سی پیک اور اس کے مختلف پہلو


حسن حیدر

\"\"بلوچستان میں سی پیک پہ خدشات اور تحفظات کا سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اپنی نوعیت کے اس منصوبے کے روز اول سے ہی خطے کے لئے گیم چینجر قرار دیا جارہا ہے جب کہ صوبوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس کے مغربی روٹ پر بہت سے جائز اور ناجائز خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے جو کم ہونے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ سی پیک بنیادی طور پر چینیوں کا خواب ہے جس سے چین کی طرح پاکستان بھی بہت مستفید ہوگا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمیں اس پر عمل درآمد کے حوالے سے اس کے اصل خالقوں اور مالکوں جو پاکستان کے حقیقی دوست بھی ہیں کی تقلید کرتے۔ جہاں احسن اقبال کی جانب سے اس منصوبے کو گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے دوسری طرف سابق صدر زرداری اور دیگر جماعتوں کی جانب سے اسے محض پنجاب کے لئے فائدے مند قرار دیا جا رہا ہے۔ ان تحفظات کا سلسلہ روکا نہیں بلکہ جلسے جلوس اور مظاہرے آل پارٹیز کانفرنس بھی وقتاً فوقتاً انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے بلوچستان حکومت قرارداد منظور کرچکی ہے اور مختلف پروگراموں میں اس متعلق باز گشت سنائی دیتی ہے۔

بلوچستان کی مختلف جماعتوں کا روز اول سے یہ موقف ہے کہ اس کا مغربی روٹ ہی اہم روٹ ہے اور وفاقی حکومت بھی یہی کہتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن وفاق کی جانب سے اس روٹ پر کام کے لئے کوئی قابل ذکر فنڈز مختص نہیں کیے جاتے بلکہ راہداری کے مغربی روٹ کی سڑک پر نہ تو کوئی کام ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں کی عوام میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ چند جن قبل چین سے آنے والے کنٹینرز ژوب کے راستے سے داخل ہوکر گوادر تک پہنچے تھے اور صوبے کے اکثر لوگ اسی روٹ کو اصل روٹ قرار دیتے ہیں۔ کنٹینرز کا اسی روٹ سے گزر کر گوادر تک پہنچنا ایک خوش آئند بات ہے لیکن اس روٹ کی تعمیر اور اس پر اقتصادی زونز کے قیام پر کچھ سیاسی حلقوں کے اس پر تحفظات بھی ہیں، جب ان آوازوں کا سلسلہ شدید اختیار کر گیا تو وزیراعظم کی جانب سے اے پی سی بلائی گئی اسلام آباد میں ہونے والی اس اے پی سی میں مغربی روٹ پر فوری کام شروع کرنے کا کہا گیا مگر اس کی ضرورت کے مطابق فنڈز مختص نہیں کئے گئے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اچکزئی صاحب تو اس معاملے پر خاموش ہیں لیکن ان کی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ اپنی قیادت کے اس رویہ کے خلاف سینٹ میں آواز اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سینیٹر داؤد خان کی سربراہی میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے ارکان نے کوئٹہ سے ژوب تک روٹ پر سفر کیا اور کمیٹی کی یہ رائے تھی کہ سی پیک کے حوالے سے روٹ پر ایک اینٹ تک نہیں رکھی گئی۔ جمیعت علماء اسلام کے مرکزی رہنما اور مولانا عبدالغور حیدری کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ بتایا جائے گوادر سے کوئٹہ ژوب ڈی آئی خان تک روٹ ہے یا نہیں اور روٹ کو کتنے روز میں بنایا جائے گا کیونکہ ایک اندازے کے مطابق اگر ہر ماہ گوادر پر صرف دو بڑے بحری جہاز بھی لنگر انداز ہوتے ہیں تو ان پر تیس ہزار سے زیادہ کنٹینرز سڑک پر ہوں گے۔ اتنی بڑی تعداد میں ان کنٹینرز کا بوجھ یہ سڑک کیسے اٹھائے گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ اس سڑک پر کتنے اور کن جگہوں پر اقتصادی زونز بنائے جائے گے۔

وزیر اعلیٰ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ سی پیک کے تحت صوبے میں سات بڑے انڈسٹریل زون بنیں گے صرف گوادر ٹریڈ زون سے پچاس ہزار مقامی لوگوں کو ملازمت کے مواقع ملے گے لیکن زمینی حقائق تو کچھ یوں کہتے ہیں کہ تمام تر پراجیکٹ پر چین اپنی سیکیورٹی اہلکار لائے گا اور تمام تر ملازمین بھی چین سے ہی آئے گا۔ دوسری طرف وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ گوادر میں پانی کی قلت دور کرنے کے لئے ڈیم بنا دیا گیا ہے پائپ لائن بچھانے کا کام جلد شروع ہوجائے گا۔ ابتداء میں بھی اگر میاں صاحب کی حکومت تمام قائدین اور تمام وزرائے اعلی کو بٹھا کر مشاورت کرتی اور جھوٹ سے کام لینے کی بجائے شفافیت سے کام لیتی اور منصوبوں اور معاہدوں کی تفصیلات متعلقہ فورمز پر سامنے لائے جاتی تو کسی کو اپنی دوکان چمکانے کا موقع نہ ملتا۔ چنانچہ اب حکومت نے تمام وزیر اعلیٰ خصوصاً پرویز خٹک کو رام کرنے کے لئے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور انہیں چین لے جا کر سب اختلافات پر پردہ ڈالنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بہر کیف وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی یقین دہانیاں اپنی جگہ لیکن ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان میں اعلانات اور یقین دہانیوں سے شاید عوام اور یہاں کی سیاسی جماعتیں مطمئن نہیں۔ لیکن اگر اپنے اصل روح کے مطابق سی پیک پر عمل درآمد ہوا تو پاکستان کی جماعتوں اور مختلف اکائیوں کو جوڑا جاسکتا ہے لیکن اگر حکمرانوں کے عزائم پورے ہوئے تو یہ منصوبہ خاکم بدہن وفاق کی بنیادوں کو مزید کمزور کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔