باچا خان یونیورسٹی حملہ : روہنگیا مسلم رہنما کی پاکستانی طالبان کو مبارک باد


rohingaالجزیرہ نے خبر دی ہے کہ برما کے روہنگیا مسلمان مفتی ابوذر البرمی نے ایک ویڈیو پیغام ریلیز کیا ہے۔ اس ویڈیو میں مفتی ابوذر البرمی کو طالبان لیڈر عمر منصور نرئے سے گلے ملتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

برما کے اس روہنگیا مجاہد نے باچا خان یونیورسٹی کے حملے پر طالبان لیڈر کو مبارک باد دی ہے۔ مفتی ابوذر البرمی نے، جو کہ روہنگیا ہیں، اور اسلامی موومنٹ آف ازبکستان نامی جہادی نیٹ ورک کے راہنما ہیں، نے آرمی پبلک سکول پشاور اور باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملہ کرنے والے منصور نرئے سے گلے مل کر انہیں کامیاب حملے کرنے پر مبارک باد دی ہے۔

البرمی نے ان حملہ آوروں کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان کا عدم تشدد کا فلسفہ غیر اسلامی ہے۔ یونیورسٹی پر حملے کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ اسلام غیر مسلموں پر طاقت اور مسلمانوں پر محبت کا حکم دیتا ہے اور باچا خان مسلمانوں کا ہرگز بھی مددگار نہیں تھا۔ مفتی ابوذر نے مزید بتاتا کہ یہ جنگ پاکستان کے تمام غیر اسلامی ڈھانچے کے خلاف ہے جس میں عدلیہ، جمہوریت، صحت اور تعلیم کے شعبے شامل ہیں۔

باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کے کچھ ہی روز بعد عمر منصور نرئے نے ایک ایک ویڈیو پیغام میں حملے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سکول اور یونیورسٹیاں، وکیلوں، فوجیوں اور ممبران پارلیمنٹ کی نرسریاں ہیں اور یہ سب طبقات خدا کی حاکمیت کو چیلنج کرتے ہیں۔ منصور نرئے نے پاکستانی مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو سکولوں اور یونیورسٹیوں سے نکال لیں۔ البرمی ہی کی طرح انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ تعلیمی ادارے بچوں کو اسلام سے دور لے جاتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “باچا خان یونیورسٹی حملہ : روہنگیا مسلم رہنما کی پاکستانی طالبان کو مبارک باد

  • 07-02-2016 at 3:45 pm
    Permalink

    ????

  • 07-02-2016 at 4:19 pm
    Permalink

    یہ تو کمال ہو گیا

  • 08-02-2016 at 1:01 am
    Permalink

    Sabit hua jis jaga musalmano ka qatl e aam karwana ho wahan alqaeda Tehrik taleban daesh boko haram ya esi hi koi khufia dehshat gard jamat bana do. Phir us ko khatam karney k cover mein musalmano ko raj k ragra lagao

  • 08-02-2016 at 9:18 am
    Permalink

    مفتی ابوذر البرمی روہنگا رہنما کب سے ہوا؟

Comments are closed.