چیخیں، سسکیاں اور ہلکا پھلکا تشدد


\"\"یوں خبروں اور ٹی وی پروگراموں میں، جذبات، آنسو، سسکیاں وغیرہ بیچنا روز ہی کا معمول ہے۔ روز کا معمول خبر نہیں ہوا کرتی، کوئی تازہ اطلاع خون گرماتی ہے۔ کرائم شوز کو مدت ہوئی نہیں دیکھا کہ اب ڈرامے وغیرہ نے صحافت کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ریمورٹ ہاتھ میں تھامے، چینلز کی الٹ پلٹ کر رہا تھا کہ اک جگہ دل، دماغ، احساس، جزبات، سب کچھ تھم گیا۔

اس اینکر پر مجھے کچھ بھروسہ تھا اور کئی کارنامے اس کے پہلے بھی دیکھ رکھے تھے۔ معروف سماجی شخصیت صارم برنی اور چند پولیس اہلکاروں کے ہمراہ میڈیا کی ٹیم نے ایک گھر پر چھاپہ مارا، پہلے پہل تو گھر میں داخل ہونے میں شدید مشکل ہوئی تاہم صورت نکل آئی۔

ایک عورت تھی، یا پھر عورت نما کوئی اور مخلوق، پہچاننا ممکن نہ تھا۔ اس کے سر کے بال، بھنویں اور پلکیں مونڈ دی گئی تھیں۔ پاؤں اور ہاتھوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، جسم پر جگہ جگہ جلانے اور کاٹنے کے زخم نمایاں تھے، زنجیروں تک کے نشان اس کے جسم پر تھے۔ گھر میں موجود خوف، بدحواسی اور ویرانے کو میں صاف محسوس کرسکتا تھا۔ یہ تمام تر عنایتیں اس پر اس کے شوہر نے کی تھیں۔ ہلکا پھلکا تشدد! اس عورت نے اینکر کو دیکھتے ہی پہچان لیا، اٹھ کھڑی ہوئی، اب مجھے امید تھی کہ یہ عورت یہاں سے بھاگ کھڑی ہوگی۔ حیرانی کی انتہا نہیں رہی جب اس بیوی نے اپنے شوہر کا بھرپور دفاع شروع کر دیا۔ وہ مرد کے آگے ناقابل تسخیر دیوار بن کر کھڑی ہوگئی سب سے جھگڑا بھی کرنے لگی۔

بال کیوں کاٹے، اینکر نے سوال کیا۔ جلد کی بیماری ہوگئی ہے مجھے، اس نے مطمئن لہجے میں جواب دیا۔ یہ زخم کیسے آئے؟ چوٹ لگ گئی تھی، ایک اور پر اعتماد جھوٹ۔ اس شدید زخمی عورت کی طرف سے یہ مذاحمت چلتی رہی تا حد کہ خواتین پولیس اہلکاروں کو بلواکر اسے اپنے شوہر سے الگ کر دیا گیا۔ اب ایک مرتبہ پھر کاوش کی گئی سچ اگلوانے کی تو معلوم ہوا کہ کئی برس سے یہ عورت یہاں پر قید تھی اور شدید تشدد روزمرہ کا معمول تھا۔ اسی عرصے میں محلے کے تمام افراد گھر کے باہر جمع ہوچکے تھے جو کہ اس عورت کی سسکیوں کے عینی شاہد تھے۔ یہ مرد چمچ کو گرم کرتا اور پھر اک حسین جسم کو داغتا، چیخیں محلہ سنتا، عورت کو زنجیر سے باندھ کر مارا جاتا، زخموں میں نمک بھرا جاتا۔ عورت چیختی، روتی، سسکتی، مدد کو پکارتی، رحم کی صدائیں بلند کیا کرتی اور یہ مرد لذت لیتا۔

اس نوعیت کے زخم صرف جسمانی نہیں ہوتے، روحانی بھی ہوا کرتے ہیں۔ یہ کبھی نہیں بھرا کرتے۔ سدا ہرے رہا کرتے ہیں، ایسا ہی کچھ اس عورت کے ساتھ بھی تھا۔ جب اس عورت سے پوچھا گیا تو وہ یہ کہتے ہوئے رو پڑی۔ میں نے سب کو مدد کے لیے پکارا، بہت چیخی، بہت چلائی، سب نے میری سسکیاں سنیں، مگر میری مدد کو کوئی نہیں آیا۔ میرا کوئی نہیں۔

یہ کراچی کا حقیقی واقعہ ہے۔ عوام سے بھرے ہوئے محلے میں اس عورت کی چیخیں سب سنتے رہے مگر اس کی مدد کو کوئی نہیں آیا۔ کتنے ہی برس بیت گئے۔ اس بیچاری کو تو اب صارم برنی ٹرسٹ کے شیلٹر ہوم میں منتقل کر دیا گیا ہے مگر یہ واقعہ ہمیں بیدار کرنے کے لیے کافی ہے۔ پروگرام ٹی وی پر نشر ہوا، مگر اس کے بعد کیا؟ اگلا روز ایسی ہی کوئی نئی داستان، سنا ہے صارم برنی صاحب کے پاس ایسے کئے کیسس موجود ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔