وقت کی رفتار…. کون ستارے چھو سکتا ہے؟


\"\" ناصر کاظمی نے کہا تھا:

یہ صبح کی سفیدیاں، یہ دوپہر کی زردیاں

اب آئنے میں دیکھتا ہوں، میں کہاں چلا گیا

ایک او ر سال گزر گیا، کیلنڈر پر تاریخ بدل جائے گی۔ کیا وقت کی اس گردش میں ہمارے فائدے کا بھی کوئی سامان ہے یا اس میں زیاں ہی زیاں ہے؟ وقت کے تغیر و تبدل سے ہمیں نقصان کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ مشرق ہو یا مغرب، انسانوں کی بڑی تعداد حرکت و تغیر سے خائف رہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

انسان کے حرکت و تغیر سے خائف ہونے کے متعدد شعوری اور غیر شعوری اسباب ہیں اس لیے اس کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس حرکت کو فریب یا غیر حقیقی ثابت کر دیا جائے۔ انسان کا یہ خوف اس قدر قدیم ہے کہ اکثر زبانوں کے محاوروں میں بھی سرایت کیے ہوئے ہے۔ ان محاوروں میں جدت کی مذمت اور قدامت کی تعریف اسی لوک دانش کا اظہار ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ زمان و مکان کے متعلق انسانی رویہ بالکل متضاد ہے۔ جب ہم مکان پر غور کرتے ہیں تو مکان میں وسعت کو ہم اپنی فتح گردانتے ہیں۔ جیسے جیسے مکان کی حدیں پھیلتی چلی جاتی ہیں انسان اسے نمو اور ترقی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ جہتِ مکان کے پھیلاؤ سے ہمیں خوشی اور مسرت کا احساس ہوتا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس صورت میں کچھ حاصل کیا ہے۔ مگر وقت کے بارے میں انسانی رویہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ وقت ہمیں گزرتا محسوس ہوتا ہے اور ہر گزرنے والا لمحہ کسی نقصان کا احساس دلاتا ہے۔ وسعت پذیر مکان ہمیں مالامال کرتا جبکہ گزرتا وقت ہمیں تہی دست کرتا نظر آتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ آنے والے لمحے میں ہمیں کوئی نئی چیز دستیاب ہو جائے مگر یہ نئی چیز بھی اپنی اجنبیت کی بنا پر نامانوس معلوم ہوتی ہے اور اس کے بارے میں بھی چھن جانے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔ گزرتے وقت کے اسی خوف نے انسانوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کوئی ایسا طریقہ دریافت کریں جس کی مدد سے وہ وقت کی اس بے پایاں رفتار کو تھام سکیں۔ چنانچہ فکری سطح پر اصحاب دانش نے بہت پیچیدہ دلائل کی مدد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وقت کا بہاؤمحض سراب اور فریبِ نظرہے اور ان ظاہری تغیرات کے پیچھے وقت ساکن ہے اور ایک غیر متغیر حقیقت ہے۔ مذہبی اور فلسفیانہ فکر کا غالب حصہ یہ ثابت کرنے پر صرف ہوا ہے کہ تغیر غیر حقیقی اور سکون ہی اصل حقیقت ہے۔ زمانہ قدیم کے انسانوں نے لاشوں کو حنوط کرکے اور عالی شان مقابر تعمیر کرکے وقت کے اسی سیلابِ بلاخیز کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

افلاطون سے لے کر مارکس تک سیاسی اور سماجی فلسفیوں کے نزدیک انسانی فوز و فلاح کا راستہ یہی ہے کہ کوئی ایسا طریقہ وضع کیا جائے جس کے ذریعے وقت کی اس پیہم رفتار پر قابو پایا جا سکے۔ افلاطون نے وقت کی رفتار کو تھامنے کی غرض سے مثالی ریاست کا تصور پیش کیا۔ مارکس کا خیال تھا کہ اس نے ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کی مدد سے یہ معمولی تغیرات ایک ایسی انقلابی تبدیلی کو جنم دیں گے جس کے بعد کوئی اور تبدیلی نہیں آئے گی اور نوعِ انسانی اس کے بعد کشاکش سے نجات پا کر ایک غیر طبقاتی معاشرے میں سکون کی حالت میں زندگی بسر کرے گی۔ ان تمام فلسفوں کے باہمی اختلافات سے قطعِ نظر یہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی مسرت کا دارومدار حرکت و تغیر کی نفی اور سکونی حالت کے حصول پر ہے۔

وقت کے اسی خوف نے انسانوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اس بدلتی ہوئی کائنات کے اندر کوئی ایسا گوشہ عافیت تلاش کریں جہاں سکون کی حکمرانی ہواور وقت کی گردش اسے تہہ و بالا نہ کر سکے۔

افلاطون سے لے کر عصرِ حاضر کے متعددسیاسی اور سماجی مفکرین کی فکری تگ و تاز کا محور یہی رہا ہے کہ کسی طرح اس زمین پر اس گم گشتہ جنت کو دوبارہ تخلیق کیا جائے جہاں انسان خوف اور حزن سے بے نیاز ہو کر امن اور سکون سے زندگی بسر کر سکے۔ کیونکہ جنت کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ وقت کی دست برد سے ماورا ہے۔ انسانوں کی سکون اور تحفظ کی اس بے پایاں طلب نے اگرچہ انہیں بے پناہ مصائب سے دوچار کیا ہے مگر وہ پھر بھی اس فریب میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں کہ وہ اس زمین پر جنت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ حالانکہ افلاطون سے لے کر بیسویں صدی کے اختتام تک ہونے والی ان تمام کوششوں سے اور ان کی ناکامی سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ زمین پر جنت تعمیر کرنے کا ہمارا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ البتہ ان کوششوں کے نتیجے میںہم ہر بار اپنے لیے ایک نیا اور زیادہ ہولناک جہنم ضرور بنا لیتے ہیں۔

وقت کو یعنی ماضی، حال اور مستقبل کو حقیقت پسندی کی مکمل روح کے ساتھ حقیقی نہ سمجھنا محض ایک فلسفیانہ مغالطہ ہی نہیں بلکہ خطرناک مضمرات کا بھی حامل ہے۔ اس دنیا میں انسانی زندگی خوفناک اور ہلاکت آفریں خطرات سے دوچار ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ماضی بہت حسین اور دلکش نہیں تھا، مگر یہ اخلاقی غیر ذمہ داری کی انتہا ہو گی اگر ہم ان تمام خطرات کو فریبِ نظر قرار دے کر نظر انداز کرنے کی کوشش کریں اور ان خطرات کے پیش کردہ چیلنج کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بہتر مستقبل کی تشکیل کی اخلاقی ذمہ داری سے گریز کی راہ اختیار کریں۔ اس دنیا میں انسانی مقدر یہی ہے کہ وہ جنت ہم سے ہمیشہ کے لیے چھن چکی ہے اور اس دنیا میں ہم اسے دوبارہ کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔ البتہ ان کوششوں کے نتیجے میں وہ سب کچھ ضرور برباد ہو سکتا ہے جو انسانوں نے ایک بڑی صبر آزما اور جان لیوا جدوجہد سے حاصل کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ انسانی سماج کو غربت، افلاس، جہالت، انتہا پسندی اور جنگ کے مصائب کا سامنا ہے اور یہ مسائل ہماری فوری توجہ کے مستحق ہیں مگر یہ کہنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہو گا کہ انسانی سماج نے اپنے تہذیبی سفر میں چونکہ کوئی پیش رفت نہیں کی اس لیے ہمیں ماقبل تہذیب کے رومانی دور کی طرف پلٹ جانا چاہیے۔ اگر ہم نے رجعت کا یہ سفر ایک بار شروع کر دیا تو پھر ماقبل تہذیب کا دور نہیں بلکہ حیات انسانی سے قبل کا حیوانی دور ہمارا مقدر ہو گا۔ اگر ہم اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کا پاس نہیں کریں گے تو ایسا ہونا بعید از قیاس بھی نہیں۔ تہذیب کے کارواں کے لیے ہرگز لازم نہیں کہ وہ آگے کی جانب ہی سفر کرتا رہے گا۔ تہذیبی ترقی کوئی قانونِ فطرت نہیں؛ اس کا دار و مدار تو انسانی سعی و کاوش پر ہے۔ ہم حیوانی دور کی طرف رجعت کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں تاہم انسانی تہذیب کے تحفظ اور اسے آگے بڑھانے کا ایک وہ راستہ ہے جسے کارل پوپر نے کھلے معاشرے ( Open Society) کا نام دیا ہے۔

 یہ کائنات اپنی استقبالی جہت میں کھلے امکانات کا نام ہے جس میں وقت کا تیر ایک ہی سمت میںناقابلِ رجعت صورت میں پرواز کر رہا ہے۔ ہمیں وقت کی اس رفتار کے ساتھ زندہ رہنے کا سبق سیکھنا ہے۔ اس صورت میں ہمیں بڑے عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مگر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ حافظ شیرازی کی بات سو فیصد درست ہے کہ بنیادِ عمر ہوا پر ہے، مگر اس حقیقت سے فرار کے لیے بادہ میں پناہ لینے کے بجائے ہمیں پورے شعور کے ساتھ اسے قبول کرناپڑے گا۔ نامعلوم، غیر یقینی، اور غیر محفوظ مستقبل کی جانب اس سفر کو جاری رکھنا ہماری اخلاقی ذمے داری ہے اور ہم اپنی عقل کی مدد سے اپنے لیے کسی حد تک تحفظ اور آزادی کا سامان بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

وقت کے سیل رواں پر خس و خاشاک کی طرح بہنے کی بجائے علم کی کشتی پر سوار ہو کر اپنے سفر کو کسی قدر محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ مگر اس کشتی کی ہمہ وقت دیکھ بھال بھی کرنا پڑتی ہے اور اسے بہتر بھی بنانا پڑتا ہے۔ ماضی کے کسی لمحے میں عطا ہونے والے یا حاصل کیے جانے والے علم کو آیندہ تمام زمانوں کے لیے کافی سمجھنا تباہی کا ایک بہت آزمودہ نسخہ ہے۔ اقبال کا تو کہنا ہے کہ یہ کائنات ہر لمحہ اور ہر لحظہ تخلیق ہو رہی ہے۔ اس نئی کائنات کی جانکاری نئے علم سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ ماہ و سال کی یہ گردش اسی طرح جاری رہے گی مگر اس میں انسان دوستی کا حق وہی ادا کریں گے جو علم کی تخلیق اور افزائش میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔