کیا اسرائیل سپر پاور بننے جارہا ہے؟


\"\"

کیا اسرائیل سپر پاور بننے جارہا ہے؟ یہ فقرہ جب بھی زبان عام ہوتا ہے۔ ایک دم سے چونکا دینے والی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ یہودی ملک، جس کی آبادی، جس کا رقبہ چند ہندسوں میں آتا ہے۔ کیا وہی اسرائیل عالمی طاقت بنے گا؟ عالمی فیصلے کرے گا؟ کیا سارے مسلم ممالک اتحاد کرکے بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتے وغیرہ وغیرہ۔

ہمیں پچپن سے باربار ایک بات سمجھائی گئی کہ اصل کافر یہودی ہوتے ہیں، لیکن یہ کبھی نہیں بتایا کہ یہودی اہل کتاب بھی ہوتے ہیں۔ ہمیں بتا گیا کہ یہودی بہت عیار اور چالاک ہیں، لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہودی ایک تاجر قوم بھی ہیں۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ یہودی سودی نظام کہ بانی ہیں، لیکن یہ نہیں بتایا کہ انہی کا سودی بینکنگ نظام ہمارے اسلامی جمہوریہ میں بھی نافذ ہے۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ یہودی ایک ہوّا ہیں اور یہ مسلم ممالک کے خلاف برسرپیکار ہیں، لیکن ہیں یہ نہیں بتایا کہ معمر قذافی کہ خیموں کی نگہبان یہودی خواتین تھیں۔ ان چیدہ چیدہ نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن خود مسلمان ہی ہے۔

اسرائیل ایک چھوٹا سا ملک جو عرب ممالک کے درمیان گھرا ہوا، لیکن داخلی طور پر پرامن، خوش حال اور مضبوط ہے۔ اسرائیل کے ہمسایہ عرب ممالک میں خون کی ہولی کھیلی جاری ہے، تاج و تخت کا حصول سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ کوئی شریعت کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے اپنی ذاتی ہوس کو جلا بخشنے کے لئے فتوی جاری کردیتا ہے۔ کوئی باغی گروہ کی قیادت کرتے ہوئے تیل کے ذخائر پر قابض ہوجاتا ہے۔ دیہاتی عربوں کو بدو کہتے ہی اور آج بھی عرب بدو ہی واقع ہورہے ہیں۔ عالمی پالیسی سازوں کی منصوبہ بندی ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ اور آج عرب احمق بن کر ان کہے پر چل رہے ہیں اور خون کی ندیاں بہائے جارہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں تباہی کا آغاز عرب بہار کے آنے سے ہی ہو چکا تھا۔ یہ عرب جو دور نبوت میں یکجا نہیں ہو سکے تھے وہ عرب بہار سے کیا خاک اکٹھے ہوتے؟ اسرائیل کے قیام کے اعلان کے بعد اسرائیل اس وقت چونسٹھ فی صد علاقے فلسطین کو دینے پر رضامند تھا لیکن عربوں کی روایتی ہٹ دھرمی نے یہ نہ ہونے دیا اور آج فلسطینی مطالبے کے مطابق گیارہ فی صد بھی اسرائیل دینے کو تیار نہیں۔ اسرائیل کے عالمی طاقت بننے کے خواب کو تقویت نائین الیون کے بعد ملی جب عالمی امن کے نام پر امریکہ کو افغان جنگ میں الجھا کر ایک طرف کردیا اور گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے امریکہ کی معیشت کو شدید مشکلات کا شکار کردیا۔ امریکہ کے بڑے بنک دیوالیہ ہوگئے، امریکہ اس وقت چین اور اسرائیل کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے۔

اسی بارے میں: ۔  یہ معجزہ سیکولر ازم ہی میں ممکن ہے

دوسری طرف اسرائیل نے بڑی چالاکی سے روس کو شام میں پھنسا دیا۔ اسرائیلی منصوبہ سازوں کو علم تھا کھ روس اس وقت معاشی اور عسکری لحاظ سے مضبوط ہوچکا ہے اور امریکہ کی معاشی تباہی کے بعد بطور سپر پاور پیش رفت کرسکتا ہے۔ اس لئے شام کو دوسرا افغانستان بنا کر روس کو اس میں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن بظاہر اسرائیل کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اسرائیل کی اس ناکامی کا اظہار ترکی میں روسی سفیر کے قتل سے بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ روس اور ترکی شام کے مسئلے کے حل کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اس دوران سفیر کا قتل بے چینی کا اشارہ تھا۔ روسی سفیر کے قتل پر جس طرح کا روس نے ردعمل دیا وہ قابلِ ستائش ہے اور سب سے اہم بات ماسکو میں مسئلہ شام پر ہونے والی سہ ملکی کانفرنس کو بھی ملتوی نہیں کیا گیا۔ تیسری جانب یورپ مشرق وسطی میں اپنے مخالفین کی صفائی کے لئے ایران کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے اور ساتھ ایران کو یہ بھی یقین کروائی جارہی ہے کہ مستقبل میں آپ کو مشرق وسطی کے حوالے سے کلیدی کردار دیا جائے گا۔ میرے خیال میں روس اگر بشارالاسد کی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ لے اور عوام کو اختیار دے تو شام میں کافی حد تک امن ممکن ہوسکتا ہے۔ ایران کو چاہیے کہ اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے کرائے کا بدمعاش نہ بنے اور حقائق کو تسلیم کرے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے اور معاملات ہاتھ سے نکل جائیں۔ کیونکہ بھارت کی اسرائیل سے بڑھتی قربت خطے میں ایران سمیت تمام ممالک کے لئے تشویش کا باعث ہونی چاہیے اور باہمی اختلافات کو بھلا کر ایک پیج پر آنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں: ۔  معصوم کا عذاب - آدرش فاروق

چوتھی جانب چین ایک معاشی طاقت بن چکا ہے۔ ایک طرف ٹرمپ امریکی صدر بن چکے ہیں اور دوسری طرف کیلی فورنیا میں علیحدگی پسند تحریک چل چکی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر ریاست کیلی فورنیا علیحدہ ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر امریکی معیشت پر ہوگا اور پھر امریکہ ’ڈرتا نہ تو مرتا کیا‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کی بطور سپرپاور طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے، عالمی معاملات کی کنجی اس کے سپرد کردے گا۔ لیکن اس دوران اگر سی پیک کامیاب رہا تو پھر یہ ممکن نہیں۔ اس لئے ہمارے دفتر خارجہ اور داخلہ کو مضبوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ یہودو ہنود کی سازش کو ناکام بنا کر بلوچستان میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جاسکے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔