عبیداللہ سندھی: شخصیت پرستی اور مذہبی تعصب کے ناقد


\"\"مولانا سندھی کے افکار ونظریات کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ وہ جہاں جمہوری قدروں اجتماعیت اور اداروں کی بالادستی کا پر چار کرتے ہیں اور معاشرے میں انقلابی تبدیلی کے لئے جمہوری سیاسی جماعت کو ضروری سمجھتے ہیں وہاں وہ انفرادیت پسندی اور شخصیت پرستی کو اجتماعی جمہوری رویوں کے منافی سمجھتے تھے۔ اگرچہ ان کی اپنی شخصیت ہندوستان کی تحریک آزادی کے حوالے سے قربانیوں اور ان تھک جدو جہد کی عمدہ مثال ہے اورعلمی حیثیت سے لے کر سیاسی بصیر ت اور مذہبی تشخص سے لے کر عملی طور پہ قربانیوں اور مشقتوں تک، ہر حوالے سے وہ کسی سے کم نہ تھے۔ اپنے پیرو کاروں اور چاہنے والوں کے اصرار کے باوجود کبھی انہوں نے اپنی ذات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا، بلکہ انہوں نے ہمیشہ جماعت کی طرف بلایا۔ جماعتیں بنانے کی تلقین کی ہے۔ جماعت بندی کے فوائد بیان کئے اور شخصیت پرستی اور انفرادیت کے روگ سے نکلنے کا راستہ بتایا ہے۔ اجتماعی نقطہ نظر اپنانے کی دعوت دی ہے۔ اگر ان کی تفسیر سے لے کر سیاسی مقالات تک کا تجزیہ کیا جائے جہاں بھی نظرجاتی ہے۔ انہوں نے شخصیت پرستی اور انفرادیت کی بجائے اجتماعیت اور اجتماعی جدو جہد کی فکر پیش کی ہے۔ شخصیت پرستی سے اجتناب کے حوالے سے آپ کے شاگرد پرو فیسر سرور ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں

’’یہ 1942ء کا ذکر ہے۔ مولانا سندھی لاہور آئے ہوئے تھے اور مولانا احمد علی لاہوری صاحب کے ہاں قیام فرما تھے۔ ظہیر الدین صاحب جنہوں نے انہی دنوں مولانا سندھی کی ایک کتاب شائع کی تھی اور راقم الحروف نے ا صلاح کی کہ مولانا کی ایک بڑے سائز کی تصویر تیار کرائی جائے جس کے نیچے علامہ اقبال کے ’’مثنوی پس چہ باید کرد‘‘میں ’’مرد حر‘‘کے عنوان سے جو اشعار ہیں، ان میں سے چند شعر دئیے جائیں، اور تصویر کی اشاعت کی جائے، ہم دونوں اجازت لینے خدمت میں حاضر ہوئے، مولانا کی طبیعت ناساز تھی، بخار تھا اور ساتھ ہی بڑے زور کی کھانسی آ رہی تھی۔ اس کے باوجود سلسلہ گفتگو شروع ہو گیا۔ اسی کے دوران میں ظہیر صاحب نے بڑی عقیدت و انکسار سے اس خیال کا اظہار کیا اور آپ سے اجازت چاہی۔ یہ سننا تھا کہ مولانا بگڑ گئے اور بڑے جوش میں کہنے لگے کہ میں اپنی تصویر ان اشعار کے ساتھ شائع کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دوں گا۔ مسلمانوں کے دماغ میں یہ خیال راسخ ہو گیا۔ کہ قوم کو پستی سے نکالنے کے لئے کوئی غیر معمولی شخصیت چاہئے اور ضروری ہے کہ یہ شخصیت اعلیٰ طبقے سے آئے۔ امام مہدی کا تصور دراصل اسی غلط ذہنیت کا آئینہ دار ہے۔ بدقسمتی سے ڈاکٹر اقبال بھی اسی غلط فہمی کا شکار رہے۔ یہ تصور بڑا مضرت رساں ہے اس سے قوم میں اپاہج پن پیدا ہوتا ہے اور وہ کسی آنے والے کے انتظار میں ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہتی ہے۔ میں اس ذہنیت کو ختم کرنا چاہتا ہوں میری کوشش یہ ہے کہ قوم یہ سمجھے کہ غریب، بے کس، غیر معروف اور غیر خاندانی طبقوں سے بھی مصلح اور قائد پیدا ہو سکتے ہیں ضروری نہیں کہ یہ سادات میں سے ہوں، یا ان کا خاندان صدیوں سے ممتاز چلا آتا ہو۔ اشراف پسندی کی اس ذہنیت نے مسلمانوں کو مفلوج کر رکھا ہے میں اس کا سخت مخالف ہوں۔ ‘‘

مولانا سندھی اپنی ذات کے حوالے سے مبالغہ آرائی کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ پروفیسر سرور لکھتے ہیں

’’طویل جلاوطنی کے بعد جب آپ واپس وطن آ رہے تھے تو اخبارات میں آپ کے بارے میں مضامین چھپے، روزنامہ ’’زمیندار‘‘لاہور کے \"\"ایک مضمون میں یہاں تک لکھا گیا کہ مولانا ایک ممتاز خاندان کے فرد تھے ان کی ابتدائی تعلیم اعلیٰ پیمانے پر ہوئی۔ اور یہ جب آپ ماسکو گئے تو لینن کی بیوی آپ کے وضو کے لئے پانی گرم کرتی وغیرہ وغیرہ۔ مولانا نے مکہ ہی سے روزنامہ انقلاب کو ایک مضمون بھیجا جس میں لکھا کہ میری شخصیت، ابتدائی تعلیم اور عام حالات میں اس قدر فاش غلطیاں موجود ہیں کہ میں بدوں شرم محسوس کئے پڑھ نہیں سکتا۔ اس مضمون میں اپنے حالات زندگی کے ذیل میں لکھا میں میں ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں (چیاں والی)میں پیدا ہوا، ہمارے خاندان کا اصل پیشہ زر گری ہے لیکن عرصے سے ایک حصہ سرکاری ملازمت میں شامل ہو گیا اور بعض افراد ساہو کارہ کرتے رہے۔ ‘‘

مولانا سندھی شخصیت کی بجائے جماعت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں

’’شخصیت کا کمال ہوتا ہے لوگ بعد میں اس کمال کو چھوڑ دیتے ہیں اور شخصیت کو سب کچھ بنا لیتے ہیں۔ اس سے اس شخص کے خاندان اور پھر اس کی قوم کا خصوصی امتیاز پیدا ہو جاتا ہے، جیسا کہ یہودیوں اور مسلمانوں میں ہوا کہ وہ بحیثیت یہودی اور مسلمان اپنے آپ کو باقی سب قوموں سے افضل اور برتر سمجھنے لگی اس قسم کی شخصیت کو توڑنے کی ضرورت ہے خواہ وہ قومی شخصیت ہی کیوں نہ ہو اس لئے میں شخص کی بجائے پارٹی کو اہمیت دیتا ہوں اور ایک شخص کے کام کو اس ساری جماعت کا کام سمجھتا ہوں جس کا سردار قائد ہوتا ہے۔ ‘‘

مزید بیان کرتے ہیں

’’میں اپنی شخصیت کے ارد گرد کسی قسم کی خاندانی یا روایتی عظمت کا ہالہ نہیں دیکھنا چاہتا، میری دلی خواہش یہ ہے کہ لوگ مجھے عوام میں سے ایک فرد سمجھیں تاکہ اگر میرے خیالات اور کاموں میں انہیں کوئی بڑائی ملے تو انہیں یہ احساس ہو کہ ان کے طبقے میں سے بھی ایسے افراد پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے قو م کے پس ماندہ اور نچلے طبقوں میں خود اعتمادی و ہمت پیدا ہو گی۔ ‘‘

شخصی آمریت کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے اپنا نقطہ نظر اس طرح بیان کرتے ہیں

’’چونکہ پارٹی کے وجود میں آئیڈیا IDEA قاہر (غالب ومقدم) ہوتا ہے۔ اور اشخاص منقہر (مغلوب وتابع) اس لئے میں اسلام کو وما انا علیہ یاصحابی مانتا ہوں۔ میں شخصی آمریت کا سخت مخالف ہوں۔ شخصی آمریت کے معنی یہ ہیں کہ میں اپنی ذات کو فنا کر دیتا ہوں۔ ہاں میں جماعتی آمریت (پارٹی ڈکٹیٹر شپ) کا حامی ہوں کیونکہ اس میں مجھے اس کی توقع رہتی ہے کہ میں بھی کبھی نہ کبھی اس میں شریک ہو سکوں گا۔ ‘‘

مولانا سندھی کے درج بالا اقوال کے تناظر میں آج معاشرے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، کہ کس طرح شخصیات کو مقدس بنا کر، ان کو انفرادی \"\"سطح پہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا، شخصیت کے طلسم میں ڈبو کرنوجوانوں کو اجتماعی جدو جہد کی تربیت سے دور کر دیا جاتا ہے۔ انہیں شخصیت کا معتقد بنانے میں سارا زور صرف کی جاتا ہے، جماعت کو اولیت دینے کی بجائے شخصیت کو اولیت دی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جماعتوں کے اندرونی نظام میں باوجود ترقی پسندی کے دعوؤں کے انتہائی درجے کی آمریت موجود ہوتی ہے۔ کارکن تقدس کے بوجھ تلے دب کر اپنے سوچنے کی صلاحیتوں سے محروم کر دیا جاتا ہے، اس سے جرات سوال چھین لیا جاتا ہے۔ یوں جمہوری انقلاب کی داعی پارٹیوں کے اندر غیر جمہوری رویے پرورش پاتے ہیں اور وہ کسی بھی اجتماعی تبدیلی کے لئے ایک فعال جمہوری تنظیم بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ لہذا اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شخصیت پرستی کے نتیجے میں سیاسی سطح پہ شاہ پرستی یا خلیفہ پرستی کا ذہن پیدا ہوتا ہے جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ جمہوری طرز فکر و عمل کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔ مسلمان معاشروں کی اس ذہنیت کے بارے میں مولانا سندھی کہتے ہیں

’’میری قوم کے دماغ میں شاہ پرستی گھسی ہوئی ہے۔ ہمارا مذہب ہمارے علوم و افکار ہمارا سماج، ہماری سیاست غرض ہماری پوری زندگی شاہ پرستی سے متاثر ہے۔ بے شک اب ہمارے ہاں بادشاہ نہیں رہے لیکن ہماری شاہ پرست ذہنیت نے ان کی جگہ نوابوں، راجاؤں، پیروں، بزرگوں استادوں یہاں تک کے سیاسی لیڈروں کو بادشاہ بنا لیا ہے۔ ‘‘

یہاں شاہ پرستی اور خلیفہ پرستی سے مراد ایسا ماحول ہے جہاں کسی فرد واحد کو مقدس حیثیت دے دی جائے اور کوئی بھی فرد یا ادارہ اس کی بات سے اختلاف رائے کرنے کی جرات نہ کر سکے، اور ہر حال میں اس کے حکم اور رائے کو تسلیم کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا پابند ہو جائے۔ اور اس کی رائے پہ تنقید یا اس پہ سوال اٹھانے والا قابل تعزیر اورمذمت سمجھا جائے۔ اور ایک طرح کی شخصی آمریت پیدا ہو جائے۔ مولانا سندھی اس شاہ پرستی سے نکلنے کا واحد حل یہ بتاتے ہیں کہ جمہوری نظام کے لئے ا فراد معاشرہ تیار ہو سکیں۔ اس حوالے سے مولانایورپی جمہوری نظام سے استفادہ کی تلقین کرتے ہیں تاکہ مروجہ ذہنیت سے چھٹکاراپا یا جا سکتا ہے۔ اس پہ روشنی ڈالتے ہوئے مولانا سندھی کہتے ہیں\"\"

’’مسلمان یورپین ازم کو اختیار کئے بغیر شاہ پرستی کے چنگل سے نہیں نکل سکی گے۔ یورپینزم کا پہلا اثر تو یہ ہو گا کہ لوگ ووٹ کی حکومت کی اہمیت کو سمجھیں گے، ووٹ کے معنی یہ ہیں کہ جس کو میں اپنا ووٹ دوں، وہی میرا حاکم ہو گا، یعنی حکومت کسی شاہی خاندان کی نہیں جو پہلے سے چلا آتا ہے۔ بلکہ ووٹ ڈالنے والے کی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میری قوم جلد سے جلد یورپینزم کو اپنائے تاکہ وہ شاہ پرستی کی اس دلدل سے نکل سکے۔ شاہ پرستی کی ذہنیت کو چھوڑے بغیر قوم کی ترقی ممکن نہیں۔ ‘‘

مولانا سندھی شاہ پرستی اور شخصیت پرستی کو اداروں میں جمود کی واحد وجہ قرار دیتے ہیں، اس کے مقابلے میں حقیقی جمہوریت کو وہ جدید ترقیات کے لئے واحد حل تجویز کرتے ہیں جس سے جدید ٹیکنالوجی کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ مولانا انتہائی درد مندی سے کہتے ہیں

’’جب میں انجن اور ہوائی جہاز کو دیکھتا ہوں تو یہ جان کر کہ میری قوم نے اس کو نہیں بنایا، میرے اندر آگ لگ جاتی ہے، جو قوم ہوائی جہاز اور نجن سے غافل ہے وہ قوم مردہ ہے، بے جان ہے۔ جب تک ہم اپنے شاہ پرستانہ سماج کو جو اب فرسودہ ہو چکا ہے ختم نہیں کریں گے اور یورپین انداز پر اس کی تعمیر نو نہیں کریں گے ہمارا کوئی مستقبل نہیں، یہ دور مشین کا ہے۔ اور مشین کے لئے نیا سماج چاہئے، پرانا سماج اور نئی مشین ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ‘‘

\"\"یہاں مولانا جمہوریت اور مشین کا آپس میں تعلق بیان کرتے ہیں۔ درا صل تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مشین کی ایجاد نے ہی جمہوریت کو جنم دیا، جو معاشرے ٹیکنالوجی میں آگے بڑھیں گے وہاں لا محالہ جمہوری نظام تقویت پائیں گے، لہذا یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور جمہوری نظام کا قیام ہی فی زمانہ قومی ترقی کے لئے اہم ترین حکمت عملی ہونی چاہئے۔

مولانا سندھی شخصیت پرستی اور انفرادیت کے روگ میں مبتلا ہونے کے حوالے سے تاریخ کا تجزیہ کرتے ہوئے خصوصاً اسلامی تاریخ کو موضوع سخن بناتے ہیں۔ اور اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ کس طرح سے انفرادیت پرستی اور شخصیت پرستی کے روگ نے مسلمان معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور آج تک معاشرہ اسی روگ میں مبتلا ہو کر زوال کا شکار ہے مولانا بیان کرتے ہیں

’’بدقسمتی سے ایک طویل زمانے سے ہمارے اہل علم تاریخ کو انفرادی نقطہ نظر سے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ یہ مرض ہمارے ہاں ظالم بادشاہوں کے دور کی یادگار ہے، جبر (ظلم)کا یہ لازمی نتیجہ ہوتا ہے کہ جماعت کی بجائے فرد پر زور دیا جاتا ہے۔ اور تاریخ کے اتار چڑھاؤ اور واقعات کے تغیر وتبدل کو اجتماعی قوموں کی بجائے چند اشخاص پر محمول کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہماری تاریخ کی کتابیں قوموں کی مجموعی زندگی اور ان کے ارتقاء و زوال پر بحث کرنے کی بجائے بادشاہوں اور ممتاز افراد کے حالات کی کھتونیاں (بہی کھاتے)بن گئی ہیں۔ انفرادیت پسندی کا یہ رحجان ہے جس نے ہمارے اہل علم کو اس طرف ڈال دیا ہے کہ وہ اسلام کی اجتماعی قوت کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور ان کا سارا زور افراد کی شخصیتوں کو اجاگر کرنے میں لگ جاتا ہے۔

چنانچہ قوموں کی زندگی اور ان کی ترقی میں جماعت کو جو اہمیت حاصل ہے ہمارے اہل علم اس پر بحث کرنا ضروری نہیں سمجھتے، مثال کے طور پر جب وہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت لکھنے بیٹھتے ہیں تو مکے کی اجتماعی زندگی، قریش کا قومی نظم و نسق، قصی کے عہد سے قریش کی تنظیم و توسیع کے حالات جن کا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور آپ اور آپ ﷺ کے مشن سے بہت گہرا تعلق ہے، وہ ان باتوں کو پیش نظر نہیں رکھتے ان کے ہاں نبی اکرم ﷺ کی نبوت اور رسالت پر صرف اس طرح غور کیا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ ساری نسل انسانی میں ایک مکمل اور برتر انسان پیدا کرے وہ فرد فرید اور بے مثال شخصیت آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس ہے اور بس ہر عالم کے سامنے سیرت نبوی ﷺ کا بس یہ موضوع ہوتا ہے۔ جسے وہ اپنی علمی استعداد اور مخصوص فکری رحجان کے مطابق پیش کرتا ہے۔ چناچہ صرف اس طرز پر ہمارے ہاں بڑی کثرت سے سیرت کی کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ ہم نے جب سے یورپ کی سیاست کا براہ راست مطالعہ شروع کیا ہے ہمیں اس انسانی اجتماعی کے ساتھ ساتھ جو سر مایہ دارانہ نظام کی پیداوار تھا، اس اجتماع کو دیکھنے اور سمجھنے کا بھی پورا موقع ملا ہے جو اب محنت کش طبقے بنا رہے ہیں۔ ‘‘

مولانا سندھی سیاسی جمود کا شکار معاشرے کو متحرک دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ یہ سیاسی جمود اس وجہ سے بھی تھا کہ معاشرے میں \"\"شخصیت پرستی کی بیماری انتہا کو پہنچی ہوئی تھی، اجتماعی جدو جہد کی بجائے۔ کسی شخصیت کی آمد کے انتظار میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھنے میں عادت پر چکی تھی۔ اور خاص طور پہ آج بھی اس کے مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں۔ ہندوستان کے غلام معاشروں میں مسلمانوں کا یہ عقیدہ بن گیا ہے کہ کوئی امام مہدی آئے گا اور ان کے حالات بدلے گا۔ یا کوئی صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان، محمد بن قاسم آئے گا اور انہیں ذلت کی زندگی سے نجات دلائے گا۔ یعنی خود مل جل کر حالات سے نکلنے کی اجتماعی سکیم بنانے کی بجائے کسی مصلح یا نجات دہندہ کا عقیدہ اس قدر مضبوط ہے کہ پورا معاشرہ سیاسی فرسودگی اور طبقاتی کشمکش کا شکار نظر آتا ہے۔ نیز سر مایہ دار اور جاگیردار طبقات، معاشرے کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھانے کے لئے ان کے اندر اس نظرئیے کو اور مضبوط کرتا ہے تاکہ معاشرے میں عوامی سطح پہ کوئی تحریک یا تنظیم نہ بننے پائے اور یوں ہی خوش عقیدگی میں مبتلا رہ کر ذلت اور غلامی پہ قناعت کئے رکھیں۔ مولانا سندھی اس ذہنیت کے سخت مخالف تھے اور وہ چاہتے تھے کہ خاص طور پہ مسلمانوں کے اندر سے یہ خامی دور ہو جائے اور وہ حقیقت پسند ہو کر عصری تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے اجتماعی جدو جہد کو اختیار کریں اور اپنے سیاسی زوال کو عروج اور ترقی میں بدل دیں۔ مولانا کہتے ہیں

’’ہمارے ہاں بعض ایسے لوگ موجود ہیں جو قومی تحریک کا نام سن کر گھبراتے ہیں، یہ ان کی موروثی عالی ظرفی کا نتیجہ ہے مگر آج کے حالات میں وہ جس طرح مبتلا ہو چکے ہیں اس پر اپنی بصیرت سے غور کر کے اپنے لئے پروگرام نہیں سوچتے۔ دوسروں کے کہنے سے کوئی بات مان لیتے ہیں یا کسی مذہبی مصلح کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ ان کی بری حالت ہے، باوجود عالی دماغ ہونے کے عملاً گر چکے ہیں۔ اس قسم کی جماعت کو قرآن میں مغضوب علیہم کہا گیا ہے۔ ‘‘

عصر حاضر میں مسلمان معاشرے اس قسم کی نفسیاتی صورتحال سے دوچار ہونے کی وجہ فکری و عملی زوال کا شکار ہو چکے ہیں۔ عبید اللہ سندھی کی اس فکر کا مطالعہ شاید ان مشکلات سے عہدہ برآ ہونے میں کچھ مدد کر سکے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمد جاوید کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر محمد جاوید کی دیگر تحریریں

One thought on “عبیداللہ سندھی: شخصیت پرستی اور مذہبی تعصب کے ناقد

  • 31-12-2016 at 9:11 pm
    Permalink

    یہ یاد دلانا بھی شاید ضروری ہو کہ مولانا نو مسلم تھے۔ کسی کی تبلیغ سے نہیں بلکہ اپنی فکر سے مسلمان ہوئے تھے، اور مسلمان ہوجانے کے بعد بھی ایک زمانے میں انکی سکھ والدہ انکے ساتھ رہیں اور اپنے مذہب پر قائم رہیں۔ مولانا کا کہنا ہے، “میں مسلمان ہوگیا تو اسکے یہ معنی نہیں کہ مجھے اپنے خاندان سے محبت نہیں رہی۔ مسلمان ہونے کے بعد میری والدہ میرے ساتھ رہی اور میرے دل میں اب تک یہ حسرت ہے کہ میں اپنی والدہ کی خدمت نہیں کرسکا۔” کاش کوئی پبلشر سندھ ساگر اکادمی کے تمام مطبوعات کے نئے، اچھے اور کم قیمت ایڈیشن شائع کر دیتا۔

Comments are closed.