استاد اور جج کے گھر میں بچوں پر ظلم کی کہانی۔۔۔


\"\"اسکول جاتی اپنی ہم عمر بچوں کو وہ بہت حسرت سے دیکھتی تھی، جب وہ اسکول سے واپس گھر آتے تو آنکھ بچا کر ان کے رنگ برنگے بستوں کو چھوتی اور آنکھیں بند کر کے خود کو یونیفارم میں ملبوس پاتی، ایسا سوچنا کتنا اچھا لگتا تھا نا۔ کبھی کھلونوں کو بھی بہانے سے چھوتی دل میں ننھی سی خواہش جاگتی کہ رات سوتے ہوئے یہ اس کے اردگرد ہوں تو کوئی نرم ملائم گداز سا کھلونا اس کی بانہوں میں ہو۔ کیونکہ اکثر نیند میں وہ ڈر بھی تو جاتی تھی۔ لیکن مالکن کی بار بار لگنے والی آوازیں اسے سونے نہ دیتیں وہ سو بھی جاتی تو نیند میں بھی اسے اپنا نام سنائی دیتا۔ پورا دن بھاگ بھاگ کر کام کرنا اسے تھکا بھی دے تو گھڑی کی ٹک ٹک کرتی ہوئی سوئی اسے بتاتی تھی کہ ابھی رات نہیں ہوئی اس کا کام ابھی ختم نہیں ہوا۔ رانی کے ماں باپ نے اسے پورے ایک سال چالیس ہزار کے عیوض اس بڑے سے گھر میں چوبیس گھنٹوں کی نوکری پر رکھوا دیا تھا۔ سال بعد تین دن کی چھٹی پر وہ جاسکتی تھی۔ اس کے گھر والے اس سال کے دوران اس سے ملنے نہیں آسکتے تھے۔ نام تو اس کا رانی تھا لیکن اس کا نصیب رانی جیسا نہ تھا۔ میں نے اسے بھاگتے دوڑتے کام کرتے دیکھا۔ وہ برتن اٹھاتی، دھوتی، خشک کرتی، کچن صاف کرتی، ڈسٹنگ کرتی، کپڑے استری کرتی، کپڑوں کی مشین بھی لگاتی، بچوں کو سنبھالتی۔ اس پر اس گھر کی مالکن کی پوتی کی یہ فرمائش بھی ہوتی کہ اس نے کھلونوں کا اسکول لگایا ہے رانی بھی اس میں بیٹھے۔ وہ انگریزی میں نظمیں پڑھتی اور پڑھاتی اور رانی ایک اسٹول پر بیٹھ کر اسے تکتی رہتی۔ جب اسے نظم دہرانے کا کہا جاتا تو رانی کی خاموشی پر اس کے ہاتھوں پر اسکیل بھی پڑتے۔ وہ مسکراہٹ میں درد چھپائے مار کھاتی اور پھر بیگم صاحبہ کی آواز پر دوڑتی اور سست اور کاہل ہونے پر خوب صلواتیں سنتی۔ رانی بھاگ بھاگ کر کام کرتی لیکن اس کا کام کسی کو پسند نہ آتا، کیونکہ ہر کوئی اسے الہ دین کے چراغ کے جن کی طرح اپنے سامنے حاضر کرنا چاہتا تھا۔ اسے نہ تو گھر آنے والے مہمانوں سے زیادہ بات کرنے کی اجازت تھی نہ ہی کہیں تھک کر بیٹھنے کی۔ جب سب کھانا کھا کر برتن میز پر چھوڑ جاتے تو وہ جھوٹے برتن اٹھا کر کچن لے جاتی، انہیں دھوتی اور پھر ٹھنڈے فرش پر بیٹھ کر کھانا کھاتی۔ نیند سے بوجھل سپنوں سے خالی آنکھیں لئے وہ اسٹور میں جاگھستی جہاں اس کا بستر لگا ہوا تھا۔

\"\"یہ کسی ایک رانی کی نہیں بہت سی ننھی کلیوں کی کہانی ہے۔ کہیں حسرتیں دم توڑتی ہیں، کہیں خواب چکنا چور ہوتے ہیں، کہیں چند ہزار کے عیوض ردا فروخت کردی جاتی ہے تو کہیں بگڑے بچے سب کھلونوں سے کھیل لینے کے بعد ان ننھی کلیوں کو مسلتے ہیں۔ ملک میں چائلڈ لیبر کے خلاف یوں تو بہت آوازیں اٹھائی جاتی ہیں اور یہ آوازیں اٹھانے والے زیادہ تر لوگ وہ ہی ہوتے ہیں جن کے گھر میں کم عمر بچیاں اپنی عمر سے بڑے بڑے کام کر رہی ہوتی ہیں۔ کل ہی اسلام آباد میں حاضر سروس جج کے گھر دس سالہ ملازمہ طیبہ پر تشدد کا کیس سامنے آیا۔ اسی واقعے کے بعد لاہور کی لیڈی ڈاکٹر کے گھر سے ایک کم عمر ملازمہ بچی پر بدترین تشدد کا واقعہ رپورٹ ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کس کو منصف کہوں، کس کو مسیحا سمجھوں؟ ایسے گھرانوں میں جہاں ایک شخص انصاف کرنے والا ہو اور دوسرا جو زخموں پر مرہم رکھنے والا ہو، انہیں گھروں میں روح کو لہولہان کیا جاتا ہے، جسم کو تکلیف دی جاتی ہے۔ جن آنکھوں میں بہت سے سپنے باقی ہیں ان میں گرم چائے انڈیلی جاتی ہے، جن ہاتھوں میں قلم ہونا چائیے انہیں جلایا جاتا ہے۔ چوبیس گھنٹوں کی نوکری پر رکھ کر ان بچیوں کو زر خرید غلام یا کنیز بنا کر ایسے دل سوز مظالم کرنا کہاں کی انسانیت ہے؟ کہاں کا انصاف ہے؟ کہاں کی مسیحائی ہے۔

ایک طبقہ ایسی خبریں سامنے آنے پر انداز بے نیازی سے یہ بھی کہتا ہے کہ ان بچیوں کے لالچی ماں باپ پیسوں کی ہوس کے مارے ان کو ہمارے گھروں میں کیوں چھوڑ کر جاتے ہیں۔ ہمارے گھروں میں آکر تو ان کی زندگیاں بدل جاتی ہیں۔ پیٹ بھر کر کھانے کو ملتا ہے، تن ڈھانپنے کو کپڑا مل جاتا ہے۔ میں پوچھتی ہوں کہ کیا یہ کافی ہے؟ آپ اپنے بچوں کو بیش قیمت کپڑے اور کھلونے دلاتے ہیں۔ کیا کبھی ان خدمت گزاروں کو بھی آپ نے اپنے بچے جیسا کھلونا یا کپڑا خرید کر دیا؟ کیا آپ نے انہیں تعلیم کا حق دیا؟ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ سرد راتوں میں لحاف تانے آپ گرم گرم کافی کا کپ ہاتھ میں تھامے سماج کے ٹھیکیدار بنے لوگوں کو فون پر لیکچر دے رہے ہوتے ہیں، اسی لمحے یہ معصوم جانیں آپ کے جھوٹے برتن صاف کرنے میں مصروف ہوتے ہوں گے۔ کئی شاپنگ مالز میں ہزاروں لاکھوں کی شاپنگ کرنے والی بیگمات جب شاپنگ بیگز ان ننھے ہاتھوں میں تھماتی جاتی ہیں تو ان کی حسرت کو وہ نہ دیکھ پاتی ہیں، نہ محسوس کر پاتی ہیں۔

\"\"لیکن میں نے بیشتر گھرانوں کی سوچ الگ ہی دیکھی۔ رانی آج بھی مجھے یاد ہے جس کی صبح منہ اندھیرے ہوتی اور رات کا کوئی پہر ہوتا جب وہ کچی پکی نیند لینے اپنے بستر پر لیٹتی۔ رانی نے جن بچوں کی خدمت کی، انہیں گود میں اٹھا اٹھا کر بیگم صاحبہ کو سکون سے شاپنگ کروائی۔ سرد راتوں میں بیش قیمت ٹائلز کے فرش پر ننگے پاؤں چل کر چائے اور کافی سرو کی وہ آج تیزی سے کلاسیں پھلانگتے آگے بڑھتے جا رہے ہیں لیکن رانی آج بھی بس رانی ہے۔ آج بھی اپنی مالکن کی بیٹی کی گڑیا کو دیکھ کر رشک کرتی ہے۔ وہ آج بھی کسی کلرنگ بک میں رنگ بھرنے کی آرزو رکھتی ہے۔ وہ آج بھی ایک نرم ملائم سے بستر کی خواہش رکھتی ہے۔ اسے اپنے یاد نہیں آتے لیکن عید پر یہ ضرور یاد آتا ہے کہ کہیں دور پرے کسی گاؤں میں اس کی بھی سکھیاں تھی، کوئی پیپل کا پیڑ تھا جس کی چھاؤں تلے کنوئیں کے پاس اس کی گڑیا اور شانو کے گڈے کی شادی ہوئی تھی، عید پر اس کے گھر گڑ والے چاول بنے تھے اور سہیلی کے گھر حلوہ اور سویاں۔ اور دونوں سہیلیوں نے کسی پہر یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ ایک ڈاکٹر بنے گی اور دوسری استانی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔