پارلیمنٹ جانے کا شوق نہیں عوام کی خاطر جارہا ہوں:زرداری


\"\"

نواب شاہ/ کراچی (ایجنسیاں + سٹاف رپورٹر) آصف علی زرداری نے کہا کہ مجھے پارلیمنٹ میں جانے کا کوئی شوق نہیں مگر میں اپنے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں انہیں نظر انداز کرنے اور ان کے حقوق پامال کرنے پر خاموش نہیں رہ سکتا، اسی لئے میں پارلیمنٹ میں اپنے عوام کی آواز بننے کے لئے جارہا ہوں، سی پیک منصوبہ ہماری محنت کا نتیجہ ہے مگر پاکستان کے لئے اس اہم منصوبے کا فائدہ پورے ملک میں نظر آنے کے بجائے صرف پنجاب میں نظر آرہا ہے اور پنجاب سی پیک کے سارے ثمرات سمیٹ رہا ہے جو سندھ سمیت دیگر صوبوں کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔ ایران کی جانب سے گیس پائپ لائن کے منصوبے پر عملدرآمد کرلیا گیا ہے اور پائپ لائن پاکستان کے بارڈر تک پہنچا دی گئی ہے تاہم حکومت کی جانب سے خاموشی اور اس اہم مسئلے کو آگے نہ بڑھانا افسوسناک ہے۔ وہ نواب شاہ زرداری ہاؤس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ سابق صدر نے کہا کہ بی بی شہید کی طرح بلاول کو بھی نہیں روک پارہا۔ بے نظیر کو بھی دہشت گردی خدشات کے باوجود روک نہیں پایا۔ بلاول کو بہت سمجھایا لیکن وہ نہیں مان رہا۔ نوے نشستوں پر پورا ملک جیت کر دکھایا حکومت بنائی، میں نے وہ کام کئے جو بھٹو کی سوچ اور فلسفہ تھا۔ زندگی نے بے نظیر کے ساتھ وفا نہ کی۔ کچھ اپنوں نے بھی بے نظیر کو نہیں سنبھالا۔ بے نظیر کی بہت منت کی کہ گھر بیٹھ جائیں۔ بے نظیر سے کہا کہ گھر بیٹھے بھی اتنی نشستیں ملیں گی۔ دوسری جانب حکومت سندھ کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے صوبائی حکومت اور تمام انتظامی محکموں پر زوردیا ہے کہ وہ صوبے بھر میں زیادہ سے زیادہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر توجہ دیں اور جو منصوبے زیر تکمیل ہیں انہیں جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ اگلے عام انتخابات سے قبل صوبے کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے اوران کے بنیادی مسائل حل کئے جاسکیں۔ زرداری کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ کے دورہ چین سے واپسی کے بعد ایک اجلاس طلب کئے جانے کا امکان ہے جس میں سندھ میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کرنے اور پسماندہ اضلاع میں رہنے والے لوگوں کے لئے پختہ سڑکوںکی تعمیر، نئے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے قیام، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور دوسری بنیادی سہولتیں مہیا کرنے کے بارے میں غور و خوض کیا جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔