کافروں کا نیا سال اور اسلام


\"\"آج کے گلوبل ویلج میں، نیو ائر فنکشن، ایک ایسا موقع ہے جس میں عالمِ انسانی، رنگ ونسل اور عقائد کے اختلافات سے بالاتر ہوکر، یکجا خوشی منا سکتے ہیں۔ لیکن اب اس کو بھی مذہب کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ نفرت کا سودا بک رہا ہے اور دکانداروں کے پاس بیچنے کو مال بہت۔

جناب! یہ اسلامی سال کیا ہوتا ہے؟ محرم، صفر حتی کہ رمضان بھی، عہد جاہلیت میں بھی انہی ناموں سے مشہور تھے۔ وہ پاک نبیﷺ، جو لوگوں کے غلط نام بدل دیا کرتے تھے، انہوں نے ان مہینوں اور دنوں کے ناموں کو نہیں چھیڑا۔ بھائی، منگل کا دن، ایک دن ہی ہے۔ نہ کافر ہے نہ مسلمان۔

سرکار دوعالم ﷺکے زمانے میں تو کوئی نیا کیلنڈر بنا نہیں۔ حضرت عمرؓ کے دور میں، جب محاصل اور غنائم کا حساب کتاب زیادہ ہوا تو ریکارڈ رکھنے کی خاطر، ایک کیلنڈر کی ضرورت ہوئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس کیلنڈر میں پہلا سال کہاں سے شروع کیا جائے ؟ ورنہ مہینوں کے نام اور ترتیب تو وہی تھے جو ابوجہل بھی استعمال کرتا تھا۔ اس موقع پر، اس زمانے میں رائج، فارسی، رومی کیلنڈروں کو نہ ہی ڈسکس کیا گیا اور نہ ہی ان کے ایکسپرٹ موجود تھے۔ موجودہ انگریزی کیلنڈر (جو اس قدر مستند ہے کہ مساجد میں دائمی نقشہ اوقات نماز، اسی پر موزوں کیا ہوتا ہے )، اس وقت حضرت عمر کے سامنے پیش ہوا ہوتا تو اسے شاید اسی طرح قبول فرما لیتے جیسے حضورﷺ نے جنگ خندق میں ایرانیوں کی ٹیکنیک کو یا پھر خود حضرت عمرؓ نے رجسٹر حسابات میں، مصری قبطیوں کے طرز کو قبولا تھا۔ (مگر اس وقت یہ انگریزی کیلنڈر موجود ہی نہ تھا)۔

یہاں ایک بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ نیا کیلنڈر شروع کرنے لئے، جب مشورہ ہوا تو بہت سے صحابہ نے اسے حضورﷺ کی ولادت کے سال سے شروع کرنے کا مشورہ دیا لیکن حضرت عمر نے ہجرت کے سال سے شروع کرکے یہ پیغام دیا کہ اسلام، شخصیات سے زیادہ ان قربانیوں کی قدر کرتا ہے جو دینِ حق کی خاطر اجتماعی طور پر دی گئی ہوں۔ (اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سب صحابہ کی فراست برابر نہ تھی)۔

برسبیل تذکرہ، حضرت عیسیؑ کی ولادت کا نئے گریگورین سال سے کوئی تعلق نہیں۔ رومی چرچ 25 دسمبر کو اور قسطنطنیہ چرچ 7 جنوری کو، عیسیؑ کی ولادت مانتے اور جشن مناتے ہیں۔ موجودہ \”نیو ائر ایونٹ \”، اس وقت عالمی تہوار ہے اور ملحدین اسے زیادہ جوش وخروش سے مناتے ہیں کہ وہ اسے ایک غیرمذہبی تہوار قرار دیتے ہیں۔ (جو حقیقت بھی ہے)۔

اب رہا یہ مسئلہ کہ نیو ائر پر مبارکباد دینا یا خوشی منانا کافروں کا فعل ہے جس کی نقل نہیں کرنا چاہیئے۔ عرض یہ ہے کہ کافروں کی نقل، عبادات میں منع ہے (جیسے محرم کے روزے وغیرہ) ورنہ صحابہ نے بعد میں نہ صرف رومی، ایرانی عورتوں سے نکاح کئے بلکہ ان جیسے گھر بھی بنائے اور لباس بھی پہنے۔ یادش بخیر! مدرسہ بنوری ٹاؤن میں ورلڈ کپ کے موقع پر پاکستان کی فتح کے لئے ختم القرآن اور دعا کا اہتمام کیا گیا تھا۔ بھائی صاحب! یہ کرکٹ سے لے کر کبڈی تک، سارے غیر مسلموں کے کھیل ہیں اور آپ ان کفار کے سپورٹس کو جلا بخشنے دعا فرماتے ہیں؟ مبارکباد، ایک دعا ہے جو کسی کو خوش دیکھ کر دی جاتی ہے چاہے وہ انگریز کی بنائی گاڑی خریدنے پہ خوش ہو یا اس کو آئندہ ایام کی خیر و برکت کی دعا دی جائے۔

بات یہ ہے بھائی کہ اگر کفار کی ہر ترتیب کا الٹ کرنا ہی عین اسلام ہے تو یہ سیاسی جماعتوں کا بنانا، ووٹ مانگنا اور ووٹ دینا تو خالص مغرب کی ایجاد ہے۔ کہاں کی پارٹی اور اس کا پرچم؟ کہاں کا انتخابی نشان اور دھرنے ورنے۔۔ لیکن۔۔ اگر۔۔۔ مگر۔۔۔۔ جی جی!

بہرحال، معافی چاہتا ہوں، ہوا یہ کہ ایک سوڈانی دوست کو نئے سال کی وِش کر بیٹھا تھا تو اس نے ٹوکا کہ کفار کے سال پہ تہنیت کرتے ہو؟ اس سے اندازہ ہوا کہ مولانا حضرات بھی بین الاقوامی لابی رکھتے ہیں لہٰذا یہ چند سطور سپردِ قلم کر دیں۔

جہاں تک نئے سال کے فنکشن میں ان خرافات کا تعلق ہے جن کو ہر سلیم الفطرت اور باوقار (خاندانی) انسان غلط سمجھتا ہے تو اسلام انہیں بدرجہ اولیٰ لغو قرار دیتا ہے۔ بھائی، اسلام نے چھچھورے پن کی حوصلہ افزائی خلوت میں نہیں کی تو فنکشن میں کیسے کرسکتا ہے؟ چاہے وہ فنکشن نیو ائر کا ہو یا مذہبی۔۔۔

نوٹ: یہ مضمون چند سال پہلے وجاہت مسعود صاحب کے زیر ادارت \”دنیا پاکستان \” میں بھی شائع ہوا تھا لیکن بوجوہ، اس کی تکرار موزوں معلوم ہوئی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔