سالِ رفتہ کا ماتم


\"\"

آج 2016ء کا آخری دن ہے۔ گزشتہ دنوں پر نگاہ ڈالتا ہوں تو خیال ہوتا ہے کہ وقت جیسے تھم سا گیا ہو۔ جو رونا سال کے آغاز میں تھا، وہی اختتام پر بھی ہے۔ دکھ یہ ہے کہ احساسِ زیاں بھی نہیں۔
میں ٹی وی دیکھنے سے گریز کرتا ہوں۔ خبریں سن لیتا ہوں اور وہ بھی سرخیوں کی حد تک۔ اس سے زیادہ کی ہمت نہیں ہوتی۔ 29 دسمبر کی رات نو بجے ٹی وی کھولا۔ خبریں شروع ہوئیں تو سر پیٹنے کو دل چاہا۔ بزعمِ خویش، اپنی بڑائی کا اعلان کرنے والا چینل سامنے تھا۔ سب سے پہلی خبر یہ تھی کہ خواتین کرکٹ ٹیم کے کوچ نے ایک سابق کھلاڑی کو تھپڑ رسید کر دیا۔ پس منظر میں ایک بھارتی فلم کا ڈائیلاگ مسلسل چل رہا تھا۔ دوسری خبر تھی کہ کیسے ایک باکسر کے گھر میں، نند بھابھی کی لڑائی نے ایک نیا موڑ لے لیا۔ یہ قومی خبرنامہ تھا اور میں حیران پریشان سوچ رہا تھا کہ کیا آج کی اہم ترین خبریں یہی ہیں؟ ساتویں یا آٹھویں خبر یہ تھی کہ حلب میں روسی جہازوں نے ایک سکول پر حملہ کیا جس میں بچوں سمیت چالیس انسانوں کی جانیں چلی گئیں۔
میں یہ باور نہیں کر سکتا کہ چینل میں بیٹھے لوگ خبر کی تعریف سے ناواقف ہیں۔ ایک عامی جس کو صحافت یا میڈیا کی ہوا بھی نہیں لگی، یہ جانتا ہے کہ خبر کس کو کہتے ہیں۔ کیا کوئی آدمی بقائمیء ہوش و حواس یہ کہہ سکتا ہے کہ 29 دسمبر کی سب سے اہم قومی یا بین الاقوامی خبر یہی تھی‘ ایک کوچ نے ایک سابق کرکٹر کو تھپڑ رسید کر دیا؟ کیا کسی زاویے سے اسے ذمہ دارانہ صحافت کہا جا سکتا ہے؟ اگر یہ صحافت ہے تو تماش بینی کیا ہے؟ ایک باکسر کی نجی زندگی کو اس طرح اچھالنا کیا صحافت ہے؟ کیا صحافت کسی اخلاقیات کی پابند نہیں ہو تی؟ خبروں کی اس ترتیب کی کیا کوئی اخلاقی یا پیشہ ورانہ توجیہ کی جا سکتی ہے؟
میڈیا کا دعویٰ ہے کہ وہ ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ میرا کہنا ہے کہ میڈیا دراصل ایک سماجی ادارہ ہے۔ یہ ایک جدید ادارہ ہے جس کا اصل کام سماج کی تطہیر اور اصلاح ہے۔ قدیم روایتی سماجی اداروں میں خاندان، چوپال، مسجد، مکتب، معبد شامل ہیں جو فرد کو ایک نظام اقدار کا پابند اور سماج کا مفید شہری بناتے تھے۔ تمدن کے ارتقا نے جن نئے اداروں کو جنم دیا، ان میں پہلے اخبارات و رسائل تھے اور بعد میں ٹی وی بھی ان کی فہرست شامل ہو گیا۔ ہمارا ایک قومی المیہ یہ ہے کہ نہ قدیم ادارے اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں اور نہ جدید۔ والدین سے لے کر ٹی وی چینل کے مالکان تک، سب نے انسان کو ایک اخلاقی وجود کے بجائے ذرائع پیداوار میں سے ایک ذریعہ سمجھ لیا ہے۔
والدین کی ساری توجہ اس پر ہے کہ بچے کے گریڈ اچھے آ جائیں۔ اسے کسی ایسے تعلیمی ادارے میں داخلہ مل جائے جس کی ڈگری کی ایک کاروباری قدر (Commercial Value) ہو۔ اس کی بنیاد پر وہ زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی مشین بن سکے۔ تعلیم کا واحد مقصد ان کے نزدیک یہی ہے۔ وہ اولاد کی تعلیم پر \’سرمایہ کاری‘ کرتے ہیں تا کہ مستقبل میں اس سے منافع کمایا جا سکے۔ بچہ ان کے نزدیک ایک فیکٹری کی مثل ہے۔ جس طرح فیکٹری ان کے خیال میں کسی اخلاقیات کی پابند نہیں ہوتی، اسی طرح بچے کو کسی اخلاقی تعلیم کی حاجت نہیں۔ والدین سکول کالج سے صرف یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے بچے کے نمبر اچھے آتے رہیں۔ انہیں اس سے رتی برابر دلچسپی نہیں کہ تعلیمی ادارہ ان کے بچے کی اخلاقی تربیت کا کتنا اہتمام کرتا ہے۔
ہماری روایت میں والدین کا کردار یہ نہیں تھا۔ وہ اپنی اولاد کو اچھا انسان بنانے کو اپنی اولیں ذمہ داری سمجھتے تھے۔ علامہ اقبال نے \’\’رموزِ بے خودی‘‘ میں اپنے بچپن کا ایک واقعہ لکھا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ عنفوانِ شباب کے دنوں میں ان کے گھر کے باہر ایک فقیر نے صدا لگائی۔ اسے بارہا کہا گیا مگر اس نے جانے کا نام نہ لیا۔ اس کے اس بے جا اصرار پر اقبال کو غصہ آ گیا۔ جوش جوانی میں اٹھے اور اسے لاٹھی دے ماری۔ اس نے بھیک سے جھولی میں جو کچھ جمع کر رکھا تھا، گر کر بکھر گیا۔ اقبال کے والد یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ انہیں بہت صدمہ پہنچا۔ ان کی آنکھ سے آنسو نکلے اور پلکوں پر چمکنے لگے۔ اقبال نے دیکھا، مضطرب ہوئے اور یہ چاہا کہ اپنی حرکت کی تلافی کریں۔ والد نے ان سے کہا: ذرا سوچو کہ کل جب یوم حساب ہو گا اور رسول اللہﷺ بھی وہاں موجود ہوں گے‘ اس وقت یہ فقیر فریاد کرے گا اور اللہ کے رسول مجھے مخاطب کریں گے کہ میں تمہاری تربیت نہ کر سکا‘ تم سوچ سکتے ہو کہ مجھے کس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اقبال نے باپ کے جذبات کو منظوم کیا: ؎
حق جوانے مسلمے باتو سپرد
کو نصیبے از دبستانم نبرد
از توایں یک کارِ آساں ہم نہ شد
یعنی آں انبارِ گل آدم نہ شد
(اللہ تعالیٰ نے ایک مسلم نوجوان تمہارے سپرد کیا کہ تم اس کی تربیت کرو۔ افسوس کہ اس نے میری بارگاہِ ادب سے کچھ نہیں سیکھا۔ تم یہ ایک آسان کام بھی نہیں کر سکے۔ مٹی کے ایک تودے کو انسان نہیں بنا سکے)۔
یہ تھا ہماری روایت میں والدین کا کردار۔ آج کتنے والدین ہیں جو اس زاویے سے اپنی ذمہ داری کے بارے میں سوچتے ہیں؟ کتنے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ان کی اصل فریضہ مٹی کے ان تودوں کو انسان بنانا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گھر میں بھیجا ہے؟
والدین، مکتب، ریاست، کوئی ادارہ نظامِ اقدار کی بقا کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کر رہا۔ یہاں تک کہ مذہبی راہنما اور ادارے بھی نہیں۔ وہ جس لب و لہجے میں کلام کرتے ہیں، کیا ان سے ہم گفتگو کے آداب سیکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کو سنو اور ان کی طرح کلام کرنا سیکھو؟ یہی معاملہ میڈیا کا بھی ہے۔ یہ ایک جدید سماجی ادارہ تھا‘ جس کا کام یہ تھا کہ وہ ہماری سماجی اور اخلاقی اقدار کی بقا میں ہمارا مددگار بنتا۔ افسوس کہ اس نے اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کیا۔ اس کا خیال ہے کہ ایک گھر میں ساس بہو کا جھگڑا تماشا لگانے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اسے سب سے اہم خبر بنا کر پیش کرو۔ خبر پڑھنے کا عمومی انداز بھی جس قدر پست ہے، اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔
میرا احساس ہے کہ دو فکری غلطیوں نے ہمیں آ لیا، یہ جس کا نتیجہ ہے۔ ایک یہ کہ ہم نے نادانستگی میں زندگی کی مادی تعبیر کو قبول کر لیا۔ ہم نے انسان کو ایک اخلاقی وجود نہیں جانا۔ دوسرا یہ کہ ہمارے مصلحین نے اجتماعی اصلاح کے لیے سماج کے بجائے ریاست کو بنیاد قرار دیا۔ یوں جو توانائیاں سماجی اصلاح کے لیے صرف ہوتیں، وہ سیاست بلکہ اقتدار کی حریفانہ کشمکش کی نذر کر ہو گئیں۔
2016ء کا آغاز ہوا تو میرا رونا یہی تھا: سماج اور اقدار۔ آج شام یہ سال رخصت ہو جائے گا۔ میرا رونا اب بھی وہی ہے۔ کچھ نہیں بدلا۔ گزرا سال شاید عمرِ رائگاں کے ماتم کے سوا کچھ نہیں۔ ابنِ خلدون کہتے ہیں کہ قوموں کی بھی ایک طبعی عمر ہوتی ہے۔ کیا ہم اس جملے کی معنویت سے واقف ہیں؟ پاکستان کے بارے میں ہماری خوش گمانیاں کیا اللہ کی سنت کو بدل دیں گی؟

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔