پیپلز پارٹی اور کانگریس – بائیں بازو کی ڈھونگی پارٹیاں


\"\"جناب کلدیپ نائر نے اپنے ایک کالم میں کانگرس کو بائیں بازو کی جماعت قرار دیا تو ہمیں پہلی ہنسی آئی اور پھر رونا آیا۔ ہنسی اس لیے آئی کہ ہم موصوف کو روشن خیال، ذہین اور سُجھاکھا سمجھتے تھے۔ مزید ہنسی اس خیال سے پھوٹی کہ بھارت اور پاکستان میں ایسے ذہین سجھاکوں کی رُل پڑی ہوئی ہے۔ رونا یہ سوچ کر آیا کہ جس خطے کے دانشوروں کی بینائی و دانائی کا یہ عالم ہو اُس کا کیا ہو گا۔ مزید رونا یہ دیکھ کر آیا کہ وہی ہو رہا ہے جو ایسے حالات میں ہونا چاہیے۔

اس سے پہلے ہم کارل پوپر کے اس الزام کو کافی حد تک ایک تدریسی حملہ سمجھتے تھے کہ دانشوروں نے عام لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔ خیر پوپر کا اصل ہدف تو افلاطون تھا، جس کے خلاف کافی حد تک اُس نے اپنا مقدمہ ثابت بھی کر دیا ہے۔ تاہم جب دریا سیلابی موڈ میں ہوں تو وہ کافی کچھ بہا کر لے جاتے ہیں۔ کارل پوپر کے حملے کی زد میں ارسطو اور ہیگل بھی آ گئے لیکن بات نہیں بنی۔ ہاں مارکس کی دفعہ پوپر نے ہاتھ ہولا رکھا ہے۔

جب سے انگریز گیا ہے، چند سالوں کو چھوڑ کر، بھارت میں کانگرس کی حکمرانی رہی ہے۔ کانگرس پہلی بار اقتدار سے باہر 1977 میں ہوئی. تب تک اُسے حکومت کرتے تقریباً تیس سال ہو چکے تھے۔ تھوڑی دیر کے لیے پنڈت جواہر لال نہرو کے سوشلسٹ جذبات اور بیانات بھول جائیں۔ اور 77 کے بھارت پر نظر دوڑائیں۔ آپ کو غربت میں اضافہ، عورت ذات کی توہین و تذلیل، حتیٰ کہ ذات پات کے مسائل سمیت مذہبی منافرت اور منافقت پہلے سے زیادہ دکھائی دے گی۔ صورتِ حال کو جوں کا توں رکھنے کی ذمہ دار یہ جماعت دو سال بعد ہی 79 میں غریبی ہٹاؤ بلکہ \’ گریبی ہٹاؤ \’ کا نعرہ لگا کر ایک دفعہ پھر دہلی کے تخت پر براجمان ہونے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ \’بائیں بازو\’ کی یہ سیاسی پارٹی جو 1885 میں وجود میں آئی ایک طویل سیاسی جدوجہد کا ماضی رکھتی ہے۔ انگریز سامراج جب اس خطے سے گیا تو پنڈت جی نے لارڈ ماونٹ بیٹن کو بھارت کا پہلا گورنر جنرل بنا کر اس عظیم سیاسی جدوجہد کا خاتمہ بالخیر کر دیا جس نے جنوبی ایشیا کی آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

اُن کی بیٹی نے (جو بذات خود ایک قدآور سیاسی رہنما تھیں) پہلے اپنے چھوٹے بیٹے سنجے کو جانشینی کے لیے تیار \"\"کیا۔ ظاہر ہے یہ امر اس جماعت کے تمام دیگر سیاسی رہنماؤں پر بھی واضح تھا۔ یہ رہنما خود بھی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لے چکے تھے۔ خیال رہے کہ بھارت میں سیاسی لیڈر پچاسی نوے سال سے پہلے مرنا پسند نہیں کرتے۔ لیکن جب اندرا گاندھی کو قتل کیا گیا تو جناب راجیو گاندھی کو پارٹی کے بڑے بوڑھوں نے کانگرس کا صدر اور ملک کا وزیرِ اعظم بنا دیا۔ \’بائیں بازو \’ کی اس جماعت نے سیاسی وراثت کو اس طوالت اور مقام تک پہنچا دیا کہ اس کے لیے \’ڈائنسیٹی\’ یعنی شاہی خاندان کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے۔ راجیو کے زمانے میں ہی بوفورس سکینڈل نے جنم لیا جس نے آج تک گاندھی نہرو خاندان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ تاہم زوال کا انتہائی مقام وہ تھا جب ایک سو پچیس سالہ پُرانی سیاسی جماعت نے ایک اطالوی بیوہ کو صدر بنانے کا اعلان کیا۔ اُس خاتون کی واحد وجہِ شہرت راجیو کی بیوہ ہونا تھا۔ کانگرس نے زوال کی پاتال کو چھو لیا جب نرسیما راؤ کی گڑ بڑ وزارتِ عظمیٰ کے بعد سونیا گاندھی کو مجبور کیا گیا کہ وہ پارٹی کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ پہلے وہ اپنی مرضی سے پسِ پردہ تھیں۔ البتہ محترمہ سونیا گاندھی کے سپوت جناب راہول گاندھی زوال اور پستی کی نئی جہت کامیابی سے تلاش کر رہے ہیں۔ ہمیں پاکستان میں جناب من موہن سنگھ کی مست، بے پرواہ حکومت کے انداز دیکھ کر کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ ہم جناب آصف زرداری اور جناب یوسف رضا گیلانی کا بھیانک گٹھ جوڑ ہم بھی بھارت واسیوں کی طرح بھگت چکے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  میرے عزیز ہم مٹن اور اللہ میاں کی گائے

جناب کلدیپ نائر صاحب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ہم بھی ایک \’بائیں \’ بازو کی پارٹی رکھتے ہیں۔ بلکہ ہماری\"\" پارٹی تو انقلابی بھی ہے۔ اس پر یاد آیا کہ جناب شفیق الرحمان کا حاتم طائی ایک رقیب سے پوچھتا ہے۔ تم اُس حسینہ پر عاشق ہو؟ رقیب جواب دیتا ہے۔ سو جان سے۔ جواب میں حاتم فاتحانہ انداز میں کہتا ہے۔ اور یہ خاکسار ہزار جان سے عاشق ہے۔ تو ہماری والی پارٹی تو انقلابی بھی ہے۔ پھر ہماری جماعت کا بانی فخرِ ایشیاء و افریقہ و دیگر تیسری دُنیا بھی رہا ہے۔ بھٹو صاحب نے نوجوانی سے جوانی میں قدم رکھا ہی تھا کہ وہ سکندر مرزا کی کابینہ میں وزیر ہو گئے۔ جب تک فیلڈ مارشل ایوب خان سے موصوف کے اختلافات نہیں ہو گئے وہ اقتدار کی بساط کے اہم مہرے تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف الیکشن میں سرگرمی سے حصہ لینے والے۔ حکمرانی کے مختصر سے آٹھ دس سال کے وقفے میں بھٹو صاحب غالباً کسانوں مزدوروں کی پاکستان میں موجودگی سے ناواقف تھے۔ لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ جونہی یہ حقیقت صاحب کے علم میں آئی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایک بائیں بازو کی جماعت بنا ڈالی۔ اقتدار کی چوکھٹ سے باہر آتے ہی \’بائیں بازو کی انقلابی جماعت\’ کے بانی ہو گئے۔ تاہم ایک چھوٹا سا فرق کانگرس اور پی پی پی میں یہ نکلا کہ کانگرس تیس سال تک بھارت کی اکثریتی جماعت تھی۔ لیکن پاکستان میں اکثریتی جماعت شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ میں تھی۔ اقتدار کا ایک حصہ پانے کے لیے بھٹو صاحب نے فوجی جنتا کا جونئیر پارٹنر بن کر کیا کیا نہ کیا وہ پھر کبھی۔ حادثاتی، اتفاقی طور پر اقتدار بھٹو صاحب کے ہاتھ آنے سے پاکستان کا چھ سال میں وہ حال ہو گیا جو چاچا نہرو بھارت کا اپنے طویل دور میں نہ کر سکے تھے۔ بائیں بازو کی اس انقلابی جماعت نے اپنی ولولہ انگیز قیادت کے منشور کے تحت 73 کی عرب اسرائیل جنگ میں \"\"پاکستانی فضائیہ کے ہواباز عرب حکومتوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف بھجوا دیے۔ خارجہ امور کے ماہر نے یقیناً اس امر پر غور کر کے ہی یہ فیصلہ کیا ہو گا کہ فریقین میں سے کسی کا اس حد تک ساتھ دینا کہ ایک ملک کو اپنا مستقل دشمن بنا لیا جائے، پاکستان کے فائدے کی بات ہو گی۔ خیال رہے کہ مصر، شام اور عراق نے کشمیر کے مسئلے پر کبھی بھی پاکستان کے موقف کے حمائت نہیں کی۔ ایک مخصوص مذہبی گروہ کو اسمبلی سے کافر قرار دینا اور پھر شراب پر پابندی۔ بائیں بازو کی انقلابی جماعت کے کارنامے یہیں ختم نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر نذیر، خواجہ رفیق اور نواب رضا قصوری کا قتل، پھر لیاقت باغ میں ولی خان کے جلسے میں قتلِ عام اور دُلائی کیمپ۔ آخری کارنامہ الیکشن میں دھاندلیوں کا تھا۔ اس معرکے کا آغاز بھٹو صاحب اور ان کی دیکھا دیکھی تمام وزرائے اعلیٰ کے \’بلا مقابلہ\’ چناؤ سے ہوا تھا۔ اگرچہ کہ بھٹو صاحب کی تمام انتخابی سٹرٹیجی عملاً ایسے شخص کی تھی جس کو یقین ہو کہ وہ منصفانہ انتخابات میں نہیں جیت سکتا۔ لیکن پی پی پی کے کئی دوست اور کئی دشمن یہ خیال رکھتے ہیں کہ دھاندلی نہ بھی کرتے تو 77 میں یہ جماعت جیت جاتی!

اسی بارے میں: ۔  حسین حقانی سے چند تلخ سوالات

معروضی حالات سے حقائق جانچنے والے جانتے ہیں کہ 1975 میں، جب بھٹو صاحب کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا چاروں صوبوں کے ایوانِ اقتدار جاگیر داروں سے پُر تھے۔ یہ بھٹو صاحب کا شعوری فیصلہ تھا۔ اپنی جان دے کر بھٹو صاحب نے جاگیر داری کو اس قدر توانا کر دیا ہے کہ ساری دُنیا میں جاگیر داری ماضی کا قصہ ہے، لیکن سندھ میں جاگیرداروں کی بائیں بازو کی انقلابی جماعت عوام کی گردن میں اپنے دانت گاڑے مُسکرا رہی ہے۔

بھٹو صاحب سے بی بی شہید، بی بی شہید سے زندہ پیر جناب آصف زرداری اور جناب آصف زرداری سے جناب بلاول بھٹو۔ پی پی پی اور کانگرس کی ایک ہی \”گجب کہانی\” ہے یعنی خاندانی وراثت۔ جناب موتی لال نہرو نے 1925 میں اپنی ایک لاکھ روپیہ فی مقدمہ کی قانونی پریکٹس چھوڑ دی تھی کہ اب میں سارا وقت کانگرس کو دینا چاہتا ہوں۔ نہرو گاندھی خاندان نے اس کے بعد کبھی کام نہیں کیا۔ جب کہ بھٹو صاحب نے کبھی بھی اپنی جاگیر کی آمدنی کے سوا، کوئی کام نہیں کیا۔

راہول گاندھی اور بلاول بھٹو میں ایک اور حیرت انگیز مماثلت یہ ہے کہ دونوں کو عاقل و بالغ ہوئے مدتوں گزر چکی ہیں لیکن اب بھی انہیں انڈر ٹریننگ لکھا، بولا اور سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ عوام کی جانب سے اُن سے بیزاری و لاپرواہی کا کھلا اظہار بھی ایک جیسا ہے۔ نتیجتاً زوال بھی ایک جیسا ہے۔ لیکن ایک فرق ہے۔ ایک طویل مدت تک کانگرس بھارت کی اکثریتی جماعت تھی۔ پاکستان میں 1988 کے سوا پی پی پی کبھی بھی پاکستان کی اکثریتی جماعت نہیں رہی۔

آج کا سوال یہ ہے کہ آخر کلدیپ نائر اور فرخ سہیل گوئندی جیسے ذہین، پڑھے لکھے، نفیس اور تجربہ کار افراد کیسے دھوکا کھا گئے کہ مذکورہ بالا دونوں جماعتوں کو بائیں بازو سے متعلق قرار دے دیا؟ ویسے تو ہر فیصلے کی کچھ شخصی اور نفسیاتی وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ تاہم بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آر ایس ایس، بی جے پی، مسلم لیگ (ہر ورائٹی کی) یعنی اسلامی و ہندو مذہبی جماعتوں سے گھبرا کر یہ برانڈنگ کی گئی ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پاک بھارت کی تمام سیاسی جماعتیں اب عملاً مرکز کے دائیں ہاتھ ہی کی جماعتیں ہیں۔ یعنی عوام دشمن اور ردعمل کی نفسیات لئے ہوئے۔ تاہم یہ تو ایسے ہی ہے جیسے قتل کرنے والے کو بہتر قرار دے دیا جائے کہ یہ صرف قتل کرتا ہے، کفن چوری نہیں کرتا۔ سو پوچھنا یہ ہے کہ برِصغیر میں دانشوروں نے دھوکا دیا ہے یا دھوکا کھایا ہے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔