سال 2016ء کا گوشوارہ


یو این کے ادارے یو این ڈی پی نے2016 کے لیے میلینئم ڈویلپمنٹ گولز\"\"MDG\’s کے تحت آٹھ مقاصد دیے تھے، مقاصد میں شدید بھوک اور غربت کا خاتمہ، یونیورسل پرائمری ایجوکیشن کا حصول، بااختیار خواتین اور صنفی مساوات کا فروغ، بچوں کی شرح اموات میں کمی، ماں کی صحت میں بہتری، ایچ آئی وی / ایڈز، ملیریا اور دیگر بیماریوں کے خلاف جنگ، دیرپا پائیدارما حول اور ترقی کے لئے عالمی پارٹنرشپ کی تشکیل شامل تھی۔ ایم ڈی جیز پر پاکستان پہلے ہی 61 اہداف اور 16 انڈیکیٹرزکی منظوری دے چکا ہے جن کی روشنی میں ایم ڈی جیز کے آٹھ مقاصد پرہونے والی پیشرفت میں سے 33 انڈیکیٹرز میں سے9 انڈیکیٹرز پر کچھ پیشرفت مکمل جبکہ باقی 24 اشاریوں پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ایم ڈی جیز کے مقاصد کے حصول کے لیے اگر ہم صوبوں کی صورتحال پر ایک نظرڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب بیشتر انڈیکیٹرز پر اپنی کارکردگی کے پیش نظر دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیںآگے دکھائی دیتا ہے۔  تاہم بیشتر انڈیکیٹر ایسے ہیں جن کے اہداف کے حصول میں پنجاب صحیح ٹریک پر چلتانظر نہیں آرہا ۔ 2 سال سے کم عمر کے کم وزن بچوں کی موجودگی اور غذائی تصرف کی کم سے کم سطح سے نیچے رہ جانے والے آبادی کے تناسب کے شعبوں میں پنجاب ابھی بہت پیچھے ہے۔ پرائمری میں داخلے کی شرح اور شرح خواندگی کے اہداف، شرح اموات، خسرہ سے بچاؤکے حفاظتی ٹیکوں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی طرف سے متعلقہ آبادی کی کوریج سے متعلق اہداف، ماؤں کی شرح اموات، ماہر زچگی کی نگرانی میں پیدا ہونے والے بچوں کے تناسب، مانع حمل طریقوں کے استعمال کی شرح اور جنگلات کے کل رقبہ کے حوالے سے پنجاب کی کارکردگی کے مطلوبہ اہداف پورے ہوتے نظر نہیں آتے۔

سندھ، بالعموم پیش رفت کی موجودہ رفتار کے ساتھ سندھ اپنا کوئی بھی ایم ڈی جی حاصل نہیں کر پایا۔  صوبہ خیبرپختونخواءکچھ مقاصد کے حصول میں نمایاں پیشرفت دکھائی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنگلات کے رقبہ اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے اس نے اپنے اہداف حاصل کر لئے ہیں تاہم دیگر شعبوں میں پیشرفت مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے جس کا جزوی سبب قدرتی اور انسانوں کی پیدا کی ہوئی وہ آفات ہیں جن کی زد میں یہ صوبہ آ چکا ہے ۔ مختلف انڈیکیٹرز کے علاوہ پانی کے بہتراستعمال، نوجوانوں کی شرح خواندگی کے لئے جی ڈی پی کا حصہ، اجرتی ملازمتوں میں خواتین کا حصہ اور قومی پارلیمنٹ میں خواتین کی نشستوں کے تناسب کے حوالے سے اس صوبہ کے اہدا ف قومی اوسط سے کم ہیں۔ بلوچستان، ایم ڈی جیز کے تمام شعبوں میں صوبہ بلوچستان کی کارکردگی سب سے مایوس کن ہے۔ سیلاب کے بعد سے زوال پذیر قومی معیشت اور سکیورٹی صورتحال کے باعث بعض انڈیکیٹرز کے حوالے سے اور چنداضلاع میں جو کچھ پیشرفت ہو چکی ہے، خدشہ ہے کہ وہ بھی بے اثر ہو کر رہ جائے۔

 خوش آئند بات یہ ہے کہ کراچی میںجاری دہشت گردی کے خلاف آپریشن کلین اپ میں رینجرز نے جنوری 2016 سے مندرجہ ذیل کارہائے نمایاں سرانجا م دیے۔  کراچی میں 1992آپریشن کیے گئے۔ 2847 مشتبہ افراد کو پکڑا گیااور 1845 اسلحہ، 1,94,579 گولہ بارود بھی قبضے میں لیا گیا۔  446 ٹارکٹ کلرز کو گرفتار کیا گیا، مختلف سیاسی جماعتوں کے348 عسکری گروہوں اور جتھوں کے ممبران کو پکڑا گیا، مختلف شدت پسندجماعتوں اور فرقہ وارانہ فساد پھیلانے والے گروپوں کے 11 لوگوں کو پکڑا گیا، لیاری گینگ وار اور پیپلز امن کمیٹی کے87 فسادیو ں، 72 بھتہ خوروں، 26 اغواءبرائے تاوان کے ملزمو ں کو دھر لیا گیا اور 13 مغویوں کو بازیاب بھی کرلیا گیا۔  لا اینڈ آرڈر کی صورتحال میں پچھلے تین برس کے مقابلے میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کے واقعات میں باالترتیب72%، 91%، 93% اور86% کمی آئی۔  برطانوی میگزین اسپیکٹیٹر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ تین سالوں کے دورا ن فیصلہ کن آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن کے ذریعے خاطر خواہ کامیابیاں سمیٹیں۔

ہم نے سی پیک، دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ، نیشنل ایکشن پلان کے قیام، نیکٹا کی کچھ فعالیت، اقتصادی ترقی، بین الاقوامی تجارتی معاہدے اورعمران خان کی طرف سے کینسر ہسپتال کراچی کا افتتاح اور الخدمت فاﺅنڈیشن کی جانب سے آغوش مری کے قیام کے ثمرات حاصل کیے ہیں جبکہ پانامہ سکینڈل، ڈان لیکس، تلور کے شکار پر قطری شہزادوں کی جیت، ایم کیو ایم لند ن اور پاکستان کے ہنگامے، بے ربط اورغیر سنجیدہ اپوزیشن، مشرف کی بیرون ملک روانگی، زرداری کی با عزت واپسی، مشتاق رئیسانی پر پلی بارگین پالیسی اورسابق چیف جسٹس انور ظہیرکی بے بسی اور کوئٹہ سانحہ وغیر ہ جیسی دوسری بے شمار ناکامیاں کمائیں۔

2016ءمیں ہم نے عبد الستار ایدھی، امجد صابری، جنید جمشید، جہانگیر بدر، حاجی عدیل، حنیف محمد، انور قدوائی، ثریا بجیا، ماڈل قندیل بلوچ، انتظار حسین، نصیر بھائی اور اداکارہ شمیم آراء کو کھو دیا ۔ اللہ تعالی ان تمام لوگوں کی بشمول شہدائے کشمیر، پاکستان، بوسنیا اور شام سمیت امت مسلمہ کے تمام شہدا کی مغفرت فرمائے۔

ہمارا عزم ہے کہ ہمار ا ملک پاکستان ایک اسلامی، معاشی، معاشرتی، اقتصادی اور نیو کلئیر ناقابل تسخیر طاقت ہے جو کسی بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو نیست وبابود کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔  دعا ہے کہ 2017ء امن و استحکام، خوشیوں اور رعنائیوں کا پیغام لائے اور ہمارا پیارا ملک پاکستان ہمیشہ شاد اور آباد رہے۔

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شہزاد سلیم عباسی کی دیگر تحریریں
شہزاد سلیم عباسی کی دیگر تحریریں