اختلاف کا زوال


akhtar-ali-syedاختلاف زندہ اور صحت مند معاشروں کا ایک لازمی خاصہ ہے۔ اختلاف کو معاشرتی زندگی کا لازمہ سمجھنے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت معاشروں کی زندگی اور صحت کا پتا دیتی ہے۔ اختلاف کو رحمت قرار دیے جانے کی حکمت بھی غالباً یہی ہوگی کہ ایک تو اس سے خوف نہ آئے اور دوسرے یہ کہ اختلاف اور عداوت میں فرق کو ملحوظ رکھا جائے۔ اگر اختلاف اور عداوت میں فرق نہ ہوتا تو رحمت للعالمین اسے رحمت قرار نہ دیتے۔ اختلاف رائے، رویے اور طرز عمل سے ہوتا ہے، ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے۔ جب یہ مخالف کی بقا، سلامتی اور ناموس کے درپے ہو جائے تو عداوت کہلاتا ہے اور معاشرے کے رگ و پے میں زہر کی صورت سرایت کرکے مختلف صورتوں میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ عداوت اور دشمنی کا اڑدہا کتنے سر رکھتا ہے پاکستان کے شہریوں سے چھپا نہیں ہے۔

زندہ معاشرے زندہ موضوعات پر ہونے والے اختلاف پر مکالمے کو زندہ رکھتے ہیں۔ زندہ موضوعات پر اختلاف سے مراد ان مسائل پر ناموافقت ہے جو معاشرے کی حیات اور اس کے روز و شب کی طوالت کا تعین کرتے ہیں۔ یہ اختلاف جامد نہیں بلکہ متحرک ہوتے ہیں۔ یہ تبدیل ہوتی ہوئی انسانی ضرورتوں اور ارتقا پذیر انسانی فکر کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں۔ زندہ معاشرے ان پر مکالمے کا اہتمام کرتے ہیں جو ان اختلافات کے ہر پہلو کا احاطہ اور ہر ایک کو اس گفتگو میں شامل کرنے کی ایک کوشش ہوتی ہے۔ اس عروج پر پہنچ اختلاف یا تو اپنے حل پر انجام پذیر ہوتا ہے یا پھر شکل بدل کر نئے مباحث کو جنم دیتا ہے۔ اختلاف کی نئی صورت پہلے سے زیادہ واضح، مؤثر اور ہمہ جہت ہوتی ہے اور اختلافی موضوع کے زیادہ سے زیادہ پہلووؤں پر گرفت رکھتی ہے اور مکالمے کو وسعت دیتی ہے۔ اس طرح فکر کے ان دیکھے دریچے کھلتے ہیں، امکانات کے نئے چراغ روشن ہوتے ہیں اور اوبھے سانس لیتے معاشرے اپنا تنفس بحال کرتے ہیں۔

مردہ موضوعات سے مراد انسانی فکر کو محبوس اور مقید رکھنے والے وہ مفروضات ہیں جن میں صدیوں سے کوئی حرکت پیدا نہیں ہوئی۔ آگے بڑھتے ہوئے وقت نے اپنی روانی میں ان پر کبھی پڑاﺅ نہیں ڈالا۔ ان اختلافات نے جو بھی رد و کد جنم دیا، سوال و جواب کا جو بھی سلسلہ شروع کیا گزرتا وقت ان کی نوعیت اور ساخت کو تبدیل نہیں کر سکا۔ مخالفین نے جو سوالات ایک دوسرے کے لئے اٹھائے تھے وہ صدیوں سے اپنی جگہ قائم ہیں اور رد میں بھی جو کچھ کہا گیا وہی کچھ آج تک کہا جا رہا ہے۔ یعنی نہ سوال اپنی جگہ سے ہلا نہ جواب۔ مردہ موضوعات پر اختلاف (یا مردہ اختلاف) دائروں کا کھیل ہے۔ کہنہ سوالات کے وہی بوسیدہ جوابات۔ انسانی فکر دائروں میں گھومتی ہے اور اس کی پیش قدمی رک جاتی ہے۔ جو اختلاف آگے بڑھ کر نہ تو حل پذیری کا سورج دیکھے اورنہ رفعت فکرکی نوید سناے مگر معاشرہ ان اختلافات کو آکسیجن کی فراہمی جاری رکھے تو ایسے میں دو نکات بہر طور واضح ہو جاتے ہیں ایک، ان اختلافات کی حیات مصنوی تنفس کی محتاج ہے اور ان کی موجودگی کچھ طبقات کی حیثیت اور حیات کی ضامن ہے اور دوسرے، مردہ اختلافات لا ینحل ہونے کے سبب عداوت میں تبدیل ہونے کا ایک یقینی امکان رکھتے ہیں۔

اس قدرے طویل تمہید کے بعد آئیے ، برصغیر میں کم از کم گزشتہ ڈھائی صدیوں سے جاری مسلکی اختلافات کی تاریخ پر نظر ڈالیں اس تاریخ کا طالب علمانہ مطالعہ ایک غبی کو بھی اس نتیجے پر پہنچانے کے لئے کافی ہے کہ ان فرقہ وارانہ مباحث کے نہ صرف یہ کہ سوال و جواب نہیں بدلے بلکہ ان مناظروں نے قتل و غارت گری اور عداوت و خصومت کا وہ الاؤ بھڑکایا ہے کہ آنے والی کئی نسلیں اس کی حدت کو محسوس کریں گی۔ معاشرے کے تعلیم یافتہ اور با صلاحیت افراد ان بحثوں میں بہ قدر توفیق اپنا حصہ ڈالتے رہے بغیر یہ سوچے کہ اول تو ان اختلافات کا کوئی حل مکالمے یا مناظرے میں موجود نہیں ہے اور دوسرے، کسی زمینی مسلے کا کوئی حل ان بحثوں سے برآمد نہیں ہو سکتا۔ ان اختلافات کا واحد نتیجہ ایک طبقے کی حیات طولانی اور غیر متزلزل حیثیت کی صورت میں سماج کے سامنے ہے۔ وگرنہ یہ اپنی سماجی افادیت نہ ہونے کے سبب کبھی کا سکڑ کر اپنے حجروں میں محدود ہو گیا ہوتا۔

مردہ اختلافات کی مصنوئی حیات سے زر اور زندگی پانے والا یہ طبقہ استعمار اور استعماری طاقتوں کے ساتھ تعلق اور ان کے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ مردہ اختلافات کی زندگی استعمار کے کم از کم تین مقاصد کی تکمیل کرتی ہے۔ ایک، مجبور اور مقہور قوموں کی فکر دائروں میں پھنس کر آگے کا سفر اختیار کرنے محروم ہو جاتی ہے، دوسرے، ان قوموں کو مردہ اختلافات کے نا ممکن الحصول حل میں اپنی حیات اور مستقبل دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ موجودہ مسائل کا حل ماضی سے دریافت کرنے پر مصر رہتے ہیں اور تیسرے، ان اختلافات کو عداوت اور مخاصمت تبدیل کرکے ایک تو ان قوموں کے غصے کا رخ ایک دوسرے کی جانب موڑ دیا جاتا ہے اور پھر ان پر خونخوار، وحشی اور غیر تہذیب یافتہ ہونے کا لیبل بھی بآسانی چسپاں کیا جا سکتا ہے۔

تاریخ نے یہ بات کھول کر بتادی ہے کہ مردہ اختلاف کی زندگی کا مطلب فریقین کے سروں پر لٹکتی موت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

پاکستان کی حد تک ایک اور تاریخی حقیقت بھی قابل غور ہے اور وہ دور آمریت میں مردہ اختلافات کا احیا اور ان کے ن پہلووں کا اجرا ہے۔ ہر پاکستانی اس امر کا عینی شاہد ہے کہ آمریت کے ادوار میں فرقہ وارانہ اختلافات کا کھیل کھیلنے والے ن کھلاڑی، نئی ٹیمیں اور ان نئی ٹیموں کے اندر سے مزید ٹیمیں معاشرتی اور سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئیں۔ ان ٹیموں نے مردہ اختلافات میں نہ صرف نئی روح پھونکی بلکہ ایک مائل بہ زوال معاشرے کو یہ بھی باور کرادیا کہ تمام ملکی اور معاشرتی کا اصل سبب مخالف مسلک کے افکار و عقائد کی ترویج ہے۔ ان ن کھلاڑیوں اور ان پر مشتمل ٹیموں نے ایک منتشر معاشرے میں تفرقے اور تقسیم کی نئی مگر غیر حقیقی، اونچی اور مصنوئی دیواریں کھڑی کردیں نتیجتاً زندہ موضوعات پر اختلافات دھندلے ہوتے ہوے بالاخر نظروں سے اوجھل ہونا شروع ہو گئے۔

زندہ موضوعات پر ہونے والی گفتگو آج تک مناظرانہ رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ جس معاشرے میں مختلف نقطہ نظر رکھنے والے کے لیے صرف کافر، غدار اور کرپٹ جیسے القابات ہوں وہاں سیاسی مکالمے کا رکیک اور بے نتیجہ ہونا قابل فہم ہے۔

صحت مند اختلاف کے لئے جہاں یہ لازم ہے کہ وہ زندہ موضوعات پر ہو، وہیں اس کا متحرک اور نتیجہ خیز ہونا بھی ضروری ہے۔ گزشتہ تیس برسوں کی سیاسی صورتحال نے معاشرے سے اختلاف کرنے کا وصف اور سلیقہ تک چھین لیا ہے۔ کیا اختلاف اور عداوت کے درمیان حد فاصل کا تعیین ارباب سیاست کی ترجیحات میں شامل ہے؟


Comments

FB Login Required - comments