جناب! جہاد میں آپ کے بچے شہید کیوں نہیں ہوئے؟


\"\"ہمارے پیارے کالم نگار ہارون الرشید نے جنرل اختر عبدالرحمن پر \”فاتح\” کے نام ایک دبنگ کتاب لکھی تھی۔ آپ اسے غضب جہاد کی عجب کہانی بھی قرار دے سکتے ہیں۔ مذکورہ کتاب کافی عرصہ پہلے منصہ شہود پر آئی تھی۔ لیکن اب بھی جناب ہارون الرشید کبھی کبھار اپنے کالم میں جنرل اختر عبدالرحمن کی افغان جہاد میں کامیابیوں اور کامرانیوں کا ذکرِخیر کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کے نذدیک روسی بھیڑیے کو دریائے آمو کے اس پار روکنے میں سب سے بڑا کردار جنرل اختر عبدالرحمن کا ہے۔ ان کی ذہانت پلاننگ اور پتہ نہیں کس کس مہارت کے سبب روسی بھیڑیے گرم پانیوں تک رسائی کی روسی آس دل میں لیے ہی \’پھیتی پھیتی\’ ہو گئے۔ سوویت یونین کے ٹکڑوں میں بٹنے کا سب سے اہم فیکٹر جنرل اختر عبدالرحمن کو گردانا جاتا ہے۔ ممکن ہے ایسا ہی ہوا ہو۔ جناب ہارون الرشید کا پیارا جنرل اتنا ہی ماہر اور چالباز رہا ہو۔ ایسا کہ دنیا کی ایک بڑی سپر پاور کو ناکوں چنے چبوانے میں اس کا سب سے بڑا ہاتھ ہو۔ لیکن ہمارا سوال تو یہ ہے کہ اگر یہ کسی قسم کا جہاد تھا تو جنرل اختر عبدالرحمن نے اس میں اپنے انوکھے لاڈلے کیوں نہیں جھونکے؟ ان کے بیٹے ہمایوں اختر اور ہارون اختر دونوں شہادت کے عظیم مرتبے سے محروم کیوں رہے؟ آج ہم دیکھتے ہیں کہ جنرل کے دونوں بیٹے پاکستان کے چند امیر ترین لوگوں میں شامل ہیں۔ شوگر انڈسٹری میں ان کا ایک نام ہے۔ سیاست میں بھی وہ کوئی غیر معروف نہیں ہیں۔ پھر افغان جہاد کے باوا آدم جنرل ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق اور انوارالحق بھی زندہ و سلامت ہیں۔ انہیں بھی شہادت سے کوسوں دور رکھا گیا۔ جنرل حمید گل ساری زندگی جہاد کا درس دیتے رہے۔ لیکن ان کی اولاد بھی شہادت نہ پاسکی۔ کیوں؟ نام آیا تو واران ٹورز کی بیسیوں بسوں کے ساتھ۔ ۔ شہادت کے ساتھ کیوں نہیں؟

اسی بارے میں: ۔  گوادر کا کھارو چان بننا چاہیے یا دبئی؟

افغان جہاد میں جماعت اسلامی کا نام کسی تعارف کا محتاج ہے؟ قاضی حسین احمد کو ہم فراموش کر سکتے ہیں؟ مرحوم قاضی حسین احمد کے بیٹے آصف لقمان قاضی کے بارے جب کسی نے کہا کہ وہ امریکہ پڑھتے رہے ہیں تو لوگوں نے حیرت سے دانتوں میں انگلیاں داب لیں کہ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ جماعت اسلامی کی ساری سیاست ہی ٹھا امریکہ ٹھا امریکہ کرتے گذری ہے۔ انکل سام کے خلاف ریلیاں جلسے جلوس بائیکاٹ دھرنے ہڑتالیں اور کیا نہیں کیا جماعت نے؟ پاکستان میں کبھی کسی بھی صوبے کے نصاب میں کوئی تبدیلی ہونے لگتی تو جماعت کے مجاہدین خم ٹھونک کر میدان میں آجاتے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو ملحد نہیں بننے دیں گے۔ ہم نصاب کوسیکولر نہیں ہونے دیں گے۔ ہمیں لبرل نصاب قبول نہیں۔ لیکن یہ کیا کہ امیر جماعتِ اسلامی (قاضی حسین احمد) کااپنا ہی بیٹا (آصف لقمان قاضی) بنفسِ نفیس اور بقلم خود امریکہ جا کر پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ لوگوں نے حیرت سے سوچا اور پوچھا کہ کیا آصف لقمان قاضی امریکہ منصورہ کا نصاب لے کر گئے تھے؟ اگر امریکہ جا کر آصف لقمان قاضی کا ایمان سلامت رہ سکتا ہے تو باقی لوگوں کے ایمان کو اس سے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ اوراسلامی ملک پاکستان میں رہ کر ان کے کسی نصاب کو پڑھنے سے کیا خرابی ہو سکتی ہے؟

خیر اس سوال کا جواب تو آج تک نہیں آیا ادھر سے۔ ہاں ملک کے ایک نوجوان مصنف صحافی اور ٹی وی اینکر دوست نے جب ہمیں لاہور اپنے آفس میں یہ بتایا کہ معروف جہادی لیڈر حافظ سعید کا بیٹا طلحہ سعید بھی امریکہ سے پڑھ کر آیا ہوا ہے تو سچ پوچھیں کہ ہماری چیخیں نکل گئیں۔ اس صحافی دوست کے بقول دورانِ انٹرویو جب حافظ سعید سے انہوں نے اس بارے سوال کیا تو حافظ سعید صاحب نے اس بات کو آف دی ریکارڈ رکھنے کی درخواست کی تھی۔ کیوں کی تھی؟ یہ جاننے کے لیے کسی بقراطی دانش کی ضرورت نہیں ہے شاید؟ ہمیں تو یہ پتہ ہے کہ جب اس بات کا ذکر ہم نے مری کی سیر کے دوران وہاں اس فکر کی حمایت والی مسجد طیبہ کے کچھ لوگوں سے کیا تو وہ ہم سے تقریبا الجھ سے پڑے تھے۔ و ہ کسی طور بھی ماننے کو تیار نہیں تھے کہ ان کے عظیم لیڈر کا لختِ جگر طلحہ سعید کافر اور ظالم ملک امریکہ سے فارغ التحصیل ہے۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ملک میں ایک جہادی لیڈر کا بیٹا کیسے پڑھ سکتا ہے؟ ہمارے ساتھ موجود دوست ان کمانڈو ٹائپ لوگوں سے ہماری شدید بحث سے کسی قدر خوفزدہ ہو رہے تھے۔ وہ ہمیں اشاروں کنائیوں میں اپیل کر رہے تھے کہ جانے دیں آپ۔ سو ہم نے ان کی مان لی۔ وہ معصوم لوگ چلے گئے تو ہم سوچتے رہے کہ کیا عوام کو بڑے پیمانے پر ایسی تلخ اور سنگین حقیقتیں بتا کر یہاں کچھ بہتری لائی جا سکتی ہے یا نہیں؟ کیا عام لوگوں کو ایسے لیڈروں کے پیروکاروں کو فدائین کو تصویر کا دوسرا اورسب سے روشن رخ بتانے کا وقت ابھی بھی نہیں آیا؟ ہم یہ سوال چھوڑے جا رہے ہیں۔ غور ضرور کیجیے گا۔ ویسے بھی پرانے سیانے کہہ گئے ہیں کہ کبھی کبھار دماغ کسی اچھے کام کے لیے بھی استعمال کرلینا چاہیے۔

اسی بارے میں: ۔  فرانس: خاتون نے عاشق سے ملنے کے لیے اغوا کا ڈراما کیا

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “جناب! جہاد میں آپ کے بچے شہید کیوں نہیں ہوئے؟

  • 31-12-2016 at 1:23 am
    Permalink

    جناب! بہترین کالم لکھا ہے اپ نے۔ کیا حقیقت سامنے لے ائےہو۔ جانتے تو ہم صرف حسین احمد صاحب کے بیٹے کے بارے میں تھے اپ نے تو کمال کر دیا ایک اور کو بے نقاب کر کے۔۔ اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ سلامت رہو۔۔

  • 01-01-2017 at 8:40 am
    Permalink

    یہ نکتہ واقعی غور طلب ہے کہ جنرل اختر عبدلرحمٰن اور جنرل ضیاء الحق نے اپنے بچوں کو تو بیرونِ ملک پڑھوایا اور آج ان کی اولادیں اپنا بزنس کر رہی ہیں، اسمبلی کے ممبر ہیں اور پاکستان کی امیر ترین شخصیتوں میں سے ہیں جبکہ اُس دوران ان لوگوں نے دنیا بھر کے مسلمان نوجوانوں کو گمراہ کرکے افغانستان میں لے جا کر مروایا تو اس خودغرضانہ فعل پر یہ قابلِ مزمّت ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر سے جو رقم امداد کے طور پر آئ اس کا بھی کوئ حساب کتاب نہیں۔

Comments are closed.