۔ نا شکری کی بھی حد ہوتی ہے۔ یورپ کے نزدیک وہ سب قابل گردن زدنی ہیں جو ان کی معیشت کے لئے خطرہ بن سکیں ، اس لئے یورپ کے لیڈر اپنے سیاسی نعروں کو فتوو¿ں کی طرح نافذ کرنے کے درپے ہیں۔ جیسے جمہوریہ چیک کے صدر میلوس زیمان نے قرار دیا کہ اسلام یورپ کے کلچر اور سرزمین پر پنپ نہیں سکتا تو اس کے جیالوں نے اس نعرے کو فائر بم کی صورت میں ڈھال لیا۔

اسی تصویر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ شام کی خانہ جنگی بند کروانے کی تگ و دو کرنے والے اب اس آگ کو ایندھن فراہم کرنے میں لگے ہیں۔ سعودی فوجی اسلام کی فتح کے لئے شیعہ ایرانیوں کو ہلاک کرنے شام جانے کو بے چین ہیں تاہم انہیں اپنے بڑے معاون امریکہ کی اشیرواد کی ضرورت ہے۔ شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم بے چینی سے سعودی یا ایسے ہی دوسرے فوجیوں کا انتظار کررہے ہیں تاکہ وہ ان کی لاشیں لکڑی کے تابوتوں میں بند کرکے ان کے وطن روانہ کرسکیں۔ ان کے اس جوش اور حوصلہ کی وجہ بھی قابل فہم ہے۔ روس نے طے کیا ہے کہ وہ جو ہزیمت یوکرائن اور دوسرے سیاسی یا سفارتی محاذوں پر اٹھا چکا ہے، اب امریکہ سے اس کا حساب برابر کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اس لئے اس کی پوری فوجی قوت شام کی نیم مردہ فوج میں نئی زندگی پھونک رہی ہے اور شام اس گولہ بارود کو ابھی حلب میں اپنے ہی شہریوں کے گھر اجاڑنے اور زندگیاں تلف یا تباہ کرنے کے لئے استعمال کررہا ہے۔ اسے ہرگز یہ پرواہ نہیں ہے کہ اس کی نصف آبادی بے گھر ہے اور باقی ماندہ کو خبر نہیں کہ کب ان کو گھر یا زندگی سے ہاتھ دھونا پڑیں۔ لیکن سعودی فوجیوں کو تابوت میں بند کرنے کا خواب پورا ہوتا ہو تو اپنے دو چار لاکھ لوگ مروالینے کی پرواہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

حلب کے ہزاروں باشندے جان بچاکر اور شامی فوج کی پیش قدمی سے گھبرا کر ترکی کی سرحدوں پر جمع ہیں۔ ترکی ابھی انہیں داخل ہونے کی اجازت دینے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔ یورپ کو بلیک میل کرلیا جائے تو انہیں بھی ان بیس لاکھ بے آسرا لوگوں میں شامل ہونے کا موقع مل سکتا ہے جو ترکی کے مختلف شہروں میں خوار ہورہے ہیں یا یورپ کا سفر کرنے کے لئے سمندر میں غرق ہونے کے خطرے کو قبول کررہے ہیں۔ یورپئین خارجہ امور کی نگران فریڈریکا موگرینا کا کہنا ہے کہ آخر ترکی ان جنگ سے بھاگنے والوں کو پناہ کیوں نہیں دیتا۔ یہ لوگ ضرورت مند ہیں۔ وہ اس بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتیں کہ یورپ لاکھوں پناہ گزینوں کو کیوں موت اور ذلت کے بیچ شرفِ انسانیت سے گری ہوئی زندگی گزارنے پر مجبور کررہا ہے۔ یورپ کہتا ہے ہم نے اپنے گھر بچانے کے لئے ہی تو ترکی کو مالی مددد فراہم کی ہے۔ اب یہ ترکی کا فرض ہے کہ وہ ہمارا ساتھ دے۔ حلب کے ستر ہزار باشندے ابھی ترکی کی سرحد پر تڑپ لیں ، ایک قدم آگے بڑھے تو ترکی میں انسانوں کو فروخت کرنے والے اور یورپ کی جیلیں یا قوانین ان کا راستہ روکنے کے کے لئے ایستادہ ہوں گے۔

ملیحہ لودھی نیویارک میں تنظیم برائے اسلامی تعاون کے پلیٹ فارم سے اسلام فوبیا کے بارے میں جیسی چاہے مرصع تقریر کرلیں، نفرتوں کے اس طوفان میں ان کی آواز سننے کے لئے کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ ان کی آواز تو ان کی اپنی حکومت تک نہیں پہنچتی جو ملک میں نفرت کا کاروبار کا کرنے والوں سے یا تو ڈرتی ہے یا انہیں خفیہ مقاصد کی تکمیل کے لئے عزیز رکھتی ہے۔ ایسے میں اسلام سے محبت اور اسلام سے نفرت کا معرکہ جاری ہے۔ کہیں مسلمان اسلام دوستوں کے نشانے پر ہیں ، کہیں اسلام دشمن ان کی تاک میں ہیں۔ یہ طے ہے کہ نشانے پر بہر صورت مسلمان ہی ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali