سفارش۔ پارٹ ٹو


\"\"

دروازے کی گھنٹی بجی، معلوم کیا تو ملازم نے بتایا کوئی ’’فیقا صاحب‘‘ ملنے آئے ہیں۔ ذہن پر زور ڈالا مگر ایسا کوئی نام دماغ کے کسی کونے میں فیڈ نہیں تھا، پھر سوچا ممکن ہے ملازم کو سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہو، اسے دوبارہ بھیجا کہ پورا نام پوچھ کر آئے۔ واپس آ کر اُس نے بتایا کہ فیقا کوچوان ملنا چاہتا ہے اور کہہ رہا ہے کہ صاحب کو بتانا میں انہیں تانگے پر اسکول چھوڑنے جایا کرتا تھا۔ ملازم نے یہ بات بتاتے ہوئے کچھ ایسی عجیب نظروں سے مجھے دیکھا جیسے اسے امید نہیں تھی کہ اُس کا صاحب تانگے پر اسکول جایا کرتا تھا۔ میں بھی کچھ تلملا سا گیا، نجانے اتنے برسوں بعد یہ فیقا کہاں سے آن ٹپکا تھا، پہلے میں نے سوچا کہ اسے کہلوا دوں کہ میں مصروف ہوں اگر کوئی کام ہے تو چِٹ پر لکھ کر دے جائے، مگر پھر اسکول کی یادیں ذہن میں تازہ ہو گئیں۔ فیقے کا چہرہ ذہن میں گھوم گیا، ایک انتھک محنتی اور غریب شخص کا مخصوص چہرہ جس کا حلیہ بیان نہیں کیا جا سکتا، غریب بذات خود ایک مکمل حلیہ ہے۔ اکثر اسکول لے جاتے ہوئے فیقا ہمارے ہاتھ میں چابک پکڑا دیتا تھا جو ہم گھوڑے کی پیٹھ پر مارتے تو گھوڑا یکدم تیز دوڑنے لگتا مگر ساتھ ہی فیقا بھی تڑپ اٹھتا اور ہمارے ہاتھ سے چابک واپس لے لیتا۔ میں زیادہ ناسٹلجک تو نہیں مگر اِس وقت فیقے کا نام سُن کر ایک پوری فلم تیزی سے میری آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔ چار وناچار میں اٹھ کر دروازے تک گیا، مجھے دیکھ کر فیقے کی لال سُرخ آنکھیں چمک اٹھیں، اُس کے چہرے پر جھریوں کا جال بچھا تھا، جسم لاغر ہو چکا تھا اور سر کے بال مکمل جھڑ چکے تھے، اگر مجھے پتہ نہ ہوتا کہ یہ فیقا کوچوان ہے تو میں کبھی بھی اسے پہچان نہ سکتا۔ فیقے کیساتھ اُس کا بیس بائیس برس کا نوجوان لڑکا تھا، اس نے صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور شکل سے کچھ پڑھا لکھا بھی لگ رہا تھا، نہایت ادب سے اُس نے سلام کیا جس کا میں نےسر کی ہلکی سی جنبش سے جواب دیا۔
’’صاحب جی، مجھے پتہ ہے آپ بڑے آدمی ہیں، مصروف ہیں، بڑی مہربانی کہ آپ نے مجھے مل لیا، میں زیادہ ’ٹیم‘ نہیں لوں گا، یہ میرا بیٹا ہے، رئیس، اسے سرکاری نوکری دلا دیں، ساری عمر آپ کی خدمت کرے گا‘‘۔ فیقے نے گویا کوزے میں دریا بند کر دیا۔ ایک تو یہ غریب لوگ نجانے کیا سوچ کر نام رکھتے ہیں، میں نے دل میں سوچا، کھانے کو روٹی نہیں اور نام رکھیں گے رئیس! ’’فیقے، تمہیں پتہ بھی ہے آج کل سرکاری نوکری نہیں ملتی…!‘‘ میں نے اسے کچھ سمجھانا چاہا مگر فیقے نے میری بات کاٹ دی :’’صاحب، مجھے پتہ ہے اور یہ بھی پتہ ہے کہ آپ کو اللہ نے کیا اختیار دیا ہے، آپ چاہیں تو سب ہو سکتا ہے، میں آپ کے ہاتھ جوڑتا ہوں، میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں، میری ہڈیاں گل چکی ہیں، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے، مجھ سے اب کام نہیں ہوتا پتّر…!‘‘ یہ کہہ کر فیقے نے زارو قطار رونا شروع کر دیا، میرا دل پسیج گیا، میں نے اپنی عادت کے برخلاف فیقے سے وعدہ کر لیا کہ میں اس کے بیٹے کو نوکری دلا دوں گا۔ فیقا میرے ہاتھ چومتا ہوا رخصت ہو گیا اور جاتے ہوئے کہہ گیا کہ اب رئیس ہی میرے پاس آئے گا۔
اتفاق سے کچھ دنوں بعد ہی میرے محکمے کی ایک شاخ میں ڈیلی ویجز پر اسٹاف بھرتی کرنے کی ضرورت پڑ گئی، چونکہ ایسی بھرتی کیلئے کوئی لگا بندھا اصول یا میرٹ درکار نہیں ہوتا سو میں نے متعلقہ افسر کو سفارش کر کے رئیس کو وہاں نائب قاصد رکھوا دیا۔ ایک مہینے بعد جب اسے تنخواہ ملی تو وہ میرے لئے میاں چنوں کی خاص برفی بطور تحفہ لے کر آیا، میں نے بھی شکر کیا کہ فیقے کا کام ہو گیا، کم ازکم غریب کو اپنی زندگی میں کوئی تو خوشی دیکھنی نصیب ہوئی۔ دن، ہفتے اور مہینے گزرتے گئے، اس دوران رئیس کبھی کبھار مجھے سلام کرنے آ جاتا، ایک دن وہ آیا تو کہنے لگا کہ دفتر میں ڈرائیور کی بھرتی ہو رہی ہے اگر میں اسے نائب قاصد سے ڈرائیور کروا دوں تو تنخواہ کچھ بڑھ جائے گی، رئیس نے اپنا ڈرائیونگ لائسنس بھی مجھے دکھایا، میں نے اُس کی سفارش کردی اور رئیس نائب قاصد سے بڑے صاحب کا ڈرائیور بن گیا۔ دو سال گزر گئے، اس دوران رئیس کی شادی ہو گئی اور ایک بچہ بھی ہو گیا، اچانک ایک روز پھر وہ دفتر میں آن پہنچا، اس مرتبہ اس کی خواہش تھی کہ اسے ڈرائیور سے بارہویں اسکیل میں اسسٹنٹ کر دیا جائے، دو سال کے دوران اُس نے پرائیویٹ بی اے کر لیا تھا اور یوں بقول اُس کے وہ نوکری کیلئے اہل بھی تھا۔ اس مرتبہ میں نے سفارش کرنے کی ہامی نہیں بھری۔ اگلے ہی دن رئیس اپنے باپ فیقے کو لے کر میرے دفتر آ گیا، اس سے پہلے کہ فیقا رونا شروع کرتا میں نے فون اٹھا کر متعلقہ افسر کو رئیس کی سفارش کر دی۔ رئیس اب بارہویں اسکیل میں اسسٹنٹ تھا۔
ایک سال مزید گزر گیا، اس دوران رئیس مجھ سے ملنے نہیں آیا، میں نے بھی شکر کیا کہ اب وہ ’’سیٹل‘‘ ہو گیا ہے مگر پھر اچانک ایک روز وہ آن دھمکا، اس مرتبہ اس نے خبر سنائی کہ اسسٹنٹ بھرتی ہونے والوں کو ’’ریگولرائز‘‘ کیا جا رہا ہے، اگر یہ کام ہو جائے تو سرکاری نوکر ی پکی ہو جائے گی اور پھر زندگی میں کوئی ڈر نہیں ہو گا۔ اسے علم تھا کہ ریگولرائز کرنیوالی کمیٹی کا سربراہ میرا جونئیر ہے جو میرا کہا نہیں ٹال سکتا اور یہی ہوا، رئیس گریڈ بارہ کا پکا سرکاری ملازم بن گیا۔ تھوڑا وقت اور گزرا، اس دوران اُس نے سرکاری کوارٹر کیلئے درخواست جمع کروا دی، پھر کسی نے مجھے بتایا کہ اسے کوارٹر مل گیا ہے، میں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ایک خالی ہونے والے کوارٹر میں اُس نے اپنا سامان رکھا اور پھر ملی بھگت کر کے اسے اپنے نام الاٹ کروا لیا۔ ایک روز وہ پھر میرے دفتر میں آ گیا، اِس مرتبہ مجھے اُس کی خواہش کا پہلے سے علم تھا، وہ چودہویں اسکیل میں ترقی چاہ رہا تھا۔ اُس نے کہا کہ والد صاحب اس کام کیلئے خود آپ کے پاس آنا چاہتے تھے مگر اُن کی صحت بہت بگڑ چکی ہے، تاہم اگر آپ کہیں تو انہیں کل لے آؤں! مجھے لگا جیسے رئیس مجھے فیقے کی ’’دھمکی‘‘ دے رہا ہو۔ میں نے کہا کہ اِس کی کوئی ضرورت نہیں، میں پوری کوشش کروں گا کہ تمہاری ترقی ہو جائے۔ کمیٹی کا اجلاس ہوا تو معلوم ہوا کہ جس ڈگری کی بنیاد پر رئیس اسسٹنٹ بھرتی ہوا تھا وہ جعلی تھی سو ناصرف اس کی ترقی نہ ہو سکی بلکہ اس کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کرنے کی سفارش کی گئی۔
پھر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ رئیس رات کو فیقے کو ساتھ لے کر میرے گھر آ گیا، فیقے کی حالت بہت خراب تھی، اُس سے ٹھیک طرح چلا بھی نہیں جا رہا تھا، رئیس اسے زبردستی چلا کر ساتھ لایا تھا۔ فیقے کی سرخ آنکھوں میں اب روشنائی بھی کم رہ گئی تھی مگر میرا چہرہ یقیناً اسے صاف دکھائی دے رہا تھا، بدقت تمام اس نے الفاظ جمع کئے اور بولا: ’’صاحب جی، رئیس بتارہا تھا کہ آپ اُس کی نوکری ختم کرنے والے ہیں، یہ بات صحیح ہے؟‘‘ میں نے گھور کر رئیس کی طرف دیکھا، اُس نے سر جھکا لیا، میں نے فیقے سے کہا ’’دیکھو فیقے، تمہارے بیٹے کیلئے میں جو کر سکتا تھا میں نے کیا مگر اب میں مجبور ہوں، کچھ قانون اور اصول بھی ہوتا ہے، میں مزید اب اس کی سفارش نہیں کرسکتا‘‘۔ فیقے نے میرا جملہ سنا مگر مجھے اندازہ ہو گیا کہ اسے میری بات پر رتی برابر بھی یقین نہیں آیا، اُس نے خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولا ’’کوئی بات نہیں صاحب جی، کوئی بات نہیں!‘‘
کالم کی دُم: قارئین سے گزارش ہے کہ اس ’’کالم‘‘ کو احمد ندیم قاسمی کے افسانے ’’سفارش‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھیں کہ یہ اسی سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔

(بشکریہ روزنامہ جنگ)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 131 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada