وادی سون کے سفر – پارا بیلا سے قلعہ تلاجھا تک (۱)۔


\"\"

تو اس بار ہم جا رہے تھے اس پراسرا قلعے کے اسرار جاننے کہ جو بہت عرصہ تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا۔ اگرچہ ہم قلعے کے اسرار جاننے میں تو کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہوئے لیکن ہمیں یہ احساس ضرور ہوا کہ وادی سون زمانہ قدیم سے مختلف تہذیبوں کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔ سلسلہ پوٹھوہار کے آخری سرے پر واقع وادی سون میں کئی جگہ ایسے آثار دکھائی دیتے ہیں جن کا تعلق مختلف تہذیبوں سے رہا ہے۔ امب شریف میں کئی اہم ہندو ٹیمپل ہیں جو نویں اور دسویں صدی عیسوی میں تعمیرکیے گئے آج بھی ان کے آثار قائم و دائم ہیں۔ وادی میں کئی بلند پہاڑوں پر ان بدھ مت کے پیروکاروں کے آثار موجود ہیں جونروان کی تلاش میں نکلے اور وادی سون کے ویرانوں میں پناہ گزین ہوئے۔ ایسا ہی ایک مرکز قلعہ تلاجھا ہے جب مجھے کچھ عرصہ پہلے پتا چلا کہ وادی سون میں کئی میلوں کی پیدل مسافت پر ایک ایسا قلعہ ہے جہاں کبھی آبادی رہی ہو گی لیکن آج کوئی بھی محقق یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ یہ قلعہ کس نے بنوایا اور کب بنوایا۔ اس قلعے کے بیس کیمپ تک جانے کے تین رستے ہیں لیکن قلعے کے اوپر تک جانے کا ایک ہی راستہ ہے جو اتنا تنگ ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی آدمی اوپر جا سکتا ہے۔ تو میرے سمیت بہت سے لوگوں کو اشتیاق تھا کہ قلعہ تلاجھا جا کر دیکھنا چاہیے کہ قلعے کے بارے میں جو داستانیں منسوب ہیں وہ کس حد تک درست ہیں۔

\"\"

اور دن تھا 25 دسمبر کا جب ہم نے قلعہ تلاجھا کے اسرار جاننے چاہے۔ خوشاب سے عدنان عالم صاحب کے ساتھ وادی سون کے لئے عازم سفر ہوئے۔ ہمارے پچھلے ٹریک کے ساتھ محمد نیاز اعوان بھی ہمارے ساتھ تھے۔ عدنان صاحب نے بتایا کہ ہم اپنی گاڑی کھوڑہ پارک کریں گے جہاں نوشہرہ سے کچھ مزید ساتھی بھی ہمارے ساتھ آن ملیں گے۔ شاید یہ ہماری مستقل مزاجی یا دوستوں کو ہمارا ساتھ اتنا اچھا لگا ہے کہ پچھلے ٹریکس کے ساتھی بہت جوش و خروش سے ہماری ہر ٹریکنگ مہم میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں محمد ارشد اعوان جو اب ہماری ٹریکنگ ٹیم کے ایک مستقل ممبر بن چکے ہیں ان کے ساتھ ساتھ ملک محمد علی اپنے دوست خوش مزاج بلال کے ہمراہ آئے۔ عدنان احسن ملک اوچھالی سے آئے اور اپنے چند دوستوں کو بھی گھیر کر ساتھ لانے میں کامیاب رہے۔ خرم صاحب ایک شاندار آرکیالوجسٹ ہیں ان کو بھی تلاجھا دیکھنے کا شوق کھینچ لایا مگر رکیے۔ ۔ ۔ ۔ ہماری مہم کا سب سے بہترین ٹیم ممبر تھا محمود ملک۔ جو 25 دسمبر کی صبح کو جب ابھی اندھیرا تھا اسلام آباد سے چلا اور ٹھیک نو بجے کھوڑہ پہنچا۔ سارا دن ہمارے ساتھ پتھروں پر کھجل خوار ہونے کے بعد شام کو واپس اسلام آباد روانہ ہو گیا تو ایسے مستقل مزاج ٹریکر کو سلیوٹ۔ ۔ ۔

کھوڑہ میں ہمارے میزبان تھے ناصر ملک۔ نہایت عمدہ اور نفیس انسان۔ یہ ان کی محبت تھی کہ انہوں نے ہمیں بہت خوشدلی سے گلے لگایا۔ ہمارے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اور یہ عزم ظاہر کیا کہ ابھی تو نہیں لیکن وہ کسی نہ کسی مہم میں ہمارے ساتھ ضرور چلیں گے۔ انہوں نے ہمارے لئے ایک ہائی ایس ہائر کی ہوئی تھی جس نے ہمیں تلاجھا کے رستے پر جہاں تک گاڑی جا سکتی تھی وہاں لے جانا تھا۔ جب ہم گاڑی میں بیٹھنے لگے تو ناصر ملک نے دو بڑے بڑے تھیلے نہایت خاموشی سے گاڑی میں رکھوا دیے۔ دریافت کرنے پر پتا چلا کہ یہ ہمارا لنچ تھا۔ ان کے اس خلوص نے تمام ٹیم ممبرز کو بہت متاثر کیا۔ گاڑی چلی اور ہم سب اپنی کئی سالوں سے ایم این اے سمیر ا ملک اور ان کے صاحبزادے عزیر خان کو یاد کرتے ہوئے عازم سفر ہوئے۔ ان ہر دو کا ذکر اس لئے کہ پندرہ سال تک وفاقی وزیر اور ایم این اے رہنے کے باوجود وادی سون کی تمام سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں۔ اور شکریہ ملک نعیم خان کہتی ہیں کہ جنہوں نے بیس سال قبل یہ سڑکیں تعمیر کرائی تھیں۔

\"\"
بہت جلد ہم ترڑی پہنچ گئے۔ بارشیں نہ ہونے کی وجہ گرد بہت اڑ رہی تھی لیکن ٹیم کے حوصلے بہت بلند تھے۔ ڈرائیور صاحب کو ہم حوصلہ دے رہے تھے کہ جہاں گاڑی آگے نہ جاسکی وہاں سے ہم گاڑی سے اتر جائیں گے اور ڈرائیور صاحب ہمیں حوصلہ دے رہے تھے کہ جہاں تک گاڑی جا سکی وہ ہمیں لے کر جائیں گے۔

ہم تو چاہ رہے تھے کہ یہ گاڑی ہمیں تلاجھا قلعے تک لے کر ہی جائے۔ لیکن لکھا یہی تھا کہ ہم نے اپنے پاوں پر چل کر ہی تلاجھا قلعے تک جانا تھا اور بالآخر وہ مقام آ ہی گیا جہاں سے آگے گاڑی کا جانا ممکن نہ تھا ہم گاڑی سے اترے اپنا سازوسامان سنبھالا۔ اس بار کچھ نئے ساتھی بھی ہمارے ساتھ تھے تو ہم نے بہتر جانا کہ انہیں بتا دیا جائے کہ کامیاب ٹریک وہی ہوتا ہے جس میں ایک امیر ہوتا ہے اور باقی کے ٹیم ممبر اس کو فالو کرتے ہیں اور یہی حکم بھی ہے ہمارے نبی کریمؐ کا۔ ٹیم نے بہت خوشدلی سے ہماری بات سنی اور اوپر کی طرف چلنے لگے کہ اچانک گاڑی کے ہارن کے مسلسل بجنے نے ہمارے قدم روک دیے۔ شاید ہماری کوئی چیز گاڑی میں رہ گئی ہے یہ سوچ کر ہم رک گئے۔ تھوڑی دیر بعد ڈرائیور صاحب ایک جوان کو ساتھ لئے ہمارے پاس پہنچ گئے جوان کا کہنا تھا کہ یہ رستہ آگے کہیں نہیں جاتا تو آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں اس کو بتایا کہ ہم نے تلاجھا جانا ہے تو اس نے بتایا کہ یہ رستہ تلاجھا نہیں جا سکتا یہاں ہمارے لیڈر عدنان عالم اعوان نے اس کو سمجھایا کہ اے نادان گوکہ یہ علاقہ تیرا ہے لیکن ہمیں اتنا بھی انجان نہ جان۔ اور باقاعدہ رستہ بنا کر سمجھایا کہ ہم اسی رستہ سے تلاجھا پہنچ کر رہیں گے۔

\"\"

جوان ہمارے لیڈر کے سمجھانے کے انداز سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے باقاعدہ طور پر ہم سے ہاتھ ملائے۔ اس جوان نے ہمارے ساتھ کیا کھیل کھیلا اس کے بارے میں ہم آپ کو اس داستان کے اخیر میں بتائیں گے فی الحال ہم آپ کو حال بتاتے ہیں ایک بہت شاندار ویو پوائنٹ کا جس کانام بھی بہت شاندار ہے۔ ۔ ۔ پارا بیلا۔ ایک دو سال پہلے جب مجھے میرے بھانجے احسن نے بتایا کہ وہ اپنے کزن کے ساتھ پارا بیلا گیا تھا تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ وادی سون میں کسی جگہ کا ایسا نام؟ ناممکن۔ اس سے دو تین بار تصدیق کی اور اس نے ہر بار یہی بتایا، پارا بیلا۔ تو قارئین ہم جا رہے تھے پارا بیلا، ایک ایسا ویو پوائنٹ جہاں سے آپ وادی سون کے مشرق میں میدان دیکھ سکتے ہیں۔

قلعہ تلاجھا تک جانے کے تین رستے ہیں۔ خوشاب سے جاتے ہوئے رستے میں کچھی والا فقیر کے دربار کو جانے والےکچے رستے پر ہچکولے کھاتے 8 کلو میٹر تک سفر کیجئے اس کے بعد ایک دم سے بلند ہوئے پتھریلے یا ریتلے رستے پر دو گھنٹے تک چڑھائی کریں۔ اور تلاجھا پہنچنے سے پہلے ہی آپ کی کمر ٹوٹ چکی ہو۔ دوسرا رستہ کھوڑہ سے براہ راست تلاجھا آتا ہے۔ آسان اور ہموار رستہ ہے لیکن اس کے بارے کم لوگ جانتے ہیں اور تیسرا رستہ وہ تھا جس پر ہم چل رہے تھے کہ ہم نے پارا بیلا بھی تو جانا تھا جب نام ایسا ہو گا تو بندہ تھوڑا زیادہ چل لے لیکن پارا بیلا ضرور جائے۔ اگرچہ رستے کے پتھر ہمیں اس رستے پر چلنے سے روک رہے تھے لیکن اس بار شوق سفر اتنا تھا کہ ہم چلتے جا رہے تھے۔ دو تین چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں چڑھ کر جب ایک اور پہاڑی پر اس آس پر چڑھے کہ اب ہم دوسری جانب ایک وسیع میدان دیکھیں گے جس سے آگے دریائے جہلم دکھائی دیتا ہے تو یہاں ہمیں مزید اونچا پہاڑ دکھائی دیا۔ اسی کو پارا بیلا کہتے ہیں اور ہم پارا بیلا کے پاس سے ہو کر گذر گئے۔

\"\"

جھاڑیوں کی بہتاط تھی اور آمدورفت کم ہونے کی وجہ سے اندازہ نہیں ہو پاتا تھا کہ کون سا رستہ ہمارا رستہ ہے۔ ملک محمد علی تیز قدم اٹھاتے ہوئے مجھ سے آن ملے اور سرگوشی میں بتایا کہ میں آپ کے لئے ایک نہایت ” خاص ” چیز بنوا کر لایا ہوں۔ اگر چہ ناچیز ابھی خود کو عمر کے اس حصے میں نہیں پاتا کہ ” خاص“ چیزوں کی ضرورت پڑے پھر بھی ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ دیسی گھی، سوجی اور کئی قسم کے مغزیات سے بنائے گئے حلوے کی پنیاں لائے ہیں کہ سفر میں توانائی فراہم کرتی ہیں۔ اب ایسا تحفہ ہو تو اس کو ناں کرنا تو گناہ ہوا اور ہم گناہوں سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملک صاحب نے اپنا بیک پیک کھولا اور ایک بڑا سا ڈبہ ہمیں پکڑا دیا۔ ڈبہ کھولا تو اس میں اتنی پنیاں ضرور تھیں کہ سبھی ٹیم ممبر کوایک ایک دی جا سکتی تھی ہم فوراً ریسٹ بریک کا کاشن دیا اور سب کو ایک ایک پنی پکڑانے لگے۔ ٹیم ممبران یہ غیر متوقع سوغات دیکھ کر اتنے خوش ہوئے کہ شکریہ ادا کرنا بھی بھول گئے۔ ارشد صاحب کو یہ سوغات اتنی لذیذ لگی کہ تعریفوں کے پل باندھ دیے اور اس کی ترکیب پوچھنے لگے۔ ملک صاحب تو پریشان ہی ہو گئے کہ یہ سوغات انہوں نے بنائی ہو تو کچھ بتائیں بھی۔ بس شرمیلے لہجے میں یہی بتاتے رہے کہ گھر والوں نے بنا کر دی ہے۔ ملک صاحب۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ بہر حال پنیاں کھا کر سب ایک نئے ولولے سے اپنے راستے پر گامزن ہوئے۔ اور پھر ہمیں قلعہ تلاجھا دکھائی دیا اتنا قریب کہ حیرانی ہوئی کہ ہم اتنی جلدی پہنچ گئے لیکن ابھی تو رستہ طے کرنا باقی تھا۔ وہاں سے ہم نے نیچے اترنا تھا اور لگ یہی رہا تھا کہ اتریں گے کم اور پھسلیں گے زیادہ۔

\"\"

یونہی اترتے پھسلتے نیچے اترے۔ محمود ملک بھی نہایت مستقل مزاجی سے ہمارے ساتھ رہے۔ کچھ دور چلے اور ایک جگہ کتا بھونکا۔ ہم نے جان لیا کہ یہاں کوئی انسان بھی ہو سکتا ہے۔ کہیں درختوں میں چھپے کسی انسان کی آواز آتی تھی۔ پر بندہ سامنے نہیں آتا تھا سنا تھا کہ اس علاقے میں مفرور ہوتے ہیں شاید یہ بھی کوئی ایسا ہی بندہ تھا۔ بہر حال ہمارے دوستوں کو اس نے پانی فراہم کر دیا جو پانی ختم ہونے پر پریشان لگ رہے تھے۔ نجیب اور عزیر نے اپنی خوش گپیوں سے ساری ٹیم کو فریش رکھا۔ وہاں سے چلے تو سامنے ایک بڑا پہاڑ تھا ہم سوچ رہے تھے کہ اس کو سر کیسے کریں گے کہ عدنان عالم نے بتایا کہ اس کے قریب سے گھوم کر جائیں گے۔ اور یہی ہوا ایک تنگ سا رستہ ہمیں تلاجھا کی جانب لے جا رہا تھا۔ دائیں طرف اونچا پہاڑ اور بائیں طرف گہری کھائی۔ ۔ ۔ ایک موڑ مڑے تو سامنے ہی تلاجھا کا میدان تھا۔

(دوسرا حصہ)



Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔