جب آخری درخت کٹ جائے گا


\"\"ایک امریکی انڈین کہاوت ہے کہ \”جب آخری درخت کٹ جائے گا، آخری مچھلی کھائی جا چکے گی اور ہر آبشار زہریلی ہوچکی ہو گی تب تمیں احساس ہو گا کہ تم پیسہ نہیں‌ کھا سکتے۔\”

ہر نیا زمانہ اپنے ساتھ نئے سوال اور نئے مسائل لاتا ہے۔ ایک سو سال کیا ہم ایک دن بھی واپس نہیں جاسکتے ہیں۔ مسٹر ٹرمپ کی عمر 70 سال ہے۔ لوگ 70 سال کی عمر میں‌ جا کر تبدیل نہیں ہوتے۔ خاص طور پر ایسے افراد جن کے پاس بہت دولت اور طاقت ہو، ان کے دماغ میں‌ یہ غلط آئیڈیا بیٹھ جاتا ہے کہ ہر معاملے میں‌ وہی درست ہیں اور سب کچھ جانتے ہیں۔ ان کو کچھ نیا سکھانا یا تعلیم یافتہ کرنا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے۔ ایسے لوگ جب غلط فیصلے کریں‌ تو ان سے بہت سارے لوگوں کی زندگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس لئے ان افراد پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کو بزنس چلانے کے بارے میں‌ یقیناً معلومات ہوں‌ گی لیکن وہ کافی سارے دیگر معاملات میں‌ تعلیم نہیں رکھتے جن میں‌ ایک بڑا مسئلہ جو ساری دنیا کو آہستہ آہستہ جکڑ رہا ہے وہ ماحولیات کی تباہی ہے۔ ری پبلکین پارٹی نے یہاں تک کہ بابی جنڈل کی طرح کے ایک جوان اور بظاہر ذہین لیڈر نے بھی لاکھوں‌ لوگوں کے سامنے ماحولیاتی تبدیلی کی سائنس کو جھوٹ قرار دیا جس سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کسی گروپ کا حصہ بن کر لوگ کبھی کبھار اپنا دماغ استعمال کرنے کے بجائے ہاں میں ہاں‌ ملانے لگتے ہیں۔ مسٹر ٹرمپ اپنے عجیب و غریب ٹوئیٹس کے لئے مشہور ہیں جس میں‌ انہوں‌ نے لکھا تھا کہ ماحولیات کی تباہی کا خیال ایک دھوکا ہے جسے چین نے ایجاد کیا ہے۔ یہاں‌ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ٹرمپ کی لیڈرشپ میں‌ کس طرح‌ دنیا خطرے میں‌ ہے۔

1993 میں‌ جب ہماری فیملی اوکلاہوما میں شفٹ ہوگئی تو یہاں‌ بہت برف گرتی تھی۔ اب نہیں ہوتی۔ آج ماحولیات کی تبدیلی کو دیکھنے کے لئے سائنسی ڈیٹا پر انحصار کی ضرورت نہیں رہی۔ کھڑکی سے باہر خود دیکھ سکتے ہیں۔ پچھلے سال میں نے خود یہ نہایت پریشان کن مشاہدہ کیا کہ کیلے کے درخت جو سردی کے موسم میں‌ ہر سال زمین پر ڈھے جاتے تھے اور گرمی میں دوبارہ نکلتے تھے وہ سارے سردی کے موسم میں کھڑے رہے۔ ایسے ہی حالات رہے تو اوکلاہوما میں کیلے اور آم کے درخت لگنے شروع ہوجائیں گے۔ کس طرح‌ گرمی کا موسم شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ دو سال پہلے کتنے لوگ پاکستان اور انڈیا میں مرگئے۔ سنا ہے اب سکھر میں‌ پانی تب آتا ہے جب سیلاب آیا ہو، دریا خشک ہو رہے ہیں اور غریب مچھیروں کے پکڑنے کے لئے مچھلیاں کم ہیں۔ کراچی کے اردگرد زمین بنجر ہو رہی ہے جہاں‌ صرف پچیس سال پہلے تک فصل اگتی تھی اب نہیں‌ ہوتی۔ سمندر کی سطح میں‌ جس طرح‌ بلندی آرہی ہے، سمندر کے ساتھ کے شہر اور بستیاں ماضی کا حصہ بن جائیں گی۔

ہم سب کی ویب سائٹ پر سید مجاہد علی صاحب نے اس اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے جنہوں‌ نے ماحولیات پر کالم لکھے۔ اس موضوع پر مزید مضامین کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس پر انسانوں کی زندگی کا دارومدار ہے۔ جہاں‌ تک ہم خلا کے بارے میں جانتے ہیں، ایسے دیگر سیارے نہایت کم بھی ہیں اور بہت دور بھی جو زندگی کو سہارا دے سکتے ہیں۔ یہ زمین ہی ایک جگہ ہے جو ہم سب انسانوں کا گھر ہے۔ اگر ہم اس کو ایسے ہی تباہ کرتے رہے جیسے کر رہے ہیں تو یہ ہم پر سکڑ رہی ہے۔ قریب سو سال پہلے انسانوں‌ نے فوسل فیول یعنی کہ پیٹرول کا استعمال دریافت کرلیا۔ تب سے دنیا میں صنعتی انقلاب آگیا۔ نسل در نسل لوگ زمین کو چیرنے اور اس میں سے یہ تیل نکالنے میں‌ لگ گئے جو لاکھوں سالوں سے اس میں دفن تھا۔ اس تیل کو نکالنے سے اور اس کو جلا کر گاڑیاں‌، ہوائی جہاز، بحری جہاز اور فیکٹریاں چلائی جارہی ہیں جس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، گلیشیر پگھل رہے ہیں اور سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ زمین میں‌ تیل کی مقدار لامتناہی نہیں ہے۔ اور کئی کمپنیوں‌ کے اندازے کے مطابق زمین میں‌ موجود آدھا تیل ختم ہوچکا ہے۔ اور باقی آدھے کو تمام دنیا کے انسان تیزی سے ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ تیل ختم ہوجائے گا تو کیا کریں‌ گے، سوال یہ بھی ہے کہ کیا تیل ختم کرنے تک ہم زمین کو پورا تباہ کردیں گے؟ نارتھ امریکہ کا کاربن فوٹ پرنٹ ساری دنیا میں سب سے بڑا ہے یعنی کہ امریکی دنیا کو آلودہ کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا اور چین بھی ماحول کو آلودہ کرنے میں‌ آگے ہیں۔ انڈیا کی 1.2 بلین آبادی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کرنے کا سبب ہے۔ چین کے لوگ پلاسٹک کا جنک بنا بنا کر امریکیوں اور باقی دنیا کو بیچنے میں‌ لگے ہوئے ہیں جس کو بڑے بڑے بحری جہازوں سے بھیجا جاتا ہے۔ بحری جہاز جو خوفناک آوازیں‌ نکالتے ہیں ان کی شدت سے وہیل مچھلیاں خود کو ساحل پر پھینک دیتی ہیں۔ بحری جہاز حادثوں کے بعد نہ صرف تیل سمندر میں‌ گراتے ہیں بلکہ ان کے لئے راستے کشادہ کرنے کے وجہ سے سمندری مچھلیوں کی اقسام ناپید ہورہی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  ہیپی کرسمس روبینہ مسیح

مسٹر ٹرمپ نے مسٹر ہیرالڈ ہیم جیسے افراد کو توانائی کا انچارج بنایا ہے۔ ہیرالڈ ہیم اوکلاہوما کے سب سے امیر آدمی ہیں جنہوں‌ نے اپنی دولت تیل کے بل بوتے پر بنائی ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ہر قیمت پر اپنی دولت میں‌ اضافہ چاہتے ہیں اور ان کو اس بات سے کچھ سروکار نہیں کہ اسی راستے پر چلتے رہنے سے اور توانائی کے دیگر صاف ستھرے راستوں میں انویسٹ نہ کرنے سے انسانوں‌ کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اتنے پیسوں‌ کی کسی انسان کو کیا ضرورت ہے؟ لنچ تو ایک ہی بار کیا جاسکتا ہے۔ یہ لالچ سے پاگل اور طاقت میں‌ اندھے ہوجانے والے انسان نہیں سمجھتے۔ اسی لئے عام شہریوں‌ پر لازم ہے کہ وہ خود کو بھی تعلیم یافتہ بنائیں اور اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں۔ یہ تمام انسانیت اور اس کے مستقبل کا سوال ہے۔ حالانکہ پہلے اوکلاہوما میں زلزلے نہیں‌ آتے تھے۔ جب سے تیل کی کمپنیوں‌ نے پانی کے طاقتور دھاروں‌ سے زمین چیر کر اس میں سے تیل نکالنا شروع کیا تو یہاں‌ اتنے زلزلے آنے لگے ہیں کہ لوگ مذاق بھی بنانے لگے ہیں کہ یہ کیا تو زلزلہ آگیا وہ کیا تو زلزلہ آگیا۔ امید ہے کہ مزید شہریوں کو اس مسئلے کی سنجیدگی کا اندازہ ہو تاکہ اس بارے میں ٹھوس قدم اٹھائے جا سکیں۔ اس وقت اوکلاہوما میں‌ دنیا میں‌ سب سے زیادہ زلزلے آرہے ہیں۔ ابھی گوگل کرکے دیکھا تو آخری زلزلہ 3 دن پہلے آیا تھا۔ جن لوگوں‌ کی تیل کی کمپنیاں‌ ہیں ان کے پاس بہت سارے پیسے بھی ہیں اور دیگر طاقتور افراد کے ساتھ روابط بھی۔ وہ ایک دو ایسے سائنسدانوں‌ کو اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں جو جھوٹی رپورٹ بنا دیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں سگریٹ نوشی کے حق میں‌، ماحولیات کی تباہی کی حقیقت کے خلاف یا کوئی دوا کام کرے گی یا نہیں اس کے لئے لوگ جھوٹی سائنس آگے لاتے رہے ہیں۔ عام افراد زیادہ تر صرف اپنی فیلڈ کے بارے میں ہی زیادہ سمجھتے ہیں پھر ان کا مفاد بھی اس سے جڑا ہوا ہوتا ہے جیسے کہ نوکری یا ذاتی سرمایہ تو وہ خود سے بھی ان باتوں‌ پر یقین کرلیتے ہیں۔ پھر اگر کسی مسئلے کو سیاسی رنگ چڑھادیں‌ تو معاملہ اور بھی دھندلا ہوجاتا ہے۔ پھر بھی یہ دیکھنا اتنا مشکل نہیں‌ ہونا چاہئے کہ اگر 90 فیصد سائنسدان ایک طرف ہیں اور 10 فیصد دوسری طرف تو  90 لوگ فیصد پر زیادہ یقین کریں‌ چاہے وہ ہمارا ناپسندیدہ جواب پیش کریں۔

اسی بارے میں: ۔  ریکس ٹلّرسن کا روس سے کیا تعلق ہے؟

پانی تیل سے زیادہ اہم ہے اور دنیا میں پینے کے لائق پانی کی سپلائی کم ہورہی ہے۔ پانی پر ہماری زندگی کا دارومدار ہے۔ پانی کو زمین میں‌ گھسا کر تیل نکالنے کی بیوقوفی کریں‌ تو پھر انسان عقلمند کیوں‌ کہلائیں۔ قحط اور خشک سالی دنیا کے کئی علاقوں میں‌ دیکھی جاسکتی ہے جیسے کہ کیلیفورنیا میں‌۔ پچھلے سال ہوور ڈیم دیکھنے گئے۔ لیک میڈ میں پانی کا لیول کتنا کم تھا وہ کوئی بھی باآسانی دیکھ سکتا ہے۔

صدر اوبامہ نے ماحولیات کی سائنس کو سمجھا اور اپنی طاقت کو امریکہ اور دنیا کو بچانے کے لئے استعمال کیا۔ صدر اوبامہ کے دور میں‌ کلین انرجی کی فیلڈ میں‌ انوسٹمنٹ ہوئی اور نئی نوکریاں‌ نکلیں۔ ٹرمپ کی ایڈمنسٹریشن نے اس بات کو خفیہ نہیں رکھا ہے کہ وہ زمین سے مزید تیل نکالنے اور اس کو جلانے سے اکانومی کو آگے بڑھائیں گے۔ وہ اوبامہ کے شروع کئے ہوئے صاف انرجی کے پروجیکٹس بند کردینے کا پلان بنا رہے ہیں۔ وہ یہ نہیں‌ دیکھ رہے کہ پودے اور جانور کم ہورہے ہیں۔ رین فورسٹ کاٹ کر اس زمین پر بیف انڈسٹری چلائی جارہی ہے۔ اس بیف انڈسٹری کو اینٹی بایوٹکس اور کورن سے جلدی جلدی زیادہ سے زیادہ بڑھایا جارہا ہے۔ کورن کو جینیٹکلی تبدیل کرکے ایسا بنایا گیا ہے کہ ایک دانے سے زیادہ سے زیادہ دانے وصول ہوں اور ان دانوں‌ پر پیٹنٹ ہے یعنی ہر سال کسانوں کو نئے بیج خریدنے ہوں گے۔ دنیا کی تاریخ میں‌ گائے اور گھاس کے بیچ میں‌ ایک تعلق ہے جس یہ دونوں انواع ایک دوسرے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ کورن کھلا کر پالی ہوئی گائے میں‌ نئی بیماریاں‌ پیدا ہو رہی ہیں اور ان کا ویسٹ بھی ماحول کے لئے اوپلوں‌ کی طرح‌ صحت مند نہیں بلکہ زہریلا ہے۔ یہ زہر پانی میں شامل ہورہا ہے جو سمندر تک پہنچتا ہے۔ پلیٹ میں ایک اسٹیک کی دنیا کیا قیمت ادا کر رہی ہے، اس سے ہم نظریں‌ نہیں پھیر سکتے۔ اوبامہ نے نہ صرف ایسے انٹرنیشنل معاہدوں پر دستخط کئے جو ماحولیات کے تحفظ کے لئے بنائے گئے بلکہ یہ شقیں قانون کا حصہ بنائیں جن کے تحت امریکہ کے اردگرد سے تیل نکالنے کے لائسنس دینے کی اجازت نہیں‌ دی جاسکے گی۔

جیسا کہ ہم آرکیالوجکل شہادتوں‌ سے جانتے ہیں، وقت کے ساتھ انسان تغیراتی اثرات کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ذہین ہوتا چلا گیا۔ نیومی کلائن نے اپنی کتاب \”دس چینچز ایوری تھنگ\” میں‌ لکھا کہ  قدیم زمانے کے انسانوں کا زمین اور آسمان کے ساتھ ایک احترام کا تعلق تھا جس میں وہ زمین کو ماں‌ کی طرح‌ دیکھتے تھے جو زرخیز تھی اور زندگی دیتی تھی۔ مٹی، جنگل، سمندر کو خدا بنا کر وہ ان کو پوجتے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ پھر نئے مذاہب نے دنیا کے نقشے پر اپنی جگہ بنائی جن کی مختلف فلاسفی تھی۔ ان کے خیال میں‌ زمین کو ایک خدا نے انسان کے لئے بنایا اور اس کے تمام حیوانات اور نباتات کو اس کے ماتحت کیا کہ وہ ان کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کریں اور زمین کو تسخیر کریں۔

زمین گرم ہو رہی ہے۔ یا تو ہم میں‌ سے کچھ انسان ارتقا پذیر ہو کر واپس پانی کی مخلوق بنیں گے یا پھر ہماری جگہ یہاں کوئی اور مخلوق ہو گی آج سے 5 بلین سال بعد جب سورج بجھ رہا ہوگا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔