نئے سال کا المناک آغاز


\"\" ابھی 2017 نے سورج کی پہلی کرن بھی نہیں دیکھی تھی کہ تاریکی کی قوتوں نے استنبول کے ایک کلب پر دھاوا بول دیا۔ 39 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 16 غیر ملکی شامل ہیں۔ 69 زخمی ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ حملہ آور سانتا کلاز کے لباس میں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار کو ہلاک کر کے اندر داخل ہوئے اور دور دور تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے ساتھ نئے سال کا استقبال کرنے کیلئے جمع ہونے والے 700 لوگوں پر بے دریغ فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آور جن کی تعداد 2 بتائی گئی ہے، فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ سال رواں کے دوران ترکی میں یہ پانچواں بڑا دہشت گرد حملہ ہے۔ دسمبر کے شروع میں استنبول ہی کے ایک فٹبال اسٹیڈیم میں دو خطرناک بم دھماکوں میں 44 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ 20 دسمبر کو انقرہ میں ایک شدت پسند پولیس افسر نے روس کے سفیر کو ایک نمائش کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ ترکی شام کی خانہ جنگی کی وجہ سے اس وقت دہشت گرد گروہوں کے نشانے پر ہے۔ ترک حکومت کا خیال ہے کہ دہشت گرد حملوں میں کرد علیحدگی پسند گروہ بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ صدر رجب اردگان نے اس سال کے دوران کردوں کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا تھا جس کی وجہ سے کرد علیحدگی پسند بھی حکومت کے خلاف سرگرم ہیں۔ لیکن نئے سال کے موقع پر بے دردی سے نہتے انسانوں کے قتل کے جرم کو کسی بھی عذر کی بنا پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ سال نو کی پہلی کرن طلوع ہونے سے پہلے اس حملہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ 2016 میں دنیا کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے خلاف بعض کامیابیوں کے باوجود ان عناصر سے جنگ جاری رہے گی۔ دنیا کو پرامن بنانے کیلئے ایسے تمام لوگوں کو مسترد کرنے کیلئے کام کرنا ہو گا جو اپنے سیاسی ، سماجی یا مذہبی نعروں کی بنیاد پر ہتھیار اٹھاتے ہیں اور ایک ایسی جنگ میں مصروف ہیں جس میں کمزور یا طاقتور ، عورت یا مرد ، مسلمان یا غیر مسلمان کی تخصیص نہیں ہے۔ یہ جنگ سب انسانوں کے خلاف ہے اور سب کو مل کر ہی اسے جیتنا ہے۔

ترکی خاص طور سے شام میں خانہ جنگی کی صورتحال کی وجہ سے دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ گزشتہ ساڑھے پانچ برس کے دوران مختلف دہشت گرد گروہوں نے عراق اور شام میں عدم استحکام اور فرقہ وارانی تقسیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خوں ریزی اور ظلم و استبداد کا لامتناہی سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان میں داعش کے نام سے ابھرنے والا گروہ اس قدر موثر اور طاقتور ثابت ہوا کہ اس نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے ڈیڑھ برس قبل اسلامی خلافت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ابوبکر البغدادی کی قیادت میں بننے والی اس نام نہاد اسلامی ریاست نے اس مدت میں اپنی دہشت گردی اور غیر انسانی اقدامات کے ذریعے اسلام کے سلامتی اور ام کے پیغام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس گروہ نے یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی ہے یہ اسلام کی مغربی ممالک کے استحصال کے خلاف جنگ ہے اور اس میں سب مسلمانوں یکساں طور سے شامل ہیں۔ بدنصیبی سے متعدد مسلمان ملکوں میں بعض مسلمان رہنما اس گمراہ کن پیغام سے متاثر بھی ہوئے ہیں اور ان کے اثر و رسوخ سے داعش اور اس کے ہم خیال گروہوں کو مسلمانوں میں کسی حد تک مقبولیت بھی حاصل ہے۔ اس مزاج نے دنیا میں تصادم کی ایک خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ حالانکہ داعش نے شام اور عراق کے علاقوں پر قابض ہو کر اور زمینی وسائل پر تصرف حاصل کر کے جو قوت اور صلاحیت حاصل کی تھی اگر اسے واقعی ایک مثال اور قابل قدر ریاست کی تعمیر پر صرف کیا جاتا تو دنیا اس نئی مملکت کو قبول کرنے پر مجبور ہو سکتی تھی۔ اس کے برعکس داعش نے اپنے زیر تسلط علاقوں میں آباد 80 لاکھ کے لگ بھگ لوگوں کو غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا۔ اپنے قواعد اور ضوابط لاگو کرنے کیلئے انسانیت سوز مظالم کئے گئے۔ انسان کی زندگی ارزاں کر دی گئی اور اختلاف کرنے والے لوگوں کو درد ناک طریقے سے ہلاک کرنے کی خوفناک مثالیں قائم کی گئیں۔ ان میں خاص طور سے اردن کے اس پائلٹ کی ہلاکت ناقابل قبول اور وحشیانہ عمل تھا جسے گرفتار ہونے کے بعد لوہے کے پنجرے میں بند کیا گیا اور پھر اس پنجرے کو آگ لگا کر اس نوجوان پائلٹ کو زندہ جلا دیا گیا۔ اسلام اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام لینے والے یہ عناصر خود اور دنیا بھر سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان کا ہر عمل اسلام کے پیغام اور اسوۃ حسنہ کے خلاف ہے۔

داعش نے اپنے علاقوں میں ہم عقیدہ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ جو مظالم کئے ہیں، وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ عیسائی اور یزیدی خاندانوں کو گھیر کر مردوں کو ہلاک اور عورتوں کو باندیاں بنایا گیا اور عورتوں و لڑکیوں کی خرید و فروخت کی منڈیاں لگائی گئیں۔ ان کی قیمتیں مقرر کر کے آویزاں کی گئیں اور اسے اسلامی طریقہ قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کے اقدامات کئے گئے۔ شام میں صدر بشار الاسد کے مظالم کے خلاف شروع ہونے والی تحریک نے بھی مسلح جدوجہد کی صورت اختیار کر لی تھی لیکن داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں نے اس جنگ کو وسعت دی اور اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ اسی صورتحال میں نصف کے لگ بھگ شامی باشندے بے گھر ہو چکے ہیں اور ان میں 30 لاکھ سے زائد ترکی میں پناہ گزین ہیں۔ داعش جیسے گروہ پناہ گزینوں کے بھیس میں اپنے دہشت گرد ترکی اور یورپی ملکوں میں بھیجنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس وقت عراق میں متحدہ افواج موصل سے داعش کو نکالنے کیلئے شہر کا محاصرہ کئے ہوئے ہیں۔ چند روز قبل شامی افواج نے روس کی مدد سے حلب سے باغیوں کا قبضہ ختم کروایا ہے۔ باغیوں کی آڑ میں النصرہ الشام کے نام سے مذہبی دہشت گرد بھی شہر کے مشرق حصوں میں مورچہ بند تھے۔ یہ گروہ ترکی اور دوسرے ملکوں میں دہشت گرد حملوں کے ذریعے خوف کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں تا کہ ان کے خلاف عسکری اور سفارتی دباؤ کم ہو سکے۔ دس روز قبل برلن کی کرسمس مارکیٹ میں انسانوں پر ایک بھاری ٹرک چڑھا کر 12 افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔ اسی روز انقرہ میں دہشت گردوں کے ساتھی ایک ترک پولیس افسر نے ترکی میں روس کے سفیر کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

آج رات استنبول میں ہونے والے حملہ کے علاوہ اس سے قبل ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا مقصد ترکی اور روس کے درمیان افتراق پیدا کر کے شام میں جنگ بندی کی کامیابی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔ ترکی نے روس کے ساتھ اپنے اختلافات کے باوجود داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ کو ضروری سمجھتے ہوئے شام میں امن کیلئے موثر سیاسی اور سفارتی اقدامات کئے ہیں۔ مشرقی حصے میں ترکی کی فوج دہشت گردوں کے اڈے ختم کر رہی ہے جبکہ روس کے تعاون سے بشار الاسد کی حکومت اور باغی گروہوں کے درمیان دو روز قبل جنگ بندی کا معاہدہ کروایا گیا ہے۔ کل سلامتی کونسل نے بھی اس معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔ یہ معاہدہ شام میں متحرک دہشت گرد گروہوں کے لئے پیام اجل ہے۔ روس اور ترکی نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی دہشت گرد گروہ کو جنگی بندی کے معاہدہ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ بلکہ شام کی سرکاری افواج اور باغی عسکری گروہوں کے درمیان کامیاب جنگ بندی کے بعد سیاسی مفاہمت کیلئے مذاکرات کا آغاز ہو گا۔ اس طرح دہشت گرد گروہوں کو تنہا کر کے ختم کرنا آسان ہو گا۔ داعش کے علاوہ دیگر دہشت گرد گروہوں کو اس ترکی روس اشتراک سے سخت تکلیف ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ترکی ایک بڑی عسکری قوت ہے اور شام کا فوری ہمسایہ ملک ہے۔ اس کی سرپرستی میں امن کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہونے والی کوششوں کی کامیابی کا امکان بہت زیادہ ہے۔ اس لئے ترکی ان عناصر کے نشانے پر ہے۔ رات ہونے والا حملہ اسی بدحواسی کی علامت ہے۔

دہشت گردی اور انتہا پسندی کے جراثیم صرف شام تک محدود نہیں ہیں۔ یہ عناصر متعدد مسلمان ملکوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر چکے ہیں۔ گزشتہ دونوں ماسکو میں پاکستان، چین اور روس نے علاقے کی سکیورٹی کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد کیا تھا۔ اس اجلاس میں واضح کیا گیا تھا کہ داعش افغانستان میں پاؤں جما سکتی ہے۔ اس کی وجہ اس ملک میں جاری عسکری جہدوجہد ہے۔ طالبان کے درمیان اختلافات موجود ہیں اور ناراض عناصر بیرونی دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل کر خود کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی داعش سے وابستہ درجنوں افراد کو پکڑا جا چکا ہے۔ سخت نگرانی اور مستعدی کے باوجود یہ گروہ مذہب اور عقیدے کے نام پر گمراہی کا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ مقامی مذہبی رہنما اپنی سادہ لوحی یا بدنیتی کی وجہ سے ان عناصر کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ یمن میں فرقہ وارانی جنگ میں سعودی کی مداخلت کے بعد وہاں بھی دہشت گرد گروہوں کیلئے حالات سازگار ہو چکے ہیں۔ حکومت اور باغی حوثی قبائل کی جنگ میں یہ گروہ اپنی جگہ بنا کر تخریب کاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح لیبیا میں معمر قذافی کی مستحکم حکومت کے خاتمہ کے بعد مسلسل خانہ جنگی اور گروہی تصادم کی صورتحال موجود ہے۔ جس ملک میں بھی اس قسم کے حالات ہوں گے دہشت گرد عناصر وہاں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران یورپ اور امریکہ میں بھی داعش جیسے گروہ نے اپنے ہمدرد پیدا کرنے کیلئے منظم کام کیا ہے۔ اس کا آن لائن پروپیگنڈا نیٹ ورک مغربی معاشروں میں آباد نوجوان مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور پھر دہشت گردی پر آمادہ کرنے میں سرگرم ہے۔ یورپی ملکوں سے کئی ہزار نوجوان شام روانہ ہوئے تھے۔ انہیں یہی تاثر دیا گیا تھا کہ وہ ایک آئیڈیل اسلامی معاشرے کا رکن بنیں گے اور اس کی حفاظت کی جنگ میں شامل ہوں گے۔ شام پہنچ کر جب بعض نوجوانوں پر حقیقت حال فاش ہوئی تو ان کیلئے واپسی کا راستہ مسدود تھا۔ جو لوگ داعش کا آلہ کار بنے رہنے پر آمادہ ہو گئے، انہیں دہشت گردی کیلئے یورپ واپس بھیجنے کا اہتمام کیا گیا۔ یورپ کے علاوہ امریکہ میں بھی انٹرنیٹ کے ذریعے متاثر ہونے والے مسلمان نوجوانوں نے متعدد حملے کئے ہیں اور انسانوں کو ہلاک کیا ہے۔ اس صورتحال میں مغربی معاشروں میں مسلمانوں کے خلاف بدگمانیاں بڑھنے لگی ہیں۔ بدنصیبی سے صورتحال کو تبدیل کرنے کیلئے مسلمانوں کو معاشروں میں ضم کرنے اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے کی بجائے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لیڈروں نے انتہا پسندانہ اور مسلمان دشمن نعرے بلند کئے ہیں۔ اس طرح مفاہمت ، ہم آہنگی اور مل جل کر مشترکہ دشمن سے لڑنے کی فضا پیدا ہونے کی بجائے معاشروں میں کمزور اور طاقتور ، اقلیتی اور اکثریتی طبقوں میں تصادم اور بدگمانی کی کیفیت دیکھنے میں آئی ہے۔

یورپ کے بہت سے لیڈر اس صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اسے ختم کرنے کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں۔ ناروے کے شاہ ہیرالڈ پنجم ایسے ہی متوازن اور دور رس نگاہ رکھنے والے رہنماؤں میں شامل ہیں۔ نئے سال کے موقع پر اہل ناروے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جو باتیں کی ہیں، وہ ناروے ہی نہیں پوری دنیا کے لوگوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ اس تقریر میں اپنی سب سے بڑی خواہش کا اظہار انہوں نے ان الفاظ میں کیا ہے: ’’میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ ہم آزادی سے ایک دوسرے سے ملتے رہیں۔ ہمارے درمیان خوف اور تناؤ کی فضا حائل نہ ہو۔ ہم فاصلے پیدا کرنے کیلئے رکاوٹیں تعمیر نہ کریں۔ نارویجئن معاشرے کی اہم ترین اقدار کا تقاضہ ہے کہ ایک کھلا معاشرہ قائم کیا جائے‘‘۔

شاہ ہیرالڈ پنجم نے اپنی اس تقریر میں شاہی باغ میں ایک درخت کا ذکر کیا جس پر ناروے کے شہری اور سیاح اپنی خواہشات لکھ کر لٹکا دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بچے نے اپنی خواہش میں لکھا تھا کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ سب ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ مہربان ہو جائیں‘‘۔ شاہ ہیرالڈ نے کہا کہ اگر ہم اس خواہش کے مطابق ایک دوسرے کا خیال رکھنے لگیں تو دنیا جنت نظیر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدیم روایت اور نئی نسلوں کے رویوں کو ایک درخت کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ روایت درخت کی جڑوں کی طرح ہوتی ہے۔ درخت کی شاخیں اور پھول جوں جوں بڑھتے اور توانا ہوتے ہیں جڑیں گہری ہوتی رہتی ہیں۔ انہی جڑوں سے منسلک شخص یا قوم ہی دوسروں کو فراخدلی سے قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بادشاہ نے بتایا کہ نئی نسل دنیا میں ماحولیات کی بہتری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی حمایت کرتی ہے۔ یہ رویہ بہتر مستقبل کیلئے حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے ایک پولیس والے کا قصہ بھی سنایا جو مشکلوں کا شکار نوجوانوں کے ساتھ کام کرتا تھا۔ ایک نوجوان نے اس افسر سے کہا کہ اگر تم مجھے تبدیل کرنے کا سوچتے ہو تو یہ محض خواب ہے۔ پولیس افسر نے جواب دیا :’’شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔ تو میرا خواب تم سے شروع ہوتا ہے‘‘۔

شاہ ہیرالڈ نے کہا کہ اگر ہم ایک دوسرے کے بارے میں اچھے خواب دیکھیں۔ اگر ہم ایک دوسرے کا بھلا چاہیں تو دنیا میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ یہ جاننا ہو گا کہ اسی میں ہماری بھلائی بھی ہے کہ ہم دوسرے کیلئے بھلے کی امید کریں۔ تب ہمارے محلے ، ملک (ناروے) اور دنیا میں اچھے کیلئے تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 649 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali