خواجہ آصف کی اسرائیل کو دھمکی اور سیاست دانوں کی ناکامی


\"\"خواجہ صاحب کا تعلق شہر اقبال سے ہے۔ اقبال کی طرح وہ بھی گفتار کے غازی ہیں۔ جدی پشتی سیاست دان ہیں۔ اعلیٰ تعلیم لندن سے حاصل کی۔ نوے کی دہائی میں مسلم لیگ نواز کے چیدہ رکن رہے۔ دوسری نواز حکومت کے دوران وزیر تھے۔ عدالتِ عظمیٰ میں وزیر اعظم کے خلاف توہینِ عدالت کا کیس چل رہا تھا کہ کمرہ نمبر ایک پر ایک لشکر نے ہلہ بول دیا۔ خواجہ صاحب اس مہم میں پیش پیش تھے۔ مشرف دور میں انہیں سیاسی کارکن ہونے کا معاوضہ جسمانی اور ذہنی تشدد کی صورت میں ادا کرنا پڑا۔ 2002 کے انتخابات میں انہوں نے اپنے آبائی حلقے سے قومی اسمبلی کی نشست جیتی۔ اسمبلی میں ایک موقعے پر افواج پاکستان کے متعلق ایک تنقیدی تقریر کی۔ تیسری نواز حکومت میں وزارت دفاع کا قلم دان سنبھالا۔ انگریزی محاورے کے مطابق جوتا اب دوسرے پیر میں تھا۔

بزرگ بتاتے ہیں کہ بڑھک لگانا آسان اور عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ شاہدین کے مطابق خواجہ صاحب کو کبھی وزارت دفاع کے دفتر میں نہیں دیکھا گیا۔ خبر ہے کہ سابق وزیر دفاع (احمد مختار) بھی دفتر جانے کی زحمت نہیں کرتے تھے۔ کچھ دن قبل موصوف نے اسرائیل کے (سابق) وزیر دفاع سے منسلک ایک فرضی اور فیس بک کے ذریعہ پھیلائے من گھڑت بیان کے جواب میں پاکستان کے جوہری طاقت ہونے کی بڑھک ماری۔ بین الاقوامی امور کا مسئلہ یہ ہے کہ حکومتی نمائندوں (خاص طور پر وزراء) کے بیانات حکومتی پالیسی سمجھے جاتے ہیں۔ اس بڑھک کو دنیا بھر کے اخبارات میں پاکستان کی طرف سے دھمکی کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاحال خواجہ صاحب نے اس حرکت پر پشیمانی کا اظہار نہیں کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق رواں سال میں پاک بھارت کشیدگی کے موقع پر خواجہ صاحب واشنگٹن ڈی سی میں بیٹھے بھارت مخالف ٹویٹ کر رہے تھے۔ اپنے ذاتی وقت میں خواجہ صاحب جو بھی کریں، ملکی معاملات میں ان کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ایسی عید کا کسی نے سوچا بھی نا تھا۔۔۔

\"\"صاحب مدعا یہ ہے کہ ہم وردی والوں کی حکومت تسلیم نہیں کرتے۔ ہماری تان آخر کار سیاست دانوں پر ٹوٹتی ہے۔ جمہوری نظام کا دفاع ہماری گھٹی میں شامل ہے۔ البتہ جمہوری نظام کے موجودہ مرکزی کرداروں سے ہمیں یہ امید نہیں کہ وہ نظام کو بقا بخشیں گے۔ موروثیت اور عملی نااہلی کے باعث سیاست دانوں کا دفاع کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے بزرگ اس بات کے قائل ہیں کہ وسیع تر قومی مفاد میں ان سیاست دانوں کو برداشت کیا جائے کیونکہ امیدوں کی یہ فصل مختلف آمروں اور ہئیت مقتدرہ نے ہی بوئی تھی۔ گستاخی معاف لیکن پاکستان کے پہلے دس برس میں سیاسی اداکاروں کو کسی درپردہ قوت سے خطرہ لاحق نہیں تھا اور ذاتی طاقت کے ارتکاز کی دوڑ میں ملک کا ستیا ناس کر دیا گیا۔ بھٹو صاحب کے پاس ایک سنہری موقع تھا کہ سول ملٹری تعلقات کو ایک نیا تناسب دیا جائے۔ نوے کی دہائی تو خیر ایک یونانی المیہ ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جمہوری حکومتیں بلدیاتی انتخابات سے کتراتی ہیں؟ میری ناقص رائے میں ایک ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملک کا فرق بلدیاتی سطح پر ریاست کی کارکردگی سے معلوم ہوتا ہے۔ جمہوریت کا مقصد عوام کو مقامی سطح پر فیصلے کرنے کا اختیار دینا ہے یا اسمبلیوں اور سیکریٹریٹ کے گھن چکر میں ڈالنا ہے؟ امریکہ اور یورپ سے موازنہ ناانصافی ہو گی لیکن ہمیں اپنے اداروں کا موازنہ ترکی، ملائشیا، جنوبی کوریا جیسے ممالک سے تو کرنا چاہئے۔ ہماری حکومت کا مسئلہ صرف کرپشن نہیں بلکہ حکومتی نمائندوں کی عدم توجہی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کپتان کی ٹیم اور یوم تشکر

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 28 posts and counting.See all posts by abdulmajeed