کرسمس ٹرین، نیا سال اور خیر کے دوسرے اشارے


\"\"غالب نے نئے سال میں بتوں سے فیض پانے کے لیے ایک نجومی کا سہارا لیا تھا۔ ایک صدی گزر گئی ۔ آزادی کے بعد بہت سے برس ایسے گزرے کہ استاذی قیوم نظر نے لکھا ’عمر رواں نے اک جھٹکا سا کھایا، اور اک سال گیا‘۔ گویا نیا برس محض تقویم پر نئے عدد کا نشان بن کر رہ گیا۔ اور پھر راستے ایسے تاریک ہوئے کہ میرے استاد رضی عابدی نے لکھا ’نیا سال کئی سال سے نہیں آیا ‘۔ کیسا تکلیف دہ احساس تھا۔ رواں برس کے آخری ایام ہیں ۔ نئے برس کی تصویر ہم نے ایک چھوٹی سی خبر سے کشید کی ہے۔ پاکستان ریلوے نے امسال کرسمس ٹرین چلائی جو اسلام آباد سے پشاور کے راستے لاہور تک آئی۔ چشم تصور سے دیکھئے ۔ لاہور کے ریلوے سٹیشن پر ایک مسیحی ماں اپنے بچوں کی انگلی تھامے کرسمس ٹرین دیکھنے آتی ہے۔ بچے سوال کریں گے کہ محبت اور خوشی سے لدی یہ پانچ بوگیاں کہاں سے آئی ہیں۔ انہیں بتایا جائے گا کہ پاکستان کی حکومت نے کرسمس کی خوشی میں شرکت کی ہے۔ بچے یہ جان لیں گے کہ پاکستان اپنے مسیحی شہریوں کا احترام کرتا ہے۔ ان کے دل میں اپنے وطن سے جو محبت پیدا ہو گی، اسے نفرت کا کوئی پیغام مٹا نہیں سکے گا۔ کرسمس مبارک ۔ پاکستان زندہ باد۔

اسی ہفتے محترم آصف علی زرداری پاکستان تشریف لائے۔ دو تقاریر آصف زرداری نے کی ہیں۔ پیغام بالکل واضح ہے۔ عدم استحکام پیدا کرنے نہیں آئے ۔ انتخابی عمل میں شریک ہو کر جمہوریت میں اپنا حصہ لینا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کیا اچھی بات کہی کہ میثاق جمہوریت پر قائم ہیں۔ دھرنوں کی سیاست کو ہم پیچھے چھوڑ آئے۔ اقتدار کی کشمکش اب آئین کے کھینچے ہوئے خطوط کے اندر ہو گی ۔ اس دوران قومی سلامتی کے مشیر جنرل ناصر جنجوعہ نے صحافیوں کو ایک آف دی ریکارڈ بریفنگ دی۔ پیشہ ورانہ اخلاقیات میں اس کی تفصیل بیان کرنے کی گنجائش نہیں۔ ایک مجموعی تاثر بیان کیا جا سکتا ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ نئی بندرگاہ صرف گوادر میں تعمیر نہیں ہو رہی۔ ہماری مملکت کا جہاز غیر محسوس طریقے سے غیر مدون پانیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گہرے سمندروں میں چھوٹی کشتیاں نہیں چلائی جاتیں، بڑے جہاز اتارے جاتے ہیں۔ ان منطقوں کی حرکیات مختلف ہوتی ہے۔ آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط مملکت پاکستان کے وسیع جہاز پر 22 کروڑ مسافر سوار ہیں اور اس جہاز کی سمت تبدیل ہو رہی ہے۔ عشق کے درد مندوں اور ریاست کے بت سنگی میں برف پگھل رہی ہے۔

2017 ءمیں آزادی کے ستر برس مکمل ہو جائیں گے۔ قضا و قدر کے کان بہرے، آثار بہت اچھے ہیں۔ آٹھ برس کی جان گسل کشمکش کے بعد جمہوریت کا قافلہ اندھیری سرنگ کے پار روشنی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں مولانا فضل الرحمن نے تالاب میں ایک نئی کنکری پھینکی ہے۔ تحفظ مدارس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے بہت سے پتھر لڑھکا دیے۔ فرمایا کہ ’ملا کو سیاست سے نہیں نکالا جا سکتا ۔ نکاح اور جنازہ ملا پڑھاتے ہیں، سیاست بھی ملا ہی کرے گا ‘۔ مذہبی پیشوا پاکستان کے شہری ہیں ۔ سیاست میں حصہ لینا ان کا آئینی حق ہے۔ سوال یہ ہے کہ سیاسی عمل میں شرکت کا نکتہ استحقاق کیا ہے۔ نکاح اور جنازہ رسومات ہیں۔ رسم طے شدہ افعال کو ایک خاص ترتیب سے ادا کرنے کا نام ہے۔ سیاست رسم نہیں ہوتی۔ جمہوریت قوم کے زندہ مکالمے کا نام ہے جس میں مستقبل کی راہیں تراشی جاتی ہیں۔ شہریوں کی رائے کے آزادانہ اظہار میں اختلاف ناگزیر ہے۔ یہاں پگڑی اچھلتی ہے، اسے مے خانہ کہتے ہیں۔ اگر مذہبی پیشوا بطور فریق کے سیاست میں حصہ لینا چاہیں گے تو پھر تقدیس کی اوٹ سے باہر نکلنا ہو گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ 1970ء کی طرز پر مسٹر اور ملا کا تضاد بھی کھڑا کیا جائے اور 90ء کی دہائی میں تخلیق کی گئی ریت کی بوریاں بھی ہماری دہلیز پر دھری رہیں۔ جمہوری عمل میں شہری مساوات کی بنیاد پر حصہ لیا جاتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اوران کے رفقا کی جمہوری اور پارلیمانی سیاست میں موجودگی بسروچشم لیکن عقیدے کو اشتعال انگیزی کی دھمکی بنانے کا چلن بدلنا ہو گا۔ ہماری قوم میں کئی سطحوں پر تنوع پایا جاتا ہے۔ معاشرتی رواداری اور سیاسی تکثیریت کی مدد سے یہ تنوع ایک سرمائے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان یا کسی اور سیاسی جماعت کے بارے میں مذہبی طعن و تشنیع کی سیاست مددگار نہیں ہو گی۔

 نیشنل ایکشن پلان کے ضمن میں تین ضروری نکات پیش خدمت ہیں۔ ہمارے ہاں عورتوں کے بارے میں غیر محتاط گفتگو کا چلن عام ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ منبر و محراب نے اس قبیح رویے کو مضبوط کیا ہے۔ تفرقہ صرف مسلک اور زبان کی بنیاد پر ہی نقصان دہ نہیں ۔ ہمیں تقریر و تحریر میں عورتوں کے بارے میں غیر آئینی اور غیر مہذب گفتگو کو نفرت انگیز مواد کے دائرے میں لانا چاہیے۔ اس پر قانون سازی کرنی چاہیے۔ عورتوں کی معاشی ، سماجی اور سیاسی مساوات کے بغیر پاکستان کی ترقی کا راستہ ہموار نہیں ہو سکتا۔ ہمیں کسی کو صنف کی بنیاد پر عورتوں کی تحقیر کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں کے ریاستی بیانیے میں روشن خیال اور ترقی پسند حلقوں کو گویا ملک دشمن عناصر کا درجہ دیا گیا تھا۔ تاریخ کے سفر نے اس مٹھی بھر گروہ کی جرات رندانہ پر صاد کیا ہے۔ ازراہ کرم ریاستی بندوبست کے تمام حصوں تک یہ خبر دی جائے کہ حقوق ، آزادی اور جمہوریت کی بات کرنے والے ملک کے دشمن نہیں، اس قوم کا قابل احترام حصہ ہیں۔ سول سوسائٹی کے ساتھ معاندانہ رویہ ختم کرنا چاہیے۔ تیسری اہم گزارش یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان ہمارے لیے امید کا سب سے بڑا سرچشمہ ہیں اور ہماری ممکنہ تباہی بھی اسی اشاریے سے منسلک ہے۔ ہمارے پاس دنیا کی نوجوان آبادی کا بہت اہم حصہ ہے۔ اگر ہم اسے تحقیقی ، پیداواری اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے والی تعلیم دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہماری قوم عظمتوں کو چھو سکتی ہے۔ اگر ہم اس شعبے میں غفلت کریں گے تو دس کروڑ لوگ سرے سے ناخواندہ ہیں اور تعلیم یافتہ طبقے کی اہلیت قابل مسابقت نہیں ہے۔ ہمارے لیے معیشت اور معاشرت میں بہت مشکل پیدا ہو جائے گی۔ آئین کی شق 25 الف میں ریاست نے ہر شہری کے لیے بنیادی تعلیم کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ضروری ہے کہ بنیادی تعلیم کے اس تصور کی صراحت کی جائے۔ عصری علوم سے جھگڑا کر کے ہم علم کے میدان میں مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں تعلیم کو بنیادی قومی ترجیح بنانا چاہیے۔ سڑکوں ، بندرگاہوں اور عمارتوں کی تعمیر خوش آئند ہے لیکن تعلیم کو ہم نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ قومی ایکشن پلان کے اہداف تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان کے بچوں کی معیاری تعلیم ہماری پہلی اور آخری ترجیح ہونی چاہیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔