محی الدین نواب : ادیب یا دیوتا ؟


phpThumb_generated_thumbnailعین ضیا

دنیا کی طویل ترین کہانی ’دیوتا ‘ کے مصنف محی الدین نواب اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔
بلاشبہ دنیا کی کسی بھی زبان میں ’ دیوتا ‘ جیسی طویل داستان کی نظیر شاید ہی کہیں مل سکے۔ اس کے علاوہ بھی ان کے کے بیسیوں افسانے اور ناولٹ ایسے ہیں کہ جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ شاہکار ہے۔ میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ جس شخص کو دنیا کے دارالاسباب ہونے، اپنے ہی کئے ہوئے اعمال کے اپنے سامنے آنے اور قرآنی اصطلاح ‘اپنے ہاتھوں کی کمائی’ وغیرہ جیسی بات سمجھ نہ آرہی ہو وہ نواب کی شاہکار تصنیف ‘اجل نامہ’ کا مطالعہ کرلے، یقینا بآسانی سمجھ جائے گا۔
محی الدین نواب کے انتقال کی خبر ملی۔ ذرا دیر کو صدمے کی شدت نے زبان ہی نہیں، خیالات کو بھی گنگ رکھا۔ انکے حق میں دعائے مغفرت کے فورا بعد میرا خیال کالج کے سال اول کے دوران ہونے والی ایک محفل کی طرف چلا گیا جس میں میرے دوست نوید احمد نے کچھ عجیب سوالات اٹھا ئے تھے: “ادیب/افسانہ نگار/مصنف کسے کہتے ہیں؟ کیا مصنف/ادیب/افسانہ نگار صرف وہی ہوتا ہے جو اپنی کاوش کو الگ کتابی شکل میں چھپوا کر مہنگے داموں عوام کے سامنے پیش کرے؟ اگر کوئی شخص بے مثل افسانے لکھے مگر وہ افسانے صرف جاسوسی، سسپنس یا کسی دوسرے ڈائجسٹ میں چھپیں تو کیا وہ شخص ادیبوں/افسانہ نگاروں کی صف میں شامل نہ ہوگا؟”
میں نے اپنے بچپن میں جناب اشتیاق احمد کے چند ہی ناول پڑھے اور بعد ازاں جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ کا اسیر ہوگیا۔ محی الدین نواب، جناب احمد اقبال اور علیم الحق حقی میرے پسندیدہ افسانہ نگار ہیں۔ (احمد اقبال کا “شکاری” آج بھی میرے کمپیوٹر میں محفوظ ہے اور وقفے قفے سے مین اس کے کچھ صفحات ضرور پڑھتا ہوں)۔ ان سب حضرات کے بہت سے ناول باقاعدہ کتابوں کی شکل میں بھی چھپ چکے ہیں مگر کیا کسی نے ان صاحبان کو کبھی سکہ بند ادیبوں کی محفل میں شریک دیکھا ہے؟ کتنی تقاریب میں انہیں بطور مہمان خصوصی شریک ہوتے دیکھا ہے؟ ان میں سے کتنے صاحبان کو ادبی ایوارڈ ملے ہیں؟ (اس حوالے سے میرے خیال کے مطابق مستثنیات بہت کم سامنے آئیں گی)۔
معلوم نہیں نواب کے اس دار فانی سے رخصت ہونے کی خبر اخبارات کے کسی کونے کھدرے میں جگہ پاسکے گی یا نہیں۔چلیے محی الدین نواب، ادیب نہ سہی ، دیوتا کہلانے سے تو محروم نہیںرہے گے

میں یگانہ سہی، خدا نہ سہی
اس سے کیا کسر شان میں آئی


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “محی الدین نواب : ادیب یا دیوتا ؟

  • 07-02-2016 at 4:25 pm
    Permalink

    I always enjoyed his stories . He had a finger on society,s pulse and exposed its weaknesses in most vivid manner . Manto of his times I would say .

Comments are closed.